اس کا جواب نہایت آسان ہیں علم درایۃ حدیث کا ابتدائی طالب علم بھی دے سکتا ہے
ہم دیکھتے ہیں اھل سنت میں خبر واحد کس بلا کو کہتے ہیں

اس کی بہت سی اقسام ہیں سند کے اعتبار سے

جس کو 2 راویوں نے روایت کی ہو اس کو عزیز کہتے ہیں
اور جس کو 3 نے اسے مشہور کہتے ہیں
خبر واحد کی 3 بنیصحیح
ادی قسمیں ہیں
حسن ضعیف
اگر خبر واحد کی کوئی ویلیو نہی تو پھر ساری احادیث گئی پانی میں
کیونکہ خبر متواتر تو گنتی میں ہیں

خبر واحد
خبر واحد میں مقبول بھی ہیں کہ نہیں جی بلکل مقبول بھی ہوتی ہیں
بالخصوص اگر روایت صحیحین کی ہو

اس حدیث کو غریب بھی نہیں کہ سکتے
کیونکہ یہ صرف ایک راوی سے نہیں ہیں

جناب جنابر سے
دو راوی ہوگئے
حدیث عزیز بھی
اور اس کو احادیث صحیحہ میں بھی شمار کیا گیا ہے
دو روای ابن عباس
جناب جابر

میں ترجمہ نہیں کروں گا 🫣
کل ملا. کر. یہ ثابت ہوئی صرف خبر واحد کہ کر جان نہیں چھڑایی جا سکتی
اہلِ سنت کی کتابوں میں تبرک ۔ پھر شرک کا فتویٰ کیوں؟

آج بعض سلفی حضرات ہر قسم کے تبرک کو فوراً شرک یا بدعت قرار دے دیتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ اگر تبرک واقعی شرک ہے تو پھر یہی عمل اہلِ سنت کی معتبر کتابوں میں کیوں موجود ہے؟
صحیح بخاری اور صحیح مسلم سمیت متعدد سنی مصادر میں واضح روایات ملتی ہیں کہ صحابہ کرام رسول اللہ ﷺ کے وضو کے پانی، بالوں اور آثار سے تبرک حاصل کرتے تھے۔ بہت سے سنی محدثین اور فقہاء نے بھی ان واقعات کو نقل کیا اور ان پر اعتراض نہیں کیا۔
یہاں بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے:
اگر تبرک شرک ہے
تو صحابہ کا عمل کیا تھا؟
اور اگر صحابہ کا عمل صحیح تھا
تو پھر آج اسی عمل کو شرک کیوں کہا جا رہا ہے؟
اس سلسلے میں ہم اہلِ سنت کی اپنی کتابوں سے چند واضح نصوص پیش کریں گے تاکہ دیکھا جا سکے کہ اصل مسئلہ کیا ہے:
تبرک خود شرک ہے یا بعد میں پیدا ہونے والی ایک نئی تعبیر؟
کتاب: المصباح المضيء في كتاب النبي
مصنف: عبد الله محمد بن محمد بن أحمد بن حمد بن حديد الأنصاري
(المتوفى: 783 هـ)
الجزء الأول، ص 227
مصنف کہتے ہیں:
یہ رسول اللہ ﷺ کی نبوت کی نشانیوں میں سے ایک علم ہے۔
کاش میں اس مبارک گدھے کی کھال کا ایک بال ہوتا جو ہر وقت سید البشر ﷺ کے جسم کو چھوتا تھا، اور وہ آپ ﷺ کی بات سنتا، آپ کی اطاعت کرتا، آپ سے خطاب کیا جاتا اور وہ سمجھتا تھا۔ اور یہ بھی رسول اللہ ﷺ کے بعض معجزات میں سے ایک معجزہ ہے۔
کتاب: البداية والنهاية
مصنف: الحافظ ابن كثير الدمشقي (متوفى 774هـ)
الجزء: 14
الصفحة: 296–297
(واقعہ: وفاتِ ابن تيمية)
یہ ابن کثیر کی مشہور تاریخی کتاب ہے جس میں انہوں نے مختلف شخصیات کے حالات اور واقعات ذکر کیے ہیں۔ انہی واقعات میں شیخ ابن تیمیہ کی وفات اور ان کے جنازے کا واقعہ بھی بیان کیا گیا ہے۔
ابن کثیر لکھتے ہیں کہ جب ابن تیمیہ کا انتقال ہوا تو بہت بڑی تعداد میں لوگ جمع ہو گئے۔ بعض لوگوں کو غسل سے پہلے اندر جانے کی اجازت دی گئی۔ وہ ان کے پاس بیٹھے، قرآن پڑھا اور ان کو دیکھ کر اور ان کا بوسہ لے کر تبرک حاصل کیا۔
مزید یہ بھی ذکر کیا گیا کہ لوگوں نے اپنے عمامے اور رومال ان کے جنازے پر ڈالے تاکہ ان سے برکت حاصل کریں۔ بعض لوگوں نے اس پانی کو بھی پیا جو ان کے غسل سے بچ گیا تھا اور جن پتوں سے انہیں غسل دیا گیا تھا انہیں بھی تقسیم کر لیا گیا۔
ابن کثیر یہ بھی لکھتے ہیں کہ جنازے کے موقع پر رونا، گریہ اور بلند آوازیں بھی سنائی دے رہی تھیں۔
اگر کسی شخص کے جسم، کپڑے یا آثار سے تبرک لینا شرک ہے، تو پھر ابن تیمیہ کے جنازے میں یہ سب کرنے والے لوگ کیا کر رہے تھے؟
اگر کسی کے غسل کے پانی سے برکت حاصل کرنا شرک ہے، تو ابن تیمیہ کے بارے میں نقل ہونے والا یہ واقعہ کس زمرے میں آئے گا؟
کیا ابن کثیر جیسے بڑے سنی مورخ نے واقعی شرک کا واقعہ نقل کیا ہے، یا اس زمانے کے مسلمانوں کے نزدیک یہ عمل شرک نہیں سمجھا جاتا تھا؟
اگر تبرک بذاتِ خود شرک ہے تو کیا اس اصول کو ہر جگہ یکساں لاگو کیا جائے گا، یا صرف بعض اعمال پر ہی شرک کا فتویٰ دیا جائے گا؟

کتاب: محض الصواب في فضائل أمير المؤمنين عمر بن الخطاب
مصنف: الإمام ابن ناصر الدين الدمشقي
الجزء: الثالث
الصفحة: 528
عباس بن ربیعہ کہتے ہیں:
میں نے عمر کو حجرِ اسود کی طرف دیکھتے ہوئے سنا کہ وہ کہہ رہے تھے:
“اللہ کی قسم! اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو تمہیں چومتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تمہیں ہرگز نہ چومتا۔”
پھر انہوں نے حجرِ اسود کو بوسہ دیا۔
عبد اللہ بن سرجس روایت کرتے ہیں کہ عمر حجرِ اسود کو چھوتے وقت کہتے تھے:
“میں جانتا ہوں کہ تم ایک پتھر ہو، نہ نقصان پہنچاتے ہو نہ فائدہ دیتے ہو۔ اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو تمہیں چومتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تمہیں نہ چومتا۔”
یہ واقعہ حجرِ اسود کو بوسہ دینے کے بارے میں ہے۔
عمر بن خطاب خود یہ واضح کرتے ہیں کہ:
حجرِ اسود اپنی ذات میں نہ نفع دیتا ہے نہ نقصان
مگر چونکہ رسول اللہ ﷺ نے اسے بوسہ دیا اس لیے وہ بھی اسے بوسہ دیتے ہیں۔
یعنی اصل بنیاد نسبتِ رسول ﷺ ہے، نہ کہ پتھر کی اپنی طاقت۔
اگر کسی چیز کو نسبتِ رسول ﷺ کی وجہ سے بوسہ دینا شرک نہیں، تو پھر اہلِ بیتؑ کی قبور کو احترام سے بوسہ دینا کیوں شرک کہا جاتا ہے؟
اگر ایک پتھر کو رسول ﷺ کی سنت کی وجہ سے بوسہ دیا جا سکتا ہے، تو کیا رسول ﷺ کے اہلِ بیتؑ کی قبور اس احترام سے زیادہ حق دار نہیں؟
اگر حجرِ اسود کو بوسہ دینا عبادت نہیں بلکہ تعظیم ہے، تو پھر قبورِ صالحین کی تعظیم کو فوراً شرک کیوں قرار دیا جاتا ہے؟
کیا ہر تعظیم کو عبادت سمجھ لینا علمی اصول ہے یا صرف ایک مخصوص بیانیہ؟

کتاب: عمدة القاري شرح صحيح البخاري
مصنف: الحافظ بدر الدين العيني (متوفى 855هـ)
جلد: 9
صفحہ: 346
حافظ ابو سعید ابن العلائی کہتے ہیں:
میں نے امام احمد بن حنبل کے کلام میں دیکھا کہ ان سے رسول اللہ ﷺ کی قبر کو بوسہ دینے اور منبر کو بوسہ دینے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: اس میں کوئی حرج نہیں۔
پھر ہم نے یہ بات شیخ تقی الدین ابن تیمیہ کو دکھائی تو وہ اس پر تعجب کرنے لگے اور کہنے لگے:
مجھے حیرت ہے! احمد جیسے بڑے امام ایسا کہتے ہیں؟
اس پر کہا گیا:
اس میں حیرت کی کیا بات ہے؟ ہم نے روایت کیا ہے کہ امام احمد نے امام شافعی کا قمیص دھویا اور اس پانی کو پیا جس سے وہ قمیص دھویا گیا تھا۔
اگر اہلِ علم کے ساتھ یہ ان کا تعظیم کا انداز تھا تو صحابہ کے مقام کے بارے میں کیا کہیں گے؟ اور انبیاء کے آثار کے بارے میں کیا کہیں گے؟
یہ گفتگو تعظیم اور تبرک کے مسئلے پر ہے۔
اس میں تین اہم باتیں بیان ہو رہی ہیں:
امام احمد بن حنبل کے بارے میں نقل کیا گیا کہ
قبرِ نبوی ﷺ اور منبرِ نبوی کو بوسہ دینے میں انہوں نے کوئی حرج نہیں سمجھا۔
ابن تیمیہ نے اس بات پر تعجب ظاہر کیا۔
اس کے جواب میں مثال دی گئی کہ
امام احمد خود امام شافعی کے قمیص سے تبرک کرتے تھے اور اس کے دھونے کا پانی پیتے تھے۔
یعنی دلیل یہ دی گئی کہ اگر علماء کے ساتھ تعظیم ممکن ہے تو انبیاء اور ان کے آثار کے ساتھ تعظیم بدرجہ اولیٰ ممکن ہے۔

کتاب: صحيح البخاري
المصنف: الإمام محمد بن إسماعيل البخاري (متوفى 256هـ)
كتاب: الوضوء
باب: الماء الذي يغسل به شعر الإنسان
حدیث: 171 (بعض نسخوں میں 170)
حضرت انس بن مالک روایت کرتے ہیں:
جب رسول اللہ ﷺ نے اپنا سر منڈوایا تو ابو طلحہ وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے آپ ﷺ کے بالوں میں سے کچھ حاصل کیے۔

حضرت ابو موسیٰ بیان کرتے ہیں:
نبی کریم ﷺ نے ایک برتن منگوایا جس میں پانی تھا، پھر آپ ﷺ نے اس میں اپنے ہاتھ اور چہرہ دھویا اور اس میں کلی بھی کی۔

کتاب: مجموع فتاوى ابن تيمية
المصنف: شيخ الإسلام أحمد بن تيمية
الجزء: 27
الصفحة: 353
صحابہ کرام نبی کریم ﷺ کے نماز پڑھنے کی جگہ سے برکت حاصل کرتے تھے۔
اور وہ آپ ﷺ کو اپنے گھروں میں بلاتے تھے تاکہ آپ وہاں نماز ادا کریں اور پھر اس جگہ کو اپنی نماز کی جگہ (مصلیٰ) بنا لیں۔
اور رسول اللہ ﷺ نے ان کی اس درخواست کو قبول فرمایا۔

کتاب: معجم الشيوخ
مصنف: الإمام شمس الدين الذهبي (متوفى 748هـ)
الصفحة: 73–74
نافع، ابن عمر سے روایت کرتے ہیں کہ:
وہ رسول اللہ ﷺ کی قبر کو چھونا پسند نہیں کرتے تھے۔
لیکن اس کے ساتھ یہ بھی نقل کیا گیا کہ:
امام احمد بن حنبل سے قبرِ نبوی کو چھونے اور بوسہ دینے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے اس میں کوئی حرج نہیں سمجھا۔
اور کہا گیا:
صحابہ ایسا اس لیے کرتے تھے کیونکہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو زندہ دیکھا تھا، وہ آپ سے تبرک حاصل کرتے تھے اور آپ کے ہاتھ کو بوسہ دیتے تھے۔
پھر کہا گیا:
جب ہمیں وہ موقع میسر نہیں تو ہم آپ کی قبر کے پاس جا کر تعظیم، بوسہ اور لمس کرتے ہیں۔
اور مثال دی گئی:
ثابت البنانی حضرت انس بن مالک کا ہاتھ چومتے تھے اور اسے اپنے چہرے پر رکھتے تھے اور کہتے تھے: یہ وہ ہاتھ ہے جس نے رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ کو چھوا ہے۔

المحب الطبری کہتے ہیں:
حجرِ اسود کو بوسہ دینے اور ارکانِ کعبہ کو چھونے سے یہ اصول اخذ کیا جا سکتا ہے کہ جس چیز کو بوسہ دینے میں اللہ کی تعظیم ہو، اسے بوسہ دینا جائز ہے۔
کیونکہ اگر اس کے استحباب پر کوئی خاص نص نہ بھی ہو تو اس کے مکروہ ہونے پر بھی کوئی دلیل نہیں۔
اور انہوں نے کہا:
میں نے اپنے دادا محمد بن ابی بکر کی بعض تعلیقات میں دیکھا کہ انہوں نے امام ابو عبد الله محمد بن ابی الصیف سے نقل کیا:
بعض لوگ جب مصحف کو دیکھتے تو اسے بوسہ دیتے، جب حدیث کے اجزاء دیکھتے تو انہیں بوسہ دیتے، اور جب صالحین کی قبور دیکھتے تو انہیں بوسہ دیتے تھے۔
پھر کہا:
اور یہ بعید نہیں ہے، کیونکہ ہر وہ چیز جس میں اللہ کی تعظیم ہو۔

کتاب: سبل الهدى والرشاد في سيرة خير العباد
مصنف: الإمام محمد بن يوسف الصالحي الشامي (متوفى 942هـ)
الجزء: 12
الصفحة: 398
روایت ہے کہ حضرت انس بن مالکؓ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی قبر پر ہاتھ رکھ رہا تھا تو انہوں نے اسے منع کیا اور فرمایا:
ہم اس طرح کو نہیں جانتے تھے۔
اور عبد اللہ بن امام احمد کی کتاب العلل والسؤالات میں ہے کہ انہوں نے اپنے والد امام احمد بن حنبل سے پوچھا:
ایک شخص نبی ﷺ کے منبر کو چھوتا ہے، اس سے برکت حاصل کرتا ہے، اسے بوسہ دیتا ہے اور قبر کے ساتھ بھی ایسا ہی کرتا ہے اللہ کے ثواب کی امید میں اس کا کیا حکم ہے؟
تو امام احمد نے فرمایا:
اس میں کوئی حرج نہیں۔
کتاب: تهذيب الأسماء واللغات
مصنف: الإمام يحيى بن شرف النووي (متوفى 676هـ)
الجزء: 1
الصفحة: 163
وقبره مشهور يُزار ويتبرك به.
ان کی قبر مشہور ہے، لوگ اس کی زیارت کرتے ہیں اور اس سے تبرک حاصل کرتے ہیں۔
یہ عبارت امام حسین علیہ السلام کے ذکر کے ضمن میں ہے۔
امام نووی بیان کرتے ہیں کہ:
امام حسینؑ کی قبر معروف و مشہور ہے
لوگ اس کی زیارت کرتے ہیں
اور اس سے تبرک حاصل کرتے ہیں
یہ بات ایک بڑے سنی فقیہ اور محدث امام نووی کی کتاب میں نقل ہوئی ہے۔
اگر قبورِ صالحین سے تبرک لینا شرک ہے تو کیا امام نووی بھی شرک کو بیان کر رہے تھے؟
اگر کسی قبر کی زیارت اور تبرک کا ذکر معتبر سنی کتابوں میں موجود ہے تو پھر اسے فوراً شرک کیوں کہا جاتا ہے؟
کیا ہر وہ عمل جسے بعض لوگ پسند نہ کریں شرک قرار دیا جا سکتا ہے؟
کیا تعظیم، محبت اور تبرک کو عبادت کے برابر سمجھ لینا درست اصول ہے؟

کتاب: مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
مصنف: الحافظ نور الدين الهيثمي (متوفى 807هـ)
الجزء: 9
الصفحة: 325
ثابت البنانی کہتے ہیں:
جب بھی میں حضرت انس بن مالکؓ کے پاس آتا تو مجھے ان کے پاس لے جایا جاتا۔
پھر میں ان کا ہاتھ پکڑ کر اسے چومتا اور کہتا:
میرے ماں باپ ان ہاتھوں پر قربان ہوں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کو چھوا ہے۔
اور میں ان کی آنکھوں کو بھی چومتا اور کہتا:
میرے ماں باپ ان آنکھوں پر قربان ہوں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے۔
یہ واقعہ ایک تابعی کا ہے:
ثابت البنانی (تابعی)
حضرت انس بن مالکؓ (صحابی)
وہ حضرت انس کے ہاتھ اور آنکھوں کو اس لیے بوسہ دیتے تھے کیونکہ:
ان ہاتھوں نے رسول اللہ ﷺ کو چھوا تھا
ان آنکھوں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا تھا
یعنی یہاں اصل وجہ نسبتِ رسول ﷺ ہے۔
اگر کسی چیز کو رسول اللہ ﷺ سے نسبت کی وجہ سے بوسہ دینا شرک ہے تو کیا تابعین بھی شرک کر رہے تھے؟
اگر تابعی حضرت انس کے ہاتھ کو اس لیے چومتے ہیں کہ
اس ہاتھ نے رسول اللہ ﷺ کو چھوا تھا
تو یہ کس اصول کے تحت ہے؟
کیا محبت، تعظیم اور تبرک کو عبادت کے برابر سمجھ لینا درست ہے؟
اگر یہ عمل تابعین کے نزدیک جائز تھا تو آج اسے فوراً شرک کیوں کہا جاتا ہے؟