شبھۃ تحریف قرآن کے متعلق فحرفوھا او حرفا
وہ کہتا ہے کہ قرآن میں تحریف ہوئی ہے اور اس پر یہ روایت دلیل کے طور پر پیش کرتا ہے:
ابو علی اشعری اپنے بعض اصحاب سے، وہ خشاب سے، مرفوعاً نقل کرتے ہیں کہ امام جعفر صادقؑ نے فرمایا:
“اللہ کی قسم! خلافت اور امر ہرگز آلِ ابوبکر و عمر کی طرف واپس نہیں جائے گا، نہ بنی امیہ کی طرف، اور نہ ہی طلحہ و زبیر کی اولاد کی طرف۔ اس لیے کہ انہوں نے قرآن کو چھوڑ دیا، سنتوں کو باطل کیا اور احکام کو معطل کیا۔ اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قرآن گمراہی سے ہدایت ہے، اندھے پن سے بصیرت ہے، لغزش سے نجات ہے، تاریکی سے نور ہے، نئے فتنے میں روشنی ہے، ہلاکت سے بچاؤ ہے، گمراہی سے رشد ہے، فتنوں کی وضاحت ہے اور دنیا سے آخرت تک پہنچانے والا پیغام ہے۔ اور تمہارے دین کی تکمیل اسی میں ہے، اور جو شخص قرآن سے منہ موڑے گا وہ جہنم کی طرف جائے گا۔”
📚 الکافی، شیخ کلینی، جلد 2، صفحہ 600
