کیا امام سجاد علیہ السلام نے یزید کی بیعت کی؟؟


شبہہ کا جواب:
یہ بات منقول ہے کہ مسلم بن عقبہ نے اہلِ مدینہ سے اس شرط پر بیعت لی کہ وہ سب یزید بن معاویہ کے غلام اور مملوک ہوں، سوائے امام علی بن الحسین زین العابدینؑ کے؛ کیونکہ امامؑ نے یزید کی درخواست پر اس طرح بیعت کی کہ وہ اس کے بھائی اور چچا زاد ہیں، جیسا کہ ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ میں ذکر کیا ہے۔
بعض لوگ یہ کہہ سکتے ہیں کہ امام سجادؑ کی بیعت بھی باقی لوگوں کی طرح غلامی اور عبودیت کی بنیاد پر تھی، اور اس دعوے پر وہ روضۃ الکافی (شیخ کلینیؒ) میں وارد ایک صحیح روایت سے استدلال کرتے ہیں، جس کا متن یہ ہے:
برید بن معاویہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے امام ابو جعفرؑ کو یہ فرماتے ہوئے سنا:
“یزید بن معاویہ مدینہ میں داخل ہوا جبکہ وہ حج کا ارادہ رکھتا تھا، پس اس نے قریش کے ایک آدمی کو بلوایا۔ جب وہ آیا تو یزید نے اس سے کہا: کیا تو میرے لیے اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ تو میرا غلام ہے، اگر میں چاہوں تو تجھے بیچ دوں اور اگر چاہوں تو غلام بنا کر رکھوں؟
اس شخص نے کہا: اللہ کی قسم! اے یزید، نہ تو حسب و نسب میں قریش کے اندر مجھ سے زیادہ معزز ہے، نہ تیرا باپ جاہلیت و اسلام میں میرے باپ سے افضل تھا، نہ تو دین میں مجھ سے بہتر ہے اور نہ ہی عمل میں، تو میں اس بات کا اقرار کیسے کروں جو تُو مجھ سے چاہتا ہے؟
یزید نے کہا: اگر تو نے اقرار نہ کیا تو اللہ کی قسم میں تجھے قتل کر دوں گا۔
اس شخص نے کہا: تیرا مجھے قتل کرنا، حسین بن علیؑ فرزندِ رسولؐ کو قتل کرنے سے بڑا نہیں ہے۔
پس یزید نے اس کے قتل کا حکم دیا اور وہ قتل کر دیا گیا۔
پھر یزید نے علی بن الحسینؑ کو بلوایا اور ان سے بھی وہی بات کہی جو اس قرشی سے کہی تھی۔
امام علی بن الحسینؑ نے فرمایا: اگر میں اقرار نہ کروں تو کیا تُو مجھے بھی اسی طرح قتل نہیں کرے گا جیسے کل اس شخص کو قتل کیا تھا؟
یزید (لعنہ اللہ) نے کہا: ہاں۔
امامؑ نے فرمایا: میں نے تیرے لیے اس بات کا اقرار کیا جو تُو نے چاہی؛ میں ایک مجبور غلام ہوں، اگر تُو چاہے تو مجھے اپنے پاس رکھ اور اگر چاہے تو بیچ دے۔
یزید (لعنہ اللہ) نے کہا: یہی تیرے لیے بہتر تھا؛ تُو نے اپنی جان بچا لی اور اس سے تیری عزت و شرافت میں کوئی کمی نہیں آئی۔”
(روضۃ الکافی، ج 8، ص 235)
اس روایتِ صحیح کی بنیاد پر کہا جاتا ہے کہ ابن ابی الحدید کا مذکورہ قول حجت نہیں رہتا۔
ہم اس قول کے قائل کے جواب میں درج ذیل نکات پیش کرتے ہیں:
1) مذکورہ روایت کا ماخذ روضۃ من الکافی ہے جو ہمارے شیخ کلینیؒ کی طرف منسوب ہے، جبکہ ہمارے بعض اکابر علماء نے اس کتاب کی نسبت میں اختلاف کیا ہے۔
چنانچہ خلیل بن غازی قزوینی (متوفی 1089ھ) نے — جیسا کہ ریاض العلماء میں نقل ہوا ہے — یہ کہا ہے کہ روضہ شیخ کلینیؒ کی تالیف نہیں ہے۔ اسی قول کو شہید ثانیؒ کی طرف بھی منسوب کیا گیا ہے، اگرچہ یہ رائے شاذ اور نادر ہے۔
2) آیت اللہ العظمٰی سید محمد صادق روحانی نے اس روایت کے بارے میں ایک استفتاء کے جواب میں فرمایا:
“محققین اور مؤرخین کے نزدیک یہ بات ثابت ہے کہ یزید بن معاویہ اپنے دورِ خلافت میں مدینہ منورہ داخل ہی نہیں ہوا، بلکہ شام میں ہی رہا۔ لہٰذا یہ روایت موضوعاً ساقط ہے۔”
یعنی اگرچہ سند کے اعتبار سے صحیح ہو، لیکن متن کے اعتبار سے قابلِ اعتماد نہیں۔
3) اگر متن کو بھی صحیح مان لیا جائے، تب بھی ہم کہتے ہیں کہ امام سجادؑ نے مسلم بن عقبہ کے شر سے بچنے کے لیے تقیہ کے طور پر بیعت کی تھی۔ یہ بیعت صوری تھی، اس معنی میں نہیں کہ امامؑ نے یزید کے حق میں اپنی شرعی امامت سے دستبرداری اختیار کی ہو۔
اسی مفہوم کے قریب ایک توضیح کتاب معرفة الإمام (سید محمد حسین حسینی طہرانی) میں نقل ہوئی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ:
مرحوم آیت اللہ سید صدر الدین جزائریؒ نے نقل کیا کہ ایک دن وہ دمشق میں مرحوم آیت اللہ سید محسن امین عاملیؒ کے گھر تھے، وہاں محدثِ جلیل شیخ عباس قمیؒ بھی موجود تھے۔ ان دونوں کے درمیان گفتگو ہوئی۔
شیخ عباس قمیؒ نے سید محسن امینؒ سے کہا:
“آپ نے اپنی کتاب اعیان الشیعہ میں امام زین العابدینؑ کی یزید بن معاویہ (جس پر اور اس کے باپ پر لعنت ہو) کے ساتھ بیعت کا ذکر کیوں کیا ہے؟”
سید محسن امینؒ نے جواب دیا:
“اعیان الشیعہ تاریخ اور سیرت کی کتاب ہے۔ جب یہ بات قطعی دلائل سے ثابت ہے کہ مسلم بن عقبہ نے یزید کے حکم سے مدینہ پر حملہ کیا، قتل و غارت کی، تین دن تک خون، جان، آبرو اور مال کو مباح قرار دیا، اور ایسے جرائم کیے جنہیں قلم بیان نہیں کر سکتا، تو امام سجادؑ نے ناگزیر مصلحتوں اور تقیہ کے تحت، اپنی اور اپنے اہلِ بیت (بنی ہاشم) کی جانوں کی حفاظت کے لیے بیعت کی۔ تو پھر میں تاریخ میں اس واقعے کو کیسے نہ لکھوں؟
اور اس قسم کی بیعت، امیرالمؤمنینؑ کی اس بیعت کی مانند ہے جو انہوں نے رسولِ اکرمؐ کی وفات کے چھ ماہ بعد، حضرت فاطمہ زہراؑ کی شہادت کے بعد، ابو بکر کے ساتھ کی تھی۔”