محمد بن حنیفہ کربلا میں حاضر کیوں نہیں تھے؟
امام علی(علیہ السلام)کے فرزند محمد بن حنفیہ اور عبداللہ بن زبیر
📃 حضرت علی(علیہ السلام)کے شہید ہوجانے کے بعد لوگوں کو اپنے امیر و خلیفہ ہونے کی دعوت دینے کے لئے کھڑے ہوئے چنانچہ کچھ لوگ ان کے پاس جمع بھی ہوگئے اور ان کی شان و شوکت مستحکم ہوگئی تو انہوں نے امام علی(علیہ السلام)کے فرزند محمد بن حنفیہ کو اور اسی ان کے ساتھ بنی ہاشم کے دیگر سترہ اشخاص کو قید کرلیا اور انہیں جلانے کے لئے دروازہ پر بہت سی لکڑیاں جمع کردی تھیں اور ان میں آگ بھی لگا دی تھی لیکن مختار کا لشکر عین اسی وقت وہاں پہنچ گیا اس نے آگ بجھائی اورانہیں آگ سے نکالا ورنہ ابن زبیر تو اپنے مقصد میں کامیاب ہوگیا تھا
📚 تاریخ مسعودی، ج۳، ص ۷۶۔ ۷۷۔
📚 شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، ج۲۰، ص ۱۲۷۔ ۱۲۸۔
.
.
.
ایک مقام پر امام حسین علیہ السلام نے محمد بن حنفیہ سے فرمایا:
📜 یٰاأَخی وَاللّٰهِ لَوْلَمْ یَکُنْ فی الدُّنْیٰا مَلْجَأً وَلاٰمَأْویً لَمٰابٰایَعْتُ یَزیدَ بْنَ مُعٰاوِیَةَ
📝 اے میرے بھائی! اگر مجھے دنیا میں کوئی بھی جائے پناہ نہ ملے، تب بھی میں یزید ابن معاویہ کی بیعت نہیں کروں گا۔
📚 موسوعہ کلماتِ الامام الحسین علیہ السلام ص ۲۸۹
.
.
.
مدینہ سے مکہ روانگی اور امام حسین ع کی محمد بن حنفیہ کو وصیت
جناب حسین ع اور محمد بن حنفیہ کے مابین مکالمہ ہوا
حسین ع نے جناب محمد بن حنفیہ کو نصیحت فرمائی کہ آپ مدینہ میں سکونت پذیر ہوں اور میری طرف سے ان کے حالات کی جستجو رکھیں اور ان کے کاموں میں سے کوئی چیز مجھ سے پوشیدہ نا رکھیں
پھر آپ نے دوات و کاغذ طلب فرمایا اور ایک وصیت نامہ تحریر فرمایا :
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
” وہ چیز ہے کہ جس کی وصیت کی حسین بن علی نے اپنے بھائی محمد کو کہ جو ابن حنفیہ کے لقب سے معروف ہے کہ حسین ع گواہی دیتا ہے خدائے یگانہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں کہ جس کا کوئی شریک نہیں اور محمد ص اس کے بندے اور رسول ہیں جو دین حق کو لے کر آئے ہیں حق کی جانب سے اور یہ کہ جنت دوزخ حق ہیں اور قیامت آنے والی ہے کہ جس میں کوئی شک نہیں اور خدا اٹھائے گا انہیں کہ جو قبروں کے اندر ہیں اور میں سیر وتفریح اور اظہار تکبر و بڑائی کے لئے نہیں نکل رہا بلکہ میں اپنے نانا کی امت کی اصلاح کے لئے خروج کررہا ہوں اور میں چاہتا ہوں کہ امر بالمعروف اور نہی از منکر کروں اور اپنے نانا اور باپ علی بن ابی طالب ع کی سیرت پر چلوں پس جو شخص مجھے قبول کرے حق کی قبولیت کے طور پر خدا یا زیادہ استحقاق حق رکھتا ہے اور جو مجھے ردکر دے تو میں صبر کروں گا ۔ یہاں تک کہ خدا میرے اور اس قوم کے درمیان حق کا حکم کرے اور وہ بہترین حکم کر نے والا ہے “.
یہ میری وصیت ہے تجھ سے اے بھائی دعا:
ومـاتـوفيقى الا بالله عليه
تو کلت و اليه انيب :
میری تو فیق نہیں مگر اللہ کی جانب سے ، اسی پر میں تو کل کرتا ہوں ۔اور اس کی طرف میری بازگشت ہے.
بحار الانوار ، ج ۴۴ ، ص ۳۲۹ ، ۳۳۰
نفس المہموم ، ص ۶۹
الفتوح ، ابن اعثم کوفی

امام حسین ع کا میدان کربلا سے محمد بن حنفیہ رض کے نام خط
قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنِي كَرَّامٌ عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ عَمْرٍو عَنْ مُيَسِّرِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ (ع) قَالَ كَتَبَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ (ع) إِلَى مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ مِنْ كَرْبَلَاءَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنَ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ (ع) إِلَى مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ وَ مَنْ قِبَلَهُ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ أَمَّا بَعْدُ فَكَأَنَّ الدُّنْيَا لَمْ تَكُنْ وَ كَأنَّ الْآخِرَةَ لَمْ تَزَلْ وَ السَّلَامُ
امام باقر ع نے فرمایا امام حسین ع نے کربلا سے محمد بن حنفیہ رض کی طرف ایک خط لکھا :
شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے ۔ یہ خط محمد بن حنفیہ رض اور بنی ہاشم کے ان افراد کے لیے ہے جو محمد بن حنفیہ کو دوست رکھتے ہیں ۔ پس دنیا ختم ہوئی اور آخرت ہمیشہ کے لیے ہے والسلام ۔
کامل زیارات صفحہ 168 سند صحیح

محمد بن الحنفية ( محمد بن علي) ع
[۱/۱۲۰۰] توحيد الصدوق: عن ابن الوليد عن الصفار عن ابن أبي الخطاب عن ابن بشير عن الحسين بن أبي حمزة قال: سمعت أبا عبدالله ال يقول: قال أبيلانه محمد بن الحنفية كان رجلا رابط الجأش (أي قوي القلب) وأشـار بـيده وكـان يـطـوف بـالبيت فاستقبله الحجاج، فقال: قد هممت ان أضرب الذي فيه عيناك، قال له محمد: كلا إن الله تبارك اسمه في خلقه في كل يوم ثلاثمائة لحظة أو لمحة فلعل إحداهن تكفك عني.
امام صادق ع بیان کرتے ہیں کہ امام باقر ع نے اپنے ہاتھ کے ساتھ (اپنے دل کی طرف) اشارہ کرتے ہوۓ فرمایا: محمد بن حنفیہ ایک بہادر اور شجاع انسان تھے۔ وہ (ایک دفعہ ) بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے کہ حجاج کے ساتھ ان کا سامنا ہوا حجاج نے انہیں کہا: میں نے تہیا کیا ہے کہ تمھاری گر////دن اڑ///////ادوں۔ محمد نے اسے کہا: ہرگز ایسا نہیں ہوسکتا۔ اللہ سبحانہ وتعالی کے اپنی مخلوقات میں ہر روز تین سولحظات یا لمحات ہوتے ہیں۔ ہوسکتا ہے ان میں سے کوئی ایک لحظہ یا لمحہ تجھے مجھ تک پہنچنے سے روک لے ۔
