شیعہ مذہب میں گدھا گوشت حلال ہے گدھی کا دودھ بھی حلال ہے
شیعہ کی نزدیک یہ مکروہ ہیں
جیسے کہ صاحبِ وسائل نے لکھا اور باقی فقھاء نے بھی
اور کراھت کی وجہ بھی بیان کی
یہ روایت (کتاب العلل) کی سند
امام محمد باقرؑ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا:
رسولِ خدا ﷺ نے گدھوں کے گوشت کھانے سے منع فرمایا۔
لیکن آپؐ نے اس سے اس لیے منع فرمایا تھا کہ وہ سواری کے لیے استعمال ہوتے تھے، اس خوف سے کہ کہیں لوگ انہیں ذبح کر کے ختم نہ کر دیں۔
لہٰذا (حقیقت میں) گدھے حرام نہیں ہیں۔
پھر امامؑ نے یہ آیت تلاوت فرمائی:
> “کہہ دو: میں اس وحی میں جو میری طرف نازل ہوئی ہے، کسی کھانے والے پر کوئی چیز حرام نہیں پاتا…” (سورۂ انعام 145)
اور فرمایا کہ یہی اس مسئلے کی دلیل ہے۔
امام جعفر صادقؑ سے روایت ہے کہ آپؑ نے فرمایا:
میرے والد (امام محمد باقرؑ) سے گھریلو گدھوں کے گوشت کے بارے میں سوال کیا گیا، تو انہوں نے فرمایا:
رسولِ خدا ﷺ نے ان کے کھانے سے منع فرمایا تھا،
کیونکہ وہ اس زمانے میں لوگوں کی سواری اور بوجھ اٹھانے کا ذریعہ تھے۔
اور (حقیقت یہ ہے کہ) حرام وہی ہے جسے اللہ نے قرآن میں حرام قرار دیا ہے، ورنہ (یہ چیز بذاتِ خود حرام نہیں)۔
اب یہاں دو مسئلے ہیں
الحمر الأهلية
یہ دو لفظ قابل غور ہیں
ایک حمار اھلی ہیں اور ایک حمار وحشی ہیں
اھل سنت کے ہاں بھی حمار. مطلقا حرام نہیں ہے بلکہ
وہاں الحمر الاھلیۃ کا ذکر ہے
الحمر. وحشی کا کیا حکم ہیں
ملاحظہ کرے

حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ قاحہ کے مقام پر تھے۔ ہم میں سے کچھ لوگ احرام میں تھے اور کچھ احرام میں نہیں تھے۔
میں نے دیکھا کہ میرے ساتھی کسی چیز کو دیکھ رہے ہیں، تو میں نے نظر ڈالی تو ایک جنگلی گدھا (حمارِ وحشی) نظر آیا۔ اسی دوران میرا کوڑا (سوٹا) گر گیا۔
میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا: میرا کوڑا اٹھا دو۔ انہوں نے کہا: ہم تمہاری کسی طرح مدد نہیں کریں گے کیونکہ ہم احرام میں ہیں۔
پھر میں نے خود ہی اسے اٹھایا اور اس (جنگلی گدھے) کے پیچھے گیا، یہاں تک کہ ایک ٹیلے کے پیچھے سے اس کو شکار کر لیا۔
پھر میں اسے اپنے ساتھیوں کے پاس لایا۔ بعض نے کہا: اسے کھاؤ، اور بعض نے کہا: نہ کھاؤ۔
پھر میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا (جو ہم سے آگے تھے) اور ان سے اس کے بارے میں پوچھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا:
اسے کھاؤ، یہ حلال ہے۔
وہ جو حرمت یا ممانعت تھی وہ معللۃ تھی
علت کی وجہ سے منع کیا ناکہ مطلقا
اگر کراہت پر اشکال کرنا ہے
تو. ملاحظہ کرےط
مالکیہ کے نزدیک کتے کا گوشت کھانا مکروہ ہے

اھل. سنت میں بھی حمار کے گوشت میں اختلاف ہیں
جیسے مالکیہ کے نزدیک بھی مکروہ

جناب عاشہ کے نزدیک گدھا کھانے میں حرج نہیں ہے

لحوم وحشی تو دور

اھلیہ میں ہی حرج نہیں ہے
مباح ہے
جو احادیث اس کی حرمت پر آیی ہیں وہ اخبار احاد میں سے ہیں ان اخبار احاد پر عمل کرنے دے آیت قرآن پر نسخ لازم آتا ہے جو کہ جائز نہیں

میں نے کہا:
انہوں نے (حمارِ اہلی کو) حرام قرار نہیں دیا، اس لیے کہ وہ اس نہی (ممانعت) کے بارے میں تردد میں تھے کہ آیا یہ ممانعت قطعی (ہمیشہ کے لیے) ہے یا کسی خاص علّت (سبب) کی بنا پر ہے، اور اب وہ علّت ختم ہو چکی ہے۔

“بے شک اس آیت کا ظاہر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ جو چیزیں اس میں ذکر نہیں کی گئیں وہ حلال ہیں۔
اور ابنِ حزم نے ذکر کیا ہے کہ جو لوگ (گھریلو گدھوں کو) حلال کہتے ہیں، انہوں نے اس آیت سے استدلال کیا ہے۔
اور (اس کی تائید میں) یہ بھی بیان کیا کہ ام المؤمنین حضرت عائشہؓ سے جب گھریلو گدھوں کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے اسی آیت سے استدلال کیا، گویا وہ ان کے حلال ہونے کی قائل تھیں۔
اور حضرت ابنِ عباسؓ نے بھی ان کی موافقت کی اور اسی آیت سے استدلال کرتے ہوئے اسے حلال قرار دیا۔”
مختصر وضاحت
اس عبارت میں بعض صحابہ (حضرت عائشہؓ اور ابن عباسؓ) کا وہ موقف بیان ہو رہا ہے کہ
قرآن میں جن چیزوں کی حرمت صراحت سے نہیں آئی، وہ اصل میں حلال ہیں۔
اسی اصول کی بنیاد پر انہوں نے حمارِ اہلی (گھریلو گدھے) کے حلال ہونے کا قول اختیار کیا۔

دودھ والا مسئلہ
الأُتُن: هي إناث الحمير الأهلية.

اس میں رخصت ہے یعنی پی سکتے ہیں اھل. سنت کے نزدیک

البان الاتن پر نھی موجود نہیں
اتن کہتے ہیں گدھی کو