کیا شیعہ ختم نبوت کے منکر (2)؟

الکافی کتاب الایمان والکفر باب خصال المومن حدیث نمبر 4
4- عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سُلَيْمَانَ الْجَعْفَرِيِّ عَنْ أَبِي الْحَسَنِ الرِّضَا عَنْ أَبِيهِ ع قَالَ: رَفَعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ص قَوْمٌ فِي بَعْضِ غَزَوَاتِهِ فَقَالَ مَنِ الْقَوْمُ فَقَالُوا مُؤْمِنُونَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَ مَا بَلَغَ مِنْ إِيمَانِكُمْ قَالُوا الصَّبْرُ عِنْدَ الْبَلَاءِ وَ الشُّكْرُ عِنْدَ الرَّخَاءِ وَ الرِّضَا بِالْقَضَاءِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص حُلَمَاءُ عُلَمَاءُ كَادُوا مِنَ الْفِقْهِ أَنْ يَكُونُوا أَنْبِيَاءَ إِنْ كُنْتُمْ كَمَا تَصِفُونَ فَلَا تَبْنُوا مَا لَا تَسْكُنُونَ وَ لَا تَجْمَعُوا مَا لَا تَأْكُلُونَ وَ اتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ.
۴۔ امام رضا (ع) نے اپنے پدر بزرگوار سے روایت کی ہے کہ ایک غزوہ میں کچھ لوگ رسول اللہ صلعم کے پاس آئے آپ صلعم نے پوچھا یہ لوگ کون ہیں انھوں نے کہا اے رسول اللہ صلعم ہم مومن ہیں فرمایا تمہارا ایمان کس چیز سے کامل ہوا انھون نے کہا ہم مصیبت میں صبر کرتے ہیں اور عیش میں شکر کرتے ہیں اور قضأ الٰہی پر راضی ہیں۔ فرمایا یہ لوگ حلیم اور عالم ہیں قریب ہے کہ یہ اپنے علم دین کی بدولت نبی ہوجائیں گے اگر ایسے ہی ہیں جیسا بیان کرتے ہیں اپنی ضرورت سے زیادہ مکان نہ بناؤ اور ضرورت سے زیادہ کھانے کا سامان مہیا نہ کرو اس اللہ سے ڈرو جس کی طرف لوٹ کر جانے والے ہو۔

علامہ مجلسی علیہ الرحمہ کے نزدیک حدیث سندا صحیح ہے
یہ بات علم بلاغۃ میں رکھ کر سمجھے تو بہت آسان ہو جائے
کادوا من الفقہ ان یکونوا انبیاء
اس کو مطلب یہ نہیں کہ نبی ہی بن جائے گے
بلکہ اس سے مراد یہ کہ وہ نبی کی طرح ہو جائے گے
عربی متن پر یہ اعتراض ہو سکتا ہے کہ
اس میں حرف تشبیہ کہاں لکھا ہے
تو جنہوں علم بلاغۃ پڑھا ہے
وہ جانتے ہیں
کہ سب سے زیادہ بلیغ تشبیہ وہی ہوتی ہیں جس میں حرف تشبیہ کا ذکر نا ہو.
کیلئے ملاحظہ کرے

محمد کالاسد
اس میں حرف تشبیہ ہے
اور 5 دیکھے
محمد اسد اس میں حرف تشبیہ نہیں
اور ہے یہ بھی تشبیہ کی قسم
نمبر والی بھی دیکھے
جس میں حرف تشبیہ یعنی
ک
کا ذکر نہیں
مگر جو تشبیہ کی وجہ ہے
وہ ذکر ہیں
یعنی. شجاعت میں شیر کی طرح
جب کہ ان کے اپنے ہاں بھی یہ جملہ تھوڑا سا اختلاف کے ساتھ موجود ہیں

پھر عمر نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیں کہ میں اسے قتل کر دوں۔
تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “کیا تم نہیں جانتے کہ بردبار (حلیم) شخص قریب ہوتا ہے کہ نبی بن جائے؟”
: تو پس یہاں مراد تشبیہ ہیں نا کہ نبوت جاری رہے گی
(پس آپؐ نے فرمایا: تم کون لوگ ہو؟)
یعنی آپؐ نے ان سے پوچھا کہ وہ کون سی صفات اور خصوصیات ہیں جو ان کی پہچان کو متعین کرتی ہیں۔
(انہوں نے کہا: ہم مومن ہیں)
یعنی ہم (یا وہ لوگ) مومن ہیں۔
چونکہ ایمان کے کچھ بلند آثار اور لازمی نتائج ہوتے ہیں جو اس کی سچائی پر دلالت کرتے ہیں، اس لیے آپؐ نے پوچھا کہ ایمان کی وجہ سے تم میں کون سی صفات پیدا ہوئی ہیں؟
تو انہوں نے جواب دیا:
مصیبت کے وقت صبر کرنا،
خوشحالی کے وقت نعمت دینے والے (اللہ) کا شکر ادا کرنا،
اور قضا (الٰہی فیصلے) پر راضی رہنا۔
چونکہ یہ صفات علم، حکمت اور حلم (بردباری) کے آثار ہیں، اور یہ انبیاء کی عظیم صفات میں سے ہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“تم بردبار اور صاحبِ علم ہو”
کیونکہ اثر کا ہونا مؤثر کے ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ اور آپؐ نے انہیں انبیاء سے تشبیہ دی، اس لیے کہ ان میں کافی حد تک مشابہت اور قربت پائی جاتی ہے۔
پھر چونکہ یہ صفات دنیا سے زہد اور تقویٰ (یعنی احکام پر عمل اور ممنوعات سے بچنے) کا تقاضا کرتی ہیں، تو آپؐ نے پہلے (زہد) کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا:
“اگر تم سچے ہو، تو ایسے گھر نہ بناؤ جن میں رہنا ہی نہیں، اور ایسی چیزیں جمع نہ کرو جو تم کھانے والے نہیں ہو”
اور خاص طور پر ان دو چیزوں سے منع کیا، کیونکہ یہ دنیا کے خواہش مند لوگوں کی بڑی خواہشات میں سے ہیں۔
اور دوسرے (تقویٰ) کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرمایا:
“اور اللہ سے ڈرو جس کی طرف تم سب لوٹ کر جاؤ گے”
اور اس میں وعدہ (انعام) اور وعید (عذاب) دونوں شامل ہیں۔
شرح اصول الکافی مولی مازندرانی
ختم نبوت پر صریح دلیل عند الشیعۃ
روي عن أبي عبد اللّٰه محمّد بن إبراهيم بن جعفر النعمانيّ أنّه روى في تفسيره بإسناده عن إسماعيل بن جابر قال : سمعت أبا عبد اللّٰه جعفر بن محمّد الصادق عليهما السلام يقول إن اللّٰه تبارك و تعالى بعث محمّداً فختم به الأنبياء فلا نبي بعده و انزل عليه كتاباً فختم به الكتب فلا كتاب بعده أحل فيه حلالاً و حرم حراماً فحلاله حلال إلى يوم القيامة و حرامه حرام إلى يوم القيامة فيه شرعكم و خبر من قبلكم و بعدكم.
روایت ہے کہ ابو عبد اللہ محمد بن ابراہیم بن جعفر نعمانی نے اپنی تفسیر میں اپنی سند کے ساتھ اسماعیل بن جابر سے نقل کیا کہ انہوں نے کہا: میں نے امام ابو عبد اللہ جعفر بن محمد الصادق علیہما السلام کو فرماتے ہوئے سنا:
بے شک اللہ تبارک و تعالیٰ نے محمد ﷺ کو مبعوث فرمایا اور ان کے ساتھ انبیاء کا سلسلہ ختم کر دیا، پس ان کے بعد کوئی نبی نہیں۔ اور ان پر ایک کتاب نازل فرمائی اور اس کے ساتھ کتابوں کا سلسلہ ختم کر دیا، پس اس کے بعد کوئی کتاب نہیں۔ اس میں حلال کو حلال اور حرام کو حرام قرار دیا گیا ہے، لہٰذا اس کا حلال قیامت تک حلال ہے اور اس کا حرام قیامت تک حرام ہے۔ اسی میں تمہاری شریعت ہے اور تم سے پہلے اور تمہارے بعد کے لوگوں کی خبریں بھی ہیں۔