(2) اعتراض۔نہج البلاغہ میں مولا علی نے جنگ صفین میں فرمایا کہ ہمارے مخالفین کا اللہ ایک ہے قران ایک ہے نبی ایک ہے دین ایک ہے
ظاہری اسلام ہم کسی ایسے شخص سے نفی نہیں کرتے جو اسلام کا دعویٰ کرے اور کلمۂ شہادتین پڑھے، جب تک کہ وہ کھلے کفر کا ارتکاب نہ کرے یا دین کے کسی ضروری معلوم امر کا عناداً انکار نہ کرے اور رسول ﷺ کی تکذیب نہ کرے۔
لہٰذا ہم دنیا میں معاویہ، عمرو بن العاص یا دیگر افراد کے اسلام کی نفی نہیں کرتے، لیکن ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ جو شخص حق کی مخالفت کرے اور اہلِ بیت (علیہم السلام) کی ولایت قبول نہ کرے، وہ دنیا میں خاص معنی کے اعتبار سے مومن نہیں ہے اور حقیقت میں اللہ کے نزدیک حقیقی مسلمان نہیں ہے، بلکہ وہ آخرت میں عذاب کا مستحق ہے۔
اس کی دلیل حدیثِ افتراق ہے جس میں آیا ہے: “میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی، ان میں سے سب جہنم میں ہوں گے سوائے ایک کے۔” پس نبی اکرم ﷺ نے واضح فرمایا کہ تمام فرقے آپ کی امت ہیں اور دنیا میں ظاہراً اسلام کی طرف منسوب ہیں، لیکن نجات پانے والا فرقہ صرف ایک ہے، جو حق کی پیروی کرتا ہے اور جنت کا مستحق ہے۔
لہٰذا جو لوگ امیر المؤمنین (علیہ السلام) سے جنگ کرنے والے تھے، ہم انہیں دنیا میں اسلام سے خارج نہیں کرتے بلکہ ان پر مسلمانوں کے احکام جاری کرتے ہیں۔ اس کی دلیل نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان ہے: “تم میں سے ایک ایسا ہوگا جو قرآن کی تاویل پر اسی طرح جنگ کرے گا جیسے میں نے اس کے نزول پر جنگ کی…” (یہ حدیث احمد، ابو یعلیٰ وغیرہ نے روایت کی ہے، اور ابن حجر نے اس کے رجال کو صحیح کے رجال قرار دیا ہے، نیز حاکم، ابن ابی شیبہ، ابن حبان اور نسائی نے بھی اسے روایت کیا ہے)۔
رہی وہ روایات جو ائمہ (علیہم السلام) سے منقول ہیں، تو وہ اسی بات پر دلالت کرتی ہیں جسے ہم نے بیان کیا کہ ان کا ظاہری اسلام ثابت ہے، لیکن آخرت میں ان کی نجات ثابت نہیں ہوتی۔
اور جو آیات و احادیث آپ نے ان کے اسلام کے اثبات کے لیے پیش کی ہیں، تو ہم بھی ظاہری اسلام کو مانتے ہیں، اور وہ اس سے زیادہ پر دلالت نہیں کرتیں۔ خصوصاً امام (علیہ السلام) کا یہ فرمان کہ “ظاہراً ہمارا رب ایک ہے”، اس سے بھی یہی واضح ہوتا ہے کہ وہ لوگ ظاہری طور پر مسلمان ہیں۔
اسی طرح امام (علیہ السلام) کا انہیں “ہمارے بھائی جنہوں نے ہم پر بغاوت کی” کہنا یا یہ فرمانا کہ “انہوں نے سمجھا کہ وہ حق پر ہیں”، یہ اوصاف کلی نہیں ہیں کہ ہر فرد پر لاگو ہوں، بلکہ ان میں منافق بھی ہیں، فاسق بھی، معاند بھی اور جاہل بھی وغیرہ۔
بلکہ یہ اوصاف ان کے باغی ہونے پر دلالت کرتے ہیں۔ اور اگر آپ قرآن کی آیت پر غور کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ یہ آیت ان کے بارے میں اس وقت تک ایمان ثابت نہیں کرتی جب تک وہ بغاوت چھوڑ کر اللہ کے حکم کی طرف نہ لوٹ آئیں:
“پس اس گروہ سے جنگ کرو جو بغاوت کرے یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے، پھر اگر وہ لوٹ آئے تو ان کے درمیان عدل کے ساتھ صلح کراؤ… بے شک مومن آپس میں بھائی ہیں…”
لہٰذا یہ آیت اس شخص کے بارے میں کوئی حکم نہیں دیتی جو بغاوت پر قائم رہے، اس لیے آپ اس سے اس کے ایمان کو ثابت نہیں کر سکتے، بلکہ یہ آیت آپ کے خلاف دلیل ہے نہ کہ آپ کے حق میں۔
اور دنیاوی (ظاہری) حکم اور آخرت کے حقیقی حکم میں فرق کرنے کے لیے ہمارے لیے یہی کافی ہے کہ بخاری وغیرہ نے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عمار کے بارے میں فرمایا: “افسوس عمار پر! اسے ایک باغی جماعت قتل کرے گی، وہ انہیں جنت کی طرف بلائے گا اور وہ اسے جہنم کی طرف بلائیں گے۔”
آخر میں ہم کہتے ہیں کہ امام علی (علیہ السلام) کا معاویہ اور اس کے گروہ سے جنگ کرنا اجتہادی نہیں تھا بلکہ نبی ﷺ کے حکم سے تھا، جیسا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: “تم ناکثین، قاسطین اور مارقین سے جنگ کرو گے”، تو پھر معاویہ اور اس کے گروہ کے ایمان کا دعویٰ کیسے درست ہو سکتا ہے؟
كَانَ بَدْءُ اَمْرِنَاۤ اَنَّا الْتَقَیْنَا وَ الْقَوْمُ مِنْ اَهْلِ الشَّامِ، وَ الظَّاهِرُ اَنَّ رَبَّنَا وَاحِدٌ، وَ نَبِیَّنَا وَاحِدٌ، وَ دَعْوَتَنَا فِی الْاِسْلَامِ وَاحِدَةٌ، لَا نَسْتَزِیْدُهُمْ فِی الْاِیْمَانِ بِاللّٰهِ، وَ التَّصْدِیْقِ بِرَسُوْلِهٖ ﷺ،وَ لَا یَسْتَزِیْدُوْنَنَا، الْاَمْرُ وَاحِدٌ، اِلَّا مَا اخْتَلَفْنَا فِیْهِ مِنْ دَمِ عُثْمَانَ، وَ نَحْنُ مِنْهُ بَرَآءٌ.
اس کے متن میں ہی جواب موجود ہے
مکتوب 58