Recommended articles
تاریخ
انھدام جنت البقیع
April 15, 2026
0
0
Imamat & Ahl al-Bayt (AS) الإمام جعفر بن محمد الصادق عليه السلام
کیا آئمہ اہلِ سنت، امام جعفر صادق علیہ السلام کے شاگرد رہے ہیں ؟
April 15, 2026
0
0
Imamat & Ahl al-Bayt (AS) الإمام علي بن أبي طالب عليه السلام
سلف میں سے بہت سوں کا یہ عقیدہ تھا کہ امیرالمومنین علیہ السلام ابوبکر سے افضل ہیں..شیخ البانی کا اعتراف
April 14, 2026
0
0
شبھات کا رد
شیعوں کے یہاں عورتوں کو سورہ یوسف کی تعلیم دینا منع ہے.
April 14, 2026
0
0
Momin Taaq
  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
    • For Youth & Seekers
  • Privacy Policy
    • Terms and conditions
  • Contact Us
شبھات کا رد

شیخ مفید تحریف قرآن کے قائل تھے؟

March 31, 2026
0
0

جواب ملاحظہ فرمائیں

 بسم اللہ الرحمن الرحیم
کچھ لوگوں کو شیخ مفید کی کتاب اوائل المقالات میں ایک عبارت کے بارے میں غلط فہمی ہوئی ہے کہ وہ قرآنِ کریم میں تحریف کے قائل ہیں، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ شیخ مفید نے اپنی کتاب اوائل المقالات کے صفحہ 46 پر فرمایا:
“رجعت، بداء اور قرآن کی ترتیب کے بارے میں گفتگو: امامیہ اس بات پر متفق ہیں کہ قیامت سے پہلے بہت سے مردوں کی دنیا میں واپسی (رجعت) ہوگی، اگرچہ رجعت کے معنی میں ان کے درمیان اختلاف ہے۔ اور وہ اس بات پر بھی متفق ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے لیے لفظ ‘بداء’ کا اطلاق سمع (نصوص) کی بنا پر جائز ہے نہ کہ قیاس سے۔ اور وہ اس بات پر بھی متفق ہیں کہ گمراہ پیشواؤں نے قرآن کی ترتیب کے بہت سے مقامات میں مخالفت کی اور اس میں نزول اور سنتِ نبی ﷺ کے مطابق عمل نہیں کیا۔ جبکہ معتزلہ، خوارج، زیدیہ، مرجئہ اور اہل حدیث ان تمام امور میں امامیہ کے خلاف ہیں۔”
شیخ مفید کی اس عبارت کا مقصد تحریف کا عقیدہ بیان کرنا نہیں ہے، بلکہ ان کے نزدیک گمراہ پیشواؤں کی مخالفت کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے قرآن کو اس ترتیب سے جمع نہیں کیا جس ترتیب سے وہ نازل ہوا تھا؛ یعنی پہلے مکی آیات (قدیم تر)، پھر مدنی آیات اسی ترتیب سے۔ اسی طرح بعض مقامات پر ناسخ کو منسوخ سے پہلے لکھ دیا، جبکہ زمانی ترتیب کے لحاظ سے ناسخ بعد میں ہونا چاہیے تھا۔
شیخ مفید نے اسی کتاب میں مزید واضح اور صریح الفاظ میں بیان کیا ہے کہ وہ قرآن میں تحریف کے قائل نہیں ہیں۔ چنانچہ صفحہ 80 کے بعد فرماتے ہیں:
“قرآن کی ترتیب اور اس میں زیادتی و کمی کے دعوے کے بارے میں: میں کہتا ہوں کہ اہلِ بیتؑ سے بہت سی روایات وارد ہوئی ہیں جن میں قرآن کے اختلاف اور بعض ظالموں کی طرف سے اس میں حذف و کمی کا ذکر ہے۔ لیکن ترتیب کے بارے میں تو موجودہ قرآن میں بعض آیات کو آگے پیچھے کیا گیا ہے۔ اور جو شخص ناسخ و منسوخ اور مکی و مدنی کو جانتا ہے، وہ اس بات کو سمجھتا ہے۔
جہاں تک کمی (نقصان) کا تعلق ہے تو عقل اس کو ناممکن نہیں کہتی، لیکن میں نے اس قول کی تحقیق کی اور معتزلہ وغیرہ سے اس پر گفتگو کی، مگر مجھے اس کے بطلان پر کوئی مضبوط دلیل نہیں ملی۔
اور امامیہ کے ایک گروہ نے کہا ہے کہ قرآن میں نہ کوئی کلمہ کم ہوا، نہ آیت اور نہ سورت؛ بلکہ جو چیز حذف ہوئی وہ امیرالمؤمنینؑ کے مصحف میں موجود تاویل اور تفسیر تھی، جو حقیقی معنی کے طور پر نازل ہوئی تھی، اگرچہ وہ اعجازی قرآن کے متن کا حصہ نہیں تھی۔
اور میرے نزدیک یہی قول زیادہ درست ہے بنسبت اس قول کے جو حقیقی قرآن میں کمی کا دعویٰ کرتا ہے، اور میں اسی کی طرف مائل ہوں۔ اللہ سے توفیقِ صواب کا سوال کرتا ہوں۔”
پس شیخ مفید نے واضح طور پر اس بات کی طرف میلان ظاہر کیا ہے کہ قرآنِ کریم میں نہ کوئی لفظ کم ہوا ہے، نہ آیت اور نہ سورت۔
کیا رسول اللہ نے رافضیوں کی مذمت میں کوئی پیشن گوئی کی تھی؟

کئی دفعہ ہمارے سادہ براداران اہلسنت کو یہ کہہ کر دھوکہ دیا جاتا ہے کہ

رسول اللہ نے کہا تھا کہ آخری زمانہ میں ایک قوم آئے گی، جنھیں رافضی کہا جائے گا، وہ صحابہ پر تبرا کریں گے، اگر ان میں کوئی بیمار ہو جائے تو اسے نہ پوچھا جائے، ان میں کوئی مر جائے، تو پوچھا نہ جائے، اور اگر تمھاری کوئی مر جائے، انہیں شامل نہ ہونے دو

وغیرہ وغیرہ

اس ضمن میں ہم سلفی عالم، حافظ زبیر علی زئی کی تحقیق سے استفادہ کرتے ہیں کہ کیا یہ روایت مستند ہے؟

مختصر الفاظ میں

ںہیں، ایسی کوئی روایت بھی مستند نہیں ہے

اور اگر تفصیل سے جواب درکار ہے، تو ان کی کتاب، فتاوی علمیہ المعروف توضیح الاحکام، جلد ۱، صفحہ ۱۳۹ تا ۱۴۷، مکتبۃ الحدیث، ۲۰۰۹؛ کی طرف رجوع کریں

ہم ان کے تحقیق سے اس طرح سے استفادہ کریں گے کہ ہر حدیث کے الفاظ تو نقل نہیں کر پائیں گے، تاہم حدیث کے ماخذ اور اس کے سند کے ضعف کی جو نشاندہی حافظ صاحب نے کی ہے، وہ بیان کر دیتے ہیں

پہلی روایت ابن حبان کی المجروحین، ۱/۱۸۷؛ میں ہے، اور ابن حبان نے اسے باطل کہا ہے

ذہبی نے اس روایت کو سخت منکر قرار دیا

(میزان الاعتدال، ۱/۳۲)

اس کے راوی بشیر القصیر کے متعلق ابن حبان نے کہا کہ یہ سخت منکر الحدیث ہے

(المجروحین، ص ۱۸۷)

دوسری روایت مسند احمد، ۱/۱۰۳، حدیث ۸۰۸؛ ہے، زبیر علی زئی نے سند کو ضعیف کہا ہے کیونکہ ابو عقیل یحیی ابن متوکل اور کثیر ابن اسماعیل نوا ضعیف ہیں

نیز حافظ ابن جوزی نے کہا کہ یہ حدیث رسول اللہ سے صحیح نہیں ہے (العلل المتناہیہ، ۱/۱۵۷؛ حدیث ۲۵۲)

تیسری روایت مسند عبد ابن حمید اور المسند الجامع سے ہے، اور حافظ صاحب نے اس کے راویان عمران بن زید اور حجاج بن تمیم کے متعلق کہا کہ یہ ضعیف ہیں

چوتھی روایت حلیۃ الاولیا، تاریخ بغداد اور العلل المتناہیہ سے ہے۔ حافظ صاحب کو بقول یہ روایت باطل و مردود ہے کیونکہ سوار بن مصعب الہمدانی پر شدید جرح ہے اور اسے منکر الحدیث بھی کہا گیا

اسی طرح جمیع بن عمیر بھی ضعیف ہے، اور عصام بن حکم مجہول ہے

پانچویں روایت المجروحین ابن حبان، العلل المتناہیہ، مسند ابو یعلی، تاریخ دمشق ابن عساکر، موضع اوہام الجمع و التفریق خطیب؛ سے ہے

حافظ صاحب نے اس سند کو بھی ضیعف اور باطل کہا کیونکہ اس کا راوی تلید بن سلیمان پر شدید جرح ہے، اور یحیی ابن معین نے اسے کذاب کہا ہے؛ اور اس پر لعنت کی ہے

اس موقع پر حافظ صاحب نے اس بات کی نشاندہی بھی کی کہ مسند ابو یعلی میں غلطی ہے کہ ابو ادریس، جو کہ تلید ہے؛ اس کی جگہ پر ابن ادریس لکھا ہے۔ اور انہوں نے اس کو واضح کیا کہ مسند ابو یعلی کے محقق، ارشاد الحق اثری نے اس کو بیان کیا ہے، تاہم حسین درانی نے غلطی کی ہے۔ تفصیل کے لیے حافظ صاحب کی کتاب کی طرف رجوع کریں

چھٹی حدیث معجم کبیر طبرانی، حلیۃ الاولیا، مسند ابو یعلی، السنۃ ابن ابی عاصم؛ سے ہے، اس کو بھی حافظ صاحب نے ضعیف کہا کیونکہ حجاج بن تمیم ضعیف ہے، اور اس مقام پر انہوں نے ہیثمی کا اس روایت کو حسن سند کہنے کا بھی تعاقب کیا، کہ یہ نہیں ہو سکتا کیونکہ راوی ضعیف ہے

ساتویں روایت تاریخ بغداد اور معجم اوسط طبرانی سے ہے، اس کو بھی حافظ صاحب نے سخت ضعیف، باطل و مردود قرار دیا کیونکہ اس میں فضل بن غانم اور عطیہ عوفی ہیں، نیز سوار بن مصعب ہیں جن کے بارے میں چوتھی روایت میں بات ہو چکی ہے

آٹھویں روایت السنۃ ابن ابی عاصم سے ہے، اور حافظ صاحب کے مطابق یہ محمد بن اسعد تغلبی کی وجہ سے ضعیف ہے

نویں روایت بھی السنۃ ابن ابی عاصم سے ہے، اور اس کو بھی انہوں نے سخت ضعیف و مردود قرار دیا کیونکہ بکر بن خنیس ضعیف اور سوار منکر الحدیث ہے

آخر میں فرماتے ہیں

Quote

خلاصۃ التحقیق: رافضیوں کا نام لے کر، مذمت والی کوئی روایت بھی صحیح و ثابت نہیں

Tags:
Done
Add to Bookmarks

Related Posts

تاریخ
انھدام جنت البقیع
April 15, 2026
0
0
Imamat & Ahl al-Bayt (AS) الإمام جعفر بن محمد الصادق عليه السلام
کیا آئمہ اہلِ سنت، امام جعفر صادق علیہ السلام کے شاگرد رہے ہیں ؟
April 15, 2026
0
0
Imamat & Ahl al-Bayt (AS) الإمام علي بن أبي طالب عليه السلام
سلف میں سے بہت سوں کا یہ عقیدہ تھا کہ امیرالمومنین علیہ السلام ابوبکر سے افضل ہیں..شیخ البانی کا اعتراف
April 14, 2026
0
0

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll down to see next article
شبھات کا رد
شیعوں کے گناہ جناب رسالت ماب ﷺ کے کندھوں پر ہیں
About Us

Momin Taaq is a global online platform dedicated to presenting authentic Shia Islamic knowledge with clarity, logic, and respect.

Follow Us
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Pinterest
Featured Lectures
شبھات کا رد
امام سجاد علیہ السلام نے ابو بکر عمر کا دفاع کیا ہے؟
September 27, 2025
شبھات کا رد
یہ کیوں کہا گیا کہ “دابۃ”؟ کیا اس میں امیر المؤمنین (علیہ السلام) کی توہین نہیں ہے؟
September 26, 2025
عقیدہ امامت
ہ سب سے پہلے جس نے 12 اماموں بات شروع کی وہ شیخ کلینی اور علی بن بابویہ القمی علیھما الرحمۃ
February 9, 2019
Knowledge & Research
  • Imamat & Ahl al-Bayt (AS)18
  • Youth & New Muslims1
  • آیت تطھیر و اھل البیت علیھم السلام1
  • اصحاب رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم2
  • اعتقادات4

© 2025 Momin Taaq. All Rights Reserved.

  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
    • For Youth & Seekers
  • Privacy Policy
    • Terms and conditions
  • Contact Us
  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
  • Privacy Policy
  • Contact Us
  • For Youth & Seekers
  • Terms and conditions