شیعوں کے گناہ جناب رسالت ماب ﷺ کے کندھوں پر ہیں
اس سلسلے میں آج جس روایات پر نظر ثانی کی ہے
اس روایت میں امام زمانہ عجل اللہ فرجھہ الشریف کے بارے میں وارد ھے کہ آپ ایک ہزار میں سے 999 لوگوں کو قتل کریں گے
پہلے ہم وہ روایت لگاتے ہیں اس کے بعد آگے بڑھیں گے
قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ عُبَيْدٍ مُعَنْعَناً عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع فِي قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَي… «وَ إِنَّ لَنا لَلْآخِرَةَ وَ الْأُولي فَأَنْذَرْتُكُمْ ناراً تَلَظَّي» الْقَائِمُ [ص ] إِذَا قَامَ بِالْغَضَبِ فَقَتَلَ مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعَمِائَةٍ وَ تِسْعَةً وَ تِسْعِينَ ….
محمد بن القاسم بن عبيد نے معنعن روایت میں اپنے اساتذہ سے اور انھوں نے امام صادق سے خداوند کے اس قول کے بارے میں کہ، اور دنیا و آخرت ہمارے لیے ہے، اور میں تم کو آگ کے بھڑکتے شعلوں سے آگاہ کرتا ہوں، نقل کیا ہے کہ: اس آیت سے مراد قائم ہے کہ جب بھی غضب کے ساتھ قیام کرے گا تو ہر ہزار بندوں میں سے نو سو ننانوے بندوں کو قتل کرے گا۔
الكوفي ، فرات بن إبراهيم (متوفي352هـ)، تفسير فرات الكوفي، ص565، تحقيق : محمد الكاظم، ناشر : مؤسسة الطبع والنشر التابعة لوزارة الثقافة والإرشاد الإسلامي ـ طهران ، الطبعة : الأولي، 1410هـ ـ 1990 م
میں کہتا ہوں کہ یہ روایت امام زمانہ عجل اللہ فرجھہ الشریف کی وقعت کو کم کرنے کے لیے بیان کی گئ ھے حضرت حجت خداؑ ظاہر ہوکر لوگوں کو قتل کرنا وہ بھی اس روایت میں اس کے جعلی اور من گھڑت ہونے کا ثبوت ھے
ایسی روایات جو بیان ہوئ ہیں ان کا مقصد یہ تھا کہ لوگوں کو حضرت حجة خدا ؑ اور اھلبیت ؑ سے ڈرانا اور ان معصوم شخصیات کو داغدار کرنا ھے
اس روایت میں علت کے اسباب
(1 )…اس روایت کے راوی محمد بن القاسم بن عبید مہمل ہیں
سواۓ شیخ نمازی اور جواھری کے ان کا نام کسی رجالی کتاب میں نہیں ملتا
میری تحقیق کے مطابق محمد بن القاسم بن عبید ثقہ ہیں
شیخ جواھری نے المفید من معجم رجال الحدیث میں ان کی توثیق کی ھے
لیکن شیخ نمازی نے ان کے بارے میں لکھا ھے
محمد بن القاسم بن عبید لم یزکرہ
محمد بن القاسم بن عبید کا ذکر نہیں کیا گیا ھے
اگر ہم ان کو ثقہ مان لیں تو پھر بھی اس روایت میں علت ھے
اور وہ یہ ھے کہ اس روایت میں عنعنا ھے
یعنی محمد بن القاسم بن عبید معنن روایت بیان کرتے ہیں
سب جانتے ہیں معنن وہ روایت ھے جو تدلیس کے زمرے میں آے اس کے لیے سماع کی تصریح چاہیے ہوتی ھے
چونکہ شیعہ اصول حدیث اھلسنہ سے مختلف ہیں لیکن پھر بھی معنن روایت اگر قرآئن سے میل کھاۓ تو صحیح ھے بصورت دیگر ضعیف ہو گی
اب اس روایت میں عن فلاں عن فلاں و غیرھم پتا نہیں کون ھے کوئ معلوم نہیں ھے
میں یہ کہتا ہوں کہ محمد بن القاسم بن عبید خود ثقہ ہیں لیکن معنن روایت ہونے کی وجہ سے یہ روایت ضعیف ھے
میری تحقیق کے مطابق یہ 329 ھجری تک زندہ تھے
جب کہ فرات بن ابراھیم کوفی 358 ھجری میں فوت ہوۓ اس لیے ان کا سماع ثابت ہو تا ھے لیکن آگے امام صادق ؑ تک 200 سال کا فاصلہ بنتا ھے جس میں کسی دوسرے راوی کا ذکر نہیں ھے
اور نہ ہی سماع ثابت ہوتا ھے
یہ روایت ضعیف ھے جو کہ فرات بن ابراھیم الکوفی کی تفسیر میں وارد ھے
ایسے ہی ایک روایت سید شرف الدین علی الحسینی الاستر آبادی نے اپنی کتاب تاویل الایات میں نقل کی ھے
وہ روایت کچھ یوں ھے
شرف الدين استرآبادی نے اپنی کتاب تاويل الآيات ميں لکھا ہے کہ:
جَاءَ مَرْفُوعاً عَنْ عَمْرِو بْنِ شِمْرٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَ … وَ إِنَّ لَنا لَلْآخِرَةَ وَ الْأُولي فَأَنْذَرْتُكُمْ ناراً تَلَظَّي قَالَ هُوَ الْقَائِمُ إِذَا قَامَ بِالْغَضَبِ وَ يَقْتُلُ مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعَ مِائَةٍ وَ تِسْعَةً وَ تِسْعِينَ …
اسکا ترجمہ بھی بالکل گذشتہ روایت کے ترجمے کی طرح ہے۔۔۔۔۔۔
السيد شرف الدين علي الحسيني الاسترآبادي (متوفی 965 هـ) ، تأويل الآيات الظاهرة في فضائل العترة الطاهرة، ص780، سورة الليل(92): الآيات 1 الي 21] .
اس روایت میں علت کا سبب
یہ روایت جاء مرفوعاً عن عمرو بن شمر سے شروع ہوتی ھے
یعنی عمرو بن شمر سے مرفوع بیان کیا گیا ھے
مرفوع روایت کی تعریف
حدیث مرفوع اس روایت کو کہتے ہیں جس کا سلسلہ سندمعصوم ؑ تک پہنچتا ہو چاہے وہ متصل ہو درمیان میں کسہ
راوی کا نام ساقط ہو جاۓ اور منقطع ہو
بعض روایات جو مرفوع ہوتی ہیں
وہ قرآئین اور شواہد کی بناء پر صحیح ہوتی ہیں
لیکن اس روایت کا اور کوئ قرینہ نہیں ھے
اور اس مرفوع روایت کا سلسلہ سند بھی منقطع ھے
اس لیے اس روایت سے استدلال نہیں کیا جاۓ گا
ثانیاً
خود عمر بن شمر سخت ضعیف راوی ہیں
بقول شیخ نجاشی
فرماتے ہیں عمرو بن شمر ابو عبداللہ الجعفی عربی روی عن ابی عبداللہ ؑ ضعیف جدا زید أحادیث فی کتب جابر الجعفی ینسب بعضھا الیہ ولامر ملبس
عمرو بن شمر نے امام صادق ؑ سے روایت نقل کی ھے یہ بہت ضعیف ہیں انہوں نے جابر جعفی کی کتابوں میں اپنی طرف سے احادیث میں اضافہ کیا ھے اور بعض احادیث کو جابر کی طرف نسبت دی ھے جو کہ تلبیس اور اشتباہ کا باعث ھے
رجال النجاشی ص 287
ایسے ہی خوئ نے بھی شیخ کا قول نقل کیا ھے
معجم رجال الحدث ج 14 ص 116
عمرو بن شمر من رجال اھلسنہ
عمرو بن شمر من رجال اھلسنہ
ابن حبان نے ان کا ذکر المجرحون مین کیا ھے
ابن عدی نے الکامل فی ضعفاء میں ان کا ذکر کیا ھے
ابن ابی حاتم جرح و تعدیل میں فرماتے ہیں
سمعت ابی ان عمرو بن شمر منکر الحدیث
قال عباس الدوری سمعت یحیی ابن معین یقول عمرو بن شمر لیس بثقة
قال ابو زرعہ الرازی عمرو بن شمر ضعیف فی الحدیث
ابن جوزی نے ان کا ذکر ضعفاء میں کیا ھے
ابن سعد طبقات میں فرماتے ہیں
یہ ضعیف اور متروک ھے
یہ روایت بھی ضعیف اور قابل استدلال نہیں ھے
ثابت ہوا کہ یہ روایات امام زمانہ ؑ کے خلاف ان کے وقار کو مجروح کرتی ہیں
اب آتے ہیں اس طرف کہ کیا امام زمانہ ؑ منتقم نہیں ہیں
لیکن امام زمانہ عجل اللہ فرجھہ الشریف بالکل اپنے نانا جناب رسول خدا ﷺ کی طرح ہیں حسن اخلاق سے مزین ہوں گے اور دشمنوں سے سخت دوستوں سے محبت فرمائیں گے
جن روایات کا تذکرہ کیا گیا ھے ان پر کی گئ جرح کو پڑھ کے کوئ یہ نہ سمجھے کہ امام منتقم نہیں
وہ روایات امام ؑ کی شان شایان نہیں ہیں کہ امام ہر کسی کو قتل کریں
لیکن امام چونکہ منتقم ہیں اس لیے ان شہداء کربلا کا بدلہ لیں گے
آپ نے اپنے بارے میں خود فرمایا ھے
الإمام المهديّ عليهالسلام
هو بقيّة اللّه في أرضه والمنتقم من أعدائه
١ ـ عن أحمد بن إسحاق بن سعد الأشعري ، قال : دخلت على أبي محمّد الحسن بن عليّ عليهماالسلام وأنا أريد أسأله عن الخلف من بعده ، فقال لي مبتدءاً :
«يا أحمد بن إسحاق ، إنّ اللّه تبارك وتعالى لم يخلّ الأرض منذ خلق آدم عليهالسلامولا يخلّيها إلى أن تقوم السَّاعة من حجّة للّه على خلقه ، به يدفع البلاء عن أهل الأرض ، وبه ينزّل الغيث ، وبه يخرج بركات الأرض».
قال : فقلت له : يا ابن رسول اللّه فمن الإمام والخليفة بعدك؟ ، فنهض عليهالسلام مسرعاً ودخل البيت ، ثمّ خرج وعلى عاتقه غلام كأنّ وجهه القمر ليلة البدر من أبناء الثلاث سنين ، فقال عليهالسلام :
«يا أحمد بن إسحاق ، لولا كرامتك على اللّه عزّ وجلّ وعلى حججه ، ما عرضت عليك ابني هذا ، إنّه سمّي رسول اللّه صلىاللهعليهوآلهوسلموكنّيه الَّذي يملأ الأرض قسطاً وعدلاً كما ملئت جوراً وظلماً ، يا أحمد بن إسحاق ، مثله في هذه الأمّة مثل الخضر عليهالسلامومثل ذي القرنين ، واللّه ليغيبنّ غيبة لا ينجو من الهلكة فيها إلّا من ثبّته اللّه على القول بإمامته ، ووفّقه فيها للدعاء بتعجيل فرجه».
فقلت له : يا مولاي هل من علامة يطمئنّ إليها قلبي؟ فنطق الغلام عليهالسلام بلسان عربيّ فصيح فقال : «أنا بقيّة اللّه في أرضه والمنتقم من أعدائه ، فلا تطلب أثراً بعد عين يا أحمد بن إسحاق»
كمال الدين: 2 / 384 / 1.
میزان الحمکة رے شھری ج 1 ص 179
انا بقیة اللہ فی ارضہ والمنتقم من أعدائہ
یہ روایت بالکل صحیح ھے اور کئ شواہد سے ثابت ھے
امام زمانہ ؑ کے القاب میں سے ایک لقب ‘‘منتقم ’’ ہے.اس نام کی طرف رسول خدا (ص) نے خطبہ غدیریہ میں امام زمانہ ؑ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایاہے:
الا انہ المنتقم من الظالمین؛
جابر بن منذر روایت کرتے ہیں کہ رسول خدا (ص) نے فرمایا:جب شب معراج مجھے آسمان پرلے جایا گیاتو خدا وند عالم نے مجھ پر وحی کی . اے میرے رسول ﷺ !مجھ سے پوچھوکہ پہلے والے رسول کس وجہ سے خلق کیے گئے ؟میں نےسوال کیا .کس بنا پر ان کو خلق کیا گیا ؟
آواز قدرت آئی :آپ۔کی نبوت اور آپ کے وصی علی بن ابی طالب ؑ اور اس کے بعد باقی آئمہ ؑ کی ولایت کو قبول کرنے کی وجہ سے ان تمام انبیاء کو خلق کیا گیا . پھر مجھ پر وحی نازل ہوئی. اے رسول ﷺ اپنے داہنےطرف دیکھو .جب میں نے دیکھا تو حضرت علی ؑ ٬حسنؑ ٬حسینؑ ٬علی بن حسین ؑ٬محمد بن علی ؑ٬جعفر بن محمد ؑ ٬موسی بن جعفر ؑ٬علی بن موسی ؑ٬محمد بن علی ؑ٬علی بن محمد ؑ٬حسن بن علی ؑ ٬اور مہدیؑ جو ایک نور کے محل میں نماز پڑھ رہے تھے تو اس وقت آواز قدرت آئی یہ اولیا ءخدا پر بھی میری حجت ہیں اور یہ مہدی ؑ (منتقم )میرے دشمنوں سے بدلہ لے گا.
کتاب کمال دین میں مرقوم ہے کہ امام زمانہ ؑ نے 30 سال کی عمر میں احمد بن اسحاق سے فرمایا :انا بقیۃ اللہ فی ارضہ و المنتقم من اعدائہ
اوپر حوالہ بھی دے دیا گیا ھے
#منجانب_دفاع_مکتب_شیعہ_خیرالبریہ

آج کی روایت کتاب تاویل الایات الطاھرہ سے نقل ھے
جس پر اعتراض وارد کیا جاتا ھے کہ شیعوں کے گناہ جناب رسالت ماب ﷺ کے کندھوں پر ہیں
ہم پہلے اس روایت کو لگاتے ہیں اس کے بعد اس کی وضاحت پیش کر دیں گے ان شاء اللہ
قوله تعالى: ﴿بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ * إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا لِيَغْفِرَ لَكَ اللهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَ مَا تَأَخَّرَ «۱-۲»
۱- تأويله : قال أبو جعفر محمد بن بابويه (۱) : حدثنا سعد بن عبدالله، عن محمد بن عيسى، عن علي بن مهزیار (۲) عن علي بن عبد الغفار، عن صالح بن حمزة ويكنى بأبي شعيب (۳) : شعيب (۳) عن محمد بن سعيد المروزي، قال:
قلت لرجل: أذنب محمد ﷺ قط ؟ قال : لا . قلت: فقول الله كَ لِيَغْفِرَ لَكَ اللهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَ مَا تَأَخَّرَ ما معناه؟ قال: إِنَّ الله سبحانه حمل محمداً ذنوب شيعة علي الله، ثم غفر له ما تقدم منها وما تأخر .
تاویل الایات الطاھرہ ص ٦٢٣
سورة الفتح آیت نمبر ١،٢
محمد بن سعید بن کلثوم المروذی کہتے ہیں
ایک شخص نے کہا کہ جناب رسالت ماب ﷺ کے اگلے پچھلے گناہوں سے کیا مراد ھے
تو کہا گیا کہ اللہ نے شیعوں کے اگلے ہچھلے گناہ رسالت ماب پر حمل کر دئیے ہیں
تاویل الایات الطاھرہ ص 623 اسورہ فتح آیت 1,2
یہ روایت صحیح ھے اس میں کوئ شک نہیں ھے لیکن نوآصب اس روایت کی تاویل غلط رنگ میں پیش کرتے ہیں
اس روایت کا صحیح ترجمہ وہی ھے جو ہم نے کر دیا ھے
سب سے پہلے یہ روایت کسی معصوم ؑ تاویل الایات میں مروی نہیں ھے لیکن اور رویات اس ضمن مین کافی ہیں
محمد بن سعید بن کلثوم المروذی اصحاب امام ھادی ؑ میں سے ہیں اور یہ روایت اس کتاب میں ان سے ہی بیان ہو رہی ھے
سب سے پہلی بات کہ یہ سورہ فتح کا نزول فتح مکہ کے ساتھ تعلق رکھتا ھے
ہم مزید اس کی تشریح پیش کرتے ہیں
یغفرلک اللہ ما تقدم من ذنبک و ما تاخر
اس کی تفسیر میں صاحب تفسیر الصافی محسن فیض کاشانی فرماتے ہیں
فتح مکہ پر ارشاد ہوتا ھے کہ اللہ آپ کے اگلے پچھلے الزام سے آپ کو بری کر دے اور آپ پر اپنی نعمت کو تمام کر دے اور سیدھے رستے پر گامزن رکھے یہ فتح کی علامت ھے اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ نے جہاد کنار کے لیے اسبابمہیا فرماۓ اور شرک کو دور کرنے کی سعی کی دین کی سربلندی اور نفوس ناقصہ کی تکمیل کی
تاویل الایات میں تفسیر مجمع البیان میں اور تفسیر قمی میں اس ضمن میں وارد روایات میں واضح ھے
علي بن إبراهيم ، عن محمد بن جعفر عن محمد بن أحمد، عن محمد بن
الحسين، عن علي بن النعمان، عن علي بن أيوب، عن عمر بن يزيد بياع السابري، قال: قلت لأبي عبد الله الله: قول الله تعالى في كتابه لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ … الآية؟
قال: ما كان له ذنب ولا هم بذنب، ولكن الله حمله ذنوب شيعته، ثم غفرها له. (۱) ٤- ويؤيده ما روي مرفوعاً عن أبي الحسن الثالث لأنه سئل عن قول الله
عزّ وجلَّ: (لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَ مَا تَأَخَّرَ فَقَالَ : وأي ذنب كان لرسول الله الله متقدماً أو متأخراً ؟ وإنما حمله الله ذنوب شيعة
علي الله ممن مضى منهم ومن بقي، ثم غفرها الله له
حذف اسناد امام صادق ؑ فرماتے ہیں
محمد بن جعفر نے بیان کیا ہے کہ مجھے محمد بن احمد نے بیان کیا ہے اور اس نے محمد بن حسین ہے اور اس نے علی بن نعمان وال نے بھی بہت ایجاب سے اس نے عمر بن برج باغ سائری سے نقل کیا۔ وہ بیان کرتا ہے میں نے حضرت امام ابو عبید اللہ امام بود ولی علیہ السلام سے خدا کے اس قول “ليغفر لك الله ما تعلم من طالبات وما تانکر کے بارے میں عرض کیا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا رسول خدا اور آل رسول خدا کا کوئی گناہ نہیں تھا جو خدا معاف کرتا بلکہ خدا نے ان کے شیعوں کے گناہ معاف کر دئیے ہیں
اس بات کی تائید اس روایت سے ہوتی ھے کہ امام حسن عسکری ؑ سے اس قول کے متعلق سوال ہوا لیغفرلک اللہ ما تقدم من ذنبک
پس آپ نے فرمایا رسول اللہ ﷺ کے آگلے پچھلے گناہوں سے کیا مراد ھے تو فرماہا کہ شیعوں کے گناہ آپ پر حمل ہو گئے
تفسیر مجمع البیان میں ارشاد ہوتا ھے
کہ امام صادق ؑ سے مروی ھے
آپ ؑ نے فرمایا نہ تو نبی کریم ﷺ نے گناہ کیا اور نہ ہی انہوں نے گناہ کا قصد کیا تھا
لیکن اللہ تعالی نے شیعوں کے گناہ ان کی طرف محمول کیے پھر رسول اللہ ﷺ کی خاطر ان کے گناہوں کو معاف کر دیا
مجمع البیان ج 9 ص 100 تفسیر القمی ج 2 ص 314
مجمع البیان کی دوسری روایت بھی اسی طرف اشارہ کرتی ھے
امام صادق ؑ سےاسی آیت کے متعلق سوال ہوا کیا گیا تو آپ ؑ نے فرمایا خدا کی قسم رسول اللہ ﷺ کا کوئ گناہ نہ تھا لیکن اللہ نے ان کے ذمے لگایا کہ شیعان علی ؑ کے اگلے پچھلے گناہ ہیں وہ ان کے لیے ۔ مغفرت طلب کریں
تاکہ آپ۔کی دعا کے وسیلے سے ان کے گناہ معاف ہو سکیں
لیکن ناصبیوں نے اس کی تاویل کو الٹا رنگ دیا ھے
بحار الانوار ج 27 ص 137 پر بھی ایک روایت موجود ھے جس کو مجلسی نے تاویل الایات سے ہی نقل کیا ھے
: روي عن النبي صلى الله عليه وآله أنه قال لعلي عليه السلام: يا علي إني سألت الله عز وجل أن لا يحرم شيعتك التوبة حتى تبلغ نفس أحدهم حنجرته، فأجابني إلى ذلك وليس ذلك لغيرهم
رسول اللہ ﷺ نے فرماتے ہیں اے علی ؑ میں نے اللہ سے دعا کی ھے کہ تمہارے شیعوں کی اس وقت تک سانس نہ نکلے گی جب تک وہ توبہ نہ کرلیں
#منجانب_دفاع_مکتب_شیعہ_خیرالبریہ