تقیہ کیا ھے ۔۔
🛑 تقیہ ،، (2)
🟡 تقیہ کیا ھے ۔۔
🌒 قرآن اور آحادیث کی روشنی میں ۔۔
🔵 جانی اور مالی خوف کی وجہ سے اپنے ایمان کو چھپا لینا مگر دل میں ایمان موجود ھو تقیہ ھے
جس کا حکم قرآن اور احادیث میں بھی موجود ھے لَا یَتَّخِذِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الۡکٰفِرِیۡنَ اَوۡلِیَآءَ مِنۡ دُوۡنِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ۚ وَ مَنۡ یَّفۡعَلۡ ذٰلِکَ فَلَیۡسَ مِنَ اللّٰہِ فِیۡ شَیۡءٍ اِلَّاۤ اَنۡ تَتَّقُوۡا مِنۡہُمۡ تُقٰىۃً ؕ وَ یُحَذِّرُکُمُ اللّٰہُ نَفۡسَہٗ ؕ وَ اِلَی اللّٰہِ الۡمَصِیۡرُ ﴿۲۸﴾
۲۸۔ مومنوں کو چاھیئے !!
کہ وہ اھل ایمان کو چھوڑ کر کافروں کو سرپرست نہ بنائیں اور جو کوئی ایسا کرے ۔ اس کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں ، ہاں اگر تم ان (کے ظلم) سے بچنے کے لیئے کوئی طرز عمل اختیار کرو (تو اس میں مضائقہ نہیں) اور اللہ تمہیں اپنے (غضب) سے ڈراتا ھے اور بازگشت اللہ ھی کی طرف ھے ۔ آلا ان تتقوا منھم تقاۃ ۔۔۔۔۔ سے تقیہ ثابت ھے ۔۔
🟤 فخرالدین رازی فرماتے ھیں :
و قد تجوز ایضا یتعلق باظہار الدین ۔۔
کبھی اظہار دین کے سلسلے میں بھی تقیہ جائز ھو جاتا ھے ۔ فخرالدین رازی فرماتے ھیں ۔ کہ جہاں حفظ جان کے لیئے تقیہ کرنا جائز ھے ، وہاں حفظ مال کے لیئے بھی تقیہ جائز ھے ۔۔
جیسا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مروی ھے : حُرْمَۃُ مَالِ الْمُسْلِمِ کَحُرْمَۃِ دَمِہِ ۔ (بحار الانوار ۲۹: ۴۰۷) مال مسلم کی حرمت بھی خون مسلم کی حرمت کی طرح ھے ۔۔
حسن بصری کہتے ھیں :
التقیۃ جائزۃ للانسان الی یوم القیامۃ ۔ (تفسیرقرطبی ۴:۵۷۔ تفسیر کثیر ۱ : ۵۰۷)
قیامت تک انسان کے لیئے تقیہ جائز ھے ۔۔
امام محمدعبدہ تفسیر المنار میں فرماتے ھیں :
اذا جازت موالاتہم لاتقاء الضرر فجوازہا لاجل منفعۃ المؤمنین یکون اولی ۔ (المنار۳ : ۲۸۰)
جب دفع ضرر کی خاطر کفار سے دوستی جائز ھے تو مومنین کے مفاد کے لیئے ایساکرنا بطریق اولی جائز ھے ۔۔
مَنۡ کَفَرَ بِاللّٰہِ مِنۡۢ بَعۡدِ اِیۡمَانِہٖۤ اِلَّا مَنۡ اُکۡرِہَ وَ قَلۡبُہٗ مُطۡمَئِنٌّۢ بِالۡاِیۡمَانِ ۔۔ (نحل۱۶: ۱۰۶)
جو شخص اپنے ایمان کے بعد اللہ کا انکار کرے (اس کے لیئے سخت عذاب ھے) بجز اس شخص کے جسے مجبور کیا گیا ھو اور اس کا دل ایمان سے مطمئن ھو (تو کوئی حرج نہیں) ۔۔۔۔ عمار بن یاسر رضی اللہ کے متعلق ھے ۔۔
وَ قَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ ﳓ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَكْتُمُ اِیْمَانَهٗۤ اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ یَّقُوْلَ رَبِّیَ اللّٰهُ وَ قَدْ جَآءَكُمْ بِالْبَیِّنٰتِ مِنْ رَّبِّكُمْؕ-وَ اِنْ یَّكُ كَاذِبًا فَعَلَیْهِ كَذِبُهٗۚ-وَ اِنْ یَّكُ صَادِقًا یُّصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِیْ یَعِدُكُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ (28) ۔۔
ترجمہ : کنزالایمان ،،
اور بولا فرعون والوں میں سے ایک مرد مسلمان کہ اپنے ایمان کوچھپاتا تھا کیا ایک مرد کو اس پر مارے ڈالتے ھو کہ وہ کہتا ھے میرا رب اللہ ھے اور بیشک وہ روشن نشانیاں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے لائے اور اگر بالفرض وہ غلط کہتے ھیں تو ان کی غلط گوئی کا وبال اُن پر ۔ اور اگر وہ سچے ھیں تو تمہیں پہنچ جائے گا ۔ کچھ وہ جس کا تمہیں وعدہ دیتے ھیں ۔ بیشک اللہ راہ نہیں دیتا اسے جو حد سے بڑھنے والا بڑا جھوٹا ھو ۔۔۔۔۔ لو جی یکتم ایمانہ بھی ثابت ،، تقیہ نص قرآنی سے ثابت ھے جو تنقید کرتے ھیں دراصل ان کی تنقید قرآن پر ھے ۔۔
💫 کیا مسلمان کا مسلمان سے تقیہ جائز ھے ،،
💫 جواب (کتب اھلسنت سے) ۔۔
👈 امام أبوحنيفة (متوفاي١۵٠هـ) اھلسنت والجماعت کے بہت بڑے امام ھیں ۔ امام ابو حنیفہ منصور دوانيقي سے تقیہ کرتے تھے :
♨️ حمزه بن عبد الله خزاعی سے روایت نقل ھے : ابوحنيفه نے فقہا کے ایک گروہ کو منصور کی بیعت سےفرار ھونیکا موقع فراھم کیا اور کہا : یہ لوگ میرے لیئے نمونہ عمل ھیں اور پھر انہیں فقھاء کے ساتھ چلا گیا ۔ اور جب منصور کے پاس پہنچے ، منصور نے ابو حنیفہ سے کہا : تم نے یہ سب چکر چلایا ھے ۔ اللہ گواہ ھے کہ تم نے سچ میں دل سے میری بیعت کی ھے ابوحنیفہ نے کہا : اللہ گواہ ھے اور قیامت کے دن تک ، منصور نے قبول کیا ۔ جب ابوحنیفہ باھر آیا تو اسکے ساتھیوں نے کہا : تم نے قیامت تک منصور کی بیعت کو اپنے اوپر لازمی قرار دیا ۔ تو اس نے جواب دیا «تقوم الساعة» سے میرا مقصد یہ تھا کہ وہ لیٹرین جانے یا کسی کام کیلئے اپنی جگہ سے اٹھ جائے !!!
حوالہ :
[الانتقاء في فضائل الثلاثة الأئمة الفقهاء مالك والشافعي وأبي حنيفة رضي الله عنهم جلد ١ صفحہ ١۵٩ ناشر دار الكتب العلمية بيروت]
👈 علي بن عيسى الرماني (متوفاي٣٨۴هـ) کا شيعيان ابن حجر عسقلاني ادعا کرتا ھے کہ علي بن عيسي تقیہ کی وجہ سے ظاھرا شیعہ تھا :
♨️ ابن نديم نے الفهرست میں لکھا ھے :
علی بن عيسی نے شیعوں کی حق میں جو کتابیں لکھی اس وقت وہ ان کتابوں کے مطالب پر اعتقاد نہیں رکھتا تھا ۔ جہاں یہ رھتا تھا وہاں شیعہ تھے اور وہ تقیہ کرتا تھا ۔۔
حوالہ :
[لسان الميزان جلد ۴ صفحہ ٢۴٨]
👈 موسي بن الحسن بن المسمار (متوفاي۴٣٣هـ) : شمس الدين ذهبي نے علي بن موسي بن حسين دمشقي کے تقیتا شیعہ ھونے کے امکان کے سلسلے میں لکھتا ھے :
♨️ ظاهرا موسی بن حسن بن مسمار تقیتا شیعہ تھا اعتقادی طور پر وہ شیعہ نہیں تھا ۔ کیونکہ اس کے گھرانے کا تعلق اھلحدیث سے ھے لیکن اس کے زمانے میں شام رافضیوں سے برا ھوا تھا ، یہاں تک کہ مصر اور مغرب پر عبيديان کی حکومت تھی : اھل عراق اور بعض عجمی آل بويه کی حکومت تھے اس زمانے میں یہ مسائل بہت زیادہ تھے اور غالی بڑے مقام پر تھے ۔ شیعہ اور معتزلہ بھی آزاد تھے ۔۔
حوالہ :
[سير أعلام النبلاء جلد١٧ صفحہ ۵٠٧]
علماء اھلسنت کے لوگوں کا خلق القرآن کے مسئلے میں تقیہ :
اعتزال کا مذھب بنی عباس کے خلفاء کے دور میں عروج پر تھا ، عباسی حکومت لوگوں کو اعتزالی مذھب قبول کرنے پر مجبور کرتی تھی ۔ یہاں تک کہ جو بھی قرآن کے مخلوق ھونے کا عقیدہ رکھتے اس کو قتل کیا جاتا تھا اسوقت اھلسنت کے تقریبا سارے علماء اور لوگوں نے اس دور کے حاکموں کی اطاعت کی اور قرآن مخلوق نہ ھونے کا اقرار کیا جبکہ ان کا قلبی اعتقاد اس کے خلاف تھا ۔ اھلسنت کے تاریخ نگاروں نے اس «محنة خلق القرآن» کے نام سے یاد کیا ھے ۔ اور اس سلسلے میں لوگوں کے تقیہ کو ، تقیہ کی تائید اور اس کے شرعی ھونے پر دلیل کے طور پر پیش کیئے ھیں ۔ اھلسنت کے مشهور عالم ذهبي ، نے اس فتنے کے بارے میں لکھا ھے :
♨️ اس نے بھی تقیہ کی وجہ سے جواب دیا ھے تو کوئی مسئلہ نہیں ھے ۔۔
حوالہ :
[سير أعلام النبلاء جلد ١٣ صفحہ ٣٢٢]
👈 ذهبي نے سعيد بن سليمان کے بارے میں لکھا ھے : سعيد بن سليمان ، حافظ ، ،قابل اعتماد ، پیشوا تھے سعدويه لقب تھا ۔ بغداد میں ساکن رھے اور علم پھیلایا ۔۔.
♨️ احمد حنبل سعيد بن سليمان سے روگرانی کرتا تھا اور ان سے حدیث نہیں لکھتا تھا ۔ کیونکہ انہوں نے فتنے کے زمانے میں تقیہ کیا تھا اور غیر واقعی جواب دیا تھا ۔ ابوبكر خطيب نے کہا ھے : سعدويه اھلسنت سے ھے فتنے کے دور میں تقیہ کے ساتھ جواب دیتا تھا ۔ احمد بن عبد الله عجلي نے کہا ھے : سعدويه سے فتنے کے بعد پوچھا ، فتنے کے دوران کیا کام کیا ? جواب دیا : کافر ھوا اور پھر واپس آیا ۔۔
حوالہ :
[سير أعلام النبلاء جلد ١٠ صفحہ ۴٨٢]
♨️ ذهبي نےأبو نصر التمار کے بارے میں لکھا ھے : تقیہ اور سزا سے بچنے کے لیئے جواب دیا ھے لیکن پھر بھی وہ قابل اعتماد اور ثقہ ھے ۔۔
حوالہ :
[سير أعلام النبلاء جلد١٠ صفحہ ۵٧٣]
👈 یحيي بن معين بھی اسی مسئلے میں تقیہ کرنے والوں میں سے ھے . ذهبي نے أبو زرعه رازي سے نقل کیا ھے : احمد بن حنبل کا یہ نظریہ تھا کہ ابی نصر تمار اور يحيي بن معين اور دورہ محنت میں جواب دینے والوں سے روایت نہیں لکھنا چاھیئے ۔ پھر اس کے جواب میں لکھتا ھے :
♨️ سخت معاملہ ھے محنت کے دور میں خلق قرآن کے بارے میں جواب دینے والوں کے گردن پر کچھ نہیں یہاں تک کہ ان لوگوں پر بھی جنہوں نے آیت تقیہ پر عمل کرتے ھوئے واضح طور پر کفر کا اظہار کیا ھو اور حق بات بھی یہی ھے کیونکہ یحیی اھل سنت کے اماموں میں سے ھے ۔ کیونکہ یہ لوگ حکومت کی قدرت سے خائف تھے لہذا تقیہ کے ساتھ ایسا جواب دیا ھے !!
حوالہ :
[سير أعلام النبلاء جلد ١١ صفحہ ٨٧]
♨️ ابن حجر عسقلاني نے اسماعيل بن حمّاد کے بارے میں لکھا ھے ۔ یوسف نے کتاب “مرآة” میں کہا ھے : اسماعيل بن حماد قابل اعتماد اور سچا آدمی ہے کسی نے ان پر اعتراض نہیں کیا ، سوائے خطیب کے ، خطیب نے قرآن کے بارے میں اس کی بات نقل کیا ھے ؛ لیکن سبط نے انکے بارے میں کہا ھے انہوں نے یہ بات تقیہ کی وجہ سے کہی ھے ۔۔
حوالہ :
[لسان الميزان جلد ١ صفحہ ٣٩٩]
👈 اھلسنت کے علماء کا ظالم حاکموں سے تقیہ کا فتویٰ ابن خويز منداد ، مالكي مذھب کے بزرگوں میں سے ھے ، جیسا کہ علامه محمد بن مخلوف نے ان کے بارے میں لکھا ھے : آپ امام ، عالم علم کلام کے عالم فقه اور اصولی ھیں آپ ان میں سے ھیں جو ظالم حاکموں سے تقیہ کو جائز سمجھتے ، ابن عربي مالكي اور أبو حيان اندلسي نے ان کے بارے میں لکھا :
♨️ ابن خويز منداد نے کہا ھے :
حاکم کی اطاعت اس وقت واجب ھے جہاں اللہ کی اطاعت بھی ھو ، لیکن جہاں اللہ کی نافرمانی ھو وہاں حاکم کی اطاعت جائز نہیں ھے ، اسی لیئے ھم کہتے ھیں ۔ کہ ھمارے زمانے کے حاکموں کی اطاعت اور انکی مدد کرنا اور انہیں بڑا سمجھنا جائز نہیں ھے لیکن اگر ان حاکموں نے جہاد کیا تو ان کی مدد کرئے اسی طرح ان کی طرف سے قضاوت ، امامت اور ذمہ داری کو قبول کرنا واجب ھے اور ان امور کو شریعت کے مطابق انجام دینا چاھیئے اور اگر حاکم خود ھی امام جماعت بنے تو اگر وہ اھل بدعت نہ ھو تو اس کی امامت میں نماز پڑھنا جائز ھے ۔ لیکن اگر وہ اھل بدعت ھو تو اسکے پیچھے نماز جماعت جائز نہیں ھے ۔ لیکن اگر تقیہ کے طور پر ھو اور اس سے ڈر کی وجہ سے اس کے پیچھے نماز پڑھنا پڑھے تو بعد میں نماز دوبارہ پڑھے ۔۔
حوالہ :
[تفسير البحر المحيط جلد ٣ صفحہ ٢٩١]
💫 کوئی تقیہ نہ کرئے تو وہ مومن نہیں ہوگا :
ابن أبي شيبه ، نے جو بخاری کے استاد بھی ھے اپنی کتاب المصنف میں اميرالمؤمنين عليه السلام کے فرزند محمد حنفيه سے نقل کیا ھے :
♨️ روائی کہتا ھے :
میں نے محمد بن حنفیہ سے سنا آپ کہہ رھے تھے : جو تقیہ نہیں کرتا اس کا ایمان بھی نہیں ۔۔
حوالہ:
[الكتاب المصنف في الأحاديث والآثار جلد ٦ حدیث ٣٣٠۴۵]
💫 کوئی تقیہ نہ کرئے تو اس کے پاس دین بھی نہیں ھوگا : جلال الدين سيوطي نے جامع الأحاديث میں نقل کیا ھے :
♨️ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کوئی تقیہ پر عمل نہ کرئے تو اس کے پاس دین بھی نہیں ۔۔
حوالہ :
[جامع الاحاديث جلد ٨ صفحہ ٢٨١ ح ٢٦٠۵٠]
♨️ ديلمي همداني نے بھی امير المؤمنين عليه السلام سے نقل کیا ھے : لا دين لمن لا تقية له ۔۔
حوالہ :
[الفردوس بمأثور الخطاب جلد ۵ صفحہ ١٨٦ حدیث ٧٩٠٩ ،، كنز العمال في سنن الأقوال والأفعال جلد ٣ صفحہ ۴٣ حدیث ۵٦٦۵]
💫 مؤمن اپنے آپکو ذلیل کرنے کا حق نہیں رکھتا :
♨️ قتادة سے نقل ھوا ھے ۔ کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مؤمن کے لیئے اپنے آپکو ذليل نہیں کرنا چاھیئے ؛ سوال ھوا ، کیسے کوئی شخص اپنے آپ کو ذلیل کرتا ھے ،، جواب میں فرمایا : اپنے آپ کو ایسے البلاء کے آگے ڈال دینا جس سے مقابلے کی اس میں طاقت نہیں ۔۔
حوالہ :
[المصنف جلد ١١ صفحہ ٣۴٨ حدیث ٢٠٧٢١]
💫 احمد بن حنبل ، ابن ماجه ، بيهقي اور بزار نے اسی روايت کو حذيفه سے نقل کیا ھے :
حوالہ :
[سنن ابن ماجه حدیث ۴٠١٦]
[شعب الإيمان جلد ٧ صفحہ ۴١٩]
[البحر الزخار (مسند البزار) جلد ٧ صفحہ ٢١٨]
👈 الباني نے اسی روایت کو اپنی كتاب سلسلة احاديث الصحيحه (مختصرة) جلد ٢ صفحہ ١٧٠ رقم ٦١٣ میں اور كتاب ، صحيح و ضعيف سنن الترمذي جلد ۵ صفحہ ٢۵۴ رقم ٢٢۵۴ «صحيح » میں صحیح قرار دیا ھے اور صحيح ابن ماجة جلد ٢ صفحہ ٣٦٩ رقم ٢۴٣ مِن اس روایت کو « حسن » کہا ھے ۔۔
کمنٹ :
تقیہ کا شرعی طور پر جائز ھونا ائمہ اھلبیت علیہم السلام کی پیروی کرنے والوں کے مذھب کے ہاں مسلمات اور یقینی باتوں میں ھے ۔ اھلسنت کے علماء نے بھی اپنی گفتار کے ذریعے تقیہ کا شرعی طور پر جائز ھونے اور عقلی ، قرآنی اور حدیثی دلائل سے اس کو ثابت کیا ھے لہذا جو لوگ زھریلے پروپیگنڈوں، فضول اور ناعادلانہ شبہات بیان کرنے کے ذریعے ایک زھریلا اور انصاف پسندی سے دور فضاء بنا کر عجیب و غریب چیزوں کی نسبت شیعوں کی طرف دیتے ھیں ۔ یہ اعتراف کریں کہ تقیہ حق اور حقیقت ھے اور یہ قرآنی تعلیمات میں سے ھے ۔۔۔۔۔
🛑 التماس دعا :