سلسلہ حدیث غدیر روایت # 6
سلسلہ حدیث غدیر روایت # 6
التماس سورہ فاتحہ صفدر حسین اعوان بن غلام محمد رحمھما اللہ
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ابلیس کچھ افراد کے پاس سے گذرا جو امیر المؤمنین ؑپر بات کر رہے تھے تو وہ ان کے سامنے رک گیا، لوگوں نے کہا: تمہیں کس نے ہمارے سامنے روک دیا ہے؟ تو اس نے کہا: میں ابو مرہ ہوں۔ انہوں نے کہا: اے ابا مرہ، کیا تم ہماری بات نہیں سنتے؟ تو اس نے کہا: بُرا ہو تمہارا، تم اپنے مولا علی بن ابی طالب ؑکو برا بھلا کہتے ہو! ان سب نے کہا: تمہیں کہاں سے پتا چلا کہ وہ ہمارے مولا ہیں؟ اس نے کہا: تمہارے نبی کے فرمان سے: جس کا میں مولا ہوں اس کے علی ؑمولا ہیں، خدایا اس کو دوست رکھ جو ان کو دوست رکھے اور اس سے دشمنی کر جو ان سے دشمنی کرے، اور اس کی مدد کر جو ان کی مدد کرے، اور اس کو ترک کردے جو ان کو ترک کرے۔ تو ان سب نے کہا: تو تم ان کے موالی اور شیعوں میں سے ہو؟ اس نے کہا: میں ان کے موالی اور شیعوں میں سے نہیں ہوں، لیکن مجھے ان سے محبت ہے، اور ان سے جو بھی بغض کرتا ہے میں اس کے مال اور اولاد میں شرکت کرتا ہوں۔ تو ان سب نے کہا: اے ابو مرہ، تم علی ؑکے بارے میں کچھ کہو گے؟ اس نے کہا: سنو اے بے وفاء، نافرمان اور منحرف لوگوں کے گروہ، جنات نے اللہ عز و جل کی عبادت بارہ ہزار سال کی ہے، پھر جب جنات کو اللہ نے تباہ کیا تو اکیلے میں نے اللہ سے شکایت کی، تو مجھے سب سے نچلے آسمان پر بلند کردیا گیا، میں نے اللہ عز و جل کی عبادت بارہ ہزار اور سال کی فرشتوں کے ساتھ، جب ہم ایسے تھے تو ہم اللہ عز و جل کی تسبیح اور تقدیس کرتے تھے، کہ ہمارے پاس سے شعاعوں والا ایک نور گزرا، فرشتے اس نور کے آگے سجدہ ریز ہوگئے اور کہنے لگے: پاک ہے اور مقدس ہے، یہ کسی قریبی فرشتے یا فرستادہ نبی کا نور ہے، کہ اللہ عز و جل کی جانب سے نداء ہوئی: یہ کسی قریبی فرشتے یا فرستادہ نبی کا نور نہیں ہے، یہ علی بن ابی طالب ؑکی طینت کا نور ہے۔
1: الامالی للشیخ الصدوق رح ۔ مجلس 55، حدیث 6 صفحہ 427
2: علل الشرائع ، جلد 1، باب 120، حدیث 9، صفحہ 143
