تعارف امام ع بزبان قرآن
وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا ۚ ۔۔۔۔ الخ
جو لوگ تم میں سے ایمان لائے اور نیک عمل کئے اللہ نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ وہ انہیں زمین میں اسی طرح جانشین بنائے گا جس طرح ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو بنایا تھا۔ اور جس دین کو اللہ نے پسند کیا ہے وہ انہیں ضرور اس پر قدرت دے گا۔ اور ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا۔
النور : آیت ۵۵
تفسیر :
حدثنا أحمد بن محمد ابن سعيد بن عقدة، قال: حدثني (ثنا) أحمد بن يوسف بن يعقوب الجعفي من كتابه، قال: حدثنا إسماعيل بن مروان (مهران)، قال: حدثنا علي بن أبي حمزة، عن أبيه ووُهَيب، عن أبي بصير، عن أبي عبد الله عليه السلام في (معنى) قوله:
(وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الأَْرْضِ۔۔۔۔۔ الخ
قال: (نزلت في) القائم وأصحابه.
امام صادق ع سے سورہ نور کی اس آیت کی تفسیر سے متعلق پوچھا گیا تو امام ع نے فرمایا کہ یہ آیت امامِ قائم ع اور ان کے اصحاب کے بارے میں نازل ہوئی
غیبت نعمانی ، ص ۲۴۷
اس آیت میں غور کیا جائے تو خداوند متعال نے تمکن در دین کا وعدہ فرمایا ہے ” وَلَيُمَكِّنَنَّ لَہُمْ دِيْنَہُمُ “
اس سے واضح ہوا کہ اس استخلاف سے مراد مطلق اقتدار نہیں بلکہ دینی اقتدار ہے جس میں دینی تعلیمات کو بالا دستی حاصل ہوگی۔ جس میں درج ذیل امور انجام پائیں گے
1 ) دینی قوانین اور دستور حیات کا نفاذ ہوگا۔
2 ) خوف کے بعد امن ہوگا۔ یہ ذکر نہیں کہ یہ خوف کن سے ہوگا۔ داخلی ، خارجی ، ہر صورت میں خوف امن میں بدل جائے گا۔ نہ بیرونی دشمن سے خوف ہوگا ، نہ داخلی حکمرانوں کے ظلم و زیادتی کا خوف ہو گا
3 ) يَعْبُدُوْنَنِيْ لَا يُشْرِكُوْنَ بِيْ شَـيْــــًٔـا : کہ وہ اس امن کی فضا میں اللہ کی بندگی کریں گے۔ اس سے اس خوف کی نوعیت کا علم ہوتا ہے کہ یہ خوف مذہبی تعلیمات پر عمل اور اللہ کی بندگی کرنے سے متعلق ہے۔ شرک و بدعت سے پاک ایک خالص دینی تعلیمات کا رواج ہوگا۔
ان اوصاف کی حامل جانشینی کا احیاء فقط دور مہدویت میں ہی ممکن ہے
