عبدالوہاب کا شیعوں پر بہتان, شیعہ جمعہ اور جماعت کو ترک کرتے ہیں

عبدالوہاب نجدی نے اپنی کتاب “الرد علی الرافضۃ” میں لکھتا ہے شیعہ نماز جمعہ اور جماعت کو ترک کرتے ہیں, اور اسکی تشبیہ یہودیوں سے دی ہے کہ وہ نماز صرف فراڈی ادا کرتے ہیں…
جبکہ ہماری کتب جماعت کے احکام سے بھری ہیں اور نماز جماعت کی طرف بہت زیادہ تاکید کی گی ہے.
آیت اللہ سید علی سیستانی حفظہ اللہ جن کی اس دور میں سب سے زیادہ تقلید ہوتی ہے اپنی مسئلوں کی کتاب میں نماز جماعت کا ثواب ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
مسئلہ (۱۳۸۰)معتبرروایات کے مطابق باجماعت نمازفرادیٰ نمازسے پچیس گنا افضل ہے۔
جسکا گھر مسجد کے پاس ہو اور وہ اذان کی آواز سنتا ہو, اسکے لئے بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے کہ نماز کو جماعت کے ساتھ ادا کرے :
مسئلہ (۱۳۷۹)یومیہ نمازیں جماعت کے ساتھ پڑھنا مستحب ہے اور مسجد کے پڑوس میں رہنے والے کواوراس شخص کوجو مسجد کی اذان کی آواز سنتاہونمازصبح اورمغرب وعشاجماعت کے ساتھ پڑھنے کی بالخصوص بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے اور اسی طرح مستحب ہےکہ تمام واجب نمازوں کو جماعت سے پڑھیں
بغیر عزر بے اعتنائی بردتے ہوئے نماز جماعت ترک کرنا جائز نہیں :
مسئلہ (۱۳۸۱)بے اعتنائی برتتے ہوئے نمازجماعت میں شریک نہ ہوناجائزنہیں ہے اورانسان کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ بغیرعذرکے نمازجماعت کوترک کرے۔
جماعت کا انتظار کرے, مختصر نماز جماعت طویل فرادی نماز سے بہتر ہے.:
مسئلہ (۱۳۸۲)مستحب ہے کہ انسان انتظار کرے تاکہ نماز‘جماعت کے ساتھ پڑھے اور وہ باجماعت نمازجو مختصرپڑھی جائے اس فرادیٰ نمازسے بہترہے جوطول دےکر پڑھی جائے اوروہ نمازباجماعت اس نماز سے بہترہے جواول وقت میں فرادیٰ( یعنی تنہا پڑھی جائے )اوروہ نمازباجماعت جوفضیلت کے وقت میں نہ پڑھی جائے اورفرادیٰ نمازجو فضیلت کے وقت میں پڑھی جائے ان دونوں نمازوں میں سے کون سی نماز بہترہے معلوم نہیں ۔
تومستحب ہے کہ جس شخص نے تنہانمازپڑھی ہووہ دوبارہ جماعت کے ساتھ پڑھے:
مسئلہ (۱۳۸۳)جب جماعت کے ساتھ نمازپڑھی جانے لگے تومستحب ہے کہ جس شخص نے تنہانمازپڑھی ہووہ دوبارہ جماعت کے ساتھ پڑھے اوراگراسے بعدمیں پتا چلے کہ اس کی پہلی نمازباطل تھی تودوسری نمازکافی ہے۔
آیت اللہ سید علی سیستانی حمعہ کی نماز کے متعلق اپنی توضیح میں لکھتے ہیں :
نماز جمعہ اور اس کے احکام
مسئلہ (۷۱۹)جمعہ کی نماز صبح کی نماز کی طرح دو رکعت ہے۔اس میں اور صبح کی نماز میں فرق یہ ہے کہ اس نماز سے پہلے دوخطبے ضروری ہیں ۔ جمعہ کی نمازواجب تخییری ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ جمعہ کے دن مکلف کواختیار ہے کہ( اگرنماز جمعہ کی شرائط موجود ہوں ) تو جمعہ کی نماز پڑھے یاظہر کی نماز پڑھے۔ لہٰذا اگرانسان جمعہ کی نماز پڑھے تووہ ظہر کی نماز سے کفایت کرتی ہے (یعنی پھرظہر کی نماز پڑھناضروری نہیں )۔
کتاب تشیع جمعہ اور جماعت کے احکام سے بھری ہیں اور بہت زیادہ نماز جماعت اور نماز جمعہ کی تاکید کی گئی ہے.