بحار الانوار میں “بین ثدیی” روایت کا جواب

یہ روایت دو طریقہ سے وارد ہوئی ہے،ایک جناب حذیفہ سے دوسری امام جعفر صادق علیہ السلام سے اور دونوں روایات مرسل ہیں جسکی سند ذکر نہیں ہے۔
یہ قوم جو سند سند کا رونا روتی ہے کس منھ سے دوسروں پر ان روایات سے استدلال کرتی ہے جسکی سند ہی نہیں ہے ،حالانکہ اس روایت میں کوئی عیب نہیں جسکا جواب ہم آگے دینگے ،مقصد بس ناصبیوں کے منھ پر جوتا مارنا ہے کہ جو چیز وہ اپنے لئے پسند نہیں کرتے اسی چیز سے دوسروں پر استدلال کیسے کرتے ہیں ۔
مثلا: –22351حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ عِمْرَانَ، رَجُلٍ مِنْ زَيْدِ اللَّهِ عَنِ امْرَأَةٍ مِنْهُمْ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا شَوَّفَتْ جَارِيَةً وَطَافَتْ بِهَا وَقَالَتْ: «لَعَلَّنَا نُصِيبُ بِهَا بَعْضَ شَبَابِ قُرَيْشٍ«
جناب عایشه سے نقل ہے کہ وہ ایک کنیز کو بناو سنگھار کر کے پھراتیں اور کہتیں شاید اس کنیز کے ذریعے قریش کے بعض جوانوں کا شکار کرسکیں۔

ناصبی اس پر سند کا رونا روئینگے مگر میں یہ کہتا ہوں کہ جو عورت رضاع کبیر کا فتوی دے سکتی ہی (جس میں جوان مرد عورت کے پستان سے منھ لگا کر اسکا دودھ پیتا ہے) پھر یہ امر ان سے بعید معلوم نہیں ہوتا۔
اس روایت میں فاطمہ زہرا سلام اللہ کی عمر کا کوئی تزکرہ نہیں ہے:
ناصبیوں کو یہ علم کیسے ہوا کہ جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ عمر کے کس حصہ میں تھیں ؟۹ سال کے بعد وہ حضرت علیؑ کے گھر چلی گئیں بیاہ کر اس لئے ۹ سال کے بعد سے یہ روایت مناسبت نہیں رکھتی،اور اسکی دوسری سند جناب حذیفہ سے ہے جو کہ مرسل ہے کیونکہ جناب حذیفہ کو یہ علم کیسےہوا ؟بس ایک صورت بنتی ہے کہ انہوں نے خود یہ دیکھا ہو اور ایسا تب ہی ممکن ہے جب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کم سن تھیں کیونکہ شہزادی کونین کے حالت بلوغ میں آنے کے بعد جناب حذیفہ کا دیکھنا ممکن نہیں،اور ایک باپ اگر رضیعہ یا صغیرہ کو بوسہ لے تو اس میں کیا برائی ہے؟

آرہی ہے جبکہ انکے عالم ابن بطال نے کہا ہے کہ صغیرہ کے ہر حصہ کا بوسہ جائز ہے اور اکثر علماء کے نزدیک کبیر کا بھی سوائے ستر کے جس طرح نبیؐ فاطمہ زہرا سلام اللہ،اور ابوبکر عائشہ کو بوسہ لیتے تھے۔
بلکہ رسول اکرمؐ جنگ سے جب لوٹتے تھے تو فاطمہ سلام اللہ کی یشانی کا بوسہ لیتے تھے،یعنی انکی عمر غزوات کے ابتداء میں ۹ یا ۱۰ برس کی تھی اور اسکے بعد انکی شادی امیرالمومنین ع سے ہو گئی اور وہ حضرت علی ع کے گھر چلی گئیں:
ثنا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ , قَالَ: أنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ , قَالَ: أنا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ , قَالَ: ثنا يَزِيدُ النَّحْوِيُّ , عَنْ عِكْرِمَةَ , قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ §إِذَا رَجَعَ مِنْ مَغَازِيهِ قَبْلَ فَاطِمَةَ , عَلَيْهِ السَّلَامُ “
بین عینیہ سے جس طرح مراد پیشانی ہے ویسے ہی بین ثدیی سے مراد سینہ ہے
جیسا کہ ناصبیوں کی حدیث میں آیا ہے:
وأخرج الدينوري في المجالسة عن سفيان الثوري قال: إذا ختم الرجل القرآن قبل الملك بين عينيه
سفیان ثوری نے کہا کہ اگر کوئی شخص قرآن ختم کرے تو فرشتہ اسکی پیشانی کا بوسہ لیتا ہے۔
ناصبیوں کا ملا الیاس گھمن بھی یہی ترجمہ کرتا ہے:
حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ سے مروی ہے جب کوئی شخص قرآن کریم مکمل کرتا ہے تو فرشتہ اس کی پیشانی کا بوسہ لیتا ہے۔ (المجالسۃ وجواہر العلم ، رقم 395)
آنکھوں کے بیچ ہی بوسہ لیتا ہے جس میں ناک کا حصہ بھی شامل ہے۔
اسی طرح بین ثدیی بھی ہے۔
ناصبیوں کی روایات میں بین ثدیی اور ناصبی ملاوں کا ترجمہ:
(جو ناصبیوں کے یہاں محترم شخصیات ہیں مگر ہمارے مکتبہ فکر میں انکو عزت کی نظر سے نہیں دیکھا جاتا ان لوگوں کے لئے جہاں جہاں “بین ثدیی” کی عبارت استعمال ہوگی ترجمہ پستان کیا جائے گا )

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارد گرد بیٹھے ہوئے تھے، ہمارے ساتھ سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے، (ہوا یہ کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان سے اٹھ کھڑے ہوئے (اور کہیں چلے گئے) اور واپس آنے میں (خاصی) تاخیر کی۔ ہم ڈر گئے کہ (اللہ نہ کرے) کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہم سے پرے جاں بحق نہ کر دیا جائے۔ ہم گھبرا کر اٹھ کھڑے ہوئے اور سب سے پہلے گھبرانے والا میں تھا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کرنے کے لیے نکل پڑا، حتی کہ میں بنو نجار کے انصار کے باغ کے پاس پہنچ گیا، میں نے دروازے کی تلاش میں چکر لگایا، لیکن مجھے کوئی دروازہ نہ ملا۔ ایک چھوٹی نہر، خارجہ کے کنویں سے باغ میں داخل ہو رہی تھی، میں سمٹ کر اس میں داخل ہو گیا اور (بالآخر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”ابوہریرہ ہو؟“ میں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تجھے کیا ہوا (ادھر کیوں آئے ہو)؟“ میں نے کہا: آپ ہمارے پاس بیٹھے تھے، اچانک اٹھ کھڑے ہوئے اور واپس آنے میں دیر کی، ہمیں یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں آپ کو ہم سے پرے جاں بحق نہ کر دیا جائے، سو ہم گھبرا گئے اور سب سے پہلے گھبرانے والا میں تھا۔ (میں تلاش کرتے کرتے) اس باغ تک پہنچ گیا اور لومڑی کی طرح سمٹ کر (فلاں سوراخ سے اس میں داخل ہو گیا)۔ بقیہ لوگ میرے پیچھے آ رہے ہیں۔ آپ نے اپنے دو جوتے دے کر مجھے فرمایا: ”ابوہریرہ! یہ میرے جوتے لے کر جاؤ اور اس باغ سے پرے جس آدمی کو ملو، اس حال میں کہ وہ دل کے یقین کے ساتھ گواہی دیتا ہو کہ اللہ ہی معبود برحق ہے، اسے جنت کی خوشخبری دے دو۔“ (ہوا یہ کہ) مجھے سب سے پہلے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ملے، انہوں نے پوچھا: ابوہریرہ! یہ جوتے کیسے ہیں؟ میں نے کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دے کر بھیجے ہیں کہ میں جس آدمی کو ملوں، اس حال میں کہ وہ دل کے یقین کے ساتھ گواہی دیتا ہو کہ اللہ ہی معبود برحق ہے، اسے جنت کی خوشخبری سنا دوں۔ (یہ بات سن کر) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے میرے سینے (پستان) میں ضرب لگائی، میں سرین کے بل گر پڑا، انہوں نے کہا: ابوہریرہ! چلو واپس۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف واپس چل پڑا اور غم کی وجہ سے رونے کے قریب تھا، ادھر سے عمر رضی اللہ عنہ میرے پیچھے پیچھے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوہریرہ! کیا ہوا؟“ میں نے کہا: میں سیدنا عمر کو ملا، اسے آپ کا پیغام سنایا، اس نے میرے سینے (پستان) میں ضرب لگائی، میں سرین کے بل گر پڑا اور کہا کہ چلو واپس۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”عمر! کس چیز نے تجھے ایسا کرنے پر آمادہ کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، کیا واقعی آپ نے ابوہریرہ کو اپنے جوتے دے کر بھیجا کہ وہ جس آدمی کو ملیں، اس حال میں کہ وہ دل کے یقین کے ساتھ یہ شہادت دیتا ہو کہ اللہ ہی معبود برحق ہے، اسے جنت کی خوشخبری سنا دے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں (میں نے بھیجا)۔“ سیدنا عمر نے کہا: آپ ایسا نہ کریں، مجھے خطرہ ہے کہ لوگ (اس قسم کی بشارتوں پر) توکل کر کے (عمل کرنا ترک کر دیں گے)، آپ لوگوں کو عمل کرنے دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں چھوڑ دو (یعنی یہ حدیث بیان نہ کرو)۔“
اسکو البانی نے سلسلہ احادیث صحیحہ میں بھی نقل کیا ہے:

هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ اللَّجْلَاجِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : ” أَتَانِي رَبِّي فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، قُلْتُ : لَبَّيْكَ رَبِّ وَسَعْدَيْكَ ، قَالَ : فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى ؟ قُلْتُ : رَبِّ لَا أَدْرِي ، فَوَضَعَ يَدَهُ بَيْنَ كَتِفَيَّ فَوَجَدْتُ بَرْدَهَا بَيْنَ ثَدْيَيَّ فَعَلِمْتُ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، فَقُلْتُ : لَبَّيْكَ رَبِّ وَسَعْدَيْكَ ، قَالَ : فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى ؟ قُلْتُ : فِي الدَّرَجَاتِ ، وَالْكَفَّارَاتِ ، وَفِي نَقْلِ الْأَقْدَامِ إِلَى الْجَمَاعَاتِ ، وَإِسْبَاغِ الْوُضُوءِ فِي الْمَكْرُوهَاتِ ، وَانْتِظَارِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ ، وَمَنْ يُحَافِظْ عَلَيْهِنَّ عَاشَ بِخَيْرٍ وَمَاتَ بِخَيْرٍ وَكَانَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ ” . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، قَالَ : وَفِي الْبَابِ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِشٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِطُولِهِ ، وَقَالَ : ” إِنِّي نَعَسْتُ فَاسْتَثْقَلْتُ نَوْمًا فَرَأَيْتُ رَبِّي فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ ، فَقَالَ : فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى “
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے میرا رب (خواب میں) بہترین صورت میں نظر آیا، اور اس نے مجھ سے کہا: محمد! میں نے کہا: میرے رب! میں تیری خدمت میں حاضر و موجود ہوں، کہا: اونچے مرتبے والے فرشتوں کی جماعت کس بات پر جھگڑ رہی ہے؟ میں نے عرض کیا: (میرے) رب! میں نہیں جانتا، (اس پر) میرے رب نے اپنا دست شفقت و عزت میرے دونوں شانوں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک میں نے اپنی چھاتیوں کے درمیان (سینے میں) محسوس کی، اور مجھے مشرق و مغرب کے درمیان کی چیزوں کا علم حاصل ہو گیا، (پھر) کہا: محمد! میں نے عرض کیا: (میرے) رب! میں حاضر ہوں، اور تیرے حضور میری موجودگی میری خوش بختی ہے، فرمایا: فرشتوں کی اونچے مرتبے والی جماعت کس بات پر جھگڑ رہی ہے؟ میں نے کہا: انسان کا درجہ و مرتبہ بڑھانے والی اور گناہوں کو مٹانے والی چیزوں کے بارے میں (کہ وہ کیا کیا ہیں) تکرار کر رہے ہیں، جماعتوں کی طرف جانے کے لیے اٹھنے والے قدموں کے بارے میں اور طبیعت کے نہ چاہتے ہوئے بھی مکمل وضو کرنے کے بارے میں۔ اور ایک نماز پڑھ کر دوسری نماز کا انتظار کرنے کے بارے میں، جو شخص ان کی پابندی کرے گا وہ بھلائی کے ساتھ زندگی گزارے گا، اور خیر (بھلائی) ہی کے ساتھ مرے گا، اور اپنے گناہوں سے اس دن کی طرح پاک و صاف ہو جائے گا جس دن کہ ان کی ماں نے جنا تھا، اور وہ گناہوں سے پاک و صاف تھا“۔

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هَانِئٍ أَبُو هَانِئٍ الْيَشْكُرِيُّ، حَدَّثَنَا جَهْضَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامِ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَايِشٍ الْحَضْرَمِيِّ أَنَّهُ حَدَّثَهُ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ يَخَامِرَ السَّكْسَكِيِّ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : احْتُبِسَ عَنَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ غَدَاةٍ عَنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ حَتَّى كِدْنَا نَتَرَاءَى عَيْنَ الشَّمْسِ ، فَخَرَجَ سَرِيعًا فَثُوِّبَ بِالصَّلَاةِ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَجَوَّزَ فِي صَلَاتِهِ ، فَلَمَّا سَلَّمَ دَعَا بِصَوْتِهِ ، فَقَالَ لَنَا : ” عَلَى مَصَافِّكُمْ كَمَا أَنْتُمْ ” ، ثُمَّ انْفَتَلَ إِلَيْنَا ، ثُمَّ قَالَ : ” أَمَا إِنِّي سَأُحَدِّثُكُمْ مَا حَبَسَنِي عَنْكُمُ الْغَدَاةَ أَنِّي قُمْتُ مِنَ اللَّيْلِ فَتَوَضَّأْتُ وَصَلَّيْتُ مَا قُدِّرَ لِي ، فَنَعَسْتُ فِي صَلَاتِي حَتّى اسْتَثْقَلْتُ فَإِذَا أَنَا بِرَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، قُلْتُ : ” لَبَّيْكَ رَبِّ ” ، قَالَ : فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى ؟ قُلْتُ : ” لَا أَدْرِي ” ، قَالَهَا ثَلَاثًا ، قَالَ : ” فَرَأَيْتُهُ وَضَعَ كَفَّهُ بَيْنَ كَتِفَيَّ حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ أَنَامِلِهِ بَيْنَ ثَدْيَيَّ ، فَتَجَلَّى لِي كُلُّ شَيْءٍ وَعَرَفْتُ ” ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، قُلْتُ : ” لَبَّيْكَ رَبِّ ” ، قَالَ : فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى ؟ قُلْتُ : ” فِي الْكَفَّارَاتِ ” ، قَالَ : مَا هُنَّ ؟ قُلْتُ : ” مَشْيُ الْأَقْدَامِ إِلَى الْجَمَاعَاتِ ، وَالْجُلُوسُ فِي الْمَسَاجِدِ بَعْدَ الصَّلَوَاتِ ، وَإِسْبَاغُ الْوُضُوءِ فِي الْمَكْرُوهَاتِ ” ، قَالَ : فِيمَ ؟ قُلْتُ : ” إِطْعَامُ الطَّعَامِ ، وَلِينُ الْكَلَامِ ، وَالصَّلَاةُ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ ” ، قَالَ : سَلْ ، قُلْتُ : ” اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِي وَتَرْحَمَنِي ، وَإِذَا أَرَدْتَ فِتْنَةَ قَوْمٍ فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ ، أَسْأَلُكَ حُبَّكَ ، وَحُبَّ مَنْ يُحِبُّكَ ، وَحُبَّ عَمَلٍ يُقَرِّبُ إِلَى حُبِّكَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ” إِنَّهَا حَقٌّ فَادْرُسُوهَا ، ثُمَّ تَعَلَّمُوهَا ” . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، سَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل ، عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ ، فَقَالَ : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَقَالَ : هَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ اللَّجْلَاجِ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَائِشٍ الْحَضْرَمِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَهَذَا غَيْرُ مَحْفُوظٍ ، هَكَذَا ذَكَرَ الْوَلِيدُ فِي حَدِيثِهِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَايِشٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَرَوَى بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ هَذَا الْحَدِيثَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِشٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَذَا أَصَحُّ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَائِشٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` ایک صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھانے سے روکے رکھا، یہاں تک کہ قریب تھا کہ ہم سورج کی ٹکیہ کو دیکھ لیں، پھر آپ تیزی سے (حجرہ سے) باہر تشریف لائے، لوگوں کو نماز کھڑی کرنے کے لیے بلایا، آپ نے نماز پڑھائی، اور نماز مختصر کی، پھر جب آپ نے سلام پھیرا تو آواز دے کر لوگوں کو (اپنے قریب) بلایا، فرمایا: اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ جاؤ، پھر آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے، آپ نے فرمایا: ”میں آپ حضرات کو بتاؤں گا کہ فجر میں بروقت مجھے تم لوگوں کے پاس مسجد میں پہنچنے سے کس چیز نے روک لیا، میں رات میں اٹھا، وضو کیا، (تہجد کی) نماز پڑھی جتنی بھی میرے نام لکھی گئی تھی، پھر میں نماز میں اونگھنے لگا یہاں تک کہ مجھے گہری نیند آ گئی، اچانک کیا دیکھتا ہوں کہ میں اپنے بزرگ و برتر رب کے ساتھ ہوں وہ بہتر صورت و شکل میں ہے، اس نے کہا: اے محمد! میں نے کہا: میرے رب! میں حاضر ہوں، اس نے کہا: «ملا ٔ الأعلى» (فرشتوں کی اونچے مرتبے والی جماعت) کس بات پر جھگڑ رہی ہے؟ میں نے عرض کیا: رب کریم میں نہیں جانتا، اللہ تعالیٰ نے یہ بات تین بار پوچھی، آپ نے فرمایا: میں نے اللہ ذوالجلال کو دیکھا کہ اس نے اپنا ہاتھ میرے دونوں کندھوں کے درمیان رکھا یہاں تک کہ میں نے اس کی انگلیوں کی ٹھنڈک اپنے سینے کے اندر محسوس کی، ہر چیز میرے سامنے روشن ہو کر آ گئی، اور میں جان گیا (اور پہچان گیا) پھر اللہ عزوجل نے فرمایا: اے محمد! میں نے کہا: رب! میں حاضر ہوں، اس نے کہا: «ملا ٔ الأعلى» کے فرشتے کس بات پر جھگڑ رہے ہیں؟ میں نے کہا: «کفارات» کے بارے میں، اس نے پوچھا: وہ کیا ہیں؟ میں نے کہا: نماز باجماعت کے لیے پیروں سے چل کر جانا، نماز کے بعد مسجد میں بیٹھ کر (دوسری نماز کے انتظار میں) رہنا، ناگواری کے وقت بھی مکمل وضو کرنا، اس نے پوچھا: پھر کس چیز کے بارے میں (بحث کر رہے ہیں)؟ میں نے کہا: (محتاجوں اور ضرورت مندوں کو) کھانا کھلانے کے بارے میں، نرم بات چیت میں، جب لوگ سو رہے ہوں اس وقت اٹھ کر نماز پڑھنے کے بارے میں، رب کریم نے فرمایا: مانگو (اور مانگتے وقت کہو) کہو: «اللهم إني أسألك فعل الخيرات وترك المنكرات وحب المساكين وأن تغفر لي وترحمني وإذا أردت فتنة قوم فتوفني غير مفتون أسألك حبك وحب من يحبك وحب عمل يقرب إلى حبك» ”اے اللہ! میں تجھ سے بھلے کاموں کے کرنے اور منکرات (ناپسندیدہ کاموں) سے بچنے کی توفیق طلب کرتا ہوں، اور مساکین سے محبت کرنا چاہتا ہوں، اور چاہتا ہوں کہ تجھے معاف کر دے اور مجھ پر رحم فرما، اور جب تو کسی قوم کو آزمائش میں ڈالنا چاہے، تو مجھے تو فتنہ میں ڈالنے سے پہلے موت دیدے، میں تجھ سے اور اس شخص سے جو تجھ سے محبت کرتا ہو، محبت کرنے کی توفیق طلب کرتا ہوں، اور تجھ سے ایسے کام کرنے کی توفیق چاہتا ہوں جو کام تیری محبت کے حصول کا سبب بنے“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ حق ہے، اسے پڑھو یاد کرو اور دوسروں کو پڑھاؤ سکھاؤ“۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ سَعْدٍ ، قَالَ : ” مَرِضْتُ مَرَضًا أَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي فَوَضَعَ يَدَهُ بَيْنَ ثَدْيَيَّ حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَهَا عَلَى فُؤَادِي ، فَقَالَ : إِنَّكَ رَجُلٌ مَفْئُودٌ ، ائْتِ الْحَارِثَ بْنَ كَلَدَةَ أَخَا ثَقِيفٍ فَإِنَّهُ رَجُلٌ يَتَطَبَّبُ ، فَلْيَأْخُذْ سَبْعَ تَمَرَاتٍ مِنْ عَجْوَةَ الْمَدِينَةِ ، فَلْيَجَأْهُنَّ بِنَوَاهُنَّ ، ثُمَّ لِيَلُدَّكَ بِهِنَّ ” .
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` میں بیمار ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے آئے، آپ نے میری دونوں چھاتیوں (پستان) کے درمیان اپنا ہاتھ رکھا میں نے اس کی ٹھنڈک اپنے دل میں محسوس کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں دل کی بیماری ہے حارث بن کلدہ کے پاس جاؤ جو قبیلہ ثقیف کے ہیں، وہ دوا علاج کرتے ہیں، ان کو چاہیئے کہ مدینہ کی عجوہ کھجوروں میں سات کھجوریں لیں اور انہیں گٹھلیوں سمیت کوٹ ڈالیں پھر اس کا «لدود» بنا کر تمہارے منہ میں ڈالیں“۔
ہم یہاں اکتفاء کرتے ہیں طوالت کے سبب ورنہ حوالے بہت زیادہ ہیں
دونوں روایات کتب اہلسنت سے نقل کی گئی ہیں

خوارزمی حنفی نے اپنی کتاب مقتل الحسین میں سند کے ساتھ نقل کیا ہے:
علامہ مجلسی نے روایت کشف الغمہ سے نقل کی ہے اور صاحب کشف الغمہ نے اس اسکو ابو اسحاق ثعلبی کی کتاب سے نقل کیا ہے۔
ونقلت من كتاب لأبي اسحاق الثعلبي عن مجاهد قال خرج رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم وقد أخذ بيد فاطمة عليها السلام وقال من عرف هذه فقد عرفها ومن لم يعرفها فهى فاطمة بنت محمد وهى بضعة منى وهى قلبي الذي بين جنبي فمن آذاها فقد آذانى ومن آذانى فقد آذى الله. وعن جابر بن عبد الله قال قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ان فاطمة عليها السلام شعرة منى فمن آذى شعرة منى فقد آذانى ومن آذانى فقد آذى الله ومن آذى الله لعنه ملأ السماوات والأرض. وعن حذيفة قال كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم لا ينام حتى يقبل عرض وجنة فاطمة عليها السلام أو بين ثدييها.
کشف الغمة لابن ابي الفتح الاربلي
کشف الغمہ میں اس روایت کی سند ذکر نہیں ہے مگر خوارزمی حنفی نے اسکی سند کو ذکر کیا ہے۔ بابانی اپنی کتاب ھدیۃ العارفین میں خوارزمی کے متعلق لکھتا ہے:
خطيب خوارزم: أبو الوليد الموفق بن احمد بن محمد المكي الحنفي المعروف بخطيب خوارزم ولد سنة 484 وتوفي سنة 568 ثمان وستين وخمسمائة صنف مناقب الإمام أبو حنيفة.
خطیب خوارزم : ابو الولید الموفق بن احمد بن محمد المکی الحنفی ،خطیب خوارزم کے نام سے شہرت پائی،۴۸۴ھ میں ولادت ہوئی اور ۵۶۸ ھ میں وفات پائی ،مناقب امام ابوحنیفہ کے مصنف ہیں۔http://islamport.com/d/3/fhr/1/16/209.html
زرکلی اپنی اعلام میں لکھتا ہے:
موفق الدين البغدادي = عبد اللطيف بن يوسف الموفق المكي (484 ؟ – 568 ه = 1091 – 1172 م) الموفق بن أحمد المكى الخوارزمي،
أبو المؤيد: مؤلف (مناقب الامام الاعظم أبى حنيفة – ط) و (مناقب أمير المؤمنين على بن أبى طالب – ط).
كان فقيها أديبا، له خطب وشعر.
أصله من مكة.
موفق الدین البغدادی عبداللطیف بن یوسف الموفق المکی الموفق بن احمد المکی الخوارزمی
ابوالموید : مناقب امام اعظم ابوحنیفہ اور مناقب امیرالمومنین علی بن ابی طالب کے مولف ہیں۔
فقیہ اور ادیب تھے،اسکے خطب اور اشعار ہیں۔
اسکی اصل مکہ کی ہے(آباء و اجداد کا وطن)۔
http://islamport.com/d/1/trj/1/20/252.html
جو روایت امام جعفر صادق اور امام باقر علیہما السلام سے وارد ہوئی ہے اسکو علامہ مجلسی علیہ الرحمہ نے مناقب آل ابی طالب ،شہر آشوب کی کتاب سے نقل کیا ہے،انہوں نے اس روایت کو سنی کتاب العقد الفرید سے نقل یا ہے جسکا مولف ابن عبد ربہ ہے۔
قب:یعنی مناقب لشہر ابن آشوب ۔

ابْنُ عَبْدِ رَبِّهِ الْأُنْدُلُسِيُّ فِي الْعِقْدِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ فِي خَبَرٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ دَخَلَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ عَلَى جَدِّهِ ص وَ هُوَ يَتَعَثَّرُ بِذَيْلِهِ فَأَسَرَّ إِلَى النَّبِيِّ سِرّاً فَرَأَيْتُهُ فَتَغَيَّرَ لَوْنُهُ ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ حَتَّى أَتَى فَاطِمَةَ فَأَخَذَ بِيَدِهَا فَهَزَّهَا إِلَيْهِ هَزّاً قَوِيّاً ثُمَّ قَالَ يَا فَاطِمَةُ إِيَّاكِ وَ غَضَبَ عَلِيٍّ فَإِنَّ اللَّهَ يَغْضَبُ لِغَضَبِهِ وَ يَرْضَى لِرِضَاهُ ثُمَّ جَاءَ عَلِيٌّ فَأَخَذَ النَّبِيُّ ص بِيَدِهِ ثُمَّ هَزَّهَا إِلَيْهِ هَزّاً خَفِيفاً ثُمَّ قَالَ يَا أَبَا الْحَسَنِ إِيَّاكَ وَ غَضَبَ فَاطِمَةَ فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَغْضَبُ لِغَضَبِهَا وَ تَرْضَى لِرِضَاهَا فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَضَيْتَ مَذْعُوراً وَ قَدْ رَجَعْتَ مَسْرُوراً فَقَالَ يَا مُعَاوِيَةُ كَيْفَ لَا أُسَرُّ وَ قَدْ أَصْلَحْتُ بَيْنَ اثْنَيْنِ هُمَا أَكْرَمُ الْخَلْقِ وَ فِي رِوَايَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ وَ حَبِيبِ بْنِ ثَابِتٍ وَ عَلِيِّ بْنِ إِبْرَاهِيمَ اثْنَيْنِ أَحَبَّ مَنْ فِي الْأَرْضِ إِلَيَقال ابن بابويه هذا غير معتمد لأنهما منزهان عن أن يحتاجا أن يصلح بينهما رسول الله ص
الْبَاقِرُ وَ الصَّادِقُ ع أَنَّهُ كَانَ ص لَا يَنَامُ حَتَّى يُقَبِّلَ عُرْضَ وَجْهِ فَاطِمَةَ وَ يَضَعَ وَجْهَهُ بَيْنَ ثَدْيَيْ فَاطِمَةَ وَ يَدْعُوَ لَهَا وَ فِي رِوَايَةٍ حَتَّى يُقَبِّلَ عُرْضَ وَجْنَةِ فَاطِمَةَ أَوْ بَيْنَ ثَدْيَيْهَا
مناقب آل أبي طالب – ج٣
ابن شهر آشوب المازندراني
http://www.masaha.org/book/view/3009-%D9%85%D9%86%D8%A7%D9%82%D8%A8-%D8%A2%D9%84-%D8%A3%D8%A8%D9%8A-%D8%B7%D8%A7%D9%84%D8%A8
نتیجہ:دونوں روایت اہلسنت مصدر کی ہیں جس کا جواب ناصبی ہم سے مانگ رہے ہیں ویسے ہی جیسے آیات الہی کھا جانے والی بکری انکے گھر کی ہے اور جواب ہم سے مانگتے ہیں کہ باقی قرآن کہاں گیا۔
–علی ناصر