تحریف قرآن کے حوالے سے پیش کی جانے والی 3 روایت کا جواب

اولا یہ روایت ہی ضعیف ہے

مرأة العقول في شرح أخبار آل رسول
الباقر (علیه السلام)- عَنْ جَابِر عَنْ أَبِیجَعْفَرٍ (علیه السلام) فِی قَوْلِ اللَّـهِ عَزَّوَجَلَّ وَ لَقَدْ عَهِدْنا إِلی آدم مِنْ قَبْلُ فَنَسِیَ وَ لَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْماً قَالَ عَهِدْنَا إِلَیْهِ فِی مُحَمَّدٍ (صلی الله علیه و آله) وَ الْأَئِمَّةِ (علیهم السلام) مِنْ بَعْدِهِ فَتَرَکَ وَ لَمْ یَکُنْ لَهُ عَزْمٌ أَنَّهُمْ هَکَذَا وَ إِنَّمَا سُمِّیَ أُولُو الْعَزْمِ أُوْلِی الْعَزْمِ لِأَنَّهُ عَهِدَ إِلَیْهِمْ فِی مُحَمَّدٍ (صلی الله علیه و آله) وَ الْأَوْصِیَاءِ مِنْ بَعْدِهِ وَ الْمَهْدِیِّ (عجل الله تعالی فرجه الشریف) وَ سِیرَتِهِ وَ أَجْمَعَ عَزْمُهُمْ عَلَی أَنَّ ذَلِکَ کَذَلِکَ وَ الْإِقْرَارِ بِهِ
. [تفسير اهل البيت عليهم السلام ج٩، ص٢٩٢ –
الکافی؛ ج١، ص٤١٦/
بحار الأنوار، ج١١، ص٣٥/
بصایرالدرجات؛ ص٧٠/
تأویل الآیات الظاهرة؛
ص٣١٣/
القمی؛ ج٢، ص٦٥/
نورالثقلین/ البرهان]
یہ تفسیر کے ساتھ ہیں دوسری روایت اس کی وضاحت کر رہی ہیں
امام محمد باقر (علیہ السلام) سے روایت ہے، جابر کے ذریعے، کہ آپؑ نے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں فرمایا:
“اور بے شک ہم نے آدم سے پہلے عہد لیا تھا، مگر وہ بھول گئے اور ہم نے ان میں کوئی پختہ ارادہ نہ پایا” (سورہ طہٰ 115)
تو امامؑ نے فرمایا:
ہم نے آدمؑ سے محمد ﷺ اور ان کے بعد آنے والے ائمہؑ کے بارے میں عہد لیا تھا، لیکن انہوں نے اسے ترک کر دیا اور اس پر ثابت قدمی (عزم) نہ دکھائی کہ یہ معاملہ اسی طرح ہے۔
اور “اولوالعزم” انبیاء کو اسی لیے “اولوالعزم” کہا جاتا ہے کہ اللہ نے ان سے محمد ﷺ، ان کے بعد آنے والے اوصیاء، اور محمد المهدي (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) اور ان کی سیرت کے بارے میں عہد لیا تھا، اور ان سب کا پختہ ارادہ اس بات پر جمع تھا کہ یہ سب حق ہے، اور انہوں نے اس کا اقرار کیا۔
اور اس کے شواھد میں بہت سی روایات ہیں یہ صرف ایک نہیں
لہذا
اولا روایت ضعیف ہے
ثانیاً دوسری روایات اس کی وضاحت کرتی ہیں یہ معنی کے ساتھ