حالت جنب میں مسجد میں قیام. امیر المومنین علی علیہ السلام پر طعن پر جواب

الله سبحانہ تعالیٰ نےجومقام ومرتبہ امیرالمومنین علی بن ابی طالب علیہماالسلام کوعطاءفرمایااسکی مثال ممکن نہیں،خلق میں نبی کریم صلی الله علیہ و آلہ وسلم کے بعد سب سےبلند و بالامقام آپ علیہ السلام کاہے،بہت سے ایسےفضائل ومناقب ہیں جن میں الله سبحانہ تعالی نےامیرالمومنین علیہما السلام کونبی کریم صلی الله علیہ وآلہ وسلم کاشریک قرار دیا،ان میں سے ایک فضیلت یہ بھی ہے کہ جس طرح نبی کریم صلی الله علیہ وآلہ وسلم کےلئے ہرحال میں مسجدمیں قیام کوحلال کیا گیا ہے اسی طرح اصحاب کساء (پنچن پاک)علیہم السلام کےلئےبھی مسجد میں قیام کو ہر حال (حالت جنب وغیرہ) میں حلال کیا ہے۔جوان ذوات مقددسہ کی کمال طہارت کی دلیل ہے۔ مگرایسےفضائل ومناقب نجاست و خباثت سےبھرےذہنوں میں نہیں آسکتے لہذا ہر دور میں بنی امیہ کے پیروکار اہلبیت علیہم السلام سےاپنےبغض وحسدکوظاہرکرکےاپنے منافق ہونےکاثبوت دیتےرہتےہیں۔
چنانچہ ایک ناصبی (اسدطحاوی) نےبھی کچھ ایسی ہی حماقت کرکےاپنی ذلت و رسوائی کا مزیدسامان فراہم کرلیا۔
بعض احباب کےذریعےاس ناصبی اسد منافق کے مضمون کا علم ہوا جس کا عنوان ہے: ((سلسلہ مولاعلؓی کےفضائل میں مشہور موضوع،واھی ومنکر روایات کی نشاندہی))

اسم مضمون میں اسدطحاوی ناصبی نےاپنی اوقات سےبڑھ کر ایسی جید احادیث کاانکارکیاجنکی تصحیح و تحسین ائمہ اہلسنت سےثابت ہے،اسدحنفی کاتعلق حنفیوں کےبریلوی ٹولےسےہے،اس ٹولےکی یہ منافقت ہے کہ جب انھیں کسی حدیث کو رد یا قبول کرناہوتاہےتو یہ ان افراد کے کلام سےاستنادکرتےہیں جنہوں نےان کےممدوح ابوحنیفہ پرسخت ترین جرح کی ہوتی ہےجسکی مثال نہیں ملتی۔”علمائےجرح وتعدیل کےلئے سب سےپہلی شرط یہ ہےکہ وہ عادل ہوں” انکی جرح وتعدیل عدالت پرمبنی ہوجس میں کسی قسم کی دنیاوی خواہشات کا دخل نہ ہو،جب اس ٹولےکو ان افراد کی جرح ابوحنیفہ کےمتعلق دکھائی جاتی ہےتو عجیب وغریب قسم کی تاویلات شروع کردیتےہیں،کبھی ان پرتعصب کاالزام لگاتے ہیں کبھی عداوت وغیرہ کا، اگر حقیقت یہی ہےکہ یہ افراد ابوحنیفہ جیسےپرتعصب وعداوت کےسبب سخت جرح کرتےتھےتوپھرکسی اورکےمتعلق انکا کلام حجت کیسےہوسکتاہے؟اسی سبب اس ناصبی اسدحنفی کی حالت دیکھنےلائق ہوتی ہے جب اسکے ابوحنیفہ کا دفاع مقصود ہوتا ہے تو یہی علمائےجرح و تعدیل حاسد متعصب،حق سےہٹ جانےوالےہو جاتےہیں اورجب کسی پر جرح مقصود ہو تو یہ افراد امام،ثقہ،وغیرہ بن جاتےہیں یہ ناصبی اپنےمفادکے لیےسب کوامام کہتےنظر آتےہیں۔
نہیں جو اسکی تحریر کاجواب دیا جاتا، مگر ہم نے اس موقع کوغنیمت سمجھا کہ اسکے سبب ان اصول و قوانین کا ذکر کر دیں تاکہ اب اگر کوی حنفی فضائل اہلبیت علیہم السلام میں وارد کسی حدیث پر کلام کرے تو شیعہ طفل مکتب اسکو ذلت و رسوائی کےاس گڑھے میں ڈھکیل آئیں جہاں سےنکلناممکن ہی نہ ہو ہم نے ماہ مبارک رمضان میں عدم فرصت کےسبب نہایت اختصار سے کام لیاہے پوری تحریر میں حنفی اصولوں کومد نظر رکھتےہوئے احادیث کی تصحیح کی ہے، الله سبحانہ تعالی سےدعاء ہے کہ وہ اہلبیت علیہم لسلام کےطفیل ہماری اس ادنی سی کوشش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائےآمین۔
((اسد ناصبی لکھتا ہے: ((امام ترمذی ایک روایت بیان کرتے ہیں:
3727- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ: يَا عَلِيُّ لاَ يَحِلُّ لأَحَدٍ يُجْنِبُ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ غَيْرِي وَغَيْرِكَ قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ: قُلْتُ لِضِرَارِ بْنِ صُرَدٍ: مَا مَعْنَى هَذَا الحَدِيثِ؟ قَالَ: لاَ يَحِلُّ لأَحَدٍ يَسْتَطْرِقُهُ جُنُبًا غَيْرِي وَغَيْرِكَ.
هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الوَجْهِ.وَقَدْ سَمِعَ مِنِّي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ هَذَا الحَدِيثَ وَاسْتَغْرَبَهُ.

حضرت ابوسعید رضی الله عنہ سے روایت ہےکہ حضور نبی اکرم صلی الله علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : اےعلی! میرے اور تمہارےعلاوہ کسی کےلئےجائز نہیں کہ حالت جنابت میں اس مسجد میں رہے ۔علی بن منذر کہتے ہیں کہ میں نے ضرار بن صرد سے اسکے معنی پوچھے تو انہوں نے فرمایا:اس سےمراد مسجد کو بطور راستہ استعمال کرنا ہے ۔ اس حدیث کو امام ترمذی نے روایت کیا اور کہا یہ حدیث حسن ہے امام ترمذی کہتے ہیں میں نے بخاری سے اس روایت کے بارےسنا انہوں نے اسے بہت ہی غریب قرار دیا۔
سنن ترمذي – بَابُ مَنَاقِبِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يُقَالُ وَلَهُ كُنْيَتَانِ: أَبُو تُرَابٍ، وَأَبُو الْحَسَنِ –حديث 3727
ملاحظہ فرمایا : ترمذی نےاس روایت کونقل کرکےحسن غریب ہونےکاحکم لگایا اس حدیث کو یہ ناصبی اسد حنفی موضوع منگھڑت کہ رہاہے،اور حدیث کی تشریح میں ضرار بن صرد کی رائےباطل ہے،حالت جنابت میں مسجد سے گرزنےکاحکم عام ہے اس کو امیرالمومنین علیہ السلام سے مخصوص کرنا محض بے وقوفی ہے۔
اسد ناصبی لکھتا ہے:
((اس روایت کےمتن کی حیثیت!! اس روایت کامتن منگھڑت ہے اور قران کےبھی خلاف ہے جیساکہ قرآن میں الله فرماتاہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنتُمْ سُكَارَىٰ حَتَّىٰ تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ وَلَا جُنُبًا إِلَّا عَابِرِي سَبِيلٍ حَتَّىٰ تَغْتَسِلُوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ النساء(43)
اے ایمان والوں تم نشے کی حالت میں ہو تو نماز کے قریب نا جاو،یا تک کہ جو بات تم منہ سے نکالتے ہو اس کو سمجھنے لگو ،اسی طرح حاکت جنابت میں مگر راہ چلتے ہوئے یہاں تک کہ تم غسل کر لو۔۔۔۔
اسی وجہ سے امام ترمذی نے اس روایت کی یہ تاویل نقل کی ہے کہ اس روایت سے مراد مسجد سے گزرنا ہے لیکن امام بخاری کا اس روایت کو بہت ہی غریب قرار دینا اور عجیب قرار دینا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ روایت ناقابل تاویل ہے۔
کیونکہ صفائی نصف ایمان ہے اور نبی کریم خود اور مولا علی کو جنبی حالت میں رہنے کا بلکہ مسجد میں بھی آنے کا کیسے کہ سکتے ہیں؟
اور جو تاویل کی ہے اس میں بھی مسجد میں ٹھرنا پھر بھی جائز نہیں بلکہ گزرنا ثابت ہو سکتا ہے فقط اور حدیث میں صریح لفظ ہیں:
“يَا عَلِيُّ لاَ يَحِلُّ لأَحَدٍ يُجْنِبُ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ “
یہاں فِي هَذَا الْمَسْجِدِ ہے جسکا صاف صاف یہی مطلب ہے :
حالت جنابت میں اس مسجد میں رہے ۔ تو اسکی تاویل ممکن نہیں یہ روایت دوسری احادیث صحیحہ کے علاوہ قرآن کی نص کے بھی خلاف ہے جو اس روایت کے منگڑھت ہونے کے لئے کافی ہے))۔
جواب:
آیت میں کہاں ذکر ہے کہ حالت جنابت میں حضرت علیؑ مسجد میں داخل نہیں ہو سکتے؟
اگر اس ناصبی کی پیش کردہ آیت ((تَقُولُونَ وَلَا جُنُبًا إِلَّا عَابِرِي سَبِيلٍ حَتَّىٰ تَغْتَسِلُوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ النساء(43)) سے مراد مسجد سے گزرنا ہے تو پھر حنفی مسلک قرآن کے مقابل آکر باطل ہو جاتا ہے ۔
کیونکہ آیت میں مسجد سے گزرنے کا جواز ہے جبکہ احناف کے نزدیک مجنب کسی بھی حالت میں مسجد میں داخل نہیں ہو سکتا چنانچہ سرخسی حنفی لکھتا ہے:
قال ( مسافر مر بمسجد فيه عين ماء وهو جنب ولا يجد غيره فإنه يتيمم لدخول المسجد ) ; لأن الجنابة تمنعه من دخول المسجد على كل حال عندنا سواء قصد المكث فيه أو الاجتياز
وہ مسافر جو مجنب ہو اور وہ مسجد سے گزرے کہ جس میں کنواں ہو اور اس سے سوا کہیں پانی موجود نہ ہو تو وہ مسجد میں داخل ہونے سے پہلے تیمم کرے کیونکہ ہمارے(احناف)کے نزدیک جنابت والا کسی بھی حال میں مسجد میں داخل نہیں ہو تا چاہے مسجد میں رکنا چاہتا ہو یا گزرنا۔
المبسوط ج ۱ ص ۱۱۸
https://islamweb.net/ar/library/index.php?page=bookcontents&flag=1&bk_no=18&ID=251
اب یہ اسد ناصبی بتائے گا کہ سرخسی حنفی کو احمق کذاب کہا جائے جو دعوی کرتا ہے کہ حالت جنابت میں مسجد سے گزرنا احناف کے نزیک جائز نہیں ہے یا خود اس بے وقوف(اسد طحاوی)کو جسے اپنے مسلک کے مسائل کا ہی علم نہیں ہے اور اپنے ہی مسلک کو بغض امیرالمونین علی بن ابیطالبؑ میں تباہ و برباد کرنے پر تلا ہے۔
بلکہ یہ تو صحابہ کے عمل کے بھی خلاف ہے:
کیونکہ وہ تو حالت جنابت میں بھی وضو کر کے مسجد میں بیٹھتے تھے،ابن کثیر لکھتا ہے:
وَقَوْلُهُ: {حَتَّى تَغْتَسِلُوا} دَلِيلٌ لِمَا ذَهَبَ إِلَيْهِ الْأَئِمَّةُ الثَّلَاثَةُ: أَبُو حَنِيفَةَ وَمَالُكٌ وَالشَّافِعِيُّ: أَنَّهُ يَحْرُمُ عَلَى الْجُنُبِ الْمُكْثُ فِي المسجدِ حَتَّى يَغْتَسِلَ أَوْ يَتَيَمَّمَ، إِنَّ عَدِمَ الْمَاءَ، أَوْ لَمْ يَقْدِرْ عَلَى اسْتِعْمَالِهِ بِطَرِيقَةٍ. وَذَهَبَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ إِلَى أَنَّهُ مَتَى تَوَضَّأَ الْجُنُبُ جَازَ لَهُ الْمُكْثُ فِي المسجدِ، لِمَا رَوَى (4) هُوَ وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ فِي سُنَنِهِ بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ: أَنَّ الصَّحَابَةَ كَانُوا يَفْعَلُونَ ذَلِكَ؛ قَالَ سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ:
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ -هُوَ (5) الدرَاوَرْدِي-عَنْ هِشَام بنِ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَار قَالَ: رَأَيْتُ رِجَالًا (6) مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْلِسُونَ فِي الْمَسْجِدِ وَهُمْ مُجْنِبُونَ (7) إِذَا تَوَضَؤُوا وُضُوءَ الصَّلَاةِ، وَهَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، فَاللَّهُ (8) أَعْلَمُ.
سعید بن منصور نے اپنی سنن میں باسناد صحیح روایت کیا ہے کہ عطا بن یسار نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ کو دیکھا کہ وہ مجنب ہوتے اور وضو کر کے مسجد میں بیٹھے رہتے اسکی سند مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔
تفسیر ابن کثیر ج ۴ ص ۱۸۱
http://shiaonlinelibrary.com/%D8%A7%D9%84%D9%83%D8%AA%D8%A8/2658_%D8%AA%D9%81%D8%B3%D9%8A%D8%B1-%D8%A7%D8%A8%D9%86-%D9%83%D8%AB%D9%8A%D8%B1-%D8%A7%D8%A8%D9%86-%D9%83%D8%AB%D9%8A%D8%B1-%D8%AC-%D9%A1/%D8%A7%D9%84%D8%B5%D9%81%D8%AD%D8%A9_536
کیا یہ ناصبی صحابہ کو بے دین،قرآن کی نافرمانی کرنے والا تسلیم کرے گا؟
جواب ہے :نہیں!کیونکہ یہ ناصبی ایسا کتا ہے جو صرف فضائل علیؑ پر ہی غرّاتا ہے۔
جس کے بزرگان ہمیشہ سے قرآن کی مخالفت کو اپنا نصب العین سمجھتے ہوں ،اس ناصبی سے اور کیا امید کی جا سکتی ہے کہ وہ منکر قرآن ہی ہوگا اور اس نے یہ ثابت بھی کر دیا۔
اہلبیتؑ کی طہارت و پاکیزگی کی گواہی قرآن دیتا ہے ،وہ بھی ایسی طہارت جیسی طہارت نبیؐ کی ہے ،جس کا اعتراف بڑے بڑے ائمہ ناصبین کر چکے ہیں۔
مسلم اپنی صحیح میں روایت کرتا ہے:
61 – (2424) حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ – وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ – قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، قَالَتْ: قَالَتْ عَائِشَةُ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةً وَعَلَيْهِ مِرْطٌ مُرَحَّلٌ، مِنْ شَعْرٍ أَسْوَدَ، فَجَاءَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ فَأَدْخَلَهُ، ثُمَّ جَاءَ الْحُسَيْنُ فَدَخَلَ مَعَهُ، ثُمَّ جَاءَتْ فَاطِمَةُ فَأَدْخَلَهَا، ثُمَّ جَاءَ عَلِيٌّ فَأَدْخَلَهُ، ثُمَّ قَالَ: ” {إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا} [الأحزاب: 33] “
یعنی اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ دور رکھے تم سے ناپاکی و پلیدی کو اور پاک رکھے تم کو ائے گھر والو جیسا پاک رکھنے کا حق ہے۔
(صحیح مسلم ،کتاب فضائل الصحابة ۹، باب فَضَائِلِ أَهْلِ بَيْتِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم )
https://islamweb.net/ar/library/index.php?page=bookcontents&ID=1133&bk_no=1&idfrom=4522&idto=4522

ترمذی روایت کرتا ہے:
3787 – حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، رَبِيبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ {إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ البَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا} [الأحزاب: 33] فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ وَحَسَنًا وَحُسَيْنًا فَجَلَّلَهُمْ بِكِسَاءٍ وَعَلِيٌّ خَلْفَ ظَهْرِهِ فَجَلَّلَهُ بِكِسَاءٍ ثُمَّ قَالَ: «اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي فَأَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا» قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: وَأَنَا مَعَهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «أَنْتِ عَلَى مَكَانِكِ وَأَنْتِ إِلَى خَيْرٍ» وَفِي البَابِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، وَمَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، وَأَبِي الْحَمْرَاءِ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ «وهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الوَجْهِ»
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ربیب(پروردہ)عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت کریمہ {إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ البَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا}ائے اہل بیت النبوہ!اللہ چاہتا ہے کہ تم سے(ہر قسم کی برائی کو)دور رکھے اور تمہاری خوب تطہیر کرے (الاحزاب ۳۳)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ام سلمہ رضی للہ عنہا کے گھر میں اتریں اور آپ نے فاطمہ و حسن و حسین رضی اللہ عنہم کو بلایا اور آپ نے انہیں ایک چادر میں ڈھانپ لیا اور علی رضی اللہ تعالی عنہ کی پشت مبارک کے پیچھے تو آپ نے انہیں بھی چادر میں چھپا لیا پھر فرمایا«اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي فَأَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا»اے اللہ!میرے اہلبیت ہیں تو ان سے ناپاکی کو دور رکھ اور انہیں اچھی طرح پاک و پاکیزہ رکھ ،ام سلمہ نے عرض کیا :اللہ نے نبی!میں بھی انہیں کے ساتھ ہوں،آپ نے فرمایا:آپ اپنی جگہ پر رہو اور آپ نیکی پر ہو ۔
سنن ترمذي 46 – أَبْوَابُ الْمَنَاقِبِ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
32 – بَابُ مَنَاقِبِ أَهْلِ بَيْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حديث:3787
https://islamweb.net/ar/library/index.php?page=bookcontents&ID=3719&bk_no=2&flag=1

اللہ سبحان تعالی جن ذوات مقدسہ کو طہارت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے برابر قرار دیتا ہے ان کی طہارت کا یہ ناصبی انکار کرتا ہے
بخاری کے شاگرد نے بخاری سے روایت کا کا غریب ہونا نقل کر کے اس پر حسن ہونے کا حکم لگایا تو کیا اس ناصبی کا فہم ترمذی سے بھی زیادہ ہو گیا ، وہ اپنے استاد کی عبارت کو نقل کرکے نہ سمجھ سکا اور یہ ناصبی۱۲ (بارہ) سو سال بعد سمجھ گیا کہ بخاری کی کیا مراد تھی۔
اگر واقعی بخاری کا قول اس ناصبی کے نزدیک حجت ہے تو پھر ابو حنیفہ کے متعلق جو بخاری کی رائے ہے کیا یہ ناصبی اس کو تسلیم کرے گا؟
بخاری نے ابوحنیفہ کے کے بارے میں لکھا ہے:
کان مرجئا سکتوا عنہ
2253 – نعمان بْن ثابت أَبُو حنيفة الكوفِي مولى لِبَنِي تيم اللَّه بْن ثعلبة روى عنه عباد بْن العوام وابْن المبارك وهشيم ووكيع ومُسْلِم بْن خَالِد وأَبُو مُعَاوِيَة والمقري كَانَ مرجئا سكتوا (عنه و – 1) عن رأيه وعَنْ حديثه، قَالَ أَبُو نعيم مات أَبُو حنيفة سنة خمسين ومائة (2) .
باب نافع
ابو حنیفہ مر جئہ تھا اس سے حدیث لینے میں خاموشی اختیار کی ہے اسی طرح اس کی رائے سے بھی خاموشی اختیار کی ہے۔
تاریخ کبیر
https://al-maktaba.org/book/956/3324
بخاری نے ابو حنیفہ پر جرح میں فقط اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اس کو ضعفاء میں شمار کر کے اس پر سخت جرح نقل کی ہے۔
388- النعمان بن ثابت أبو حنيفة الكوفي، مات سنة خمسين ومائة، حدثنا نعيم بن حماد, ثنا يحيى بن سعيد، ومعاذ بن معاذ, سمعنا الثوري يقول: استتيب أبو حنيفة من الكفر مرتين. حدثنا نعيم ثنا الفزاري, قال: كنت عند الثوري، فنُعي أبو حنيفة، فقال: الحمد لله، وسجد، قال: كان ينقض الإسلام عروة عروة، وقال يعني الثوري: ما ولد في الإسلام مولود أشأم منه.
حدثنا صاحب لنا عن حمدويه قال: قلت لمحمد بن مسلمة: ما لرأي النعمان دخل البلدان كلها إلا المدينة؟ قال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: “لا يدخلها الدجال ولا الطاعون، وهو دجال من الدجاجلة”.
سفیان ثوری نے کہا ابوحنیفہ کو دو مرتبہ کفر سے توبہ کرائی گئی، فراری کا بیان ہے میں سفیان ثوری کے پاس تھا کہ ابوحنیفہ کی ہلاکت کی خبر آئی پس سفیان نے الحمدللہ کہا اور سجدہ کیا اور کہا پارہ پارہ کر دیا و نیز یہ کہا کہ اسلام میں اس سے زیادہ کوئی منحوس پیدا نہیں ہوا۔
حمدویہ کا بیان ہے میں نے محمد بن مسلمہ سے پوچھا ابوحنیفہ کی رائے تمام تمام شہروں میں پھیل گئی سوائے مدینہ منورہ کے تو اس نے کہا اس لئے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس میں دجال و طاعون داخل نہیں ہوں گے اور وہ دجالوں میں سے ایک دجال تھا۔
كتاب الضعفاء الصغير للبخاري ت أبي العينين
اب یہ ناصبی بتائے کہ بخاری ابو حنیفہ پر جرح کرنے میں عادل ہے یا ظالم؟
ناصبی(اسد طحاوی) آگے لکھتا ہے:
اب آتے ہیں اس کی سند کی طرف۔
1 محمد بن فضیل:
یہ ثقہ راوی ہے لیکن شیعہ راوی ہے
2 سالم بن أبى حفصة:
اس راوی کے بارے میں ابن حجر کہتے ہیں ہیں “صدوق في الحديث الا انه شيعي غالي”
صدوق ہے حدیث میں سوائے یہ کہ غالی شیعہ تھا۔
حوالہ تقریب التہذیب
اب اس بات کو سمجھنا ضروری ہے کہ غالی شیعہ جو کہ تبرای ہوتا ہے اس کے صدوق ہونے کا یہ مطلب بالکل نہیں ہوتا کہ اس کو مطلق قبول کیا جائے۔
بلکہ یہ عمومی روایات میں صدوق ہوتا ہے لیکن فضائل اہل بیت اور مذھب شیعت کے باب میں ایسا راوی ناقابل اعتبار ہوتا ہے بغیر معتبر متابعت کے ۔
اب اس راوی کو امام ابن حجر نے صدوق حدیث روایت کے اعتبار سے کہا ہے اگر اس کی تفصیل دیکھی جائے تو ہماری بات میں وزن اور بڑھ جائے گا۔
امام ذہبی میزان الاعتدال میں اس راوی پر تفصیل کے ساتھ لکھتے ہیں: 3046 – سالم بن أبى حفصة [ت] العجلي الكوفي.
رأى ابن عباس، وروى [115 / 2] عن الشعبي، وطائفة.
وعنه السفيانان /، ومحمد بن فضيل.
قال الفلاس: ضعيف مفرط في التشيع.
وأما ابن معين فوثقه.
وقال النسائي:ليس بثقة.
فلاس کہتا ہے یہ ضعیف ہے اور شیعیت میں لغالی تھا بہت۔
ابن معین نے ثقہ قرار دیا ہے۔
اور نسائی کہتے ہیں کہ یہ ثقہ نہیں ہے (متروک درجے کی جگہ ہے)۔
ابن عدی کہتے ہیں اس پر عیب اس کے غالی ہونے کی وجہ سے ہے میرا خیال ہے اس کی روایت میں کوئی حرج نہیں ہے۔
اس کے بعد امام ذھبی کے غالی شیعت کے بارے میں نقل کرتے ہیں
وقال محمد ابن بشر العبدي: رأيت سالم بن أبي حفصة ذا لحية طويلة أحمق بها من لحية، وهو يقول: وددت أنى كنت شريك علي عليه السلام في كل ما كان فيه.
الحميدي، حدثنا جرير بن عبد الحميد، قال: رأيت سالم بن أبي حفصة وهو يطوف بالبيت، وهو يقول: لبيك مهلك بنى أمية.
محمد بن بشر کہتے ہیں ہیں میں نے سالم بن ابو حفصہ کو دیکھا اس کی داڑھی لمبی تھی اور وہ ایک احمق شخص تھا۔
وہ یہ کہتا تھا میری خواہش ہے میں اور حضرت علی میں موجودہ ہر خوبی میں ان کا حصہ دار بن جاوں۔
جریر بن عبدالحمید کہتا ہے میں نے سالم کو دیکھا وہ بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے کہتا تھا اے بنو امیہ (حضرت عثمان) کو ہلاک کر نے والے میں حاضر ہوں۔
اور یہ راوی حضرت عثمان کو یہودی کہتا تھا
وقال حسين بن علي الجعفي: رأيت سالم بن أبي حفصة طويل اللحية أحمق، وهو يقول: لبيك قاتل نعثل
حسین بن علی جعفی کہتا ہے میں نے سالم کو دیکھا یہ بڑے قد والا اور لمبی داڑھی والا احمق تھا اور کہتا تھا میں نعثل (یہودی عثمان) کو قتل کرنے والی ذات کی بارگاہ میں حاضر ہوں۔
(استغفراللہ)
(میزان الاعتدال)
اب ایسا خبیث راوی جو غالی ہو اور حضرت عثمان کا دشمن تک ہو ان کو یہودی کہتا ہو تو کیا ایسے صدوق غالی بدعتی حرامی راوی کی روایت ردی کی ٹوکری میں پھینکی جائے یا اس کو لیا جائے؟؟
اس کا فیصلہ سنئ حضرات کو کرنا ہے۔
لیکن امام ذھبی نے ایسے راوی سے احتجاج نہ کرنے کا حکم دیا ہے۔
1768- سالم بن أبي حفصة أبو يونس الكندي عن الشعبي وإبراهيم بن يزيد التيمي وعنه السفيانان وابن فضيل شيعي لا يحتج بحديثه توفي (كاشف برقم ١٧٤٨)
3. اگلا راوی عطية العوفي شیعہ مشہور ضعیف اور مدلس راوی ہے۔
عطية ابن سعد ابن جنادة بضم الجيم بعدها نون خفيفة العوفي الجدلي بفتح الجيم والمهملة الكوفي أبو الحسن
ابن حجر کہتے ہیں کہ عدالت کے اعتبار سے صدوق ہے لیکن قصیر غلطیاں کرنے والا شیعہ مدلس راوی ہے۔
صدوق يخطىء كثيرا وكان شيعيا مدلسا
(تقریب)
اور امام ذہبی کہتے ہیں کہ اس کو ضعیف قرار دیا گیا ہے
ضعفوه
(الکاشف) تو مذکورہ روایت متن کے اعتبار سے بھی منکر باطل ہے اور سند بھی اس کی ضعیف جداً ہے۔
اس سے پہلے کہ ہم راویوں کی توثیق ثابت کریں دو اہم نکات کی طرف متوجہ دلانا بہتر سمجھتے ہیں:
ناصبی کا یہ بھوکنا کے شیعہ کی روایات فضائل اہل بیت علیہم السلام میں قبول نہیں محض اس کی حماقت ہے، ناصبیوں کے یہاں نہ فقط شیعہ بلکہ کٹر شیعہ رافضی سبائی راویوں کی احادیث بھی فضائل اھل بیت علیھم السلام میں نہ فقط قبول بلکہ جز ایمان ہیں ،بطور مثال فقط جناب اعمش کی مثال پیش کرتے ہیں سلیمان بن مہران الاعمش علیہ الرحمہ جو کٹر شیعہ تھے ان کی امامت و صداقت اور جلالت ناصبیوں کے یہاں مسلم ہے۔
بس ان کی بزرگی کے لئے یہی کافی ہے کہ ان سے بخاری نے اپنی صحیح میں ۳۷۶ اور مسلم نے 278 احادیث لی ہیں جبکہ دونوں نے ابوحنیفہ کو اس لائق نہیں سمجھا کہ اس سے کچھ بھی نقل کیا جائے۔
ان کے کٹر شیعہ رافضی سبائی ہونے کی گواہی خود ائمہ نواصب نے دی ہے چنانچہ عجلی وغیرہ نے انہیں شیعہ کہا:
“و كان فيه تشيع”
اور ان میں تشیع بھی پائی جاتی تھی
الثقات ج١ ص ٢٠٥
اور احمد بن حنبل نے یزید بن زریع سے ان کا فاسد اورسبائی ہونا نقل کیا ہے:
2517 – سمعته يَقُول قَالَ يزِيد بْن زُرَيْع حَدَّثَنَا شُعْبَة عَن سُلَيْمَان الْأَعْمَش وَكَانَ وَالله خربيًا سبئيا وَالله لَوْلَا أَن شُعْبَة حدث عَنْهُ مَا رويت عَنْهُ حَدِيثا أبدا
یزید بن زریع نے کہا ہم سے شعبہ،انہوں نے اعمشسے روایت کی اور اللہ کی قسم (اعمش) دین میں فسادی اور سبائ تھا،اللہ کی قسم اگر شعبہ نے اس سے روایت نہ کی ہوتی تو میں اس سے کبھی روایت نہ کرتا۔
العلل و معرفة الرجال ج2 ص342
http://islamport.com/w/ell/Web/2949/771.htm
موصوف عثمان کے متعلق احادیث گڑھتے تھے جوزجانی نے اس واقعے کو بسند صحیح ذکر کیا ہے:
352 – حدثني أحمد بن فضالة وإبراهيم بن خالد عن مسلم بن إبراهيم عن حماد بن زيد قال قال الأعمش حين حضرته الوفاة أستغفر الله وأتوب إليه من أحاديث وضعناها في عثمان
حماد بن زید کا بیان ہے کہ جب اعمش کی وفات کا وقت آیا تو انھوں نے کہا میں اللہ سے استغفار کرتا ہوں اور جو حدیث ہم نے عثمان پر گھڑی تھی ان سے میں توبہ کرتا ہوں۔
احوال الرجال جلد 1 ص 192
http://islamport.com/b/4/trajem/%CA%D1%C7%CC%E3%20%E6%D8%C8%DE%C7%CA/%C3%CD%E6%C7%E1%20%C7%E1%D1%CC%C7%E1%20%20%E1%E1%CC%E6%D2%CC%C7%E4%EC/%C3%CD%E6%C7%E1%20%C7%E1%D1%CC%C7%E1%20%DC%20%E1%E1%CC%E6%D2%CC%C7%E4%EC.html
عثمان کے خلاف روایات بیان کرتے تھے ،فسوی نے بسند صحیح اعمش سے روایت کی ہے:
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ [1] حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: مَنْ كَانَ يُحِبُّ [2] مَخْرَجَ الدَّجَّالِ تَبِعَهُ، فَإِنْ مَاتَ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ آمَنَ بِهِ فِي قَبْرِهِ.
جناب حذیفہ الرحمان نے فرمایا کہ جو بھی (عثمان) سے محبت کرے گا وہ دجال کے خروج کے وقت اس کی پیروی کرے گا اور جو خروج دجال سے پہلے مر گیا تو وہ قبر میں اس پر ایمان لائے گا۔
المعرفة والتاريخ جلد 2 و ص 768
https://al-maktaba.org/book/12403/1488
امیر المومنین حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام کے فضائل میں ایسی حدیث روایت کی جس نے ناصبیوں کے مذہب کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں۔
131 – (78) حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ زِرٍّ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ: وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ، وَبَرَأَ النَّسَمَةَ، إِنَّهُ لَعَهْدُ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيَّ: «أَنْ لَا يُحِبَّنِي إِلَّا مُؤْمِنٌ، وَلَا يُبْغِضَنِي إِلَّا مُنَافِقٌ»
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا قسم ہے اس کی جس نے دانہ چیرا ( پھر اس نے گھاس اگائی) اور جان بنائ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے عہد کیا تھا کہ نہیں محبت رکھے گا مجھ سے مگر مومن اور نہیں دشمنی رکھے گا مجھ سے مگر منافق۔
صحيح مسلم »كتاب الإيمان »باب الدليل على أن حب الأنصار وعلي من الإيمان وعلاماته
https://islamweb.net/ar/library/index.php?page=bookcontents&ID=184&idfrom=0&idto=0&flag=1&bk_no=1&ayano=0&surano=0&bookhad=0
باب انصار اور سیدنا علی رضی اللہ عنہم سے محبت رکھنا ایمان کی علامت ہے اور ان سے بغض رکھنا نفاق کی علامت ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ حدیث جز ایمان ہے ،اس حدیث کی روشنی میں معاویہ اینڈ کمپنی تمام کے تمام منافقین قرار پاتے ہیں۔
نہ فقط شیعہ راویوں کی مرویات قابل قبول ہیں ان کی فضائل اہل بیت علیہم السلام میں لکھی گئی کتب بھی معتبر ہیں ہم بطور مثال نسائی کو پیش کرتے ہیں ،ناصبیوں کے یہاں جو مکان نسائی کا ہے اس حساب سے تو ابوحنیفہ اس کی جوتی کی خاک کے برابر بھی نہیں، چنانچہ ذہبی لکھتا ہے :
وَلَمْ يَكُنْ أَحَدٌ فِي رَأْسِ الثَّلاَثِ مائَةٍ أَحْفَظ مِنَ النَّسَائِيِّ، هُوَ أَحْذَقُ بِالحَدِيْثِ وَعِلَلِهِ وَرِجَالِهِ مِنْ مُسْلِمٍ، وَمِنْ أَبِي دَاوُدَ، وَمِنْ أَبِي عِيْسَى، وَهُوَ جَارٍ فِي مِضْمَارِ البُخَارِيِّ، وَأَبِي زُرْعَةَ إِلاَّ أَنَّ فِيْهِ قَلِيْلَ تَشَيُّعٍ وَانحِرَافٍ عَنْ خُصُومِ الإِمَامِ عَلِيٍّ، كمُعَاوِيَةَ وَعَمْرو، وَاللهِ يُسَامِحُهُ.
اور تیسری صدی کے اختتام پر کوئی بھی نسائی سے زیادہ احادیث کا حافظ نہیں تھا وہ علل و رجال میں مسلم ،ابو داؤد اور ترمذی پر بھی فوقیت رکھتا تھا مگر یہ کہ اس میں تھوڑا تشیع اور علی علیہ السلام کی خصوم جیسے معاویہ اور عمرو بن عاص سے انحراف پایا جاتا تھا اللہ اسے معاف فرمائے۔
سير أعلام النبلاء »الطبقة الخامسة عشر »الكلاعي
https://islamweb.net/ar/library/index.php?page=bookcontents&idfrom=2471&idto=2471&bk_no=60&ID=2334
پس معلوم ہوا نسائی نہ فقط شیعہ تھا بلکہ معاویہ اور عمرو عاص سے منحرف بھی تھا۔ کیا آج کل کے ناصبی معاویہ اورعمرو عاص سے منحرف شخص کو پکا سنی تسلیم کریں گے یا رافضی بدعتی کہینگے اسے؟پس جو معاملہ اور قانون دوسروں پر لاگو ہوگا وہی قانون نسائی پر بھی لاگو ہوگا۔ نسائی کے کٹر شیعہ رافضی(ناصبیوں کے اصول پر) ہونے کے بعد بھی ناصبیوں نے اس کی امیر المومنین علیہ السلام کے مناقب میں لکھی گئی کتاب خصائص علی کو قبول کیا ہے، بقول ابن حجر کے اس کتاب میں نسائی نے جناب امیر المومنین علیہ السلام کے مناقب کو جید اسناد سے جمع کیا ہے۔
وَأَوْعَبُ مَنْ جَمَعَ مَنَاقِبَهُ مِنَ الْأَحَادِيثِ الْجِيَادِ النَّسَائِيُّ فِي كِتَابِ الْخَصَائِصِ
فتح الباري شرح صحيح البخاري
http://islamport.com/w/srh/Web/2747/3815.htm
ہمارے علم میں نہیں کے آج تک کسی ناصبی میں یہ جرات ہوئی ہو کہ اس نے نسائی کی کتاب “خصائص” کو نسائی کے شیعہ ہونے کے سبب رد کیا ہو ،پھر یہ ناصبی(اسد طحاوی عرف طوطے میاں) یہ قانون کہاں سے بنا لایا ؟
ناصبی شیعہ اصطلاح میں استعمال تقیہ کے مفہوم سے نا بلد ہے اور اسے اپنے مسلک کے تقیہ کے جیسا سمجھ لیا ۔
ہمارے نزدیک تقیہ کی مختصر تعریف یہ ہے کہ مخالفین کے سامنے کسی دنیاوی یا دینی نقصان سے بچنے کے لئے حق اور حق پر اعتقاد رکھنے کو چھپانے کا نام ہے تقیہ۔
اس ناصبی کو چاہئے یہ تھا کہ تقیہ کی تعریف ہماری کتب سے بیان کرتا اور ثابت کرتا کہ تقیہ جھوٹ کا نام ہے مگر ناصبی نے تقیہ کی وہ تعریف بیان کی جو اس کے مسلک میں رائج ہے اور جیسا تقیہ اس کے بزرگان کرتے ہیں۔
،ہم بتاتے ہیں تقیہ باز اور کذاب کون تھے:
ابن حبان نے ایک روایت گھر کے بھیدی حماد سے نقل کی ہے جس میں اس کے باپ ابو حنیفہ کا اپنے کفریہ عقیدے سے تقیہ کرنا ذکر ہے۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي مَالِكٍ عَنْ أَبِي يُوسُفَ قَالَ أَوَّلُ مَنْ قَالَ الْقُرْآنُ مَخْلُوقٌ أَبُو حَنِيفَةَ يُرِيدُ بِالْكُوفَةِ أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ قَالَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَمَّادِ بْنِ أَبِي حَنِيفَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا حَنِيفَةَ يَقُولُ الْقُرْآنُ مَخْلُوقٌ قَالَ فَكَتَبَ إِلَيْهِ بن أَبِي لَيْلَى إِمَّا أَنْ تَرْجِعَ وَإِلَّا لأَفْعَلَنَّ بِكَ فَقَالَ قَدْ رَجَعْتُ فَلَمَّا رَجَعَ إِلَى بَيْتِهِ قُلْتُ يَا أَبِي أَلَيْسَ هَذَا رَأْيُكَ قَالَ نَعَمْ يَا بُنَيَّ وَهُوَ الْيَوْمَ أَيْضًا رَأْيِي وَلَكِنْ أَعْيَتْهُمُ التَّقِيَّةُ
عمرو بن حماد ابن ابی حنیفہ کا بیان ہے کہ میں نے اپنے باپ سے سنا کہ ابو حنیفہ قرآن کو مخلوق کہتا تھا پس اس کی طرف قاضی ابن ابی لیلی نے لکھ بھیجا یا تو اپنی رائے سے پھر جا ،یا پھر میں تیرے ساتھ ضرور ضرور ایسا کروں گا تو ابوحنیفہ نے کہا میں نے رجوع کیا پس جب وہ گھر واپس آیا تو میں نے اس سے کہا ابّا کیا یہ تیری رائے نہیں تھی کہ قرآن مخلوق ہے تو اس نے کہا میرے بچے آج بھی میری یہی رائے ہے مگر میں نے اس سے تقیہ کیا۔
http://islamport.com/w/trj/Web/895/782.htm
حنفیوں کے یہاں پہلی تین صدیوں کے مجہول راویوں کی روایات قابل قبول ہوتی ہیں:
چنانچہ عبد العزیز بن احمد ابن محمد الدین بخاری لکھتا ہے:
وَعِنْدَنَا خَبَرُ الْمَجْهُولِ مِنْ الْقُرُونِ الثَّلَاثَةِ مَقْبُولٌ
ہمارے (حنفیوں) کے نزدیک پہلی تین صدیوں کے مجہول کی خبر معتبر ہے
كتاب كشف الأسرار شرح أصول البزدوي
جلد 2 ص 386
https://al-maktaba.org/book/9062/702
سخاوی نے بھی یہی لکھا ہے کہ احناف کے یہاں مجہول کی روایت علی الاطلاق قبول ہے:
“ بَلْ قَبِلُوا رِوَايَةَ الْمَجْهُولِ عَلَى الْإِطْلَاقِ – انْتَهَى.”
فتح المغیث:ص۲۹۴
http://islamport.com/d/1/mst/1/62/221.html
پس یہ روایت قابل احتجاج ہے۔
ذھبی تقیہ باز ابن معین ے متعلق لکھتا ہے:
وَكَانَ يَحْيَى رَحِمَهُ اللهُ مِنْ أَئِمَّةِ السُّنَّةِ فَخَافَ مِنْ سَطْوَةِ الدَّوْلَةِ وَأَجَابَ تَقِيَّةً.
ابن معین ائمہ اہلسنت سے ہیں ،حکومت کی قدرت سے ڈر کر اس نے تقیہ کر لیا۔
كتاب سير أعلام النبلاء ط الرسالة
https://al-maktaba.org/book/10906/7269
بس ان دو دلیلوں پر اکتفاء کرتے ہیں۔
ناصبی نے اپنے یہاں والے تقیہ کو ہم پر چسپاں کرنے کی ناکام کوشش کی ہے۔
ابن عدی نے کہا:اسکی احادیث ہیں اور عام طور سےاسکی احادیث فضائل اہلبیت علیہم السلام کے مطابق ہیں ،اور وہ غالی شیعہ تھا،اسکا عیب یہ ہے کہ وہ غالی تھا،اور جہاں تک اسکی احادیث کا مسئلہ ہے تو ان میں کوئی حرج نہیں۔
جوزجانی نے کہا:وہ راہ حق سے ہٹ جانے والا تھا اور اس نے(کوفیوں کے متعلق)اپنی عادت کے موافق کلام کیا۔
عقیلی نے کہا:اسے اسکے غلو کے سبب تر کیا گیا۔
عجلی نے کہا:ثقہ ہے۔
ابو احمد حاکم نے کہا :وہ انکے نزدیک قوی نہیں۔
ابن حبان نے کہا:وہ خبروں کو بدل دیا کرتا اور اس کو روایت میں وہم ہوتا۔
۔
كتاب تهذيب التهذيب ابن حجر العسقلاني
https://al-maktaba.org/book/3310/1484
سالم بن ابی حفصہ پر جرح کرنے والے ناصبی علماء:
۱:عمرو بن علی فلاس نے ضعیف کہا ہے۔
ناصبی ابوجہل(اسد طحاوی)نے فلاس کے قول کو حجت تسلیم کر کے خود اپنی مٹی خراب کر لی ہے۔فلاس نے سالم کو فقط ضعیف کہا ہے جبکہ ابو حنیفہ پر بہت سخت ترین جرح کی ہے،اور جیسا ذلیل ابو حنیفہ کو کیا ہے اسکی مثال نہیں۔
خطیب نے باسند صحیح فلاس کی رائے ابو حنیفہ کے متعلق نقل کی ہے:
وحدث عن ابن الفضل إلى أبى حفص عَمْرو بن عَليّ قَالَ: وَأَبُو حنيفة النعمان ابن ثابت صاحب الرأي لَيْسَ بالحافظ مضطرب الحديث: واهي الحديث، وصاحب هوى.
ابو حفص عمرو بن علی فلاس نے کہا ابو حنیفہ صاحب رائے حافظ نہیں تھا،مضطرب الحدیث اور ردی حدیث والا بدعتی تھا۔
تاریخ بغداد ج ۱۲ ،صفحہ:۴۵۰
ابن شاهين – ذكر من اختلف العلماء ونقاد الحديث فيه
کیا یہ ناصبی اب بھی فلاس کی جرح کو تسلیم کرے گا؟
۲۔ابن حجر نے جو ابوحاتم سے نقل کیا ہے اس میں خیانت کی ہے،ابوحاتم نے سالم کو صدوق تسلیم کیا ہے مگر ابن حجر نے اسکا ذکر نہیں کیا ہے۔
“وقال أبو حاتم هو من عتق الشيعة يكتب حديثه ولا يحتج به”
جبکہ ابن ابی حاتم نے لفظ “صدوق”بھی ذکر کیا ہے:
حدثنا عبد الرحمن قال سألت أبي عن سالم بن أبي حفصة فقال: هو من عتق الشيعة، صدوق، يكتب حديثه ولا يحتج به.
الجرح والتعدیل
ابو حاتم کا یہ کہنا کہ وہ کٹّر شیعہ تھا جھوٹ کے سوا کچھ نہیں ،سالم کا تعلق کس فرقہ سے تھا انشاء اللہ آخر میں تفصیل سے بیان کیا جائے گا۔
ابو حاتم کا یہ کہنا کہ اس کی حدیث لکھی جائے گی،مگر اس سے احتجاج نہیں کیا جائے گا ،یہ بھی جرح مردود ہے۔
احناف کے بڑے امام زیلعی نے ابو حاتم کی اس جرح کو غیر مفسر کہا ہے،لکھتا ہے:
وَقَوْلُ أَبِي حَاتِمٍ: لَا يُحْتَجُّ بِهِ، غَيْرُ قَادِحٍ أَيْضًا، فَإِنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ السَّبَبَ، وَقَدْ تَكَرَّرَتْ هَذِهِ اللَّفْظَةُ مِنْهُ فِي رِجَالٍ كَثِيرِينَ مِنْ أصحاب الثِّقَاتِ الْأَثْبَاتِ
اور ابو حاتم کا قول “ لَا يُحْتَجُّ بِهِ، غَيْرُ قَادِحٍ ” ہے کیونکہ اس نے اس جرح کا کوئی سبب بیان نہیں کیا۔اس نے اس کلمہ کا استعمال صحیحین کے بہت سے ثقہ اور ثبت راویوں کے بارے میں بھی کیا ہے۔
نصب الراية

نصب الراية
ذھبی نے بھی اعتراف کیا ہے کہ ابو حاتم متشدد تھا۔بغیر سبب کے جرح کرتا تھا۔
إِذَا وَثَّقَ أَبُو حَاتِمٍ رَجُلاً فَتَمَسَّكْ بِقَولِهِ، فَإِنَّهُ لاَ يُوَثِّقُ إِلاَّ رَجُلاً صَحِيْحَ الحَدِيْثِ، وَإِذَا لَيَّنَ رَجُلاً، أَوْ قَالَ فِيْهِ: لاَ يُحْتَجُّ بِهِ، فَتَوَقَّفْ حَتَّى تَرَى مَا قَالَ غَيْرُهُ فِيْهِ، فَإِنْ وَثَّقَهُ أَحَدٌ، فَلاَ تَبْنِ عَلَى تَجْرِيْحِ أَبِي حَاتِمٍ، فَإِنَّهُ مُتَعَنِّتٌ فِي الرِّجَالِ (1) ، قَدْ قَالَ فِي طَائِفَةٍ مِنْ رِجَالِ (الصِّحَاحِ) : لَيْسَ بِحُجَّةٍ، لَيْسَ بِقَوِيٍّ، أَوْ نَحْو ذَلِكَ.
جب ابو حاتم کسی کو ثقہ کہے تو اسکو مضبوطی سے پکڑ لو ،کیونکہ وہ صرف اس شخص جو ثقہ کہتا ہے جوکہ صحیح الحدیث ہوتا ہے۔اور اگر وہ کسی کی تضعیف کرے یا اس سکے بارے میں “لا یحتج به“کہے تو توقف کرو تاکہ یہ معلوم ہو جائے کہ اوروں نے کیا کہا ہے۔اور اگر کسی نے سکو ثقہ کہا ہے تو پھر ابوحاتم کی جرح نہ مانو کیونکہ وہ اسماء الرجال میں متشدد ہے۔اس نے صحیحین کے رجال کے ایک گروہ کے بارے میں بھی” لَيْسَ بِحُجَّةٍ ” اور “لیس بقوي“وغیرہ کہا ہے۔
سير أعلام النبلاء – ط الرسالة نویسنده : الذهبي، شمس الدين جلد : 13 صفحه : 260
https://lib.efatwa.ir/40384/13/260/%D9%88%D8%AB%D9%91%D9%82
۳۔جوذجانی کی جرح بھی مردود ہے ،سالم کا شمار اہل کوفہ میں ہوتا ہے،اور اہل کوفہ کے متعلق جوذجانی کی جرح مردود ہے۔
“وأما الجوزجاني فقد قلنا غير مرة إن جرحه لا يقبل في أهل الكوفة لشدة انحرافه ونصبه”
ہم اس بات کو بارہا کہ چکے ہیں کہ جوزجانی کی جرح اہل کوفہ کے متعلق قبول نہیں ہوگی،اس کے اہل کوفہ سے شدت سے انحراف اور نصب(اہلبیت علیہم السلام سے دشمنی و عداوت) کے سبب۔
فتح الباري – ابن حجر
http://islamport.com/w/srh/Web/2747/444.htm
۴۔ابن ادریس یا حسین بن علی کی جرح کہ سالم عثمان کو نعثل کہتا تھا یہ بھی باطل و مردود ہے۔
کتاب الضعفاء کے نسخوں میں اس کے متعلق اختلاف ہے،بعض نے اس جرح کو حسین بن علی جعفی کی طرف منسوب کیا ہے۔
چنانچہ حمدی بن عبدالمجید بن اسماعیل کی تحقیق سے دار الصمیعی،ریاض سعودی عرب سے ۱۴۲۰ھ میں چھپا ہے اس میں حسین بن علی جعفی کی جرح مردود ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ قَالَ: حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ قَالَ: رَأَيْتُ سَالِمَ بْنَ أَبِي حَفْصَةَ، طَوِيلَ اللِّحْيَةِ، أَحْمَقَ. وَهُوَ يَقُولُ: لَبَّيْكَ قَاتِلَ نَعْثَلٍ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ مُهْلِكَ بَنِي أُمَيَّةَ لَبَّيْكَ.
الضعفاء الكبير للعقيلي
http://hadith.islam-db.com/single-book/381/%D8%A7%D9%84%D8%B6%D8%B9%D9%81%D8%A7%D8%A1-%D8%A7%D9%84%D9%83%D8%A8%D9%8A%D8%B1-%D9%84%D9%84%D8%B9%D9%82%D9%8A%D9%84%D9%8A/195459/720
جبکہ ڈاکٹر عبدالمعطی امین قلعجی کی تحقیق،دار الکتب العلمیۃ،بیروت،لبنان سے چھپنے والی اولین چاپ میں یہ جرح ابن ادریس سے منسوب ہے:
https://books.google.iq/books?id=3pp0DwAAQBAJ&pg=PT149&lpg=PT149&dq=%D8%AD%D8%AF%D8%AB%D9%86%D8%A7+%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF+%D8%A8%D9%86+%D8%A5%D8%B3%D9%85%D8%A7%D8%B9%D9%8A%D9%84+%D9%82%D8%A7%D9%84+%D8%AD%D8%AF%D8%AB%D9%86%D8%A7+%D8%B3%D8%B9%D9%8A%D8%AF+%D8%A8%D9%86+%D9%85%D9%86%D8%B5%D9%88%D8%B1+%D9%82%D8%A7%D9%84+%D9%82%D9%84%D8%AA+%D9%84%D8%A7%D8%A8%D9%86+%D8%A7%D8%AF%D8%B1%D9%8A%D8%B3+%D8%B1%D8%A7%D9%8A%D8%AA+%D8%B3%D8%A7%D9%84%D9%85+%D8%A8%D9%86+%D8%AD%D9%81%D8%B5%D8%A9&source=bl&ots=sPFoI8Q9gA&sig=ACfU3U041VTCgX0rNx_-AJCYysupeg-8Xg&hl=en&sa=X&ved=2ahUKEwi0scPGj-vzAhUG1xoKHXfbBToQ6AF6BAgNEAM#v=onepage&q=%D8%AD%D8%AF%D8%AB%D9%86%D8%A7%20%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF%20%D8%A8%D9%86%20%D8%A5%D8%B3%D9%85%D8%A7%D8%B9%D9%8A%D9%84%20%D9%82%D8%A7%D9%84%20%D8%AD%D8%AF%D8%AB%D9%86%D8%A7%20%D8%B3%D8%B9%D9%8A%D8%AF%20%D8%A8%D9%86%20%D9%85%D9%86%D8%B5%D9%88%D8%B1%20%D9%82%D8%A7%D9%84%20%D9%82%D9%84%D8%AA%20%D9%84%D8%A7%D8%A8%D9%86%20%D8%A7%D8%AF%D8%B1%D9%8A%D8%B3%20%D8%B1%D8%A7%D9%8A%D8%AA%20%D8%B3%D8%A7%D9%84%D9%85%20%D8%A8%D9%86%20%D8%AD%D9%81%D8%B5%D8%A9&f=false

تاہم اگر حسین و ابن ادریس دونوں کی طرف منسوب ہونا تسلیم بھی کر لیں تب بھی ناصبی ان اقوال سے احتجاج نہیں کر سکتے۔ان اقوال کو نقل کرنے والا محمد بن اسماعیل صائغ ہے ،اسی شخص سے عقیلی نے ابوحنیفہ کی توہین نقل کی ہے:
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى قَالَ: سَمِعْتُ شَرِيكًا، يَقُولُ: إِنَّمَا كَانَ أَبُو حَنِيفَةَ صَاحِبَ خُصُومَاتٍ , لَمْ يَكُنْ يُعْرَفُ إِلَّا بِالْخُصُومَاتِ , وَسَمِعْتُ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَيَّاشٍ يَقُولُ: كَانَ أَبُو حَنِيفَةَ صَاحِبَ خُصُومَاتٍ , لَمْ يَكُنْ يُعْرَفُ إِلَّا بِالْخُصُومَاتِ
شریک نے کہا ابوحنیفہ فسادی اور جھگڑالو آدمی تھا اور اسی جھگڑے اور فساد سے وہ پہچانا جاتا تھا،اور ابوبکر بن عیاش نے کہا ابوحنیفہ فسادی ور جھگڑالو آدمی تھا،اور اسی جھگڑے اور فساد سے پہچانا جاتا تھا۔
الضعفاء الكبير
https://lib.efatwa.ir/43412/4/268/%22%D8%A8%D8%A7%D8%A8_%D8%A7%D9%84%D9%86%D9%88%D9%86%22
کیا یہ ناصبی(اسد طوطا طحاوی) اب بھی صائغ کے قول سے استدلال کرے گا؟
ہاں البتہ ابن ادریس سے ابوحنیفہ پر جرح ثابت ہے:
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا رَجَاءُ بْنُ السِّنْدِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ إِدْرِيسَ، يَقُولُ: كَانَ أَبُو حَنِيفَةَ ضَالًّا مُضِلًّا , وَأَبُو يُوسُفَ فَاسِقًا مِنَ الْفَاسِقِينَ
رجاء بن سندی کا بیان ہے کہ میں نے عبداللہ بن ادریس کو کہتے ہوئے سنا کہ:
ابوحنیفہ گمراہ اور گمراہ کرنے والا تھا ،اور ابویوسف فاسقوں میں سے ایک فاسق تھا۔
الضعفاء الكبير
http://islamport.com/w/ajz/Web/1386/4389.htm
اور اگر یہ ثابت بھی ہو جائے کہ سالم عثمان کو نعثل کہتا تھا تب بھی سالم کی وثاقت پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔
ناصبی کو اس بات کا بہت غم ہے کہ سالم عثمان کو نعثل کہتا تھا۔
جبکہ صحابہ میں سے ایسے جلیل القدر افراد بھی تھے جو عثمان کو گالیاں دیتے تھے ،ابن سعد نے باسند صحیح روایت کیا ہے کہ حضرت عمار بن یاسر علیہ السلام عثمان کو گالیاں دیتے تھے:
“قَالَ: أَخْبَرَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو حَفْصٍ وَكُلْثُومُ بْنُ جَبْرٍ عَنْ أَبِي غَادِيَةَ قَالَ: سَمِعْتُ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ يَقَعُ فِي عُثْمَانَ يَشْتِمُهُ بِالْمَدِينَةِ”
صحابی اور قاتل جناب عمار بن یاسر ،ابوالغادیہ کا بیان ہے کہ میں نے جناب عمار کو مدینہ منورہ میں عثمان کو گالیاں دیتے ہوئے سنا ۔
الطبقات الكبرى
http://islamport.com/w/trj/Web/2947/1129.htm
کیا یہ ناصبی حضرت عمارؑ کے لئے بھی وہی کلمات استعمال کرنے کی جسارت کر سکتا ہے جو اس نے سنی ناصبی سالم بن حفصہ کے لئے استعمال کیا ہے؟
امیر المومنین علیہ السلام بھی عثمان کو نعثل کہتے تھے ،ابن شبہ نمیری نے باسند صحیح روایت کی ہے:
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَ: حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ الْمَاجِشُونِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا حِينَ حُصِرَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حُمِلَتْ حَتَّى وُضِعَتْ بَيْنَ يَدَيْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي خِدْرِهَا وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَتْ: «أَجِرْ لِي مَنْ فِي الدَّارِ» . قَالَ: نَعَمْ إِلَّا نَعْثَلًا وَشَقِيًّا، قَالَتْ: «فَوَاللَّهِ مَا حَاجَتِي إِلَّا عُثْمَانُ وَسَعِيدُ بْنُ الْعَاصِ» . قَالَ: مَا إِلَيْهِمَا سَبِيلٌ. قَالَتْ: «مَلَكْتَ يَا ابْنَ أَبِي طَالِبٍ فَأَسْجِحْ» قَالَ: أَمَا وَاللَّهِ مَا أَمَرَكِ اللَّهُ وَلَا رَسُولُهُ
یعقوب ماجشون نے کہا کہ عثمان کے محاصرہ کے زمانے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زوجہ ام حبیبہ با حجاب ہو کر حضرت علی علیہ السلام کے پاس آئیں جبکہ آپ علیہ السلام منبر پر تھے اور کہا جو (عثمان کے )گھر میں ہیں انہیں میری پناہ میں دے دیں ،آپ علیہ السلام نے فرمایا سوائے سوائے نعثل(عثمان)و شقی(بدبخت سعید بن عاص)تو ام حبیبہ نے کہا:اللہ کی قسم میری مراد اور چاہت سوائے عثمان و سعید بن عاص کے کچھ نہیں۔تو آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ ان دونوں کو آزاد نہیں کرا سکتا،ام حبیبہ نے کہا ائے ابوطالب کے بیٹے اب جبکہ قدرت آپ کے ہاتھوں میں ہے تو چشم پوشی کیجئے ،تو امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا کہ اللہ کی قسم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تجھے اس کا حکم نہیں دیا(یعنی بغیر ضرورت گھر سے باہر نکلنے کا)۔
تاریخ المدينة
http://shiaonlinelibrary.com/%D8%A7%D9%84%D9%83%D8%AA%D8%A8/3464_%D8%AA%D8%A7%D8%B1%D9%8A%D8%AE-%D8%A7%D9%84%D9%85%D8%AF%D9%8A%D9%86%D8%A9-%D8%A7%D8%A8%D9%86-%D8%B4%D8%A8%D8%A9-%D8%A7%D9%84%D9%86%D9%85%D9%8A%D8%B1%D9%8A-%D8%AC-%D9%A4/%D8%A7%D9%84%D8%B5%D9%81%D8%AD%D8%A9_20
عثمان کو گالیاں دینے والوں میں ناصبیوں نے امیر المومنین حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام کو بھی شامل کیا ہے۔
عبدالرزاق نے باسند معتبر ابن مسیب سے روایت کی ہے:
91 – أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ إِسْمَاعِيلُ، ثَنَا أَحْمَدُ، ثَنَا عَبْدُ الرَّزَاقِ، أنا مَعْمَرٌ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ شَهِدْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اسْتَبَّا بِسِبَابٍ مَا سَمِعْتُ أَحَدًا اسْتَبَّ بِمِثْلِهِ
ابن مسیب نے کہا میں علی(علیہ السلام)اور عثمان کے پاس موجود تھا پس دونوں نے ایک دوسرے کو ایسی ایسی گالیاں دیں کہ میں نے اس سے پہلے کسی کو ایسی گالیاں دیتے ہوئے نہیں سنا۔
الأمالي في آثار الصحابة
http://www.islamport.com/b/3/alhadeeth/ajzaa/%C7%E1%C3%E3%C7%E1%ED%20%DD%ED%20%C2%CB%C7%D1%20%C7%E1%D5%CD%C7%C8%C9/%C7%E1%C3%E3%C7%E1%ED%20%DD%ED%20%C2%CB%C7%D1%20%C7%E1%D5%CD%C7%C8%C9.html
بلکہ گالیاں دینا تو بہت چھوٹی بات ہے صحابہ کا قتلِ عثمان میں شرکت سے انکار ناممکن ہے۔
عائشہ بنت ابی بکر لوگوں کو قتل عثمان پر اکساتی تھیں:
” 310 ” وحدثني أحمد بن ابن أهيم الدورقي، حدثنا أبو النصر، حدثنا إسحاق بن سعيد، عن عمرو بن سعيد، حدثني سعيد بن عمرو:
عن ابن حاطب قال: أقبلت مع علي يوم الجمل إلى الهودج وكأنه شوك قنفذ من النبل: فضرب / 357 / الهودج، ثم قال: إن حميراء ارم هذه أرادت أن تقتلني كما قتلت عثمان بن عفان. فقال: لها أخوها محمد: هل أصابك شئ؟ فقالت: مشقص في عضدي. فأدخل رأسه ثم جرها إليه فأخرجه.
ابن حاطب کا بیان ہے کہ میں روز جمل امیر المومنین علیہ السلام کے ساتھ عائشہ کی ھودج کی طرف گیا ہودج میں اس قدر تیر پیوست تھے کہ سِیہہ کی پشت کی طرح لگتی تھی،پس حضرت نے ہودج پر مار کر کہا حمیرہ ان تیرو کو جمع کئے ہوئے تھی تاکہ مجھے قتل کرے جیسے عثمان کو قتل کیا تھا۔
جمل من انساب الاشراف
http://shiaonlinelibrary.com/%D8%A7%D9%84%D9%83%D8%AA%D8%A8/3425_%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%A7%D8%A8-%D8%A7%D9%84%D8%A3%D8%B4%D8%B1%D8%A7%D9%81-%D8%A7%D9%84%D8%A8%D9%84%D8%A7%D8%B0%D8%B1%D9%8A/%D8%A7%D9%84%D8%B5%D9%81%D8%AD%D8%A9_242#top
طلحہ بن عبیداللہ کو مروان نے قتل عثمان کے جرم میں تیر مار کر قتل کیا اور کہا آج کے بعد اب عثمان کے خون کا بدلا طلب نہیں کرونگا (یعنی اصل قاتل قتل ہو گیا)۔
طلحہ بن عبیداللہ کو مروان نے قتل عثمان کے جرم میں تیر مار کر قتل کیا اور کہا آج کے بعد اب عثمان کے خون کا بدلا طلب نہیں کرونگا (یعنی اصل قاتل قتل ہو گیا)۔
خلال نے روایت کو قیس بن ابی حازم سے نقل کیا ہے:
839 – أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: ثَنَا مُهَنَّى، قَالَ: سَأَلْتُ أَحْمَدَ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، مَنْ قَتَلَهُ؟، قَالَ: يَقُولُونَ: مَرْوَانُ، قُلْتُ: كَيْفَ؟ قَالَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: نَظَرَ مَرْوَانُ إِلَى طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ يَوْمَ الْجَمَلِ، فَقَالَ: «لَا أَطْلُبُ بِثَأْرِي بَعْدَ الْيَوْمِ» ، قَالَ: فَرَمَى بِسَهْمٍ فَقَتَلَهُ، قُلْتُ: مَنْ يَقُولُ هَذَا؟ فَقَالَ: وَكِيعٌ عَنْ [ص:518] إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، قُلْتُ: حَدِّثُونِي، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَرْزُوقٍ، عَنْ عِمْرَانَ الْقَطَّانِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْجَارُودِ بْنِ أَبِي سَبْرَةَ قَالَ: ” نَظَرَ مَرْوَانُ إِلَى طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ يَوْمَ الْجَمَلِ، فَقَالَ: لَا أَطْلُبُ بِثَأْرِي بَعْدَ الْيَوْمِ، فَرَمَاهُ بِسَهْمٍ فَقَتَلَهُ “، فَقَالَ: مَا أَدْرِي
السنة لأبي بكر بن الخلال
https://al-maktaba.org/book/1077/878
کتاب کے محقق عطیہ زہرانی نے سند کو صحیح کہا ہے۔

اس ناصبی(اسد حنفی طحاوی)میں اتنی ہمت ہے جو عائشہ ،طلحہ کے لئے بھی (بدعتی حرامی)کلمات کا استعمال کر سکے؟یا یہاں حبِّ عثمان کا حمل ضائع ہو گیا؟؟
بلکہ امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کو عثمان کا قاتل کہتے تھے:
حَدَّثَنَا عَارِمٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ أَبُو زَيْدٍ، قَالَ [ص:1259]: حَدَّثَنَا هِلَالُ بْنُ خَبَّابٍ، عَنْ خَالِدٍ أَبِي حَفْصٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي بَعْضِ خُطَبِهِ: قَتَلَ اللَّهُ عُثْمَانَ وَأَنَا مَعَهُ،
حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا عثمان کو اللہ نے قتل کیا اور میں اسکے ساتھ ہوں۔
كتاب تاريخ المدينة لابن شبة
https://shamela.ws/book/13086/2575#p1
اگر سالم نے ایسا کہ دیا تھا تو کیا برا کیا دیا تھا،جبکہ خود صحابہ عثمان کو نعثل کہتے تھے اور اللہ کو اس کا قاتل بناتے تھے۔
۵:جرح ابو احمد حاکم ، یہ جرح بھی مردود ہے ،حاکم نے ذکر نہیں کیا کن کے نزیدک قوی نہیں ہے۔
۶:ابن حبان کی جرح بھی باطل و مردود ہے ،ابن حبان بھی جرح کرنے میں افراطی تھا ،ناصبی علماء نے اس امر کی تصریح کی ہے:
ذھبی نے افلح بن سعید جو مسلم کا راوی ہے اور جسکی توثیق علماء اہلسنت نے کی ہے مگر ابن حبان نے اس پر سخت جرح کی ہے کے حالات نقل کر کے ابن حبان کے قول کو اس کے متعلق نقل کر کے رد کرتا ہے۔
1023 -[صح] أفلح بن سعيد [م، س] المدني القبائي.
صدوق.
روى عن عبد الله بن رافع مولى أم سلمة، ومحمد بن كعب.
وعنه ابن المبارك والعقدي وعدة.
وثقه ابن معين.
وقال أبو حاتم: صالح الحديث.
وقال ابن حبان: يروى عن الثقات الموضوعات.
لا يحل الاحتجاج به ولا الرواية عنه بحال.
قلت: ابن حبان ربما قصب (1) الثقة حتى كأنه لا يدري ما يخرج من رأسه،
ابن حبان نے کہا کہ وہ ثقات سے جھوٹی روایات روایت کرتا ہے تو اس سے احتجاج جائز نہیں ہے اور نا ہی روایت کرنا جائز ہے۔
میں(ذھبی)کہتا ہوں ہ وہ ثقہ راویوں پر بھی جرح کر جاتا ہے اور نہیں دیکھتا کہ کیا کہ رہا ہے۔
میزان الاعتدال
http://islamport.com/w/trj/Web/1240/276.htm
اسی طرح مسلم کے ایک اور راوی سوید بن عمرو الکلبی ،ابوالولید کوفی کے متعلق ابن حبان کی بے جا جرح کو نقل کر کے رد کرتا ہے۔
3624 – سويد بن عمرو [م، ت، س، ق] الكلبي، أبو الوليد، كوفي.
عن حماد بن سلمة، وشريك.
وعنه ابن نمير، وابنا أبي شيبة.
وثقه ابن معين، وغيره.
وأما ابن حبان فأسرف واجترأ فقال: كان يقلب الأسانيد، ويضع على الأسانيد الصحاح المتون الواهية.
ابن حبان نے بہت زیادتی ہے،اور بڑی جسارت کی ہے،جو یہ کہا کہ وہ اسناد میں ہیرا پھیری کرنے والا اور صحیح اسناد پر واہی متن گڑھنے والا تھا۔
میزان الاعتدال
http://islamport.com/d/1/trj/1/211/4501.html
اسی طرح عثمان بن عبدالرحمان الطرائفی المودب کے بارے میں کہتا ہے:
5532 – عثمان بن عبد الرحمن [د، س، ق] الطرائفي المؤدب.
أحد علماء الحديث بحران.
ولاؤه لبنى أمية.
وقيل لبنى تيم (1) ، وفي كنيته أقوال.
روى عن عبيد الله ابن عمر، وجعفر بن برقان، وهشام بن حسان، والطبقة.
وعنه أبو كريب، وأحمد ابن سليمان الرهاوي، وخلق.
قال ابن معين: صدوق.
وقال أبو عروبة: متعبد، لا بأس به، يأتي عن قوم مجهولين بالمناكير.
وقال ابن عدي: يكنى أبا عبد الرحمن، عنده عجائب عن المجاهيل، فهو في الجزريين كبقية في الشاميين.
وقال ابن أبي حاتم: أنكر أبي على البخاري إدخاله عثمان في كتاب الضعفاء، وقال: هو صدوق.
قلت: ما قاله البخاري فيه أكثر من هذا، كان يحدث عن قوم ضعاف، وهذا حديثه عن علي بن عروة، عن المقبري، عن أبي هريرة – مرفوعاً: أربع من خصال آل قارون: لباس الخفاف المقلوبة – يعنى البيض، ولباس الارجوان، وجر نعال السيوف، وكان أحدهم لا ينظر إلى وجه خادمه تكبرا.
قلت: شيخه متروك هالك، فعليه عهدة هذا الحديث.
وذكره العقيلي، وابن عدي، وهو لا بأس به في نفسه.
وأما ابن حبان فإنه يقعقع كعادته، فقال فيه: يروي عن قوم ضعاف أشياء يدلسها عن الثقات، حتى إذا سمعها المستمع لم يشك في وضعها،
ابن حبان نے اپنی عادت کے مطابق بے جا جرح کی ہے ،کہتا ہے کہ ضعیف لوگوں سے چیزیں نقل کر کے ان کو ثقات سے تدلیس کرتا تھا جن میں کوئی شک نہیں کہ اس نے اسے گڑھا ہے۔
ميزان الاعتدال
http://shiaonlinelibrary.com/%D8%A7%D9%84%D9%83%D8%AA%D8%A8/3308_%D9%85%D9%8A%D8%B2%D8%A7%D9%86-%D8%A7%D9%84%D8%A7%D8%B9%D8%AA%D8%AF%D8%A7%D9%84-%D8%A7%D9%84%D8%B0%D9%87%D8%A8%D9%8A-%D8%AC-%D9%A3/%D8%A7%D9%84%D8%B5%D9%81%D8%AD%D8%A9_44
لہذا یہاں بھی ابن حبان ایسی بے تکی جرح کرنے میں منفرد ہے ،پس اسکی جرح بھی مردود ہوئی۔
ہاں اگر ان دلائل کے بعد بھی ناصبی کو تسلی نہ ہو تو پھر ابن حبان کی قلم سے ابو حنیفہ کے حالات بھی بیان کئے دیتے ہیں:
1127 – النُّعْمَان بن ثَابت أَبُو حنيفَة الْكُوفِي صَاحب الرَّأْي يروي عَن عَطاء
وَنَافِع كَانَ مولده سنة ثَمَانِينَ فِي سوا الْكُوفَة وَكَانَ أَبوهُ مَمْلُوكا لرجل من بني ربيعَة من تيم الله من نجد يُقَال لَهُم بَنو قفل فَأعتق أَبوهُ وَكَانَ خبازا لعبد الله بن قفل وَمَات أَبُو حنيفَة سنة خمسين وَمِائَة بِبَغْدَاد وقبره فِي مَقْبرَة الخيزران وَكَانَ رجلا جدلا ظَاهر الْوَرع لم يكن الحَدِيث صناعته حدث بِمِائَة وَثَلَاثِينَ حَدِيثا مسانيد مَا لَهُ حَدِيث فِي الدُّنْيَا غَيره أَخطَأ مِنْهَا فِي مائَة وَعشْرين حَدِيثا إِمَّا أَن يكون أقلب إِسْنَاده أَو غير مَتنه من حَيْثُ لَا يعلم فَلَمَّا غلب خَطؤُهُ على صَوَابه اسْتحق ترك الِاحْتِجَاج بِهِ فِي الْأَخْبَار وَمن جِهَة أُخْرَى لَا يجوز الِاحْتِجَاج بِهِ لِأَنَّهُ كَانَ دَاعيا إِلَى الإرجاء والداعية إِلَى الْبدع لَا يجوز أَن يحْتَج بِهِ عِنْد أَئِمَّتنَا قاطبة لَا أعلم بَينهم فِيهِ خلافًا على أَن أَئِمَّة الْمُسلمين وَأهل الْوَرع فِي الدَّين فِي جَمِيع الْأَمْصَار وَسَائِر الأقطار جرحوه وأطلقوا عَلَيْهِ الْقدح إِلَّا الْوَاحِد بعد الْوَاحِد قد ذكرنَا مَا روى فِيهِ من ذَلِك فِي كتاب التَّنْبِيه على التمويه فأغنى ذَلِك عَن تكرارها فِي هَذَا الْكتاب غير أَنِّي أذكر مِنْهَا جملا يسْتَدلّ بهَا على مَا وَرَاءَهَا
نعمان بن ثابت ابوحنیفہ ابوحنیفہ کوفی صاحب رائے تھا ،عطاء اور نافع سے روایت کرتا تھا،۸۰ ہجری میں پیدا ہوا اور ۱۵۰ہجری بغداد میں ہلاک ہوا ،اسکی قبر خیزران قبرستان میں ہے،ابوحنیفہ جھگڑالو آدمی تھا ،ظاہر میں متقی تھا،لیکن حدیث میں کوئی اوقات نہیں تھی(یعنی محدث نہیں تھا)ایک سو تیس احادیث روایت کیں جو باسند بیان کیں اس کے علاوہ دنیا میں اسکی کوئی حدیث نہیں ۔ان میں سے بھی ایک سو بیس احادیث میں غلط بیانی کی یا ان کی سندوں کو الٹ پلٹ کر دیا،متن کو بگاڑ دیا جس کا کوئی پتہ ہی نہیں چلتا،جب اسکی ثواب پر خطا غالب ہوئی تو اس سے احتجاج کرنا صحیح نہیں ،اسکے علاوہ وہ ارجاء (مرجیہ کی بدعت)کی طرف داعی تھا اور بدعت کی طرف دعوت دیتا تھا۔اس سے روایت کرنا بالاتفاق ناجائز ہے،جس میں ہمارے اماموں کے یہاں کوئی اختلاف نہیں ،اسکے علاوہ مسلمانوں کے اماموں اور دیندار افراد نے ہر ایک ملک میں اس پر جرح کی ہے اور ایک ایک جرح اس پر وارد ہے ہم نے یہ جرح اپنی کتاب “ التَّنْبِيه على التمويه “میں بیان کی ہے۔اس وجہ سے اس بیان کو ہم دوبارہ دہرانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے تاہم پھر بھی چند ایک اقوال نقل کئے دیتے ہیں
http://shiaonlinelibrary.com/%D8%A7%D9%84%D9%83%D8%AA%D8%A8/3103_%D9%83%D8%AA%D8%A7%D8%A8-%D8%A7%D9%84%D9%85%D8%AC%D8%B1%D9%88%D8%AD%D9%8A%D9%86-%D8%A7%D8%A8%D9%86-%D8%AD%D8%A8%D8%A7%D9%86-%D8%AC-%D9%A3/%D8%A7%D9%84%D8%B5%D9%81%D8%AD%D8%A9_63
۷۔نسائی کی جرح بھی مردود ہے وہ متشدد تھا اور متشدد کی جرح کوئی معنی نہیں رکھتی،ناصبی ائمہ نے نسائی کو متشدد شمار کیا ہے،ذھبی جناب حارث علیہ الرحمہ کے حالات میں لکھتا ہے:
“وحديث الحارث في السنن الاربعة والنسائي مع تعنته في الرجال، فقد احتج به وقوى أمره”
حارث کی روایات چاروں کتابوں میں ہیں اور نسائی نے رجال میں اپنی سختی کے باوجود ان سے احتجاج کیا ہے اور ان کے معاملہ کو مضبوط کیا۔
ميزان الاعتدال
http://www.shiaonlinelibrary.com/%D8%A7%D9%84%D9%83%D8%AA%D8%A8/3306_%D9%85%D9%8A%D8%B2%D8%A7%D9%86-%D8%A7%D9%84%D8%A7%D8%B9%D8%AA%D8%AF%D8%A7%D9%84-%D8%A7%D9%84%D8%B0%D9%87%D8%A8%D9%8A-%D8%AC-%D9%A1/%D8%A7%D9%84%D8%B5%D9%81%D8%AD%D8%A9_438
نسائی نے تو ابوحنیفہ پر بھی جرح کی ہے،اس کو اپنی کتاب “ الضعفاء والمتروکین “میں شمار کیا ہے،لکھتا ہے:
586 – نعْمَان بن ثَابت أَبُو حنيفَة لَيْسَ بِالْقَوِيّ فِي الحَدِيث كُوفِي
وہ حدیث میں قوی نہیں تھا۔
الضعفاء والمتروکین
کیا ناصبی نسائی کی اس جرح کو قبول اور تسلیم کرے گا؟
۸:جریر بن عبدالحمید نے فقط اتنا کہا کہ وہ خلافت کی ابتداء میں کہتا تھا کہ”میں حاضر ہوں بنی امیہ کو ہلاک کرنے والے جیسا کہ ابن سعد و ابن عدی نے نقل کیا ہے:
وَكَانَ سَالِمٌ يَتَشَيَّعُ تَشَيُّعًا شَدِيدًا. فَلَمَّا كَانَتْ دَوْلَةُ بَنِي هَاشِمٍ حَجَّ دَاوُدُ بْنُ عَلِيٍّ تِلْكَ السَّنَةَ بِالنَّاسِ. وَهِيَ سَنَةُ اثْنَتَيْنِ وَثَلاثِينَ وَمِائَةٍ. وَحَجَّ سَالِمُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ تِلْكَ السَّنَةَ. فَدَخَلَ مَكَّةَ وَهُوَ يُلَبِّي يَقُولُ: لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ مُهْلِكَ بَنِي أُمَيَّةَ لَبَّيْكَ
قتیبہ نے محمد بن فضیل سے ،اس نے سالم بن ابی حفصہ ،اعمش،عبداللہ بن صبہان،ابن ابی لیلی و کثیر نواء سے انہوں نے عطیہ سے ،انہوں نے ابوسعید خزری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:بلند درجات والوں کو (جنت میں) جو انکے نیچے ہونگے ،ایسے ہی دیکھینگے جیسے تم آسمان کے افق پر طلوع ہونے والے ستارے کو دیکھتے ہو اور ابوبکر و عمر دونوں انہیں میں سے ہونگے اور کیا ہی خوب ہیں دونوں
سنن ترمذي
https://al-maktaba.org/book/782/3658
سالم نے اسی پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ ائمہ اہلبیت علیہم السلام کی طرف جھوٹ منسوب کیا اور ان کی زبانی ابوبکر و عمر کی تعریف ذکر کی ہے:
عبداللہ بن احمد نے سالم سے روایت کیا ہے:
176 – حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ قثنا سَالِمٌ، يَعْنِي: ابْنَ أَبِي حَفْصَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا جَعْفَرٍ وَجَعْفَرًا عَنْ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، فَقَالَا لِي: يَا سَالِمُ، تَوَلَّهُمَا وَابْرَأْ مِنْ عَدُوِّهِمَا، فَإِنَّهُمَا كَانَا إِمَامَيْ هُدًى، قَالَ: وَقَالَ لِي جَعْفَرٌ: يَا سَالِمُ، أَبُو بَكْرٍ جَدِّي، أَيَسُبُّ الرَّجُلُ جَدَّهُ؟ قَالَ: وَقَالَ: لَا نَالَتْنِي شَفَاعَةُ مُحَمَّدٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنْ لَمْ أَكُنْ أَتَوَلَّاهُمَا وَأَبْرَأُ مِنْ عَدُوِّهِمَا.
عبداللہ نے اپنے باپ احمد بن حنبل سے اس نے محمد بن فضیل سے اس نے سالم بن ابی حفصہ سے روایت کی اس نے کہا میں نے ابوجعفر و جعفر(علیہما السلام )سے ابوبکر و عمر کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا:ائے سالم ان دونوں سے محبت کر اور ان کے دشمنوں سے نفرت کر کیونکہ وہ ونوں ہدایت والے امام تھے اور امام جعفر(علیہ السلام)نے فرمایا ائے سالم ابوبکر میرا نانا ہے بھلا کیا کوئی آدمی اپنے نانا کو گالیاں دیتا ہے؟نیز فرمایا :اس شخص کو روز قیامت نبی کریم صلی اللہ علیہ و(آلہ)سلم کی شفاعت نہیں مل سکتی جو ان دونوں سے محبت نہ کرتا ہو اور ان کے شمنوں سے نفرت نہ کرتا ہو۔
فضائل الصحابة
https://al-maktaba.org/book/13136/172
جبکہ ابن معین اور احمد بن حنبلس اسے فقط شیعہ کہتے تھے۔
ایک طرف تو ناصبیوں کو یہ غم کھائے جاتا ہے کہ شیعہ ابوبکر و عمر کی توہین کرتے ہیں جبکہ دوسری طرف ایسے کٹر ناصبی کو بھی غالی شیعہ کہتے ہیں۔
بھلا ابوبکر و عمر سے محبت کرنے والا غالی شیعہ کیسے ہو سکتا ہے؟
ناصبیوں کے یہاں یہ مرض پایا جاتا ہے جب وہ کسی پر جرح کرنا چاہتے ہیں تو پہلے اسکے مذہب پر حملہ کرتے ہیں اس زد میں تو ناصبی کا امام بھی آیا ہوا ہے،ابن حبان و بخاری کی ابوحنیفہ پر جرح میں ملاحظہ فرمایا کہ وہ ابوحنیفہ کو بدعتی مرجیہ میں شمار کرتے تھے۔
نیز ابو زرعہ نے ابوحنیفہ کو جہمی کہا:
سمعت أبا زرعة يقول: “كان أبو حنيفة جهميا، وكان محمد بن الحسن جهمياً، وكان أبو يوسف جهمياً بين التجهم”
سؤالات البرذعي المطبوعة (1|570) / أرشيف ملتقى أهل الحديث
http://www.islamport.com/b/4/aammah/%DF%CA%C8%20%DA%C7%E3%C9/%C3%D1%D4%ED%DD%20%E3%E1%CA%DE%EC%20%C3%E5%E1%20%C7%E1%CD%CF%ED%CB%204/%C3%D1%D4%ED%DD%20%E3%E1%CA%DE%EC%20%C3%E5%E1%20%C7%E1%CD%CF%ED%CB%204%20111.html
خود گھر کے بھییدی نے لنکا ڈھا دی چنانچہ ابویوسف نے انوحنیفہ کو جہمی تسلیم کیا:
خطیب نے باسند صحیح رویت کی ہے:
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْر مُحَمَّد بن عُمَر بن بُكَيْر المُقْرِئ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عُثْمَان بن أَحْمَد بن سمعان الرَّزَّاز، قَالَ: حَدَّثَنَا هيثم بن خلف الدُّورِيّ، قَالَ: حَدَّثَنَا محمود بن غيلان، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّد بن سَعِيد، عن أَبِيهِ، قَالَ: كُنْت مَعَ أمير المؤمنين موسى بجرجان ومعنا أَبُو يُوسُف، فسألته عن أَبِي حنيفة، فَقَالَ: وما تصنع بِهِ وقد مات جهميا
سعید نے کہا میں نے ابویوسف سے ابوحنیفہ کے متعلق پوچھا ،اس نے کہا تجھے اس سے کیا مطلب وہ جہمی مرا۔
تاريخ بغداد – الخطيب البغدادي
بغدد – الخطيب البغدادي
http://islamport.com/w/trj/Web/2960/5492.htm
ہم نے اختصار سے کام لیا وگرنہ اہلسنت کی ایک بڑی جماعت نے ابوحنیفہ کو جہمی مرجئی کہا ہے،تو کیا ناصبی فقط ائمہ نواصب کے کہ دینے سے ابوحنیفہ کو جہمی تسلیم کرے گا؟اگر نہیں تو پھر سالم ابوبکر و عمر سے محبت ے بعد بھی شیعہ غالی کیسے ہو سکتا ہے۔
پس یہ ایک تہمت کے سوا کچھ نہیں۔
سالم کی توثیق احمد بن حنبل،یحیی بن معین،عجلی،ابوحاتم،ابن عدی،ترمذی،طحاوی،حاکم نیشاپوری،ذھبی اور ابن حجر نے کی ہے۔
احناف کے یہاں یہ اصول ہے کہ اگر یحیی بن معین کسی کی توثیق کر دے تو پھر کسی کی تضعیف اسکو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔چنانچہ عینی حنفی اپنے وقت کے احناف کا سب سے بڑا محدث،ابومنیب عبداللہ بن عبداللہ پر علماء کی کی گئی جرح کے جواب میں لکھتا ہے:
“فَهَذَا ابْن معِين إِمَام هَذَا الشَّأْن وَكفى بِهِ حجَّة فِي توثيقه إِيَّاه”
اس کی وثاقت کی حجت کے لئے یہی کافی ہے کہ اسکی توثیق بلند شان والے امام ابن معین نے کی ہے۔
عمدة القاري
https://lib.efatwa.ir/43240/7/11/%D8%A5%D9%90%D8%B3%D9%92%D9%86%D9%8E%D8%A7%D8%AF%D9%87
یہ وہی ابن معین ہے جو ابوحنیفہ پر سخت اعتراض کرتا تھا،کہتا تھا کہ ابوحنیفہ کی روایت لکھنے کے قابل نہیں :
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سليمان، حَدَّثَنا ابن أبي مريم، قالَ: سَألتُ يَحْيى بْنَ مَعِين، عَن أبي حنيفة؟ قَال: لاَ يكتب حديثه.
سمعت عُمَر بْن مُحَمد أَبُو حفص الباب شامي الوكيل يَقُول: سَمعتُ جَعْفَر الطيالسي يقولُ: سَألتُ يَحْيى بْن مَعِين، عَن أَبِي حنيفة فَقَالَ أَبُو حنيفة أجل من أن يكذب.
الكامل في ضعفاء الرجال
مختصر یہ کہ احناف کے نزدیک سالم ثقہ معتبر راوی ہے طحاوی حنفی نے سالم سے روایت کی ہے اور طحاوی نے یہ شرط لگا رکھی ہے کہ اپنی کتاب میں فقط معتبر راویوں سے ہی روایت کرے گا اس کی تفصیل جناب عطیہ کے حالات میں نقل کرینگے۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو أُمَيَّةَ قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ الْعَتَكِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَشْجَعِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُلَيْلٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: ” إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ سَبْعَةَ نُجَبَاءَ مِنْ أُمَّتِهِ , وَإِنَّ لِنَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَةَ عَشَرَ نَجِيبًا مِنْهُمْ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ “
مشكل الآثار
http://islamport.com/w/fqh/Web/971/1639.htm
۳:جناب عطیہ بن جنادہ عوفی:
عطیہ پر اعتراض گویا ابوحنیفہ پر اعتراض ہے کیونکہ ابوحنیفہ جناب عطیہ کا شاگرد تھا،ان کی روایت پر فتوے دیتا تھا۔
یوں تو جناب عطیہ کی توثیق ۴۰ سے زائد ائمہ اہلسنت سے ثابت ہے مگر ہم فقط احناف سے ہی انکی توثیق ثابت کرینگے تاکہ ناصبی کی خود اپنی کتب سے ہی اسکی جہالت آشکار ہو جائے۔
۱۔طحاوی:
طحاوی نے اپنی کتاب کے مقدمہ میں اس امر کا اظہار کیا ہے کہ اس نے کتاب میں فقط سچے افراد سے احادیث لی گئی ہیں:
وَإِنِّي نَظَرْتُ فِي الْآثَارِ الْمَرْوِيَّةِ عَنْهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْأَسَانِيدِ الْمَقْبُولَةِ الَّتِي نَقَلَهَا ذَوُو التَّثَبُّتِ فِيهَا وَالْأَمَانَةِ عَلَيْهَا , وَحُسْنِ الْأَدَاءِ لَهَا
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ(و آلہ)وسلم کے ان آثار کو دیکھا جو مقبول اسناد سے جنکو اثبات،امین اور اچھے لوگوں نے روایت کیا ہے۔
مشكل الآثار للطحاوي
http://islamport.com/w/mtn/Web/1627/1.htm
اسی کتاب میں ایک حدیث نقل کی ہے جس کو ابوحنیفہ نے عطیہ سے روایت کیا ہے:
350 – كما حدثنا ابن مرزوق ، حدثنا عثمان بن عمر بن فارس ، حدثنا شعبة ، عن أبي مسلمة ، عن أبي نضرة ، عن أبي سعيد ، أن رسول الله عليه السلام قال : « من كذب علي متعمدا فليتبوأ (1) مقعده من النار » حدثنا يزيد ، حدثنا أبو قطن ، حدثنا أبو حنيفة ، عن عطية ، عن أبي سعيد ، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكر مثله . وكما حدثنا إسحاق بن إبراهيم بن يونس البغدادي أبو يعقوب ، حدثنا محمد بن قدامة المصيصي ، حدثنا أبو عبيدة الحداد ، عن همام ، عن زيد بن أسلم ، عن عطاء بن يسار ، عن أبي سعيد ، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم مثله . ومنهم أنس بن مالك
مشكل الآثار للطحاوي
http://www.islamport.com/b/3/alhadeeth/motoon/%DF%CA%C8%20%C7%E1%E3%CA%E6%E4/%E3%D4%DF%E1%20%C7%E1%C2%CB%C7%D1%20%E1%E1%D8%CD%C7%E6%ED/%E3%D4%DF%E1%20%C7%E1%C2%CB%C7%D1%20%E1%E1%D8%CD%C7%E6%ED%20004.html
۲۔سبط ابن جوزی حنفی نے عطیہ کو ثقہ کہا۔
رسول اللّه (ص) يا علي لا يحل لأحد ان يجنب في هذا المسجد غيري و غيرك.
قال الترمذي: و معناه لا يحل لأحد ان يستطرق هذا المسجد جنبا إلا أنا و أنت، فان قيل فعطية ضعيف قالوا: و الدليل على ضعف الحديث ان الترمذي قال: حدثت بهذا الحديث أو سمع مني هذا الحديث محمد بن اسماعيل يعني البخاري فاستطرفه و الجواب ان عطية العوفي قد روى عن العباس و الصحابة و كان ثقة
عطیہ عوفی ابن عباس و یگر صحابہ سے روایت کرتے تھے اور وہ ثقہ تھے۔
تزکرۃ الحفاظ
https://ar.lib.eshia.ir/86683/1/47
۳۔ملا علی قاری حنفی نے بڑی تعریف کی ہے:
– ذكر إسناده عن عطية بن سعد العوفي
ذكر إسناده عن عطية بن سعد العوفي، وهو من أجلاء التابعين.
عطیہ بن سعد العوفی ،وہ جلیل القدر تابعین میں سے تھے۔
كتاب شرح مسند أبي حنيفة
https://al-maktaba.org/book/33874/309
احناف کے ائمہ نے عطیہ کی روایات پر فتوے دئے ہیں:
طحاوی نے عطیہ سے ایک حدیث نقل کر کے کہا محمد بن حسن اور ابویوسف اسی سمت گئے(اسی پر فتوی دیا)۔
عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: ” إِذَا خَرَجَ الرَّجُلُ مُحَارِبًا فَأَخَافَ السَّبِيلَ , وَأَخَذَ الْمَالَ , قُطِعَتْ يَدُهُ وَرِجْلُهُ مِنْ خِلَافٍ , وَإِنْ هُوَ أَخَذَ الْمَالَ وَقَتَلَ , قُطِعَتْ يَدُهُ وَرِجْلُهُ مِنْ خِلَافٍ وَصُلِبَ , وَإِنْ هُوَ قَتَلَ , وَلَمْ يَأْخُذِ الْمَالَ قُتِلَ , وَإِنْ هُوَ أَخَافَ السَّبِيلَ وَلَمْ يَأْخُذِ الْمَالَ نُفِيَ ” [ص:56] وَإِلَى هَذَا الْقَوْلِ كَانَ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ , وَأَبُو يُوسُفَ يَذْهَبَانِ
شرح مشكل الآثار
https://al-maktaba.org/book/22547/1851
ابن عبدالبر نے عطیہ سے مروی ایک روایت کے متعلق کہا اس کو ابوحنیفہ اور اس کے اصحاب نے حجت تسلیم کیا۔
وأما أبو حنيفة وأصحابه فلا يجوز عندهم شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ فِي الطَّعَامِ وَلَا فِي غَيْرِهِ مِنَ الْعُرُوضِ كُلِّهَا
وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ قَالَا بَيْعُ السَّلَمِ مِنْ بَائِعِهِ وَمِنْ غَيْرِهِ قَبْلَ قَبْضِهِ فَاسِدَةٌ
وَحُجَّتُهُمْ حَدِيثُ عَطِيَّةَ الْكُوفِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ((من سَلَّفَ فِي شَيْءٍ فَلَا يَصْرِفْهُ إِلَى غَيْرِهِ))
كتاب الاستذکار
http://islamilimleri.com/Kulliyat/Hadis/HadisSerhleri/pg_011_0033.htm
۴:سرخسی حنفی نے ابو حنیفہ کی عطیہ سے مروی ایک حدیث کو نقل کر کے کہا کہ یہ حدیث مشہور ہے اور اس کو علماء نے قبول کیا ہے اور اس پر عمل کیا ہے:
بَدَأَ الْكِتَابَ بِحَدِيثٍ رَوَاهُ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ – رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ – عَنْ رَسُولِ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – قَالَ: «الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ مِثْلًا بِمِثْلٍ يَدًا بِيَدٍ، وَالْفَضْلُ رِبًا. وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ مِثْلًا بِمِثْلٍ يَدًا بِيَدٍ، وَالْفَضْلُ رِبًا. وَالْحِنْطَةُ بِالْحِنْطَةِ مِثْلًا بِمِثْلٍ يَدًا بِيَدٍ، وَالْفَضْلُ رِبًا. وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ مِثْلًا بِمِثْلٍ يَدًا بِيَدٍ، وَالْفَضْلُ رِبًا. وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ مِثْلًا بِمِثْلٍ يَدًا بِيَدٍ، وَالْفَضْلُ رِبًا. وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ مِثْلًا بِمِثْلٍ يَدًا بِيَدٍ، وَالْفَضْلُ رِبًا.» وَهَذَا حَدِيثٌ مَشْهُورٌ تَلَقَّتْهُ الْعُلَمَاءُ رَحِمَهُمْ اللَّهُ تَعَالَى بِالْقَبُولِ وَالْعَمَلِ بِهِ.
المبسوط للسرخسي
https://lib.efatwa.ir/43796/12/110
نووی نے عطیہ سے مروی حدیث کے متعلق کہا کہ اس سے ابوحنیفہ نے احتجاج کیا ہے:
وَقَالَ أَبُو حَنِيفَةَ وَدَاوُد يَقُومُ غَيْرَ مُعْتَمِدٍ بِيَدَيْهِ عَلَى الْأَرْضِ بَلْ يَعْتَمِدُ صُدُورَ قَدَمَيْهِ وَهَذَا مَذْهَبُ ابْنِ مسعود وحكاه بن الْمُنْذِرِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَالنَّخَعِيِّ وَالثَّوْرِيِّ وَاحْتَجَّ لَهُمْ بِحَدِيثِ أَبِي شَيْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ الله تعالى عَنْهُ قَالَ ” مِنْ السُّنَّةِ إذَا نَهَضَ الرَّجُلُ فِي الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ مِنْ الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ
أَنْ لَا يَعْتَمِدَ بِيَدَيْهِ عَلَى الْأَرْضِ إلَّا أَنْ يَكُونَ شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَسْتَطِيعُ ” رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ وعن خالد بن الياس ويقال بن يَاسٍ عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى (1) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ ” كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلي الله
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَضُ فِي الصَّلَاةِ عَلَى صُدُورِ قدميه ” رواه الترمذي والبيهقي وعن ابن عمران النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ” نَهَى أَنْ يَعْتَمِدَ الرَّجُلُ عَلَى يَدَيْهِ إذَا نَهَضَ فِي الصَّلَاةِ ” رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَعَنْ وَائِلِ بْن حُجْرٍ فِي صِفَةِ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ” وَإِذَا نَهَضَ نَهَضَ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَاعْتَمَدَ عَلَى فَخِذِهِ ” رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّهُ رَأَى ابن مسعود يقوم علي صدور قَدَمَيْهِ فِي الصَّلَاةِ ” رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ وَقَالَ هَذَا صَحِيحٌ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ وَعَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ قال ” رأيت بن عُمَرَ وَابْنَ عَبَّاسٍ وَابْنَ الزُّبَيْرِ وَأَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ يَقُومُونَ عَلَى صُدُورِ أَقْدَامِهِمْ فِي الصَّلَاةِ
المجموع في شرح المهذب
http://islamport.com/w/shf/Web/1219/1581.htm
نیر لکھا ہے کہ ابوسعید خذری کی حدیث عبادہ کی حدیث کے بعد اس باب میں مکمل اور بہترین ہے اور اس کی صحت متفق ہے اس کو ابوحنیفہ نے عطیہ سے روایت کیا اور اس پر اعتماد کیا ہے:
(وَأَمَّا) حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فَهُوَ أَتَمُّهَا وَأَحْسَنُهَا بَعْدَ حَدِيثِ عُبَادَةَ لَا سِيَّمَا وَهُوَ الْمَنَاظِرُ لِابْنِ عَبَّاسٍ فِي ذَلِكَ وَهُوَ فِي أَصْلِهِ مُتَّفَقٌ عَلَى صِحَّتِهِ وَقَدْ اعْتَمَدَ عَلَيْهِ أَبُو حَنِيفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَإِنَّهُ رَوَاهُ عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ
المجموع في شرح المهذب
http://islamport.com/d/2/shf/1/13/668.html
۵:ابن ہمام حنفی نے عطیہ کی حدیث سے احتجاج کیا اور اسے حسن تسلیم کیا:
(قَوْلُهُ فَإِنْ تَقَايَلَا السَّلَمَ لَمْ يَكُنْ لَهُ) أَيْ لِرَبِّ السَّلَمِ (أَنْ يَشْتَرِي مِنْ الْمُسْلَمِ إلَيْهِ بِرَأْسِ الْمَالِ شَيْئًا حَتَّى يَقْبِضَهُ كُلَّهُ لِقَوْلِهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – «لَا تَأْخُذْ إلَّا سَلَمَك أَوْ رَأْسَ مَالِكَ» ) أَخْرَجَ أَبُو دَاوُد وَابْنُ مَاجَهْ مَعْنَاهُ عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدِ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – «مَنْ أَسْلَمَ فِي شَيْءٍ فَلَا يَصْرِفْهُ إلَى غَيْرِهِ» وَهَذَا يَقْتَضِي أَنْ لَا يَأْخُذَ إلَّا هُوَ. وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَحَسَّنَهُ وَقَالَ: لَا أَعْرِفَهُ مَرْفُوعًا إلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
فتح القدير للكمال ابن الهمام
http://books.islam-db.com/book/%D9%81%D8%AA%D8%AD_%D8%A7%D9%84%D9%82%D8%AF%D9%8A%D8%B1_%D9%84%D9%84%D9%83%D9%85%D8%A7%D9%84_%D8%A7%D8%A8%D9%86_%D8%A7%D9%84%D9%87%D9%85%D8%A7%D9%85/3196
حنفیوں ے نزدیک عطیہ کی عظمت و جلالت مسلم ہے یہاں تک کہ وہ ابوحنیفہ کے استاد ہیں اور ابوحنیفہ،ابویوسف،محمد بن حسن وغیرہ نے ان کی احادیث کو قبول کیا اور ان پر فتوے دئے ہیں جبکہ ان احادیث کو عطیہ نے ابوسعید سے “عن”کے صیغہ سے روایت کیا،سماعت کی تصریح نہیں کی،اگر عطیہ ان سب کے نزدیک مدلس ہوتے تو وہ ان کی”عن” والی روایات پر فتوی دیتے؟
عطیہ پر تدلیس کا الزام کلبی نے لگایا اور کلبی خود کذاب ہے،تو کیا کذاب کے قول پر اعتماد کیا جا سکتا ہے؟
اس کے علاوہ کسی بھی معتبر طریقہ سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ مدلس تھے۔
اب ناصبی سے بہت آسان سوال کرتے ہیں:
عطیہ کے معاملہ میں احناف حق پر ہیں یا تو حق پر ہے؟