Recommended articles
تاریخ شبھات کا رد
شبھۃ تحریف قرآن کے متعلق فحرفوھا او حرفا
June 10, 2026
0
0
تاریخ
آیۃ مباھلہ حصہ 6
June 10, 2026
0
0
تاریخ
آیۃ مباھلہ حصہ 5
June 10, 2026
0
0
تاریخ
آیۃ مباھلہ حصہ 4
June 10, 2026
0
0
Momin Taaq
  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
    • For Youth & Seekers
  • Privacy Policy
    • Terms and conditions
  • Contact Us
الإمام علي بن أبي طالب عليه السلام

سلسلہ حدیث غدیر از منابع و طرق شیعہ ،روایت # 2

June 3, 2026
0
0

سلسلہ حدیث غدیر از منابع و طرق شیعہ ،روایت # 2
*التماس سورہ فاتحہ صفدر حسین اعوان بن غلام محمد رحمھما اللہ
*
بسند صحیح روایت ہے کہ ابو بصیر نے امام صادق ؑسے الله کے فرمان کے بارے میں پوچھا: “أَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ “اطاعت کرو الله کی اور اطاعت کرو اس کے رسول کی اور تم میں سے صاحبان امر کی۔” امام ؑنے فرمایا: یہ علی بن ابی طالب اور حسن و حسین علیہم السلام کے متعلق نازل ہوئی تھی۔ تو میں نے ان سے کہا: بیشک لوگ کہتے ہیں کہ کیا وجہ ہے کہ علی اور ان کے اہل بیت علیہم السلام کا نام نہیں لیا گیا کتاب الله میں؟ تو امام ؑنے فرمایا: ان سے کہو: بیشک رسول الله ﷺ پر نماز (کا حکم) نازل ہوا اور الله نے ان کیلئے نہیں نام لیا کہ وہ (رکعات) تین ہیں یا چار، حتی کہ رسول الله ﷺ نے ان کیلئیے اس کی تفسیر کی (کہ کتنی رکعات ہیں)۔ اور ان پر زکات (کا حکم) نازل ہوا اور ان کیلئے نہیں نام لیا گیا کہ چالیس درہم میں سے ایک درہم لیا جائے گا حتی کہ رسول الله ﷺ نے ان کیلئیے اس کی تفسیر کی ۔ اور حج (کا حکم) نازل ہوا اور اس نے نہیں کہا ان سے کہ سات مرتبہ طواف کرو حتی کہ رسول الله ﷺ نے ان کیلئیے اس کی تفسیر کی ۔ اور جب “أَطِيعُوا الله وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الامْرِ مِنْكُمْ “کی آیت نازل ہوئی تو وہ علی اور حسن و حسین علیہم السلام کیلئے نازل ہوئی۔ رسول الله ﷺ نے علی ؑکے متعلق فرمایا: جس کا میں مولا ہوں اس کے علی ؑمولا ہے۔ اور آنحضرت ﷺ نے فرمایا تھا: میں تمہیں کتاب الله اور اپنے اہل بیت علیہم السلام کی وصیت کرتا ہوں، کیونکہ میں نے الله سے سوال کیا ہے کہ وہ ان دونوں کو جدا نہ کرے حتی کہ وہ دونوں میرے پاس حوض (کوثر) تک پہنچ جائیں، تو اس نے مجھے وہ عطاء کردیا۔ اور آپ ﷺ نے فرمایا تھا: ان (اہل بیت) کو مت سکھاؤ کیونکہ وہ تم سے زیادہ علم والے ہیں۔ اور فرمایا تھا: بیشک وہ تمہیں ہدایت کے دروازے سے نہیں نکالیں گے اور تمہیں گمراہی کے دروازے میں نہیں داخل کریں گے۔ تو اگر رسول الله ﷺ خاموش رہتے تو واضح نہ ہوتا کہ ان کے اہل بیت کون ہیں۔ اور آل فلاں اور آل فلاں اس کادعوی کرتے ۔ لیکن الله نے اپنی کتاب میں اپنے نبی کیلئے تصدیق نازل کی ہے:” إِنَّما يُرِيدُ الله لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيراً”اللہ تو صرف چاہتا ہے کہ آپ سے ناپاکی دور رکھے اے اہل بیت اور آپ کو خوب پاک کردے۔” تو وہ علی ہیں اور حسن اور حسین اور فاطمہ علیہم السلام ہیں۔ رسول الله ﷺ نے ان کو کساء میں داخل کیا ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں، پھر فرمایا: اے الله، ہر نبی کے اہل اور ثقل ہیں، اور یہ میرے اہل بیت اور میرے ثقل ہیں۔ تو ام سلمہ نے فرمایا: کیا میں آپ کے اہل میں سے نہیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: بیشک آپ خیر پر ہیں لیکن یہ میرے اہل بیت اور میری گرانقدر چیز ہیں۔ پس جب رسول اللہ ﷺ دنیا سے پردہ فرما گئے تو علی ؑلوگوں پر سب سے زیادہ حقدار تھے اسکے سبب جو کثرت سے رسول اللہ ﷺ نے انکے متعلق پہچایا تھا اور لوگوں کیلئے ان کو قائم کیا تھا اور ان کا ہاتھ پکڑا تھا۔ پس جب امام علی ؑوفات پا گئے تو وہ یہ نہ کر سکے کہ محمد بن علی اور عباس بن علی کو اس میں داخل کریں یا اپنی اولاد میں سے کسی کو بھی کہ حسن اور حسین ﷦کہتے: اللہ تبارک و تعالی نے ہمارے بارے میں وہی نازل کیا ہے جو آپ کے بارے میں نازل کیا ہے، تو اس نے ہماری اطاعت کا حکم دیا ہے جیسے اس نے آپ کی اطاعت کا دیا تھا اور رسول اللہ ﷺ نے ہمارے بارے میں وہی بات پہنچائی ہے جو آپکے بارے میں پہنچائی تھی اور ہم سے بھی ناپاکی دور رکھی ہے جیسے اس نے آپ سے دور رکھی، تو جب امام علی ؑوفات پا گئے تو امام حسن ؑاولویت رکھتے تھے کیونکہ وہ بڑے تھے۔ تو جب وہ وفات پا گئے تو اپنی أولاد کو اس میں داخل نہ کر سکے اور یہ نہ کر سکے کیونکہ اللہ عز و جل کا فرمان ہے:” وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَىٰ بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللَّـهِ “اور رشتہ داری والے اللہ کی کتاب میں ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں۔” تو اگر وہ اس کو اپنی اولاد میں قرار دیتے تو امام حسین ؑفرماتے: اللہ نے میری اطاعت کا حکم دیا ہے جیسے اس نے آپ کی اطاعت کا اور آپ کے والد کی اطاعت کا حکم دیا تھا، اور رسول اللہ ﷺ نے میرے بارے میں وہی پہنچایا ہے جو اس نے آپ کے اور آپ کے والد کے بارے میں پہنچایا تھا، اور اللہ نے مجھ سے ناپاکی ویسے ہی دور رکھی ہے جیسے اس نے آپ اور آپ کے والد سے رکھی ہے۔ پس جب ولایت امام حسین ؑتک پہنچی تو ان کے گھرانے میں سے کوئی نہیں تھا جو ان کے خلاف دعوی کرتا جیسا کہ وہ اپنے بھائی اور والد پر کر سکتے تھے، اگر وہ دونوں (امام علی اور امام حسن ﷦) یہ چاہتے کہ ان سے یہ معاملہ دور رکھیں، اگرچہ انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ پھر یہ ولایت امام حسین ؑ تک پہنچی تو اس آیت کی تاویل جاری ہوئی:” وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَىٰ بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللَّـهِ “اور رشتہ داری والے اللہ کی کتاب میں ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں۔” پھر امام حسین ؑکے بعد یہ امام علی بن حسین ؑکو پہنچی، پھر امام علی بن حسین ؑکے بعد یہ محمد بن علی ؑتک پہنچی۔ اور انہوں نے فرمایا: رجس سے مراد شک ہے، خدا کی قسم ہم نے کبھی بھی اپنے رب میں شک نہیں کیا۔

: 1: الکافی ۔ جلد 1، کتاب الحجۃ ، باب (ما نص الله عز وجل ورسوله على الأئمة عليهم السلام واحدا فواحدا)،۔ حدیث 1، صفحہ 286
2: شرح أصول الكافي للمولی محمد صالح المازندرانی رح ، جلد 6 ، صفحہ 109
3: التفسیر الصافی للشیخ الفیض الکاشانی رح ، جلد 1، صفحہ 462، 463
4: التفسیر نور الثقلین للشیخ عبد علي بن جمعة العروسي الحويزي ، جلد 1 ، رقم 343 ، صفحہ 502، 503
5: غایة المرام للسید ہاشم البحرانی رح ، جلد 3، باب التاسع والخمسون ، حدیث 3، صفحہ 109 ، و جلد 3 ، المقصد الثاني في وصف الإمام بالنص وفضائله ، باب الثاني ، حدیث 2 ، صفحہ 193 ، 194
6: جامع أحاديث الشيعة للشیخ اسماٰعیل المعزي الملایري رح ، حدیث 287 ، صفحہ 186
7: تفسير كنز الدقائق للمفسرالميرزا محمد المشهدي ، جلد 2 ، سورۃ النساء ، آیت 57۔65 ، صفحہ 497 ، 498
8: دراسات في الحديث والمحدثين ،هاشم معروف الحسني ، صفحہ 311
9: رسالة مختصرة في النصوص الصحيحة على إمامة الأئمة الاثني عشر عليهم السلام ، للشیخ المیرزا الجواد التبریز ، صفحہ 4
10: الإمام الحسين ع في أحاديث الفريقين من قبل الولادة إلى بعد الشهادة للسيد علي الموحد الأبطحي الأصفهاني رح ، جلد 2، صفحہ 435 ، 436
11: مراۃ العقول فی شرح آل رسول ع للشیخ باقر مجلسی رح ، جلد 3 ، صفحہ 213
12: القرآن والعقيدة أو آيات العقائد للسيد مسلم نجل حمود الحسيني الحلي النجفي ، باب کلام الشيخ جعفر کشف الغطاء ، في كتابه الشهير المسمى ، صفحہ 88 ، 89

سلسلہ حدیث غدیر روایت # 3
التماس سورہ فاتحہ صفدر حسین اعوان بن غلام محمد رحمھما اللہ

عبد الحمید بن دیلم سے ، انہوں نےامام صادق ؑسے نقل کیا اور امام علیہ السلام نے فرمایا: ۔۔۔ اور وہ(رسالتمآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم( اپنے وصی کی فضیلت ان کو بتاتے رہے یہاں تک کہ یہ سورہ نازل ہوئی، تو انہوں نے ان پر استدلال کیا جب ان کو اپنی موت کا پتا چلا اور ان کی وفات کا وقت ہوا، تو اللہ جل ذکرہ نے کہا:” فإذا فرغت فانصب وإلى ربك فارغب “جب آپ فارغ ہوں تو نصب کریں، اور اپنے رب کی طرف راغب ہوئیں۔” خدا کہتا ہے: جب فارغ ہوں تو اپنا پرچم نصب کریں اور اپنے وصی کا اعلان کریں اور لوگوں کو اعلانیہ طور پر ان کی فضیلت بتائیں۔ تو نبی ﷺ نے فرمایا: جس کا میں مولا ہوں اس کے علی ؑمولا ہیں۔ خدایا، اس کو دوست رکھ جو ان کو دوست رکھے اور اس سے دشمنی کر جو ان سے دشمنی کرے، یہ انہوں نے تین مرتبہ فرمایا، پھر فرمایا: میں ایسے بندے کو بھیجوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور جس سے اللہ اور اس کا رسول محبت کرتے ہیں، جو فرار ہونے والا نہیں ہے جو واپس آنے والوں کو ملامت کرے اور اپنے ساتھیوں کو بزدل کہے اور وہ اس کو بزدل کہیں۔ اور نبی ﷺ نے فرمایا: علی مؤمنین کے سردار ہیں، اور فرمایا: علی ؑدین کا ستون ہیں، اور فرمایا: یہ ہیں جو لوگوں کو میرے بعد حق کی خاطر تلوار سے ماریں گے۔ اور فرمایا: حق علی ؑکے ساتھ ہے جہاں بھی وہ رخ کریں گے۔

حدیث کے آخر میں دوبارہ اس کا ذکر کیا:
پس جب رسول اللہ ﷺ حجۃ الوداع سے لوٹے تو ان پر جبرئیل ؑنازل ہوئے اور فرمایا:” أيها الرسول بلغ ما انزل إليك من ربك وإن لم تفعل فما بلغت رسالته والله يعصمك من الناس إن الله لا يهدي القوم الكافرين “اے رسول! وہ پہنچا دیجئے جو آپ کی طرف آپ کے رب نے نازل کیا ہے اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ نے اس کے پیغام کو نہیں پہنچایا، اور اللہ آپ کو لوگوں سے بچائے گا، بیشک اللہ کافر لوگوں کی ہدایت نہیں کرتا۔”
تو آپ ﷺ نے لوگوں کو پکارا اور وہ جمع ہوئے، پھر ببول کے درختوں کے متعلق حکم دیا کہ ان کے کانٹوں کو جھاڑو سے سمیٹا جائے، پھر آنحضرت ﷺ نے فرمایا: اے لوگوں! تمہارا ولی کون ہے اور تمہاری جانوں پر تم سے زیادہ حقدار کون ہے؟ سب نے کہا: اللہ اور اس کا رسول۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: جس کا میں مولا ہوں اس کے علی ؑمولا ہیں۔ خدایا، اس کو دوست رکھ جو ان کو دوست رکھ اور اس سے دشمنی کر جو ان سے دشمنی کرے، یہ انہوں نے تین بار فرمایا، تو لوگوں کے دلوں میں نفاق پیدا ہوا، اور انہوں نے کہا: یہ تو ہرگز اللہ جل ذکرہ نے محمد ﷺ پر نازل نہیں کیا، یہ تو بس اپنے چچا کے بیٹے (امام علی ؑ) کو بلند مقام دینا چاہتے ہیں۔

: 1: الکافی ۔ جلد 1، کتاب الحجۃ ، باب (الإشارة والنص على أمير المؤمنين عليه السلام) حدیث 3، صفحہ 293۔296
2: شرح أصول الكافي للمولی محمد صالح المازندرانی رح ، جلد 6 ، صفحہ 129۔132
3: التفسیر الصافی للشیخ الفیض الکاشانی رح ، جلد 7، سورة الإنشراح ، صفحہ 509
4: التفسیر نور الثقلین للشیخ عبد علي بن جمعة العروسي الحويزي ، جلد 5 ، سورة الإنشراح ، رقم 16 ، صفحہ 605
5: غایة المرام للسید ہاشم البحرانی رح ، جلد 1، فصل فی النص علی ع ، باب السابع ، حدیث 12، صفحہ 311 ، و جلد 2 ، بنص رسول الله ( صلى الله عليه وآله ) ، باب التاسع ، حدیث 12 ، صفحہ 334۔ 336
6: جامع أحاديث الشيعة للشیخ اسماٰعیل المعزي الملایري ، حدیث 294 ، صفحہ 191۔193
7: مراۃ العقول فی شرح آل رسول ع للشیخ باقر مجلسی رح ، جلد 3 ، صفحہ 249

Add to Bookmarks

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll down to see next article
الإمام علي بن أبي طالب عليه السلام
سلسلہ حدیث غدیر روایت # 4
About Us

Momin Taaq is a global online platform dedicated to presenting authentic Shia Islamic knowledge with clarity, logic, and respect.

Follow Us
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Pinterest
Featured Lectures
شبھات کا رد
جنگ احد میں امیر المومنین علیہ السلام کہاں تھے ؟
October 2, 2025
شبھات کا رد
یہ کیوں کہا گیا کہ “دابۃ”؟ کیا اس میں امیر المؤمنین (علیہ السلام) کی توہین نہیں ہے؟
September 26, 2025
عقیدہ امامت
ہ سب سے پہلے جس نے 12 اماموں بات شروع کی وہ شیخ کلینی اور علی بن بابویہ القمی علیھما الرحمۃ
February 9, 2019
Knowledge & Research
  • Imamat & Ahl al-Bayt (AS)28
  • Youth & New Muslims1
  • آیت تطھیر و اھل البیت علیھم السلام1
  • اصحاب رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم2
  • اعتقادات5

© 2025 Momin Taaq. All Rights Reserved.

  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
    • For Youth & Seekers
  • Privacy Policy
    • Terms and conditions
  • Contact Us
  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
  • Privacy Policy
  • Contact Us
  • For Youth & Seekers
  • Terms and conditions