فاطمہ سلام اللہ ابوبکر سے راضی تھیں تحریر کی تردید

بسمہ تعالیٰ
جیسا کہ آپ سب اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ عربی ویبسائٹ پر جو عرب سلفی رد رافضیت کے نام پر تھوکتے ہیں اسکو بر صغیر کے ناصبی بڑے شوق سے چاٹ لیتے ہیں مگر وہ بھول جاتے ہیں کہ حق کا کمال یہ ہے اسکو پوشیدہ نہیں رکھا جا سکتا اور حق کا جادو دار پر بھی سر چڑھ کر بولتا ہے ۔
قضیہ فدک ایک ایسا قصہ ہے جس نے ناصبیوں کی نیند حرام کر دی اور اکثر اہلسنت جنہوں نے تشیع کو اپنایا اس میں قضیہ فدک بنیادی سبب ہے ۔
ناصبیوں کی ویبسائٹ پر ایک تحریر دیکھی جسکا عنوان تھا (حضرت فاطمہ سلام اللہ ابوبکر سے راضی تھیں)۔
اسی کے ذیل میں کچھ رد رافضیت نام کی پڑیا اسکین کی شکل میں موجود تھی جسکی تردید ہم یہان کرینگے۔

دوری برصغیر کی الآسکا سے ہے کیونکہ عنوان یہ ہے “فاطمہ سلام اللہ علہھا ابوبکر سے راضی تھیں”افسوس ناصبیوں نے یہاں بھی خیانت سے کام لیا اور پوری بات نقل نہیں کی رسول (ص) نے صرف بیماری کی خبر نہیں دی تھی بلکہ آپ سلام اللہ علیھا پر ڈھائے جانے والے مظالم کی بھی اطلاع دی تھی۔دوسری بات فرعون کی زوجیت میں رہتے ہوئے بھی جناب آسیہ جناب آسیہ تھیں اور فرعون فرعون تھا ،ایک جنت کی بہترین عورتوں میں سے دوسرا بدترین کافر قرآن اور ھدیث نبوی کی روشنی میں ہر انسان اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہوتا ہے،جسکی دوسری مثال جناب نوح علیہ السلام اور انکا بیٹا،یعنی جب نسبی رشتہ دار اپنے اعمال کے خود ذمہ دار ہوتے ہیں تو سببی بدرجہ اولیٰ ہوتے ہیں ۔بیوی کی تیمارداری ابوبکر کو اس جرم سے مبرا نہیں کر سکتی
۔دوسرا اسکین:

یہ اصل سنی کتاب ہے جس علامہ مجلسی نے اپنی کتاب بحار میں اس روایت کو نقل کیا ہے. ان دونوں کی سند ایک ہے.
“وروى أيضا عن الجوهري عن أبي بكر الباهلي عن إسماعيل بن مجالد عن الشعبي قال: قال أبو بكر“:اس حدیث کے بعد علامہ مجلسی کہتے ہیں :
قال ابن أبي الحديد بعد ايراد تلك الأخبار والصحيح عندي أنها ماتت وهي واجدة على أبي بكر وعمر وأنها أوصت أن لا يصليا عليهاعلامہ مجلسی یہاں کی رہے ہیں کہ یہ روایت ابن ابی الحدید نے اپنی کتاب میں نقل کی ہے لیکن میرے نزدیک صحیح یہ ہے کہ نے شک وہ سلام اللہ علیہا دنیا سے چلی گئیں اس حالت میں کہ وہ ابوبکر اور عمر پر غضبناک تھیں اور انہوں نے یہ وصیت کی تھی کہ وہ دونوں میرے نماز جنازہ میں شامل نا ہوں..
http://shiaonlinelibrary.com/%D8%A7%D9%84%D9%83%D8%AA%D8%A8/1459_%D8%A8%D8%AD%D8%A7%D8%B1-%D8%A7%D9%84%D8%A3%D9%86%D9%88%D8%A7%D8%B1-%D8%A7%D9%84%D8%B9%D9%84%D8%A7%D9%85%D8%A9-%D8%A7%D9%84%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3%D9%8A-%D8%AC-%D9%A2%D9%A8/%D8%A7%D9%84%D8%B5%D9%81%D8%AD%D8%A9_318
ابن ابی الحدید المعتزلی سنی تھا:۔
شائد سب سے پہلے ابن ابی الحدید پر تشیع کے بہتان کا باب کھولنے والا شخص ابن کثیر ہے.http://islamport.com/w/tkh/Web/927/5083.htmابن کثیر کا یہ قول کچھ وجوہات کی بنیاد پر مردود ہے جس میں سب سے بڑی وجہ یہ ہے اس نے دعوے کی کوی دلیل نہیں دی ہے.بنیادی وجہ ابن ابی الحدید نے شیعہ ہونے کی یہ بتائ جاتی ہے کہ کا تعلق ابن العلقمی شیعہ سے زیادہ تھا اور وہ اسکی صحبت میں زیادہ رہتا تھا .بھلا شیعہ سے کسی کا تعلق ہونا یا شیعہ کی صحبت میں ہونا کب سے اس انسان کے تشیع کی دلیل بننے لگا بات کچھ سمجھ نہیں آئ… اگر یہ دلیل ہے تو یہی دلیل ابن العلقمی کے سنی ہونے پر دلالت کرتی ہے کیونکہ اسکے تعلقات خلفاء بنی عباس سے بہت اچھے تھے..اور ذھبی جو اس علم میں ابن کثیر سے زیادہ تھا اعتراف کرتا ہے کہ وہ معتزلی تھا.انسان اپنے بارے میں دوسرے سے بہتر جانتا ہے اس لئے کسی کی معرفت کا بہترین طریقہ اس کی بحث اور تحریر کو ملاحظہ کرنے سے ہوتا ہے

ابن ابی الحدید اپنی کتاب میں کہتا ہے کہ “شیعہ یہ گمان کرتے ہیں کہ حیات رسول میں علی ابن ابیطالب ع کو امیرالمومنین کہ کر خطاب کیا گیا ہے لیکن اخبار محدثین میں یہ ثابت نہیں ہے “۔
دوسری جگہ کہتا ہے کہ شیعہ دعوہ کرتے ہیں “کہ علی ابن ابی طالب نبی ص کے بعد انکے وصی ہیں ،ہمارے علماء اس بات کا انکار نہیں کرے ہیں لیکن وہ یہ کہتے ہیں ہیں کہ یہاں وضی سے مراد خلافت نہیں ہے”۔ بھلا کون سا انوکھا شیعہ ایسا ہے جو اس بات کا انکار کرے کہ حضرت علی ع واقعہ غدیر کے بعد مومنین کے امیر قرار نہیں پائے یا حضرت علی ع کو اپنا وصی بنانے سے مراد خلافت نہیں

اگلے ہی صفحہ پر ابن ابی الحدید کہتا ہے کہ ابوبکر کی بیعت شرعی اعتبار سے صحیح تھی ۔یہ ناصبی کتنے گمراہ ہیں اور کس طرح اپنے لوگوں کو بے وقوف بناتے ہیں اس کی مچال آپ کے سامنے موجود ہے

یہاں ابن ابی الحدید عمر کی بھی تعریف کرتا ہے اور اور کہتا ہے کہ “ہم بات کا عقیدہ رکھتے ہیں کہ عثمان اور اسکے ساتھی حق پر تھے ،اور عثمان نظلوم قتل ہوئے اور بے شک عثمان اور اسکے ساتھی (یوم الدار) حق پر تھے “۔

کتاب “اعتقاد اهل السنة” جو کہ ایک ناصبی حافظ ابوبکر السماعیلی کی لکھی ہوئی ہے،عقیدہ نمبر ۴۱ اس طرح بیان کرتا ہے:۔
رسول ص کے بعد خلافت ابوبکر ثابت ہے صحابہ کے اختیار سے ،اس کے بعد خلافت عمر استخلاف ابوبکر کے زریعہ،اس کے بعد خلافت عثمان اہل شوری اور تمام مسلمان کے اجماع پر حکم عمر پر ۔
اور اس کے بعد لکھتا ہے ھذا اصل الدین والمذھب یعنی یہ اہلسنت کا اصل دین اور مزہب ہے کویا ثابت ہوا کہ جو ابوبکر کی بیعت کو صحیح کہے عمر کے تقوی کا قصیدہ پڑھے اور عثمان کو حق پر جانے جو کہ اقرار خلافت عثمان کی طرف اشارہ ہے ،یہ اہلسنت کے اصول کی طرف اشارہ ہے اور یہ اصول ابن ابی الحدید میں موجود ہیں جو اس بات کی دلیل ہے کہ وہ سنی معتزلی تھا نا کہ شیعہ ۔
چوتھا اسکین:

اس اسکین میں ناصبیوں نے بے حیائی اور بے شرمی کی ساری حد پار کر دی ان نکموں پاس ایک ہی حربہ ہے جو روایت شیعہ کتب میں نقل ہو اہلسنت نہ کتب سے اس کو یہ ثابت کرنا کہ کیونکہ یہ روایت شیعہ نے لکھی ہے اس لئے مصنف کا یہی عقیدہ ہے ۔
یہاں بھی ان بدذات ناصبیوں نے یہی کام کیا ہے جس روایت کو علامہ بحرانی نے یہاں نقل کیا ہے اسکو ابن ابی الحدید نے اپنی کتاب میں نقل کیا تھا علامہ بحرانی نے اسی روایت کو یہاں “علی سبیل تعجب” نقل کیا ہے ابن ابی الحدید کا حوالہ دیتے ہوئے اور اس حدیث کو (و روي) کہ کر نقل کیا ہے یعنی ابن ابی الحدید نے اسکو روایت کیا ہے

یہ ناصبی اس بات کو کیسا بھول جاتے ہیں کہ خدا نے جھوٹوں پر لعنت کی ہے ،یہ ناقص العقل خود تو گمراہ ہیں ہی ساتھ میں اپنی قوم قوم کو بھی گمراہ کر رہے ہیں جھوٹ ،دھوکہ اور فریب کے ذریعہ ۔خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے ہمیں در آل محمد سے منسلک کیا اور اس کاوش کی توفیق عطا فرمائی ۔دعا یہی ہے یہ سلسلہ ایسے ہی جاری رہے ،آمین یا رب العالمین ۔
( يُرِيدُونَ أَن يُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَيَأْبَى اللَّهُ إِلَّا أَن يُتِمَّ نُورَهُ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ )
التوبة (32) At-Tawba
یہ چاہتے ہیں کہ خدا کے نور کو اپنے منہ سے (پھونک مار کر) بجھا دیں اور خدا اپنے نور کو پورا کئے بغیر رہنے کا نہیں۔ اگرچہ کافروں کو برا ہی لگے۔