کیا امام سجاد ع اپنے باپ کے قاتل کو نجات دے رہے ہیں؟
حضرت زینب{ع} کو دیا گیا جواب ہے کہ جس میں فرمایا: میں نے کہا نماز غفیلہ یزید کو نجات دے سکتی ہے، لیکن آپ فکرمند نہ ہونا، وہ کبھی اس نماز کو پڑھنے میں کامیاب نہیں ہوگا؛ یہ ایک قسم کا مبالغہ لگتا ہے، کیونکہ ایک شخص امام معصوم{ع} سے ایک درخواست کرتا ہے تاکہ اس سے اسے عفو و بخشش ہو جائے اور امام معصوم{ع} اس کی عدم توانائی کے پیش نظر، اسے ایک ایسا کام انجام دینے کو کہتا ہے کہ جسے وہ ہرگز انجام نہیں دے سکتا ہے۔ حقیقت میں اگر یزید اپنے اعمال پر پشیمان ہو چکا ہوتا، تو امام سجاد{ع} ایک ایسا کام انجام دینے کی راہنمائی فرماتے، جسے وہ انجام دے کر نجات پا سکتا۔
اس کے علاوہ ہم جانتے ہیں کہ یزید، امام حسین{ع} اور ان کے ساتھیوں کو قتل کرنے پر کبھی پشیمان نہیں ہوا بلکہ اس نے اپنے مظالم کو بعد والے سالوں کے دوران بھی واقعہ حرہ میں جاری رکھا اور امام{ع} کے لیے کوئی دلیل نہیں تھی ایک ایسے شخص کے لیے توبہ کی راہنمائی فرماتے، اور لوگوں کے سامنے بری الزمہ قرار دیتے جو اپنے مظالم کو جاری رکھےہوئے تھا۔
[1]مرحوم سید بن طاوس در کتاب فلاح السائل چندین روایت در فضل این نماز آورده است. ملاحظہ ہو: فلاح السائل، ص 244، انتشارات دفتر تبلیغات اسلامی، قم، بلا تاریخ.
[2]فاضل لنکرانی، محمد،كتاب الصلاة،ص 54، قم، 1408ھ.
[3]َ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص نِيَّةُ الْمُؤْمِنِ خَيْرٌ مِنْ عَمَلِه. رسول خدا {ص} نے فرمایا : ” مومن کی نیت اس کے اعمال سے برتر ہے۔” ملاحظہ ہو: کلینی، محمد بن یعقوب،كافي، ج2، ص 84، دار الکتب الاسلامیه، تهران، 1374ھ ش.
[4]مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، ج69، ص 216، مؤسسة الوفاء، بیروت، 1404 ھ.
بوقتِ شہادتِ حسین ع ملائکہ کا میدانِ کربلا میں نزول
[١/١٢٥٤] عيون أخبار الرضا وأمالي الصدوق: ماجيلويه عن علي عن أبيه عن الزيان بن شبيب قال: دخلت على الرضا في أول يوم من المحرم فقال لي: يا ابن شبيب أصائم أنت فقلت: لا، فقال: إن هذا اليوم هو اليوم الذي دعا فيه زكريا ربّـه فـقال:……..الخ
امام علی الرضا ع نے فرمایا ماہ محرم وہ مہینہ تھا کہ اہل جاہ—-لیت ظلم و قتا—-ل کو اس کے احترام کی خاطر اس میں حرام جانتے تھے مگر اس امت نے اس مہینے کی حرمت نہ جانی اور نہ اپنے نبی ص کی حرمت کا خیال کیا ۔ اس مہینے میں ان کی ذریت کو قت—–ل کیا ، ان کی خواتین کو ا—-سیر کیا اور ان کے مال و اسباب کو لوٹا ، خدا ہرگز ان کے اس کام کو معاف نہ کرے گا ۔ اگر تمہیں کسی چیز پر گریہ کرنا ہے تو حسین ع کے لئے گریہ کرو کہ گوسفند کی طرح ان کے سر کو کا—-ٹا گیا اور 18 بندے ان کے خاندان کے ان کے ساتھ شہید ہوئے کہ روئے زمین پر ان کے جیسا کوئی نہ تھا ۔ آسمان ہائے ہفتم و زمین نے ان کے قت—-ل ہونے پر گریہ کیا اور چار ہزار فرشتے ان کی مدد کے لئے زمین پر آئے مگر انہوں نے دیکھا کہ حسین ع قت—–ل کر دیے گئے ہیں ، وہ قبر کے نزدیک پریشان حال اور آلودہ رہیں گے یہاں تک کہ قائمِ آلِ محمد ص ظہور کریں گے اور وہ فرشتے ان کی مدد کریں گے ، ان فرشتوں کا شعار ” یا لثارات الحسین ” ہے ۔ میرے والد نے اپنے والد سے اور انہوں نے اپنے جد سے روایت کیا کہ جب حسین ع شہید ہوئے تو آسمان نے خو–ن و خاک سرخ برسائی ۔ اگر تم حسین ع ہر اتنا گریہ کرو اور تمہارے چہرے پر ظاہر ہوجایے تو جو گناہ تم نے کیا صغیرہ کبیرہ چھوٹا بڑا خدا معاف کر دے گا ۔ اگر تم چاہتے ہو کہ خدا کی زیارت کرو اور تمہارا کوئی گناہ باقی نہ رہے تو تربت حسین ع کی زیارت کرو ۔ اگر تم چاہو کی بہشت میں رسول ص کے ساتھ ساکن ہو تو قات—–لینِ حسین ع پر لع—نت کرو ۔ اگر تم چاہو کہ حسین ع کے شہید اصحاب جیسا ثواب حاصل کروں تو جب بھی ان کو یاد کرو تو یہ کہو کہ کاش میں بھی ان کا حصہ ہوتا اور فوزِ عظیم کو پہنچتا ۔اگر تو چاہو کہ ہمارے ساتھ محشور ہو تو ہمارے غم میں غمگین اور ہماری خوشی میں خوش رہو اور ہماری ولایت سے متمسک رہو ۔ اگر کوئی بندہ پتھر کو بھی دوست رکھے تو اس کے ساتھ محشور ہوگا ۔