Recommended articles
تاریخ
انھدام جنت البقیع
April 15, 2026
0
0
Imamat & Ahl al-Bayt (AS) الإمام جعفر بن محمد الصادق عليه السلام
کیا آئمہ اہلِ سنت، امام جعفر صادق علیہ السلام کے شاگرد رہے ہیں ؟
April 15, 2026
0
0
Imamat & Ahl al-Bayt (AS) الإمام علي بن أبي طالب عليه السلام
سلف میں سے بہت سوں کا یہ عقیدہ تھا کہ امیرالمومنین علیہ السلام ابوبکر سے افضل ہیں..شیخ البانی کا اعتراف
April 14, 2026
0
0
شبھات کا رد
شیعوں کے یہاں عورتوں کو سورہ یوسف کی تعلیم دینا منع ہے.
April 14, 2026
0
0
Momin Taaq
  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
    • For Youth & Seekers
  • Privacy Policy
    • Terms and conditions
  • Contact Us
تاریخ

انھدام جنت البقیع

April 15, 2026
0
0

بسم الله الرحمن الرحیم
الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على سيدنا محمد وآله الطيبين الطاهرين ولعنة الله على أعدائهم أجمعين

صحیح مسلم کی ایک جھوٹی روایت اور ناصبیوں کا فتنہ

تحریر: سید ابو ہشام نجفی ۔
8 شوال سنہ 1345 ہجری مطابق 21 اپریل 1926 عیسوی کو الله سبحانہ تعالی و اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بدترین دشمن آل سعود نے قبرستان جنت البقیع میں اہل بیت علیہم السلام اور صحابہ و صالحین کے مزارات کو منہدم کیا تھا اور اس پر ان کی دلیل ایک جھوٹی روایت تھی جس پر ان کا باطل دین ٹکا ہوا ہے جسکو ان کے ہمنوا نواصب آج بھی بڑے آب و تاب سے بیان کرتے ہیں اور اس کے سبب مسلمانوں کی تکفیر کرتے ہیں ۔

مسلم نے ابو الہیاج سے اپنی صحیح میں ایک روایت ہے :

93 – (969) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، – قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ: – حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي الْهَيَّاجِ الْأَسَدِيِّ، قَالَ: قَالَ لِي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ: أَلَا أَبْعَثُكَ عَلَى مَا بَعَثَنِي عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ «أَنْ لَا تَدَعَ تِمْثَالًا إِلَّا طَمَسْتَهُ وَلَا قَبْرًا مُشْرِفًا إِلَّا سَوَّيْتَهُ»

ابی الحاج اسدی بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ آگاہ رہو میں تم کو اس کام کے لئے بھیجتا ہوں جس کے لئے مجھ کو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا تھا وہ یہ کہ میں کسی تصویر کو باقی نہ چھوڑوں مگر یہ کہ اسے مٹا دوں اور نہ کسی اونچی اور ابھری ہوئی قبر کو ،مگر یہ کہ اسے (زمین) کے برابر کر دوں ۔

صحیح مسلم، ﻛِﺘَﺎﺏ ﺍﻟْﺠَﻨَﺎﺋِﺰِ ،ﺑﺎﺏ ﺍﻷَﻣْﺮِ ﺑِﺘَﺴْﻮِﻳَﺔِ ﺍﻟْﻘَﺒْﺮِ ،حدیث نمبر 2243

https://library.islamweb.net/newlibrary/display_book.php?flag=1&bk_no=53&ID=2719

اسی روایت کو ابوداؤد نے اپنی سنن، ﺳﻨﻦ ﺍﺑﻲ ﺩﺍﻭﺩ ﻛﺘﺎﺏ ﺍﻟﺠﻨﺎﺋﺰ – ﺑﺎﺏ ﻓﻲ ﺗﺴﻮﻳﺔ ﺍﻟﻘﺒﺮ ‏حدیث نمبر 3218، نسائ نے اپنی سنن، ﺳﻨﻦ ﻧﺴﺎﺋﻲ ﻛﺘﺎﺏ ﺍﻟﺠﻨﺎﺋﺰ ﺑﺎﺏ ﺗﺴﻮﻳﺔ ﺍﻟﻘﺒﻮﺭ ﺇﺫﺍ ﺭﻓﻌﺖ، حدیث نمبر 2033 اور ترمذی نے اپنی سنن، سنن ترمذی ﻛﺘﺎﺏ ﺍﻟﺠﻨﺎﺋﺰ ﻋﻦ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ،ﺑﺎﺏ ﻣَﺎ ﺟَﺎﺀَ ﻓِﻲ ﺗَﺴْﻮِﻳَﺔِ ﺍﻟْﻘُﺒُﻮﺭ حدیث نمبر 1049 پر منقطع سند سے ساتھ روایت کیا ہے (ترمذی کی سند میں ابو وائل ساقط ہو گیا ہے چنانچہ اس کی سند یوں ہے ﺳﻔﻴﺎﻥ ، ﻋﻦ ﺣﺒﻴﺐ ﺑﻦ ﺍﺑﻲ ﺛﺎﺑﺖ ، ﻋﻦ ﺍﺑﻲ ﻭﺍﺋﻞ ، ﺍﻥ ﻋﻠﻴﺎ ، ﻗﺎﻝ ﻻﺑﻲ الحیاج سیدی)

ان کے علاوہ بھی دیگر ناصبی محدثین نے اس روایت کواپنی کتب میں نقل کیا ہے مگر سب کی اسناد میں شدید قسم کی خرابی پای جاتی ہے جس کے سبب روایت غیر قابل احتجاج ہے، ہمارے علم میں اس روایت کو ابو وائل سے روایت کرنے والا تنہا راوی حبیب بن ابی ثابت ہے اور اس نے روایت عن سے کی ہے علمائے اہل سنت نے حبیب کو بغیر کسی اختلاف کے مدلس مانا ہے اور ابن حجر نے اس کو تیسرے طبقہ میں رکھا ہے تیسرے طبقے کے مدلسین وہ ہیں جن کی “عن” والی روایات مردود ہوتی ہیں ان کی وہی روایات قابل قبول ہیں جن میں انہوں نے سماعت کی تصریح کی ہو۔

ابن حجر نے اس کے متعلق لکھا ہے :

– ﻉ ﺣﺒﻴﺐ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﺛﺎﺑﺖ ﺍﻟﻜﻮﻓﻲ ﺗﺎﺑﻌﻲ ﻣﺸﻬﻮﺭ ﻳﻜﺜﺮ ﺍﻟﺘﺪﻟﻴﺲ ﻭﺻﻔﻪ ﺑﺬﻟﻚ ﺑﻦ ﺧﺰﻳﻤﺔ ﻭﺍﻟﺪﺍﺭﻗﻄﻨﻲ ﻭﻏﻴﺮﻫﻤﺎ ﻭﻧﻘﻞ ﺃﺑﻮ ﺑﻜﺮ ﺑﻦ ﻋﻴﺎﺵ

ﻋﻦ ﺍﻷﻋﻤﺶ ﻋﻨﻪ ﺃﻧﻪ ﻛﺎﻥ ﻳﻘﻮﻝ ﻟﻮ ﺃﻥ ﺭﺟﻼ ﺣﺪﺛﻨﻲ ﻋﻨﻚ ﻣﺎ ﺑﺎﻟﻴﺖ ﺍﻥ ﺭﻭﻳﺘﻪ ﻋﻨﻚ ﻳﻌﻨﻲ ﻭﺃﺳﻘﻄﺘﻪ ﻣﻦ ﺍﻟﻮﺳﻂ

ﻛﺘﺎﺏ ﻃﺒﻘﺎﺕ ﺍﻟﻤﺪﻟﺴﻴﻦ 37

حبیب بن ابی ثابت کوفی تابعی ہے بہت زیادہ تدلیس کرنے والا تھا ابن خزیمہ اور دارقطنی وغیرہ نے اس کو اس عیب سے موصوف کیا ہے۔

http://www.shiaonlinelibrary.com/%D8%A7%D9%84%D9%83%D8%AA%D8%A8/3340_%D8%B7%D8%A8%D9%82%D8%A7%D8%AA-%D8%A7%D9%84%D9%85%D8%AF%D9%84%D8%B3%D9%8A%D9%86-%D8%A7%D8%A8%D9%86-%D8%AD%D8%AC%D8%B1/%D8%A7%D9%84%D8%B5%D9%81%D8%AD%D8%A9_35

سبط ابن عجمی نے بھی کچھ ایسا ہی لکھا ہے:

ﺣﺒﻴﺐ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﺛﺎﺑﺖ ﻗﺎﻝ ﺑﻦ ﺣﺒﺎﻥ ﻛﺎﻥ ﻣﺪﻟﺴﺎ

ﻛﺘﺎﺏ ﺍﻟﺘﺒﻴﻴﻦ ﻷﺳﻤﺎﺀ ﺍﻟﻤﺪﻟﺴﻴﻦ 58

http://www.shiaonlinelibrary.com/%D8%A7%D9%84%D9%83%D8%AA%D8%A8/3315_%D8%A7%D9%84%D8%AA%D8%A8%D9%8A%D9%8A%D9%86-%D9%84%D8%A3%D8%B3%D9%85%D8%A7%D8%A1-%D8%A7%D9%84%D9%85%D8%AF%D9%84%D8%B3%D9%8A%D9%86-%D8%B3%D8%A8%D8%B7-%D8%A7%D8%A8%D9%86-%D8%A7%D9%84%D8%B9%D8%AC%D9%85%D9%8A/%D8%A7%D9%84%D8%B5%D9%81%D8%AD%D8%A9_19

ابن حبان نے اس کو مدلس کہا ہے،بیہقی نے بھی مدلس تسلیم کیا ہے:

ﻛﺎﻥ ﻣﺪلس

ﺍﻟﺴﻨﻦ ﺍﻟﻜﺒﺮﻯ ‏ج 3 ص 327

‏ابن خزیمہ، دارقطنی، ابن حبان، بیہقی، ابن حجر، سبط ابن عجمی کے نزدیک حبیب مدلس ہے اور کسی نے بھی ان کی مخالفت نہیں کی لہٰذا جب تک سماعت کی تصریح نہ ہو روایت مردود ہے۔

مدلس اس راوی کو کہتے ہیں جو حدیث کے عیب کو چھپا کر اس کے حسن کو نمایاں کرتا ہے ،مثلا کسی سے حدیث نا سنی ہو مگر یوں ظاہر کرے کہ اس نے کسی سے یہ حدیث سنی ہو ،یا کسی ضعیف راوی سے حدیث سنی ہو مگر یہ ظاہر کرے کہ اس ضعیف راوی سے نہیں سنی ہے،یو راوی حدیث کی اصلیت کے بارے میں قاری کو اندھیرے میں رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔

تدلیس کی مذمت میں ائمہ نواصب کے بہت سخت اقوال موجود ہیں چنانچہ خطیب نے ناصبیوں کے امیرالمومنین فی الحدیث شعبہ کے مختلف اقوال نقل کئے ہیں۔

“الشافعي يقول قال شعبة بن الحجاج التدليس أخو الكذب… ثنا غندر قال سمعت شعبة يقول التدليس في الحديث أشد من الزنا ولان أسقط من السماء أحب إلي من أن دلس … المعافى يقول سمعت شعبة يقول: لان أزني أحب إلي من أدلس”‏

شافعی نے کہا کہ شعبہ نے کہا تدلیس جھوٹ کا بھائی ہے، غندر کا بیان ہے میں نے شعبہ سے سنا کہ اس نے کہا کہ حدیث میں تدلیس زنا سے بھی زیادہ بری ہے ،مجھے آسمان سے زمین پر گرنا زیادہ پسند ہے حدیث میں تدلیس کرنے کی نسبت، معافی کا بیان ہے کہ شعبہ نے کہا مجھے زنا کرنا حدیث میں تدلیس کرنے سے زیادہ پسند ہے۔

ﺍﻟﻜﻔﺎﻳﺔ ﻓﻲ ﻋﻠﻢ ﺍﻟﺮﻭﺍﻳﺔ ﺹ 395

http://www.shiaonlinelibrary.com/%D8%A7%D9%84%D9%83%D8%AA%D8%A8/2158_%D8%A7%D9%84%D9%83%D9%81%D8%A7%D9%8A%D8%A9-%D9%81%D9%8A-%D8%B9%D9%84%D9%85-%D8%A7%D9%84%D8%B1%D9%88%D8%A7%D9%8A%D8%A9-%D8%A7%D9%84%D8%AE%D8%B7%D9%8A%D8%A8-%D8%A7%D9%84%D8%A8%D8%BA%D8%AF%D8%A7%D8%AF%D9%8A/%D8%A7%D9%84%D8%B5%D9%81%D8%AD%D8%A9_385

دوسرا راوی (ابو وائل شقیق بن سلمة) ہے یہ دشمن خدا منافق تھا پکا دشمن امیرالمومنین علیہ السلام تھا اس کا یہ باطل عقیدہ تھا کہ نعوذبااللہ امیرالمومنین علیہ السلام بدعتی تھے چنانچہ بلاذری نے با سند صحیح اس کا قول نقل کیا ہے:

ﻋﻦ ﺍﻟﻤﺪﺍﺋﻨﻲ ﻋﻦ ﺷﻌﺒﺔ، ﻋﻦ ﺣﺼﻴﻦ ﻗﻠﺖ ﻷﺑﻲ ﻭﺍﺋﻞ : ﺃﻋﻠﻲ ﺃﻓﻀﻞ ﺃﻡ ﻋﺜﻤﺎﻥ؟ ﻗﺎﻝ : ﻋﻠﻲ ﺇﻟﻲ ﺃﻥ ﺃﺣﺪﺙ، ﻓﺄﻣّﺎ ﺍﻵﻥ ﻓﻌﺜﻤﺎﻥ .

ﺃﻧﺴﺎﺏ ﺍﻷﺷﺮﺍﻑ ﺝ 6 ﺹ 102

کپڑے پہنتا اور ان کے پہنے کو برا نہیں سمجھتا تھا ۔

ﺍﻟﻤﻌﺎﺭﻑ ﺹ .255

شراب کی حرمت تو بلکل واضح ہے، کسم سے رنگے کپڑوں کی حرمت بھی صحیح مسلم سے ہی نقل کئے دیتا ہیں۔

چنانچہ مسلم نے اپنی صحیح میں، ﻛِﺘَﺎﺏ ﺍﻟﻠِّﺒَﺎﺱِ ﻭَﺍﻟﺰِّﻳﻨَﺔِ میں اس کی حرمت پر مکمل باب باندھا ہے لکھتا ہے:

ﺑﺎﺏ ﺍﻟﻨَّﻬْﻲِ ﻋَﻦْ ﻟُﺒْﺲِ ﺍﻟﺮَّﺟُﻞِ ﺍﻟﺜَّﻮْﺏَ ﺍﻟْﻤُﻌَﺼْﻔَﺮَ

ہم باب میں سے فقط ایک روایت پر ہی اکتفا کرتے ہیں:

27 – (2077) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ ابْنَ مَعْدَانَ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ جُبَيْرَ بْنَ نُفَيْرٍ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَخْبَرَهُ، قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ ثَوْبَيْنِ مُعَصْفَرَيْنِ، فَقَالَ: «إِنَّ هَذِهِ مِنْ ثِيَابِ الْكُفَّارِ فَلَا تَلْبَسْهَا»،

عبداللہ بن عمرو بن عاص سے روایت ہے،رسول خدا صلیٰ اللہ علیہ(وآلہ)وسلم نے مجھ کو دیکھا کسم کے رنگ کے دو کپڑے پہنے ہوئے تو فرمایا:”یہ کافروں کے کپڑے ہیں ان کو مت پہن”

https://al-maktaba.org/book/33760/6397

أَبُوالهياج حيان بْن حصين‏اس سے کتب حدیث میں فقط ایک یہی روایت مروی ہے اور اس کی توثیق فقط عجلی و ابن حبان نے کی ہے اور علماء اہل سنت کے نزدیک یہ دونوں توثیق کرنے میں متساهل ہیں ۔

کوئی یہ اعتراض کر سکتا ہے کہ اس روایت کو مسلم نے اپنی صحیح میں نقل کیا ہے اس لئے صحیحین میں مدلس کا عن سے روایت کرنے میں کوئی خرابی نہیں بلکہ اسے سماعت پر ہی محمول کیا جائے گا۔

اس صورت میں ہمارا جواب یہ ہوگا کہ بخاری و مسلم نے اپنی کسی کتاب میں اس کا ذکر نہیں کیا ہے کہ اگر ہم مدلس سے “عن” والی روایت نقل کریں تو اسے بھی سماعت پر محمول سمجھو، کسی محدث نے بخاری و مسلم سے کیا ایسا قول نقل کیا ہے؟ اگر نہیں تو پھر بہت بعد میں آنے والے نووی اور اس جیسے مولویوں کے اقوال کی کیا حیثیت ہے، نہ ان کے پاس علم غیب تھا اور نہ ہی وہ بخاری و مسلم سے ملے تھے بلکہ یہ بس ان کی خوش فہمی تھی۔

یہ تھی سند کی تحقیق اب ذرا متن کو بھی ملاحظہ فرمائیں، ناصبی مترجمین روایت کے ترجمہ میں بھی خیانت کرتے ہیں چنانچہ غیر مقلد داؤد راز نے (ﻭﻻ ﻗﺒﺮﺍ ﻣﺸﺮﻓﺎ ﺇﻻ ﺳﻮﻳﺘﻪ) کا ترجمہ(ﮐﻮﺋﯽ ﺑﻠﻨﺪ ﻗﺒﺮ ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺯﻣﯿﻦ ﮐﮯ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﮐﺮ ﺩﮮ)کیا ہے جو کہ غلط ہے۔

ﺻﺤﻴﺢ ﻣﺴﻠﻢ ،ﻛِﺘَﺎﺏ ﺍﻟْﺠَﻨَﺎﺋِﺰِ، ﺑﺎﺏ ﺍﻷَﻣْﺮِ ﺑِﺘَﺴْﻮِﻳَﺔِ ﺍﻟْﻘَﺒْﺮِ ،حدیث نمبر 2243

شرف کا معنی بلندی اور اونٹ کا کوہان (یا اس کے جیسی بلندی) ہے، اور سویتہ کا مفہوم برابر کرنا ہے تو اگر مطلقا بلندی مراد لیا جائے تو برابر کرنے کا کیا معنی؟ کیونکہ قبر کو زمین سے ملانے پر تو کسی نے بھی عمل نہیں کیا یہاں تک کہ مسلم کی تمام روایات کو صحیح ماننے والے نام نہاد فرضی اہل حدیث بھی اس پر عمل نہیں کرتے بلکہ مراد یہ ہے کہ جو قبریں اونٹ کی پشت کی طرح ابھری ہوی ہیں انہیں اکسار کردو، مگر خلاف سنت ناصبی اپنی قبریں اونٹ کی پشت کی طرح بناتے ہیں اور شیعیان حیدر کرار علیہ السلام مطابق سنت قبور کو بناتے ہیں۔

چنانچہ قسطلانی نے اس امر کا اعتراف کیا ہے:

ولا يؤثر في أفضلية التسطيح كونه صار شعارًا للروافض، لأن السنة لا تترك بموافقة أهل البدع فيها، ولا يخالف ذلك قول علي، رضي الله عنه: أمرني رسول الله -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- أن لا أدع قبرًا مشرفًا إلا سويته، لأنه لم يرد تسويته بالأرض، وإنما أراد تسطيحه جمعًا بين الأخبار.

ﺇﺭﺷﺎﺩ ﺍﻟﺴﺎﺭﻱ ﺝ 2 ﺹ 468

اس کی بلند کو برابر کرناافضل ہے ،یہ رافضیوں کا شعار ہے اس سے اسکی بلندی کو برابر کرنے کی افضلیت پر کوئی فرق نہیں پڑتا،اور یہ قول علی رضی اللہ عنہ(علیہ السلام)کے قول«أَنْ لَا تَدَعَ تِمْثَالًا إِلَّا طَمَسْتَهُ وَلَا قَبْرًا مُشْرِفًا إِلَّا سَوَّيْتَهُ» کے منافی نہیں بلکہ اس سے مراد قبروں کو زمین سے ملانے کا نہیں بلکہ بلندی کو برابر کرنے کا حکم سمجھ میں آتا ہے روایت کو جمع کرنے کے بعد۔

خلاصہ یہ کہ روایت سند کے اعتبار سے مردود ہے اور مفہوم بھی وہ نہیں جو نواصب کی ناقص عقلوں میں ہے ۔

Tags:
Done
Add to Bookmarks

Related Posts

Imamat & Ahl al-Bayt (AS) الإمام جعفر بن محمد الصادق عليه السلام
کیا آئمہ اہلِ سنت، امام جعفر صادق علیہ السلام کے شاگرد رہے ہیں ؟
April 15, 2026
0
0
Imamat & Ahl al-Bayt (AS) الإمام علي بن أبي طالب عليه السلام
سلف میں سے بہت سوں کا یہ عقیدہ تھا کہ امیرالمومنین علیہ السلام ابوبکر سے افضل ہیں..شیخ البانی کا اعتراف
April 14, 2026
0
0
شبھات کا رد
شیعوں کے یہاں عورتوں کو سورہ یوسف کی تعلیم دینا منع ہے.
April 14, 2026
0
0

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll down to see next article
Imamat & Ahl al-Bayt (AS)
تم میں سے ایک شخص ایسا ہے جو قرآن کی تاویل پر اسی طرح جنگ کرے گا جس طرح میں نے اس کے نزول پر جنگ کی.
About Us

Momin Taaq is a global online platform dedicated to presenting authentic Shia Islamic knowledge with clarity, logic, and respect.

Follow Us
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Pinterest
Featured Lectures
شبھات کا رد
امام سجاد علیہ السلام نے ابو بکر عمر کا دفاع کیا ہے؟
September 27, 2025
شبھات کا رد
یہ کیوں کہا گیا کہ “دابۃ”؟ کیا اس میں امیر المؤمنین (علیہ السلام) کی توہین نہیں ہے؟
September 26, 2025
عقیدہ امامت
ہ سب سے پہلے جس نے 12 اماموں بات شروع کی وہ شیخ کلینی اور علی بن بابویہ القمی علیھما الرحمۃ
February 9, 2019
Knowledge & Research
  • Imamat & Ahl al-Bayt (AS)19
  • Youth & New Muslims1
  • آیت تطھیر و اھل البیت علیھم السلام1
  • اصحاب رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم2
  • اعتقادات5

© 2025 Momin Taaq. All Rights Reserved.

  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
    • For Youth & Seekers
  • Privacy Policy
    • Terms and conditions
  • Contact Us
  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
  • Privacy Policy
  • Contact Us
  • For Youth & Seekers
  • Terms and conditions