سلف میں سے بہت سوں کا یہ عقیدہ تھا کہ امیرالمومنین علیہ السلام ابوبکر سے افضل ہیں..شیخ البانی کا اعتراف
ﺍﻟﺤﻤﺪ ﻟﻠﻪ ﺭﺏ ﺍﻟﻌﺎﻟﻤﻴﻦ، ﻭﺍﻟﺼﻼﺓ ﻭﺍﻟﺴﻼﻡ ﻋﻠﻰ ﺧﻴﺮ ﺧﻠﻘﻪ ﻭﺃﻓﻀﻞ ﺑﺮﻳﺘﻪ ﻣﺤﻤﺪ ﻭﻋﺘﺮﺗﻪ ﺍﻟﻄﺎﻫﺮﻳﻦ، ﻭﺍﻟﻠﻌﻦ ﺍﻟﺪﺍﺋﻢ ﻋﻠﻰ ﺃﻋﺪﺍﺋﻬﻢ ﺃﺟﻤﻌﻴﻦ ﺇﻟﻰ ﻳﻮﻡ ﺍﻟﺪﻳﻦ.
اعتراف آلبانی، سلف میں سے بہت سوں کا یہ عقیدہ تھا کہ امیرالمومنین علیہ السلام ابوبکر سے افضل ہیں:
تحریر : سید ابو ہشام نجفی
نام نہاد فرضی اہل حدیث اپنے آپ کو سلف (اس سے مراد اکثر منافقین و انکے پیروکار ہیں ) کا تابع کہتے ہیں اللہ سبحانہ تعالی و اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے مقابل سلف کے اقوال اس گمراہ ٹولہ کے نزدیک زیادہ معتبر و عقائد کا ماخذ شمار ہوتے ہیں، ان کے باطل عقائد میں سے ایک عقیدہ یہ بھی ہے کہ یہ ابوبکر کو انبیاء علیہم السلام کے بعد سب سے افضل شمار کرتے ہیں جو کہ کھلم کھلا خلاف قرآن و سنت ہے اور اس باطل عقیدہ کی نسبت سلف کی طرف دیتے ہیں کہ ابوبکر کی افضلیت پر ان کا اجماع تھا ان کے اسی باطل عقیدہ کی دھجیاں خود ایک نام نہاد گمراہ عالم آلبانی نے اڑای ہیں چنانچہ موسی بن قیس الحضرمی راوی پر عقیلی کم عقل کی بے جا رد کو رد کرتے ہوئے لکھتا ہے
قلت: تفرد العقیلی برمیه بالرفض، وما رواه عنه أن الثوری قال له: أیهما أحب إلیک أبو بکر أو علی؟ قال: قلت: علی. فهذا – وإن کنا لا نوافقه علیه – لیس رفضاً، فکثیر من السلف کانوا یفضلون علیاً، فلیس هذا بالذی یقدح فیه
میں کہتا ہوں تنہا عقیلی نے اس پر رفض کا الزام لگایا ہے اور جو ثوری نے اس روایت کی ہے کہ اس سے کہا گیا ہے تجھے ابوبکر و علی (علیہ السلام ) میں کون محبوبتر ہے تو اس نے کہا علی (علیہ السلام )، میں کہتا ہوں کہ ہم اس کے موافق نہیں مگر یہ رفض بھی نہیں ہے کیونکہ سلف میں سے بہت سارے علی (علیہ السلام ) کو (ابوبکر پر )فضیلت دیتے تھے اور یہ اس میں کوی قدح کا سبب نہیں بنتا
سلسلة الاحادیث الضعیفة،ج13،ص880و881
آلبانی ناصبی کے اعتراف سے یہ بھی واضح ہو گیا کہ ان نام نہاد فرضی اہل حدیث ناصبیوں کا سلف کے طریقہ پر چلنے کا جھوٹا دعوی بھی کھو کھلا نلکا.