Recommended articles
تاریخ
انھدام جنت البقیع
April 15, 2026
0
0
Imamat & Ahl al-Bayt (AS) الإمام جعفر بن محمد الصادق عليه السلام
کیا آئمہ اہلِ سنت، امام جعفر صادق علیہ السلام کے شاگرد رہے ہیں ؟
April 15, 2026
0
0
Imamat & Ahl al-Bayt (AS) الإمام علي بن أبي طالب عليه السلام
سلف میں سے بہت سوں کا یہ عقیدہ تھا کہ امیرالمومنین علیہ السلام ابوبکر سے افضل ہیں..شیخ البانی کا اعتراف
April 14, 2026
0
0
شبھات کا رد
شیعوں کے یہاں عورتوں کو سورہ یوسف کی تعلیم دینا منع ہے.
April 14, 2026
0
0
Momin Taaq
  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
    • For Youth & Seekers
  • Privacy Policy
    • Terms and conditions
  • Contact Us
Imamat & Ahl al-Bayt (AS)

کیا امامِ عسکری ع کے فرزند کو لوگوں نے نا دیکھا تھا ؟ کیا لوگ اُنہیں نا پہنچاتے تھے

April 1, 2026
0
0

بسم اللہ الرحمن الرحیم

#اعتقادات_تشیع_کا_دفاع

مذھب حقہ شیعہ خیر البریہ پر وہابیوں اور سلفیوں کی طرف سے بے شمار اعتراضات اٹھاۓ جاتے ہیں جن میں ایک اعتراض یہ ھے :

⬅️ امام حسن عسکری ؑ کی میراث ان کے بھائ جناب جعفر تواب اور آپ کی ماں کے درمیان تقسیم ہوئ لہذا امام مھدی ؑ کے متولد نہ ہونے پر ایک دلیل ھے کیونکہ اگر ان کا کوئ بیٹا ہوتا تو انکی وراثت ان کے بھائ اور ماں میں تقسیم نہ ہوتی ۔

سلفی اور وھابی ہمارے خلاف یہ ادعا کرتے ہیں کہ شیعہ علماء میں سے خاص کر سعد بن عبداللہ الاشعری (متوفی 300ھ) اور جناب حسین بن موسی نوبختی (متوفی 310ھ) کی کتب سے منقول ھے کہ جب امام حسن عسکری ع دنیا سے تشریف لیکر گئے تو اس وقت ان کا کوئ فرزند لوگوں نے نہیں دیکھا اور کسی کو ان کے بارے میں خبر بھی نہیں تھی ۔

۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰

جو ہم نے عبارت پیش کرنی ھے اس کو سلفیوں کے دو بڑے علماء نے اپنی کتب میں نقل کرکے شیعوں کے خلاف ایک بڑی دلیل قائم کرنے کی کوشش کی ھے

(1) ناصر الدین القفاری اسول مذھب الشیعہ ص 901

(2) احسان الہی ظھیر الشیعة والتشیع ص 261 ,262

⏪ ناصر الدین القفاری نے اپنی کتاب میں اپنا اعتراض یوں لکھا ھے :

إذ بعد وفاة الحسن ـ إمامهم الحادي عشر ـ سنة (260هـ) لم يُر له خلف، ولم يُعرف له ولد ظاهر، فاقتسم ما ظهر من ميراثه أخوه جعفر وأمّه، كما تعترف بذلك كتب الشيعة نفسها، وبسبب ذلك اضطرب أمر الشّيعة وتفرّق جمعهم؛ لأنّهم أصبحوا بلا إمام، ولا دين عندهم بدون إمام، لأنّه هو الحجّة علي أهل الأرض… .

ترجمہ :

جب شیعوں کے گیارویں[امام] امام حسن کی260هـ کو وفات ہوئی تو اس وقت ان کے جانشین کو کسی نے نہیں دیکھا ، لوگ آشکارا طور پر ان کے فرزند کو نہیں پہچانتے تھے ، ان کے فرزند کسی لئے ظاہر نہیں ہوئے ۔ لہذا امام حسن علیہ السلام کی میراث ان کے بھائی اور ان کی ماں کے درمیان تقسیم ہوگئی ، جیساکہ خود شیعوں کی کتابیں بھی اسی مطلب کو بیان کرتی ہیں اسی وجہ سے شیعہ مضطرب اور شیعہ تفرقہ کا شکار ہوئے کیونکہ اب ان کا کوئی امام نہیں تھا ، یہ لوگ بغیر امام کے رہ گئے تھے ، امام کے بغیر تو ان کے دین کا کوئی معنی نہیں ہے ، ان کے نزدیک امام زمین پر اللہ کی حجت ہے ۔

📚 ناصر الدين القفاري (معاصر) ، اصول مذهب الشيعة، ص 901

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

⏪ دوسرا اعتراض ہم احسان الہی ظھیر کا بیان کرتے ہیں ۔۔۔۔۔

مولوی احسان الہی ظہیر کا اعتراض :

مات الحسن العسكري بدون خلف ولا عقب، كما نص علي ذلك النوبختي حيث قال: «توفي ولم ير له أثر، ولم يعرف له ولد ظاهر، فاقتسم ميراثه أخوه جعفر وامه».

ترجمہ :

[امام] حسن عسكري (عليه السلام) کسی جانشین اور فرزند کے بغیر دنیا سے چلے گئے؛ نوبختي نے اسی مطلب کو واضح طور پر بیان کیا ہے نوبختی کہتا ہے : امام دنیا سے چلے گئے جبکہ ان کا فرزند نظر نہیں آیا ، ان کے فرزند کو دیکھا نہیں اور کوئی ایسا شناختہ شدہ فرزند نہیں تھا جو لوگوں کے لئے ظاہر اور آشکار ہو ۔ لہذا امام حسن علیہ السلام کی میراث ان کے بھائی اور ان کی ماں کے درمیان تقسیم ہوگئی .

📚 احسان الهي ظهير(معاصر)، الشيعة والتشيع، ص261 ,262

۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰

اگر ہم ان کے اعتراضات کو دیکھیں تو چند نقاط ذہن میں آئیں گے ۔۔۔۔۔

ان کا سب سے بڑا اعتراض :

1️⃣ امام حسن عسکری ؑ ایسی حالت میں دنیا سے چلے گئے کہ ان کے ہاں بیٹا نظر نہیں آیا لوگ ان کے فرزند کو نہیں پہچانتے تھے ۔

2️⃣ امام عسکری ؑ کی وفات کے بعد شیعہ اختلافات کا شکار ہوۓ اور فرقوں میں تقسیم ہوۓ ۔

3️⃣ امام ؑ کی میراث اُن کی وفات کے بعد ان کی والدہ اور چچا جناب جعفر تواب کے درمیان تقسیم ہوئ ۔

۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰

ہم ان نقاط میں سے صرف پہلے نقطے کا جواب دیں گے کیونکہ باقی دو اعتراض اتنی وقعت نہیں رکھتے ۔

🔷 سب سے پہلی بات :

مولانا ڈاکٹر قفاری خود تشیع عقائد میں تذبذب کا شکار نظر آتا ھے ۔

پہلے کہتا ھے کہ لوگوں میں امام حسن عسکری ؑ کے لیے شناختہ شدہ کوئ فرزند نہیں تھا لیکن اپنی اسی کتاب میں ایک دوسرے مقام پر کہتا ھے اور تشیع کے عقائد کو یوں بیان کرتا ھے :

أما الاثنا عشريّة فقد ذهبت إلي الزّعم بأنّ للحسن العسكري ولداً كان قد أخفي (أي الحسن) مولده، وستر أمره؛ لصعوبة الوقت وشدّة طلب السّلطان له، فلم يظهر ولده في حياته، ولا عرفه الجمهور بعد وفاته.

ترجمہ :

شیعہ اثنا عشر نے اس نظریہ کو قبول کیا ہے کہ [امام] حسن عسكري کا بیٹا تھا اور [امام] حسن نے ان کی ولادت کو مخفی رکھا اور لوگوں کو ان کے بارے میں نہیں بتایا تھا کیونکہ اس وقت حاکموں کی طرف سے سختی تھی اور حاکم سختی سے ان کے فرزند کی تلاش میں تھے اسی لئے ان کی زندگی میں ان کے فرزند کو کسی نے آشکارا نہیں دیکھا اور اکثر شیعہ امام حسن عسکری علیہ السلام کی وفات کے بعد انہیں نہیں پہچانتے تھے ۔

📚 أصول مذهب الشيعة، ج2، ص1006

۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰

اب اگر ہم بغور اس بات کا مشاہدہ کریں جو کہ قفاری نے کہی ھے اس بات کی طرف واضح اشارہ ھے کہ موصوف شیعہ عقائد میں سے امام حسن عسکری ؑ کے فرزند کی موجودگی کو مان رھے ہیں اور دوسری طرف انکار بھی کر رھے ہیں ۔

🟢 ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے شیعہ علماء کا اس بات پر اجماع ھے کہ امام مھدی عجل اللہ متولد ہوۓ اور سلفیوں کے دونوں علماء نے محض ہمارے ثقہ محدثین کی طرف جھوٹ منسوب کیا ھے اس کا جواب ہم آگے دیں گے ۔ اِن شاء الله

⬅️ نوبختی اور جناب سعد بن عبداللہ الاشعری کی کتاب المقالات والفرق پر جواب دینے سے قبل ہم الکافی سے چند ایک روایات لگاتے ہیں۔۔۔۔

1️⃣ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْكُوفِيِّ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمَكْفُوفِ عَنْ عَمْرٍو الْأَهْوَازِيِّ قَالَ: أَرَانِيهِ أَبُو مُحَمَّدٍ ع وَ قَالَ هَذَا صَاحِبُكُمْ.

ترجمہ :

راوی کہتا ہے امام حسن عسکری (ع) نے مجھے صاحب الامر کو دکھلا کر فرمایا یہ ہیں تمہارے امام ۔

📚 اصول الکافی ، کتاب الحجت ، باب امام مھدی عجل اللہ فرجھہ الشریف ، ح 12

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

2️⃣ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ النَّيْسَابُورِيِّ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُوسَى بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِي نَصْرٍ ظَرِيفٍ الْخَادِمِ‏ أَنَّهُ رَآهُ.

ترجمہ :

13۔ ابو نصر ظریف خادم امام حسن عسکری (ع) کہتا ہے کہ میں نے صاحب الامر (ع) کو دیکھا ہے ۔

📚 اصول الکافی ، کتاب الحجت ، باب امام قائم ؑ ، ح 13

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

3️⃣ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ مُحَمَّدٍ وَ الْحَسَنِ ابْنَيْ عَلِيِّ بْنِ إِبْرَاهِيمَ أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ فِي سَنَةِ تِسْعٍ وَ سَبْعِينَ وَ مِائَتَيْنِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَبْدِيِّ عَنْ ضَوْءِ بْنِ عَلِيٍّ الْعِجْلِيِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ فَارِسَ سَمَّاهُ‏ أَنَّ أَبَا مُحَمَّدٍ أَرَاهُ إِيَّاهُ.

ترجمہ :

راوی کہتا ہے کہ امام حسن عسکری (ع) نے مجھے حضرت صاحب الامر (ع) کا دکھایا ۔

📚 اصول الکافی ، کتاب الحجت ، باب امام قائم ، ح 14

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

🛑 یہ ساری روایات سنداً بھی صحیح ہیں

اس لیے ان روایات کی روشنی میں احسان الہی ظھیر اور ڈاکٹر قفاری کے نظریات و باطل عقائد کا رد ہوتا ھے ۔

۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰

♨️ اب ہم جناب نوبختی کی کتاب سے وارد عبارت کا جواب دیتے ہیں ۔۔۔۔۔

ان دونوں وھابیوں نے جو اشکلات اپنی کتب میں اٹھاۓ ہیں ان سے واضح ہوتا ھے کہ یہ دونوں متعصب شخصیات تشیع کی ان کتب جو کہ نوبختی یا سعد بن عبداللہ القمی کی ہیں ان کے منہج سے واقف ہی نہیں ہیں ۔

اور ان کے اشکلات اہل تشیع کی کتب کے منہج سے عدم واقفیت ان کی لاعلمی اور جہالت کا منہ بولتا ثبوت ھے ۔

کیونکہ نوبختی ؒ کی کتاب فرق الشیعہ اور سعد بن عبداللہ الاشعری القمی کی کتاب الفرق والمقالات کے منہج بہت واضح ہیں ۔

🟢 پہلے یہ دونوں علماء گمراہ فرقوں اور منحرف عقائد کے لوگوں کا تعارف کرواتے ہیں اس کے بعد امامیہ اثنا عشریہ فرقے کے صحیح عقائد کو بیان کرتے ہیں اور پھر اس کی تائید بھی کرتے ہیں ۔

لہذا صرف پہلے حصے کو بنیاد بنا کر تشیع پر طعن سراسر تعصب پر مبنی ھے انہوں نے منحرف فرقوں کے عقائد اور ان کی باتوں کو پہلے نقل کیا ھے پھر بعد کے صفحات میں شیعہ اثنا عشریہ کے صحیح عقائد کو بیان کرکے دیگر فرقوں کا رد کیا ھے ۔

۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰

⬅️ مرحوم نوبختي نے” فرق الشيعه” میں بارہ امامی شیعوں کے نظریے کو بھی بیان کیا ہے اور پھر اسی نظریے کو صحیح بھی قرار دیا ہے ، جیساکہ انہوں نے اسی کتاب میں لکھا ہے :

وقالت الفرقة الثانية عشرة وهم الأمامية ليس القول كما قال هؤلاء كلهم بل لله عز وجل في الأرض حجة من ولد الحسن بن علي وأمر الله بالغ وهو وصي لأبيه علي المنهاج الأول والسنن الماضية ولا تكون الإمامة في أخوين بعد الحسن والحسين عليهما السلام ولا يجوز ذلك ولا تكون إلا في غيبة الحسن بن علي إلي أن ينقضي الخلق متصلا ذلك ما اتصلت أمور الله تعالي ولو كان في الأرض رجلان لكان أحدهما الحجة ولو مات أحدهما لكان الآخر الحجة ما دام أمر الله ونهيه قائمين في خلقه…

ولا يجوز أن تخلو الأرض من حجة ولو خلت ساعة لساخت الأرض ومن عليها ولا يجوز شيء من مقالات هذه الفرق كلها فنحن مستسلمون بالماضي وإمامته مقرون بوفاة معترفون بأن له خلفا قائما من صلبه وأن خلفه هو الإمام من بعده حتي يظهر ويعلن أمره كما ظهر وعلن أمر من مضي قبله من آبائه ويأذن الله في ذلك إذ الأمر لله يفعل ما يشاء ويأمر بما يريد من ظهوره وخفائه كما قال أمير المؤمنين عليه السلام «اللهم إنك لا تخلي الأرض من حجة لك علي خلقك ظاهرا معروفا أو خائفا مغمودا كيلا تبطل حجتك وبيناتك»

وبذلك أمرنا وبه جاءت الأخبار الصحيحة عن الأئمة الماضين… وقد رويت أخبار كثيرة أن القائم تخفي علي الناس ولادته ويخمل ذكره ولا يعرف إلا أنه لا يقوم حتي يظهر ويعرف أنه إمام ابن امام ووصي ابن وصي يوتم ۔۔۔۔

فهذا سبيل الإمامة والمنهاج الواضح اللاحب الذي لم تزل الشيعة الإمامية الصحيحة التشيع عليه.

ترجمہ :

اثنا عشریہ والے کہ جو وہی اماميه فرقہ والے ہیں، ان کا نظریہ یہ ہے کہ جو دوسرے منحرف فرقہ والے کہتے ہیں ان کی باتیں صحیح نہیں ہیں ،بلکہ حق یہ ہے کہ امام حسن بن علی کی نسل سے زمین پر اللہ کی حجت موجود ہے اس سلسلے میں اللہ کا فرمان واضح اور یقینی ہے ، اللہ کی سنت کے مطابق آپ اپنے والد کے وصی تھے ۔

سنت الہی کے مطابق امامت امام حسن وامام حسين (ع) کے بعد ایک بھائی سے دوسرے بھائی تک منتقل نہیں ہوئی ہے بلکہ باپ سے فرزند کی طرف منتقل ہوئی ہے لہذا امامت صرف حضرت حسن عسكري (ع) کے فرزند کی طرف منتقل ہوئی ہے اور اللہ کا یہ ارادہ قیامت تک باقی ہے یہاں تک کہ اگر زمین پر دو ہی شخص موجود ہوں تو ان میں سے ایک اللہ کی حجت ہے ان میں سے جو دنیا سے چلا جائے دوسرا جب تک زندہ ہے وہ اس وقت تک زمین پر اللہ کی حجت ہے جب تک اللہ کے واجبات اور محرمات باقی ہوں ۔

زمين اللہ کی حجت سے خالي نہیں ہوتی ، اگر ایک لحظہ کے لئے بھی زمين اللہ کی حجت خدا سے خالی ہو تو زمین سب چیزوں کے ساتھ نابود ہو جائے گی لہذا ان باطل فرقوں کی باتیں باطل ہیں ۔

ہم اس اس چیز کو مانتے ہیں کہ امام عسكري دنیا سے چلے گئے آپ کا فرزند اپ کے جانشین ہیں اور آپ کا فرزند ہی آپ کے بعد امام ہیں اور آپ ظاہر ہوں گے اور جس طرح دوسرے اماموں نے امامت کی ذمہ داری انجام دی آپ بھی امامت کی ذمہ داری کو انجام دیں گے اور یہ اللہ کا حتمی ارادہ ہے اور اللہ کے ارادہ کے مطابق ہی ہوگا کیونکہ اللہ حاکم مطلق ہے ۔ اللہ جو بھی ارادہ کرئے گا وہی ہوگا اللہ جس طرح ان کی غیبت اور ظہور کے بارے میں ارادہ کرئے گا وہی ہوگا جیساکہ اميرالمؤمنین عليه السلام نے فرمایا :

«زمين اللہ کی حجت سے خالی نہیں ہوگی؛ چاہے یہ ظاہر اور آشکار ہو یا مخفی اور پوشیدہ تاکہ اللہ کی حجت اور نشانیاں باطل نہ ہوں.»

یہ وہی نظریہ ہے کہ جس کی ہمیں خبر دی گئی ہے اور اماموں سے معتبر روایات اس سلسلے میں ہم تک پہنچی ہیں ۔

بہت سی معتبر روایات موجود ہیں کہ جو یہ بتاتی ہیں کہ حضرت قائم عليه السلام لوگوں سے مخفی رہیں گے اور آپ کو لوگ نہیں پہچانیں گے،جب تک آپ ظاہر نہیں ہوں گے اور آپ کی امامت کا اعلان نہیں ہوگا آپ قیام نہیں کریں گے ۔

امام مھدی ع ، امام ع کے فرزند ، وصی اور وصی کے فرزند ہیں۔

اماميه کا ہمیشہ سے یہ نظریہ رہا ہے اور ہمیشہ سے اسی نظریے پر کاربند ہیں اور یہی صحیح راہ اور صحیح نظریہ ہے .

📚 الحسن بن موسي نوبختی (متوفی 310هـ) ، فرق الشيعة ، ص 166 ، ناشر: دار الأضواء – بيروت، 1404هـ – 1984م

۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰

دونوں سلفی مولویوں نے یعنی قفاری اور احسان الہی ظھیر نے مرحوم نوبختی اور سعد بن عبداللہ القمی سے نقل تو کردیا کہ امام حسن عسکری ؑ جب دنیا سے گئے تو آپ کے فرزند کو کسی نے نہیں دیکھا اور اس عبارت کو تمام شیعہ علماء و ملت کا نظریہ بنانے کی کوشش کی لیکن ان کے مکر وفریب کا یہ پردہ نوبختی کی مکمل عبارت اور کلام کو پڑھنے کے بعد چاک ہو جاتا ھے ۔

کیونکہ تمام شیعہ علماء متاخرین و متقدمین کا اس بات پر اجماع ھے کہ امام حسن عسکری ؑ جب دنیا سے گئے تو امام قائم ؑ سن پانچ سال کے تھے ۔

ان دونوں سلفیوں نے انصاف پسندی سے کام نہ لیتے ہوۓ ہمارے دونوں شیعہ علماء کی ان باتوں کا ذکر ہی نہیں کیا جو کہ ان کے عقیدہ امامت اور امام مھدی عجل اللہ فرجھہ الشریف کی موجودگی کی دلیل ہیں ۔

۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰

⭕ متوجہ

کسی چیز کا نہ پانا اس کے نہ ہونے کی دلیل نہیں ہوتی

جو نوبختی اور سعد بن عبداللہ القمی نے ذکر کیا ھے کہ { ولم یرلہ خلف ولم یعرف لہ ولد ظاھر }

ان کا جانشین نہیں ھے اس بات کی دلیل نہیں ھے کہ امام حسن عسکري ؑ کا کوئ فرزند نہ ہو ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

⬅️ عربی کا مشہور قول ھے :

عدم الوجدان لا یدل علی عدم الوجود

یعنی کسی چیز کا نہ پانا اس کے عدم وجود کی دلیل نہیں بنتا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگر نوبختی یہ لکھتے کہ { لم یولد لہ ولد } یعنی اصلاً آپ کا فرزند نہیں تو ان دونوں سلفیوں کی بات ٹھیک تھی ۔

لیکن انہوں نے { ولم یر لہ خلف ولم یعفر لہ ولد ظاھرہ } کہا ھے ۔

___________

💣 اب ہم چند حنبلیوں کے آپسی اختلافات کا ذکر کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔

ہم حنبابله کے آپسی اختلافات پر چند حوالہ جات نقل کریں گے کیونکہ سلفی ہمارے عقائد پر بے شمار اعتراضات اٹھاتے ہیں جن کا ہم کئ بار جواب دے چکے ییں لیکن ہم بھی ان کی کتب سے ان کے آپسی اختلافات اور علماء کی آراء نقل کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔

⬅️ جو بھی حنبلی نہیں وہ کافر ھے :

شمس الدين ذهبي نے تاريخ الإسلام اور سير اعلام النبلاء میں اور اسی طرح ابن رجب حنبلي نے طبقات الحنابله میں نقل کیا ہے :

أحمد بن الحسين بن محمد. المحدث الأمام أبو حاتم بن خاموش الرازي البزاز. من علماء السنة… وحكاية شيخ الإسلام الأنصاري معه مشهورة. وقوله: مَن لم يكن حنبلياً فليس بمسلم.

ترجمہ :

شيخ الاسلام انصاري کا احمد بن حسين بن محمد کے ساتھ واقعہ مشہور ہے کہ جو یہ کہتا تھا : جو بھی حنبلی نہیں وہ مسلمان نہیں ہے .

📚 الذهبي، شمس الدين محمد بن أحمد بن عثمان، (متوفاي748هـ)، تاريخ الإسلام ووفيات المشاهير والأعلام، ج 29، ص 303، تحقيق د. عمر عبد السلام تدمري، ناشر: دار الكتاب العربي – لبنان/ بيروت، الطبعة: الأولي، 1407هـ – 1987م؛

📚 الذهبي، شمس الدين محمد بن أحمد بن عثمان، (متوفاي748هـ)، سير أعلام النبلاء، ج 17، ص 625، تحقيق: شعيب الأرناؤوط، محمد نعيم العرقسوسي، ناشر: مؤسسة الرسالة – بيروت، الطبعة: التاسعة، 1413هـ؛

📚 إبن رجب الحنبلي، عبد الرحمن بن أحمد (متوفاي795هـ)، ذيل طبقات الحنابلة، ج 1، ص 20، طبق برنامه الجامع الكبير

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

⬅️ احمد بن حنبل کی پیروی کرنے والے کافر ہیں۔۔۔۔

ابن اثير جزري لکھتے ہیں :

ذكر الفتنة ببغداد بين الشافعية والحنابلة :

ورد إلي بغداد هذه السنة الشريف أبو القاسم البكري المغربي الواعظ وكان أشعري المذهب وكان قد قصد نظام الملك فأحبه ومال إليه وسيره إلي بغداد وأجري عليه الجراية الوافرة فوعظ بالمدرسة النظامية وكان يذكر الحنابلة ويعيبهم ويقول ( وما كفر سليما ولكن الشياطين كفروا ) والله ما كفر أحمد ولكن أصحابه كفروا.

ترجمہ ؛

بغداد میں شافعی مذھب اور حنبلی مذھب والوں کے فتنے :

ابوالقاسم بكري مغربي کہ جو اشعري مذهب کا تھا، یہ بغداد میں داخل ہوا اور نظام الملك سے ملاقات کرنا چاہتا تھا اور اس سے محبت کرتا اور ان کی طرف جھکاؤ رکھتا تھا ، اس نے مدرسه نظاميه میں وعظ اور خطابت کا سلسلہ چلایا اور 👈 وہ حنبلی والوں کا ذکر کرتا تھا اور ان کی بدگوئی کرتا تھا اور کہتا تھا احمد بن حنبل کافر نہیں ہے لیکن اس کے پیروکار کافر ہیں 👉

📚 الجزري، عز الدين بن الأثير أبي الحسن علي بن محمد (متوفاي630هـ)، الكامل في التاريخ، ج 8، ص 428، تحقيق عبد الله القاضي، ناشر: دار الكتب العلمية – بيروت، الطبعة الثانية، 1415هـ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

⬅️ عكري حنبلي نے ابوبكر بكري کے بارے میں لکھا ہے :

البكري أبو بكر المقرئ الواعظ من دعاة الأشعرية وفد علي نظام الملك بخراسان فنفق عليه وكتب له سجلا أن يجلس بجوامع بغداد فقدم وجلس ووعظ ونال من الحنابلة سبا وتكفيرا ونالوا منه.

ترجمہ :

ابوبكر واعظ ،اشعري مبلغ تھا ، نظام الملك سے ملاقات کے لئے گیا اس سے کافی سارا مال لیا اور بغداد میں تبلیغ اور تقریر کی اجازت لینے کے لئے خط لکھا ، 👈 لیکن آس پاس کے حنبلیوں نے برا بلا کہا اور اسے کافر قرار دیا 👉

📚 العكري الحنبلي، عبد الحي بن أحمد بن محمد (متوفاي 1089هـ)، شذرات الذهب في أخبار من ذهب، ج 5 ، ص 330 ، تحقيق: عبد القادر الأرنؤوط، محمود الأرناؤوط، ناشر: دار بن كثير – دمشق، الطبعة: الأولي، 1406هـ.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

⬅️ نويري نے عز الدين سلمي شافعي (متوفاي 660هـ) کے بارے لکھا ہے:

فأنه [مظفر الدين موسي ابن الملك العادل] كان قد عزر جماعة من أعيان الحنابلة المبتدعة تعزيرا بليغا رادعا وبدع بهم وأهانهم.

ترجمہ :

مظفر الدين موسي نے حنبلي مذھب کی جانی پہچانی شخصیتوں کو کوڑے مارے اور انہیں ذلیل کیا .

📚 النويري، شهاب الدين أحمد بن عبد الوهاب (متوفاي733هـ)، نهاية الأرب في فنون الأدب، ج 30، ص 41، تحقيق مفيد قمحية وجماعة، ناشر: دار الكتب العلمية – بيروت، الطبعة: الأولي، 1424هـ – 2004م

__________

تحقیق از قبلہ سید ساجد بُخاری النقوي
منجانب : دفاع مکتب شیعہ خیرالبریہ ٹیم

 

Add to Bookmarks

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll down to see next article
Imamat & Ahl al-Bayt (AS)
کیا امام سجاد ع اپنے باپ کے قاتل کو نجات دے رہے ہیں؟
About Us

Momin Taaq is a global online platform dedicated to presenting authentic Shia Islamic knowledge with clarity, logic, and respect.

Follow Us
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Pinterest
Featured Lectures
شبھات کا رد
امام سجاد علیہ السلام نے ابو بکر عمر کا دفاع کیا ہے؟
September 27, 2025
شبھات کا رد
یہ کیوں کہا گیا کہ “دابۃ”؟ کیا اس میں امیر المؤمنین (علیہ السلام) کی توہین نہیں ہے؟
September 26, 2025
عقیدہ امامت
ہ سب سے پہلے جس نے 12 اماموں بات شروع کی وہ شیخ کلینی اور علی بن بابویہ القمی علیھما الرحمۃ
February 9, 2019
Knowledge & Research
  • Imamat & Ahl al-Bayt (AS)18
  • Youth & New Muslims1
  • آیت تطھیر و اھل البیت علیھم السلام1
  • اصحاب رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم2
  • اعتقادات4

© 2025 Momin Taaq. All Rights Reserved.

  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
    • For Youth & Seekers
  • Privacy Policy
    • Terms and conditions
  • Contact Us
  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
  • Privacy Policy
  • Contact Us
  • For Youth & Seekers
  • Terms and conditions