أقوال علماء أهل السنة في زيارة قبر الإمام موسى الكاظم


🔺 امام شافعی کے بارے میں منقول قول
امام شافعی سے مشہور ہے کہ وہ امام موسیٰ کاظمؑ کی قبر کی زیارت کرتے تھے اور فرماتے تھے:
“موسیٰ کاظم کی قبر دعا کی قبولیت کے لیے آزمودہ تریاق (مجرب وسیلہ) ہے۔”
حوالہ جات:
(كرامات الأولياء للسجاعي / 6، الرسالة القشيرية / 10، الفجر الصادق / 89، سيوف الله / 83، البصائر / 42)
🔺 الخطيب البغدادي کی روایت
خطیب بغدادی نے اپنی کتاب تاریخ بغداد (1/133) میں امام الحنابلہ الحسن بن إبراهيم الخلال سے نقل کیا:
انہوں نے کہا:
“جب بھی مجھے کوئی مشکل پیش آئی، میں موسیٰ بن جعفر کی قبر کی طرف گیا اور ان کے وسیلے سے دعا کی، تو اللہ تعالیٰ نے میرے لیے وہ کام آسان کر دیا جسے میں چاہتا تھا۔”
🔺 ابن الصباغ المالكي کا قول
ابن الصباغ المالکی نے الفصول المهمة (2/932) میں لکھا:
“وہ اہلِ عراق کے نزدیک ‘باب الحوائج إلى الله’ (اللہ کی طرف حاجات کا دروازہ) کے نام سے مشہور ہیں، کیونکہ مسلمانوں کی حاجات پوری ہونے، مقاصد حاصل ہونے اور ضروریات برآور ہونے میں ان کی برکت مشاہدہ کی گئی ہے۔”