امام صادق (علیہ السلام) سے حدیث ہے باب تقیہ میں جس میں امام نے کہا ہے کہ یہ دین ایسا ہے کے کو اسے ظاہر کرے گا اللہ اسے ذلیل کرے گا اور جو اسے چھپائے گا اللہ اسے عزت آتا فرمائے گا۔
امام صادق (علیہ السلام) سے حدیث ہے باب تقیہ میں جس میں امام نے کہا ہے کہ یہ دین ایسا ہے کے کو اسے ظاہر کرے گا اللہ اسے ذلیل کرے گا اور جو اسے چھپائے گا اللہ اسے عزت آتا فرمائے گا۔

اعتراض ہے کہ الکافی میں امام صادق (علیہ السلام) سے حدیث ہے باب تقیہ میں جس میں امام نے کہا ہے کہ یہ دین ایسا ہے کے کو اسے ظاہر کرے گا اللہ اسے ذلیل کرے گا اور جو اسے چھپائے گا اللہ اسے عزت آتا فرمائے گا۔ جبکہ قرآن میں ہے سورہ صف آیت 9 سے اُس کے لحاظ سے یہ ثابت ہوتا ہے کے دین ظاہر ہو سب پر پس امام صادق ع سے مروی یہ حدیث قرآن کے مخالف ہے۔
جواب:
ہر حدیث کا خاص پس منظر ہوتا ہے
یہ حدیث امام علیہ السلام کے زمانے میں مخصوص ایام سے متعلق ہے جس میں امام نے اپنے صحابی کو حکم دیا کہ وہ اپنے دین کو ظاہر نہ کرے
اس حدیث سے یہ اخذ کرنا کہ اہل بیت علیہ السلام نے دین بیان نہ کرنے کا حکم دیا ہے ، بذات خود جہالت ہے کیونکہ ہمارے پاس دین کے احکامات میں اہل بیت علیہ السلام سے ہزاروں احادیث مروی ہیں جسے واضح ہوتا ہے کہ اہل بیت علیہ السلام نے دین کو نہیں چھپایا
جی یہ مکمل بات ہے باب کتمان کے نام سے
اس طرح کی روایات بے شمار ہے شیعہ احادیث میں
جن سے مراد یہ ہے کہ راز و معارف کو چھپانا اور اہل کو بتلانا،
کیونکہ نا اہل تکذیب کرے گا عدم معرفت کی وجہ سے۔
امام علیہ السلام کا مقصود یہ ہے کہ انسان کو چاہیے کہ کسی پر اعتماد کرنے یا اس کے سامنے راز ظاہر کرنے میں جلدی نہ کرے، جب تک کہ وہ اس کا امتحان نہ کر لے، کیونکہ حسد، کفر، حق کے خلاف عقیدہ اور دیگر بری اخلاقی صفات زیادہ تر لوگوں میں غالب ہوتی ہیں۔

مجھول روایت ہے بھائی