قرآن میں اللہ کے ہاتھ سے کیا مراد ہے ؟
کیونکہ مجسمہ کے نزدیک اس سے جسم کا اثبات کیا جاتا ہے
آیت کا معنی
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿ قَالَ يَا إِبْلِيسُ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ ﴾
(سورہ ص: 75)
جواب:
یہاں “ید” سے مراد حقیقی ہاتھ نہیں، بلکہ قدرت، قوت یا نعمت ہے۔ عربی زبان میں “ید” کا استعمال مجازاً قدرت و نعمت کے معنی میں عام ہے، اور قرآنِ کریم میں اس کی متعدد مثالیں موجود ہیں۔
قرآنی مثالیں:
﴿ وَاذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوُودَ ذَا الْأَيْدِ إِنَّهُ أَوَّابٌ ﴾
(سورہ ص: 17)
یعنی: ہمارے بندے داؤد کو یاد کرو جو قوت/قدرت یا نعمتوں والے تھے۔
یہ درست ہے، کیونکہ حضرت داؤدؑ بادشاہ تھے، اللہ نے انہیں ملک، حکمت، قوت اور نعمتیں عطا کی تھیں۔
﴿ وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ ﴾
(سورہ الذاریات: 47)
یعنی: ہم نے آسمان کو قوت کے ساتھ بنایا۔
﴿ وَأَيَّدَهُمْ بِرُوحٍ مِنْهُ ﴾
(سورہ المجادلہ: 22)
یعنی: اللہ نے انہیں اپنی طرف سے ایک روح کے ذریعے قوت بخشی۔
حدیث کی روشنی میں:
شیخ صدوقؒ روایت کرتے ہیں کہ محمد بن مسلم نے امام محمد باقرؑ سے آیت
﴿ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ ﴾
کے بارے میں سوال کیا تو امامؑ نے فرمایا:
“عرب کے کلام میں ‘ید’ سے مراد قوت اور نعمت ہوتی ہے۔”
پھر امامؑ نے یہی آیات بطور مثال ذکر فرمائیں اور بتایا کہ عرب کہتے ہیں:
“فلان کے مجھ پر بہت سے ‘ایادی’ ہیں”
یعنی اس کے مجھ پر بہت سے احسانات ہیں، اور
“اس کا میرے پاس سفید ہاتھ ہے”
یعنی اس کی مجھ پر بڑی نعمت ہے۔
(کتاب التوحید، ص 153)
شیخ مفیدؒ کا بیان:
شیخ مفیدؒ فرماتے ہیں کہ “ید” نعمت کے معنی میں آتی ہے۔ شاعر کا قول ہے:
لہ علیّ أیادٍ لستُ أكفرها
وإنما الكفر ألا تُشكرَ النِّعَمُ
یعنی: اس کے مجھ پر ایسے احسانات ہیں جن کا میں انکار نہیں کرتا،
اصل ناشکری یہ ہے کہ نعمتوں کا شکر ادا نہ کیا جائے۔
اسی بنا پر آیت
﴿ دَاوُودَ ذَا الْأَيْدِ ﴾
سے مراد نعمتوں والا ہے، اور
﴿ بَلْ يَدَاهُ مَبْسُوطَتَانِ ﴾
سے مراد اللہ کی دنیا و آخرت کی عام اور وسیع نعمتیں ہیں۔
(تصحيح اعتقادات الإمامية، ص 30