Recommended articles
تاریخ شبھات کا رد
شبھۃ تحریف قرآن کے متعلق فحرفوھا او حرفا
June 10, 2026
0
0
تاریخ
آیۃ مباھلہ حصہ 6
June 10, 2026
0
0
تاریخ
آیۃ مباھلہ حصہ 5
June 10, 2026
0
0
تاریخ
آیۃ مباھلہ حصہ 4
June 10, 2026
0
0
Momin Taaq
  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
    • For Youth & Seekers
  • Privacy Policy
    • Terms and conditions
  • Contact Us
شبھات کا رد علوم قرآن

قرآن میں اللہ کے ہاتھ سے کیا مراد ہے ؟

January 16, 2026
0
0

کیونکہ مجسمہ کے نزدیک اس سے جسم کا اثبات کیا جاتا ہے

آیت کا معنی
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿ قَالَ يَا إِبْلِيسُ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ ﴾
(سورہ ص: 75)
جواب:
یہاں “ید” سے مراد حقیقی ہاتھ نہیں، بلکہ قدرت، قوت یا نعمت ہے۔ عربی زبان میں “ید” کا استعمال مجازاً قدرت و نعمت کے معنی میں عام ہے، اور قرآنِ کریم میں اس کی متعدد مثالیں موجود ہیں۔
قرآنی مثالیں:
﴿ وَاذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوُودَ ذَا الْأَيْدِ إِنَّهُ أَوَّابٌ ﴾
(سورہ ص: 17)
یعنی: ہمارے بندے داؤد کو یاد کرو جو قوت/قدرت یا نعمتوں والے تھے۔
یہ درست ہے، کیونکہ حضرت داؤدؑ بادشاہ تھے، اللہ نے انہیں ملک، حکمت، قوت اور نعمتیں عطا کی تھیں۔
﴿ وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ ﴾
(سورہ الذاریات: 47)
یعنی: ہم نے آسمان کو قوت کے ساتھ بنایا۔
﴿ وَأَيَّدَهُمْ بِرُوحٍ مِنْهُ ﴾
(سورہ المجادلہ: 22)
یعنی: اللہ نے انہیں اپنی طرف سے ایک روح کے ذریعے قوت بخشی۔
حدیث کی روشنی میں:
شیخ صدوقؒ روایت کرتے ہیں کہ محمد بن مسلم نے امام محمد باقرؑ سے آیت
﴿ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ ﴾
کے بارے میں سوال کیا تو امامؑ نے فرمایا:
“عرب کے کلام میں ‘ید’ سے مراد قوت اور نعمت ہوتی ہے۔”
پھر امامؑ نے یہی آیات بطور مثال ذکر فرمائیں اور بتایا کہ عرب کہتے ہیں:
“فلان کے مجھ پر بہت سے ‘ایادی’ ہیں”
یعنی اس کے مجھ پر بہت سے احسانات ہیں، اور
“اس کا میرے پاس سفید ہاتھ ہے”
یعنی اس کی مجھ پر بڑی نعمت ہے۔
(کتاب التوحید، ص 153)
شیخ مفیدؒ کا بیان:
شیخ مفیدؒ فرماتے ہیں کہ “ید” نعمت کے معنی میں آتی ہے۔ شاعر کا قول ہے:
لہ علیّ أیادٍ لستُ أكفرها
وإنما الكفر ألا تُشكرَ النِّعَمُ
یعنی: اس کے مجھ پر ایسے احسانات ہیں جن کا میں انکار نہیں کرتا،
اصل ناشکری یہ ہے کہ نعمتوں کا شکر ادا نہ کیا جائے۔
اسی بنا پر آیت
﴿ دَاوُودَ ذَا الْأَيْدِ ﴾
سے مراد نعمتوں والا ہے، اور
﴿ بَلْ يَدَاهُ مَبْسُوطَتَانِ ﴾
سے مراد اللہ کی دنیا و آخرت کی عام اور وسیع نعمتیں ہیں۔
(تصحيح اعتقادات الإمامية، ص 30

Tags:
Done
Add to Bookmarks

Related Posts

تاریخ شبھات کا رد
شبھۃ تحریف قرآن کے متعلق فحرفوھا او حرفا
June 10, 2026
0
0
تاریخ
آیۃ مباھلہ حصہ 6
June 10, 2026
0
0
تاریخ
آیۃ مباھلہ حصہ 5
June 10, 2026
0
0

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll down to see next article
شبھات کا رد علوم قرآن
کیا امام جعفر صادق علیہ السلام نے شیعہ کو منافق کہا؟
About Us

Momin Taaq is a global online platform dedicated to presenting authentic Shia Islamic knowledge with clarity, logic, and respect.

Follow Us
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Pinterest
Featured Lectures
شبھات کا رد
جنگ احد میں امیر المومنین علیہ السلام کہاں تھے ؟
October 2, 2025
شبھات کا رد
یہ کیوں کہا گیا کہ “دابۃ”؟ کیا اس میں امیر المؤمنین (علیہ السلام) کی توہین نہیں ہے؟
September 26, 2025
عقیدہ امامت
ہ سب سے پہلے جس نے 12 اماموں بات شروع کی وہ شیخ کلینی اور علی بن بابویہ القمی علیھما الرحمۃ
February 9, 2019
Knowledge & Research
  • Imamat & Ahl al-Bayt (AS)28
  • Youth & New Muslims1
  • آیت تطھیر و اھل البیت علیھم السلام1
  • اصحاب رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم2
  • اعتقادات5

© 2025 Momin Taaq. All Rights Reserved.

  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
    • For Youth & Seekers
  • Privacy Policy
    • Terms and conditions
  • Contact Us
  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
  • Privacy Policy
  • Contact Us
  • For Youth & Seekers
  • Terms and conditions