کیا ابوطالب ص نے رسول اللہ کو دودھ پلایا ؟
وہابی اپنے گھر کی کتابوں کو دیکھنے کے بجاے ہمیشہ آل محمد ص کی کتب پہ اعتراض کرتے ہیں ۔۔ہم اپنی حدیث کا جواب تین حصوں میں آخر پہ دینگے مگر اس سے پہلے
ناصبیوں سے درخواست ہے کہ اگر اپنی کتابوں کو پڑھتے تو ان کو معلوم ہوجاتا کہ یہ باتیں صحیح اسناد کے ساتھ خود ان کی کتابوں میں لکھی ہیں ، تاریخ بغداد میں روایت ہے کہ
📚احمد بن ابی عوف نے اپنے والد اور چچا سے روایت کی ہے وہ کہہ رہے تھے ہم یزید بن ہارون کے ہاں ام جعفر کے باغ میں بیٹھے تھے، کہ ہم نے بلند قد کا خلاسی[ مخلوط یورپی اور حبشی نسل] آدمی دیکھا کہ اس کے ہاتھوں میں ایک بچہ تھا اور وہ اس مرد کا دودھ پی رہا تھا، اس آدمی نے کہا کہ اس بچے کی ماں نے اس کو پیدا کیا اور پھر وہ مفازہ یا فلاۃ کی سرزمین پر فوت ہوئی، میں نے بہلاوے کے لئے اسے اپنے سینے کے قریب کیا تو اللہ نے اس کو یہ رزق دیا ، [راوی کہتے ہیں] ہم نے دیکھا کہ اس کے پستانوں سے دودھ بہہ رہا تھا۔
حوالہ: [ تاریخ بغداد، ج١۵، ص١۴٦ و ١۴٧ ]
دلچسپ بات یہ ہےکہ خطیب بغدادی نے یہ واقعہ اس شخص پر اللہ کی طرف سے لطف و عنایت کے باب سےذکر کیا ہےکہ خود ان کی تصریح کےمطابق یہ شخص مکی بن مرزوق ہے
اس روایت کی تمام اسناد صیح ہیں آپ اب اس روایت کی سند کو ملاحظہ فرمائیں
أبو الحسن محمد بن أسد بن علی بن سعید الکاتب :
📚محمد بن أسد بن علی بن سعید أبو الحسن الکاتب المقرئ سمع أبا بکر أحمد بن سلمان النجاد وعلی بن محمد بن الزبیر الکوفی،وجعفرالخلدی،وعبدالملک بن الحسن السقطی،وجماعة من هذه الطبقة. کتبت عنه وکان صدوقا.
حوالہ: [ تاریخ بغداد، ج٢، ص۴٣٠ ]
الحسن بن ابی بکر :
الْحَسَن بْن أَحْمَد بْن إِبْرَاهِیم بْن الْحَسَن بن مُحَمَّدبن شاذان بْن حرب بْن مهران أَبُو عَلِیّ البزاز ….. کتبنا عنه، وکان صدوقا صحیح الکتاب.. سمعت أبا الْحَسَن بن رزقویه، یقول: أَبُو عَلِیّ بن شاذان ثقة. وسمعت الأزهری، یقول: أَبُو عَلِیّ بن شاذان من أوثق من برأ اللَّه فِی الحدیث، وسماعی منه أحب إلی من السماع من غیره، أو کما قَالَ.
حوالہ: [تاریخ بغداد،ج٨،ص٢٢٣ ط دار الغرب الاسلامی]
أبو عمرو عبد الملک بن الحسن بن یوسف المعدل :
🔯 عبد الملک بن الحسن بن یوسف بن الفضل أبو عمرو المعدل، ویعرف بابن السقطی ….. حَدَّثَنَا عنه محمد بن أسد الکاتب، والحسن بْن أبی بَکْر، وأبو علی بن شاذان، وأبو نعیم الحافظ، وکان ثقة ….. سألت أبا نعیم الحافظ عن عبد الملک بن الحسن، فقال: ثقة …..
حوالہ: [تاریخ بغداد،ج١٢،ص١٨۵ ط دار الغرب الاسلامی]
احمد بن ابی عوف و پدر و عمویش :
🔯قال السهمی: سألت الدَّارَقُطْنِیّ عن أبی عبد الله أحمد بن أبی عوف البزوری العدل؟ فقال : ثقة هو وأبوه وعمه وإنما یحکى عنه حکایة.
حوالہ: [ موسوعة أقوال أبی الحسن الدارقطنی فی رجال الحدیث وعلله،ج٢،ص٦٦٢ ط عالم الکتب ]
📚 ابومحمد دلاصی کے لئے بھی اہلسنت نے یہی کچھ لکھا ہے،
☠️ ابومحمد دلاصی کےکرامات میں سے ایک یہ ہےکہ اسکے بچے کی ماں غائب ہوئی تو وہ رونے لگا ، ابومحمد دلاصی کے پستانوں سے دودھ آنا شروع ہوا ، بچے نے دودھ پیا اور خاموش ہوا ، ابو محمد دلاصی کے اور بھی بہت زیادہ مشہور کرامات ہیں،
حوالہ: [ مرآة الجنان، ج۴، ص٢٠٠ ط دار الکتب العلمیة ]
: [ لعقد الثمین فی تاریخ البلد الامین – جلد ۵ -صفحہ ١٩٨ ]
🔰🔰🔰🔰🔰🔰📚🔰🔰🔰🔰🔰🔰
ہماری روایت کا جواب
سب سے پہلا اور بنیادی جواب یہ ہے کہ کیا اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر نہیں ہے کہ وہ اپنے حبیبؐ کی خاطر کسی بھی جگہ سے دودھ جاری کر دے؟
* اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام مٹی کے پرندے میں پھونک مار کر اسے زندہ کر سکتے ہیں (قرآن: ۵:۱۱۰)۔
اگر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عصا مارنے سے پتھر سے ۱۲ چشمے جاری ہو سکتے ہیں (قرآن: ۲:۶۰)۔
تو کیا کائنات کے سب سے افضل نبیؐ کی پیاس بجھانے کے لیے اللہ تعالیٰ جنابِ ابوطالبؑ کے سینے سے معجزاتی طور پر دودھ جاری نہیں کر سکتا؟ یہ سراسر خارقِ عادت (Miracle) کا معاملہ ہے، نہ کہ طبیعات (Biology) کا۔
امام بیہقی اور دیگر مورخین نے نقل کیا ہے کہ رسول اللہؐ نے امام حسینؑ کو اپنی زبان یا انگوٹھے سے دودھ پلایا (جب جناب سیدہؑ کے پاس دودھ نہیں تھا)۔
* اہل سنت کی معتبر کتب (جیسے الاصابہ یا اسد الغابہ) میں صحابہ کے ایسے قصے موجود ہیں جہاں بھوک کی شدت میں معجزاتی طور پر کھانا یا پینا مہیا ہوا۔
اگر انگوٹھے سے دودھ نکلنا معجزہ ہے، تو جناب ابوطالبؑ کے سینے سے نکلنے پہ اعتراض کیسا ؟

اعتراض کرنے والی اسے مرد کی اناٹومی (Anatomy) سے دیکھ رہا ہے، جبکہ یہ ولایت کا تصرف ہے۔
قرآن میں ہے کہ حضرت مریمؑ کے پاس بے موسم کے پھل آتے تھے (قرآن: ۳:۳۷)۔
اب اگر کوئی کہے کہ “بغیر درخت اور موسم کے پھل کیسے آ سکتے ہیں؟” تو یہ قرآن کا انکار ہوگا۔ اسی طرح یہاں مادی اسباب کو دیکھنا ایمانِ کامل کی نشانی نہیں ہے۔
جس خدا نے مریمؑ کو بن باپ کے بیٹا دیا، جس نے آگ کو ابراہیمؑ کے لیے گلزار بنایا، اور جس نے تمہاری کتب کے مطابق ابوبکر کے غار والے واقعے میں مکڑی سے جالا تنوایا، کیا وہی خدا ابوطالبؑ کے سینے سے دودھ نکالنے سے عاجز ہے؟ مسئلہ سائنس نہیں، مسئلہ بغضِ ابوطالبؑ ہے

چار نبیوں کی حیات کے اقرار اور حضرت مہدیؑ کے انکار کا تضاد
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی صاحب اپنے فتاویٰ میں تحریر فرماتے ہیں کہ:
“چار نبی زندہ ہیں: حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت ادریس علیہ السلام آسمانوں پر جبکہ حضرت الیاس علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام زمین پر موجود ہیں۔”
(فتاویٰ رضویہ، جلد ۲۹، صفحہ ۱۱۰)
یہ امر نہایت قابلِ غور ہے کہ جب بات انبیائے کرام علیہم السلام کی ہو تو بعض لوگ بلا تردد ان کی ہزاروں سالہ حیات کو تسلیم کر لیتے ہیں اور اسے قدرتِ الٰہی کا مظہر سمجھتے ہیں۔ مگر یہی افراد جب وصیِ رسول ﷺ، خلیفۃُ الله حضرت امام مہدی علیہ السلام کی طویل عمر اور حیات کا ذکر سنتے ہیں تو انکار کی راہ اختیار کر لیتے ہیں۔
ایک طرف انبیاء علیہم السلام کی غیر معمولی طویل زندگی کو مان لینا اور دوسری طرف اسی قدرتِ خداوندی کو ایک برگزیدہ ولی و امام کے حق میں تسلیم نہ کرنا یہ طرزِ فکر کھلا تضاد ہے۔
اگر قدرتِ الہٰی کے تحت انبیاء علیہم السلام کو صدیوں تک زندہ رکھا جا سکتا ہے تو پھر حضرت مہدی علیہ السلام کی طویل حیات کو بعید سمجھنا کس دلیل پر قائم ہے؟