کیا شیعہ ختم نبوت کے منکر ہیں؟

: پہلی دلیل پیش کی گئی
ایسے مسائل جو قرآن و سنت میں نا ہو امام کو الھام ہوجاتا
فرمایا گیا تشریعی احکام
امامِ معصوم کو جو الہام حاصل ہوتا ہے، وہ تشریعی وحی نہیں ہوتا، بلکہ ایک ربّانی فیض اور الٰہی تائید ہوتی ہے، جو اسے اس قابل بناتی ہے کہ وہ الٰہی حقائق کو مکمل دقت کے ساتھ سمجھ سکے۔ جیسا کہ حضرت مریم (علیہا السلام) کے ساتھ ہوا، کہ غیب سے رابطہ ہونے کے باوجود وہ نبیہ نہیں تھیں۔
اس کی. وضاحت علوم قرآن سے لیتے ہیں
وحی کی دو قسمیں ہیں
وحی رسالی
وحی غیر رسالی
وحی رسالی رسول جو نبی یا رسول سے خاص ہیں
جبکہ. وحی غیر رسالی غیر. نبی پر. بھی آسکتی ہیں

نحل پر. وحی ہو رہی ہیں تو کیا وہ. نبی ہو گی
اشکال : جی وہ نحل پر. کوئی حکم تشریعی نازل نہیں ہوا
جبکہ آپ کے امام پر حکم تشریعی نازل ہوتے تھے
کس نے کہاں احکام تشریعی نازل ہوتے تھے پہلے کو چھوڑ کر
بلکہ قرآن سنت قیامت تک کیلئے انسانی. زندگی کا ضابطہ بیان کرتی ہیں
بعض. اوقات قواعد کی صورت میں بعض اوقات صراحۃ
احکام تشریعی سید الانبیاء علیھم السلام کے زمانے میں ہی مکمل. بیان ہو. چکے
وگرنہ موصوف اس نص سے ثابت کرے کہاں لکھا کہ احکام تشریعہ نئے مازل ہوتے ہیں
وہ کونسے احکام تھے
اسی سے آگے آنے والی روایت بیان کرتی ہیں

حضرت علیؑ اللہ کی کتاب اور اس کے نبیؐ کی سنت کے مطابق عمل کرتے ہیں، اور جب ان کے سامنے کوئی نیا معاملہ پیش آتا ہے جو نہ کتاب میں ہو اور نہ سنت میں، تو اللہ تعالیٰ انہیں اس کا علم الہام کے ذریعے عطا فرما دیتا ہے، اور خدا کی قسم! یہ (الہام) معصومین کی خصوصیات میں سے ہے۔
[3:56 pm, 12/06/2026] Sadaf api Au: خلاصہ بحث
اولا تو اس میں صراحت ہی نہیں ختم. نبوت کے انکار کی
دوسری الھام کی بات وہ تو غیر نبیوں پر. بھی نازل ہوتی ہو رہی
تیسری. بات کوئی نئی. شریعت نہیں
بلکہ. جو نئے مسائل پیش ہوتے
تو تعلیم رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ وسلم کے مطابق حل کیا جاتا
اور یقینا ان پچیدہ. مسائل کا حل صرف معصوم ہی بیان کر سکتے ہیں ہے
اس کی دلیل لولا علی لھلک عمر ہے

سوال: کیا الہام شریعت میں شمار ہوتا ہے؟
جواب:
نبی ﷺ کو ہونے والا الہام شریعت کا حصہ ہوتا ہے، لیکن نبی ﷺ کے بعد الہام شریعت میں شامل نہیں ہوتا کیونکہ الہام کی حد واضح نہیں ہوتی۔ اگر کسی انسان کو ہونے والا الہام قرآن و سنت کے موافق ہو تو وہ اللہ کی طرف سے توفیق ہے اور اسے الہام کے باب میں شمار کیا جاتا ہے، لیکن اگر وہ قرآن و سنت کے خلاف ہو تو وہ الہام نہیں بلکہ شیطان کی طرف سے دھوکہ اور وسوسہ ہے۔

اب کے بزرگو کو یہ. توفیق نہیں ملی تو اس میں شیعہ کا کیا قصور
سند روايت کی تحقیق
سعيد بن مسيب ( راوی صحيح بخاري)
سعيد بن المسيب … أحد العلماء الأثبات الفقهاء الكبار من كبار الثانية اتفقوا على أن مرسلاته أصح المراسيل وقال ابن المديني لا أعلم في التابعين أوسع علما منه.
تقريب التهذيب – ابن حجر – ج 1 ص 364.
يحيي بن سعيد ( راوی صحيح بخاري)
يحيى بن سعيد بن قيس بن عمرو ، الإمام أبو سعيد الأنصاري ، قاضي السفاح ، عن أنس ، وابن المسيب ، وعنه مالك ، والقطان ، حافظ فقيه حجة ، مات 143
الكاشف في معرفة من له رواية في كتب الستة – الذهبي – ج 2 ص 366.
يحيى بن سعيد بن قيس الأنصاري المدني أبو سعيد القاضي ثقة ثبت ، من الخامسة مات سنة أربع وأربعين أو بعدها / ع .
تقريب التهذيب – ابن حجر – ج 2 ص 303.
. سفيان ثوري ( راوی صحيح بخاري)
وقال شعبة ، وسفيان بن عيينة ، وأبو عاصم النبيل ، ويحيى بن معين ، وغير واحد من العلماء : سفيان أمير المؤمنين في الحديث .
تهذيب الكمال – المزي – ج 11 ص 165.
مومل بن اسماعيل ( راوی صحيح بخاري)
مؤمل بن إسماعيل البصري العمري مولاهم … قال أبو حاتم : صدوق شديد في السنة كثير الخطأ … مات 206 . ت س ق .
الكاشف في معرفة من له رواية في كتب الستة – الذهبي – ج 2 ص 309.
قال ابن أبي خيثمة عن ابن معين ثقة وقال عثمان الدارمي قلت لابن معين أي شئ حاله فقال ثقة قلت هو أحب إليك أو عبيد الله يعني ابن موسى فلم يفضل وقال أبو حاتم صدوق شديد في السنة كثير الخطأ .
تهذيب التهذيب – ابن حجر – ج 10 ص 340
عبيد الله بن عمر القواريري ( راوی صحيح بخاري)
عبيد الله بن عمر القواريري أبو سعيد البصري الحافظ روى مائة ألف حديث … مات في ذي الحجة 235 . خ م د س.
الكاشف في معرفة من له رواية في كتب الستة – الذهبي – ج 1 ص 685.
عبيد الله بن عمر بن ميسرة القواريري أبو سعيد البصري نزيل بغداد ثقة ثبت.
تقريب التهذيب – ابن حجر – ج 1 ص 637.
احمد بن زهير
احمد بن زهير بن حرب بن شداد … الحافظ الكبير ابن الحافظ … قال الخطيب كان ثقة عالما متقنا حافظا بصيرا بأيام الناس وأئمة الأدب.
لسان الميزان – ابن حجر – ج 1 ص 174