کیا آج کے زمانے میں بھی مباہلہ ممکن ہے …؟
پہلا نکتہ:
مباہلہ کا مطلب دو افراد یا دو گروہوں کا ایک دوسرے پر لعنت بھیجنا ہے،
جب دلیل اور منطق کارگر نہ ہو یعنی وہ لوگ جو کسی اہم مذہبی مسئلے پر بحث کر رہے ہوں ایک جگہ جمع ہوں اللّہ کی بارگاہ میں تضرع کریں اور دعا کریں کہ جو جھوٹا ہے اللّہ اسے رسوا اور سزا دے۔
دوسرا نکتہ:
اسلامی روایات سے معلوم ہوتا ھیکہ مباہلہ صرف کسی خاص زمانے کے لیے مخصوص نہیں بلکہ ایک عمومی حکم ہے۔ چنانچہ امام صادق علیہ السلام سے روایت ہے:
«…إذا كان كذلك فادعهم الى المباهلة…»
یعنی: اگر تمہارے حق کو مخالفین قبول نہ کریں تو انہیں مباہلہ کی دعوت دو۔
📚 نورالثقلین، جلد 1، صــ 351
⁉️ کیا مباھلہ ایک عام حکم ہے …؟
اس میں کوئی شک نہیں ھیکہ مباھلہ کی آیت تمام مسلمانوں کو مباھلہ کی دعوت دینے کے لئے ایک عام حکم نہیں ہے بلکہ اس آیت میں مخاطب صرف اور صرف پیغمبرِ اکرمؐ ہیں لیکن یہ موضوع اس بات سے منع نہیں کرتا کہ مخالفین کے سامنے مباھلہ ایک عام حکم ہو جائے اور ایماندار لوگ جوکہ کامل طور پر تقوی اور خدا کی عبادت کرتے ہیں وہ اپنے استدلال پیش کرتے وقت دشمن کی لجاجت کیوجہ سے انکو مباھلہ کی دعوت دے سکتے ہیں ۔
اسلامی کتابوں میں جو روایات نقل ہوئی ہیں ان سے بھی اس حکم کا عام ہونا سمجھا جاتا ہے : تفسیر نور الثقلین کی پہلی جلد کے صــ ٣٥١ پر امام صادقؑ سے ایک روایت نقل ہوئی ہے جس میں آپؑ نے فرمایا ہے:
اگر مخالفین تمہاری حق بات کو قبول نہ کریں تو تم ان کو مباھلہ کی دعوت دو …
راوی کہتا ہے: میں نے سوال کیا کہ ان سے کس طرح مباھلہ کریں ؟
فرمایا: تین دن تک اپنی اخلاقی اصلاح کرو …
میں خیال کرتا ہوں کہ آپؑ نے فرمایا:
روزہ رکھو، غسل کرو اور جس سے مباھلہ کرنا چاہتے ہو اس کے ساتھ صحرا میں جاؤ پھر اپنے داہنے ہاتھ کی انگلیوں کو اسکے داہنے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالو اور تم خود شروع کرو اور کہو:
خدایا ! تو ساتوں آسمانوں اور ساتوں زمینوں کا پروردگار ہے اور ان کے اندر چھپے ہوئے اسرار سے آگاہ ہے، تو رحمان و رحیم ہے اگر میرا مخالف حق کا انکار کرے اور باطل کا دعویٰ کرے تو آسمان سے اسکے اوپر ایک بلا نازل فرما اور اسکو دردناک عذاب میں مبتلا کر دے …
اور ایک مرتبہ پھر اس دعا کو دہرائے اور کہے:
اگر یہ شخص حق کا انکار کرے اور باطل کا دعویٰ کرے تو آسمان سے اسکے اوپر ایک بلا نازل فرما اور اسکو دردناک عذاب میں مبتلا کر دے …!
پھر فرمایا: کچھ دیر نہیں گزرے گی کہ اسکا نتیجہ ظاہر ہو جائیگا،
خدا کی قسم ! کوئی بھی شخص اس طرح سے میرے ساتھ مباھلہ کرنے کو تیار نہیں ہوا ۔
📚 جواهر الکلام، جلد 5، صــ 40، دار الکتب الاسلامیة، چاپخانه خورشید؛ «المیزان»، جلد 4، صــ 410، انتشارات جامعه مدرسین؛ «کافى»، جلد 2، صــ 513 و 514، دار الکتب الاسلامیة؛ «وسائل الشیعه»، جلد 7، صــ 134، چاپ آل البیت؛ «بحار الانوار»، جلد 92، صــ 349؛ «عدّة الداعى»، صــ 214 و 215، دار الکتاب الاسلامى، 1407 هـ ق؛ «نور الثقلین»، جلد 1، صــ 351، مؤسسه اسماعیلیان، طبع چهارم، 1412 هـ ق.
📚 اقتباس از کتاب: تفسیر نمونه، آيت الله العظمي مکارم شيرازي، دار الکتب الإسلامیه، چاپ چهل و هفتم، ج 2، صــ 684
⁉️ پیغمبرِ اسلامؐ نے کس طرح مباھلہ کیا …؟
مباہلہ: در اصل ”بھل“ کے مادہ سے ہے اسکا معنی ہے ”رہا کرنا“ اور کسی کی قید و بند کو ختم کر دینا ۔
اسی بناء پر جب کسی جانور کو اسکے حال پر چھوڑ دیں اور اسکے پستان کسی تھیلی میں نہ باندھیں تاکہ اسکا نوزائیدہ بچہ آزادی سے اسکا دودھ پی سکے تو اسے ”باھل“ کہتے ہیں ۔ دعا میں ”ابتھال“ تضرع و زاری اور کام خدا کے سپرد کرنے کے معنی میں آتا ہے۔
کبھی کبھار یہ لفظ ہلاکت، لعنت اور خدا سے دوری کے معنی میں اس لیے استعمال ہوتا ہے کہ بندے کو اسکے حال پر چھوڑ دینا منفی نتائج کا حامل ہوتا ہے ۔
یہ تو تھا ”مباہلہ” کا مفہوم اصل لغت کے لحاظ سے لیکن اس مروج مفہوم کے لحاظ سے جو آیت میں مراد لیا گیا ہے یہ دو أشخاص کے درمیان ایک دوسرے پر نفرین کرنے کو کہتے ہیں اور وہ بھی اس طرح کہ دو گروہ جو کسی اہم مذہبی مسئلے میں اختلافَ رایے رکھتے ہوں ایک جگہ جمع ہو جائیں، بارگاہ الہٰی میں تضرع کریں اور اس سے دعا کریں کہ وہ جھوٹے کو رسوا و ذلیل کرے اور اسے سزا و عذاب دے ۔
آیتِ مباھلہ میں خدا تعالیٰ نے اپنے پیغمبرؐ کو حکم دیا ہے کہ ان واضح دلائل کے بعد بھی کوئی شخص آپؐ سے حضرت عیسٰیؑ کے بارے میں گفتگو اور جھگڑا کرے تو اسے ”مباہلہ” کی دعوت دو اور کہو کہ وہ اپنے بچوں، عورتوں اور نفسوں کو لے آئے اور تم بھی اپنے بچوں اور عورتوں اور نفسوں کو بلاؤ پھر دعا کرو تاکہ خدا جھوٹوں کو رسوا کر دے ۔
(فَمَنْ حَاجَّکَ فیهِ مِنْ بَعْدِ ما جاءَکَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعالَوْا نَدْعُ اَبْناءَنا وَ اَبْناءَکُمْ وَ نِساءَنا وَ نِساءَکُمْ وَ اَنْفُسَنا وَ اَنْفُسَکُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَعْنَتَ اللّهِ عَلَى الْکاذِبینَ).(سورہ آل عمران آیت 61)
اسلامی روایات میں ھیکہ “مباہلہ“ کی دعوت دی گئی تو نجران کے عیسائیوں کے نمائندے پیغمبرِ اکرمؐ کے پاس آئے اور آپؐ سے مہلت چاہی تاکہ اس بارے میں سوچ بچار کر لیں اور اس سلسلے میں اپنے بزرگوں سے مشورہ کر لیں ۔ مشورے کی یہ بات انکی نفساتی حالت کی چغلی کھاتی ہے ۔ بہرحال مشورے کا نتیجہ یہ نکلا کہ عیسائیوں کے مابین یہ طے پایا کہ اگر محمدؐ شور و غل، مجمع اور داد و فریاد کے ساتھ ”مباہلہ“ کے لیے آئیں تو ڈرا نہ جائے اور مباہلہ کر لیا جائے کیونکہ اگر اس طرح آئیں تو پھر حقیقت کچھ بھی نہیں جبھی شور و غل کا سہارا لیا جاے اور اگر وہ بہت محدود افراد کے ساتھ آئیں بہت قریبی خواص اور چھوٹے بچوں کو لیکر وعدہ گاہ میں پہنچیں تو پھر جان لینا چاہیئے کہ وہ خدا کے پیغمبر ہیں اور اس صورت میں ان سے ”مباہلہ“ کرنے سے پرہیز کرنا چاہیئے کیونکہ اس صورت میں معاملہ خطرناک ہے۔
طے شدہ پروگرام کے مطابق عیسائی میدانِ مباہلہ میں پہنچے تو اچانک دیکھا کہ پیغمبرؐ اپنے بیٹے حسینؑ کو گود میں لیے حسنؑ کا ہاتھ پکڑے اور علیؑ و فاطمہؑ کو ہمراہ لیے آپہنچے ہیں اور انہیں فرما رہے ہیں کہ جب میں دعا کروں تم آمین کہنا ۔
عیسائیوں نے یہ کیفیت دیکھی تو انتہایی پریشان ہوے اور مباھلہ سے رک گئے اور صلح و مصالحت کے لیے تیار ہو گئے اور اہل ذمہ کی حیثیت سے رہنے پر آمادہ ہو گئے ۔
📚 تفسیر نمونه، جلد 2، صــ 671