کیا امام حسن علیہ السلام نے معاویہ کی بیعت کی

کیسی روایت سے استدلال جس میں ایک نہیں 3 راوی مجھول ہیں
تحقیق کے مطابق یہ بات واضح ہوئی کہ اس روایت سے مخالفین کے خلاف ہمارے اوپر کوئی حجت قائم نہیں ہوتی، کیونکہ یہ روایت مجہول ہے نہ اس کے راوی کی وثاقت معلوم ہے اور نہ اس کے ضبط (یادداشت و دقت) کا حال معلوم ہے، اور وہ راوی فضل یا فضیل، جو محمد بن راشد کا غلام ہے۔
اور اگر بالفرض اس روایت کو مان بھی لیا جائے تو:
> اس میں جو بیعت کا لفظ آیا ہے، وہ حقیقی معنی میں نہیں بلکہ مجازی (تسامحاً) استعمال ہوا ہے، اور اس سے مراد صرف حکومت چھوڑ دینا (سیاسی دستبرداری) ہے، نہ کہ خلافت کی شرعی حیثیت کو تسلیم کرنا یا معاویہ (لعنہ اللہ) کی اہلیت کا اقرار کرنا۔
کیونکہ یہ بات ثابت ہے کہ امام حسن علیہ السلام نے صلح کے وقت یہ شرط رکھی تھی کہ:
> معاویہ کو امیر المؤمنین نہ کہا جائے۔
جیسا کہ یہ بات مخالفین کے بڑے امام ابن خزیمہ نے بھی نقل کی ہے (علل الشرائع، ج1، ص210)۔
اور سلیم بن قیس سے روایت ہے کہ:
جب امام حسن بن علی علیہما السلام معاویہ سے ملے تو آپ منبر پر کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا:
> اے لوگو! معاویہ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ میں نے اسے خلافت کا اہل سمجھا ہے اور اپنے آپ کو اس کا اہل نہیں سمجھا — جبکہ معاویہ جھوٹ بولتا ہے۔
> میں لوگوں پر سب سے زیادہ حق رکھتا ہوں، اللہ کی کتاب اور اس کے نبی کی زبان کے مطابق۔
> پھر فرمایا: میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں کہ اگر لوگ میری بیعت کرتے، میری اطاعت کرتے اور میری مدد کرتے، تو آسمان ان پر بارش برساتا اور زمین اپنی برکتیں عطا کرتی، اور اے معاویہ! تمہیں خلافت کی خواہش بھی نہ ہوتی۔
(بحار الأنوار، ج44، ص22)
یہ روایت ضعیف/مجہول سند کی بنا پر حجت نہیں
بیعت کا لفظ یہاں سیاسی صلح اور دستبرداری کے معنی میں ہے
امام حسنؑ نے معاویہ کی خلافت کو حق نہیں مانا
بلکہ واضح طور پر فرمایا:
معاویہ جھوٹ بولتا ہے



