شیعہ ختم. نبوت کے منکر ہیں7
عصمت:
امت مسلمہ کے نزدیک عصمت صرف انبیاء ورسل کا خاصہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے خاتم الانبیاء ہونے کا معنی یہی ہے کہ آپ ﷺ ہی خاتم المعصومین ہیں، انبیاء کے علاوہ کوئی دوسری شخصیت معصوم عن الخطاء نہیں۔ مگر شیعہ علماء کہتے ہیں کہ ائمہ بھی اس صفت میں انبیاء کرام کے ہم پلہ و شریک ہیں جس طرح اللہ تعالٰی نے انبیاء کرام کی حفاظت و صیانت اور انہیں غلطیوں سے پاک کرنے کا ذمہ لیا ہے۔ بعینہ بارہ امام بھی ہر قسم کی غلطی اور لغزش سے پاک ہیں۔
چنانچہ شیعہ محدث طوسی لکھتا ہے:
’’العصمة عند الامامية شرط اساسى الجميع الانبياء والائمة عليهم السلام سواء في الذنوب الكبيرة والصغيرة قبل النبوة والامامة وبعد هما على سبيل العمد والنسيان، وهكذا العصمة من كل الرذائل والقبائح ‘‘ ( تلخیص الثانی از طوسی ۶۲/۱)
’’امامیوں کے نزدیک انبیاء اور اماموں کا معصوم ہو نا ثبوت و امامت کی بنیادی شرط ہے۔ انبیاء وائمہ کبیر و صغیرہ ہر قسم کے گناہوں سے معصوم ہیں ان سے نبوت امامت سے پہلے غلطی کے صدور کا امکان ہے نہ نبوت و امامت کے بعد وہ عمدا گناہ کا ارتکاب کرتے ہیں نہ نسیانا، اسی طرح وہ ہر قسم کی غیر اخلاقی اور انسانی مروت کے خلاف حرکات سے بھی معصوم ہوتے ہیں۔
نیز امام چونکہ واجب الاطاعت ہوتا ہے۔ اس لیے اس کا معصوم ہونا ضروری ہے۔
(تلخیص الشافی صفحه ۱۹۱)
ملا باقر مجلسی لکھا ہے:
’’اجماع الامامية متعقد على أن الامام مثل النبي معصوم من أول عمره إلى آخر عمره من جميع الذنوب الصغائر والكبائر‘‘ ( حق الیقین از مجلسی صفحہ ۴۰، عقيدة الشيعتہ في الامامتہ صفحہ ۲۳۴)
ترجمہ:
’’امامیوں کہ اس بات پر اجماع ہے کہ امام بھی نبی ﷺ کی طرح صغیرہ و کبیرہ گنا ہوں سے از پیدائش تا وفات معصوم عن الخطاء ہوتا ہے۔
( حق الیقین از مجلسی صفحہ ۴۰، عقيدة الشيعتہ في الامامتہ صفحہ ۲۳۴)
ابن بابویہ نے اپنی کتاب کمال الدین و تمام النعمتہ میں ’’وجوب عصۃ الامام‘‘ کا ایک عنوان قائم کیا ہے جس کے تحت اس نے مختلف روایات کا سہارا لے کر بے بنیاد قسم کے دلائل ذکر کیے ہیں۔ ایک جگہ لکھتا ہے:
’’اگر ہم کسی امام کی امامت کو تو مان لیں مگر اس کے معصوم ہوے پر ایمان نہ لائیں تو اس کا معنی یہ ہو گا کہ ہم نے اس کی امامت کو ہی نہیں مانا‘‘۔
( کمال الدین از ابن بابویه ۱۵/۱)
رسول اللہ ﷺ کی طرف جھوٹ منسوب کرتے ہوئے ایک شیعہ عالم لکھتا ہے:
’’ انا وعلى والحسن والحسين والتسعة من ولد الحسين مطهرون معصومون‘‘
یعنی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں، علی، حسن اور حسین کی اولاد میں سے نو امام معصوم اور گناہوں سے پاک ہیں۔
(عیون اخبار الرضا از این بابو یہ قمی ۶۴/۱ ، عقیدۃ الشیعتہ فی الامامتہ از محمد باقر شریعتی صفحه ۲۲۸)
ابن بابویہ تھی اپنی کتاب معانی الاظہار میں لکھتا ہے:
’’ابن ابی عمر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں:
میں نے ہشام بن حکم سے پوچھا:
کیا امام معصوم ہوتا ہے؟
انہوں نے کہا: ہاں
راوی کہتا ہے :
میں نے پوچھا:
اوصاف عصمت کیا ہیں؟
کہا:
تمام گناہوں کو ہم چار قسموں میں تقسیم کر سکتے ہیں:
حرص، حسد، غضب ، اور شہوت
امام حریص اس لیے نہیں ہوتا کہ ساری دنیا اس کے قبضے میں ہوتی ہے۔ وہ خود دنیا کا مالک ہوتا ہے۔ حسداس لیے نہیں ہوتا کہ اس کا رتبہ سب سے بلند ہوتا ہے اور انسان حسد اس سے کرتا ہے جو اس سے بالا ہو۔
اسے غصہ اس لیے نہیں آتا کہ اس کی ساری جد و جہد کا محور اللہ کی رضا کا حصول ہوتا ہے۔ دنیوی خواہشات ولذت کا متبع اس لیے نہیں ہوتا کہ اسے آخرت اسی طرح محبوب ہوتی ہے جس طرح ہمیں دنیا۔
گناہ کی یہ چار قسمیں ہیں اور ان چاروں سے امام محفوظ ہوتا ہے۔
(معانی الاخبار از قمی صفحہ ۱۳۱ ‘ ۱۳۳ ، امالی الصدوق صفحه ۵۰۵)
یہاں تک یہ مخالفین کے اعتراض ہیں
ہمارا سادہ سا سوال ہے
قرآن کی کوئی ایک ایسی آیت لکھ دے جس میں یہ ہو کہ عصمت غیر نبی کو نہیں مل سکتی اور اس سے ختم نبوت کا انکار وگرنہ جس طرح مخالف نے ہمارے محدث کیلئے کہا
کہ نعوذبااللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی طرف جھوٹ منسوب کرکے بیان کیا
ہم کہے گے آپ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی طرف جھوٹ منسوب کیا ہوا ہے
جب کہ یہ بات بھی واضح کہ عصمت غیر نبی کو ملنے پر ختم نبوت کا انکار لازم آتا ہو یہ بھی کسی حدیث میں نہیں ہے
فن مناظرہ کا ایک قانون ہے
دلیل دعوی سے اخص ہو
یا دعوی کے مساوی ہو
مثلاً
مدعی کہے عیسی علیہ السلام مخلوق ہیں اللہ کی
اور دلیل دے جناب عیسی کی ولادت ہوئی وہ کھاتے ہیں پیتے ہیں بات کرتے ہیں یہ سب صفات انسان کی ہیں
تو جب ثابت ہو جائے انسان ہیں مخلوق ہونا خود بخود ثابت ہو جائے گا
کیونکہ انسان ہونا اخص ہے اور. مخلوق ہونا اعم ہے
مخلوق کا دائرہ وسیع
یا پھر دلیل دے
کہ جناب عیسی مخلوق ہیں
یہ مساوی دعوی ہوجائے گی
ہم بھی مطالبہ رکھتے ہیں
کہ اگر مخالف ایسی کوئی دلیل لے
کہ غیر نبی کیلئے عصمت کا اقرار ختم نبوت کے انکار کا سبب بنتا ہے
تو پیش کرے
ورنہ ہمیں معلوم ہے
مخالف کا مذھب کہانی سنانے میں بہت ماہر ہیں
مجھے معلوم ہیں مخالف کبھی اہنے دعوی کو ثابت نہیں کر سکتا بغیر کہانی کہ
خیر مخالف کو اس کا گھر دکھاتے ہیں
کہ اہلِ بدر کو اللہ تعالیٰ نے معصوم بنا دیا ہے
ملاحظہ فرمائیں

ان اللہ تعال عصمھم فلا یقع منھم ذنب
اللہ نے ان کو. معصوم بنا دیا ہے پس. ان سے گناہ سرزد نہیں ہوتا
یہاں پر عصمت کا. معنی کچھ اور. کر بھی نہیں سکتھ کیونکہ آگے ہی اس. کا. معنی بیان کر. دیا ہیں کہ کہ اس. سے گناہ سر زد. ہوتا ہے
ایک نہیں اھل بدر
ھن لاؤ. فتوی ختم نبوت دے منکر
میں کہتا ہوں: اگر اہل بدر کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس واقعہ (جنگِ بدر) کی وجہ سے معصوم بنا دیا ہے جیسا کہ اہل سنت کا دعویٰ ہے تو پھر اہل بیت علیہم السلام کی عصمت کو کیوں قبول نہیں کیا جاتا، حالانکہ وہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ والہ کے بارہ خلفاء ہیں جنہیں اہل سنت کی روایات نے بھی شیعہ روایات سے پہلے ہر زمانے میں ہدایت دینے والے اور ہدایت یافتہ قرار دیا ہے؟
اور اگر اہل بدر ایک ہی موقع (جنگ بدر) کی بنا پر اس الٰہی عطیہ (عصمت) کے مستحق ہوئے تو پھر وہ لوگ عصمت کے زیادہ حقدار کیوں نہیں جو اللہ کے دین کی خاطر اپنی جان، اپنے اہل و عیال اور اپنا سب کچھ قربان کر چکے؟
کیونکہ اگر اہلِ بیت نہ ہوتے تو ہم کبھی اذان بھی نہ سن پاتے۔
قول الرسول الاكرم صلى الله عليه واله وسلم
انه قال (لَعَلَّ اللَّهَ عزَّ وجلَّ اطَّلَعَ علَى أهْلِ بَدْرٍ فَقالَ: اعْمَلُوا ما شِئْتُمْ فقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ ) …
خلاصة حكم المحدث : [صحيح]
الراوي : علي بن أبي طالب | المحدث : البخاري | المصدر : صحيح البخاري | الصفحة أو الرقم : 4890

ابن تیمیہ الحرانی نے اپنی کتاب الرد على الأخنائي میں کہا ہے:
صحابہ میں سے کسی کے بارے میں یہ معروف نہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ پر جھوٹ بولا کرتا تھا اگرچہ ان میں کچھ لوگوں سے گناہ سرزد ہوئے ہیں، لیکن اس معاملے میں اللہ نے ان سب کو معصوم رکھا ہے۔

ابن تیمیہ کا اقرار
اگر مان لیا جائے
دار الحق مع علی
تو ضروری ہے علی علیہ السلام کا معصوم ہونا نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کہ طرح
کتاب العین میں یہ حدیث موجود ہیں اور حدیث حسن صحیح ہے

ذھبی صاحب صرف انبیاء کی عصمت ہی نہیں بلکہ صدقین کی بھی اور وہ حکام. جو عدل کرتے ہیں ان کی عصمت کو بھی بیان کر رہیں ہیں

تفتازانی صاحب نے نیا شوشا چھوڑا
جی ابو بکر عمر عثمان (یاد رہے مولا علی علیہ السلام کا نام نہیں لکھا) معصومین ہیں اگر چہ ان کے لیے عصمت ضروری نہیں ہے 😂
میرے خیال سے اتنا کافی ہیں
باقی پھر جب زندگی رہی تو مزید بیان کردے گے