آیۃ مباھلہ حصہ 3
امام نسائی نے روایت کیا ہے:
قتیبہ بن سعید بلخی اور ہشام بن عمار دمشقی نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے حاتم نے روایت کی، انہوں نے بکیر بن مسمار سے، انہوں نے عامر بن سعد بن ابی وقاص سے، انہوں نے اپنے والد (یعنی سعد بن ابی وقاص) سے روایت کی کہ معاویہ بن ابی سفیان نے سعد کو حکم دیا اور کہا:
تمہیں کیا چیز روکتی ہے کہ تم ابو تراب (یعنی علی) کو برا کہو؟
تو سعد نے جواب دیا:
جب تک مجھے وہ تین باتیں یاد ہیں جو رسول اللہ ﷺ نے علی کے بارے میں فرمائی ہیں، میں ہرگز انہیں برا نہیں کہوں گا۔ ان میں سے ایک بھی چیز میرے لیے سرخ اونٹوں (بہت قیمتی مال) سے زیادہ محبوب ہے:
پہلی فضیلت:
میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس وقت فرماتے ہوئے سنا جب آپ ایک جنگ میں جا رہے تھے اور علی کو اپنے پیچھے چھوڑ رہے تھے۔
تو علی نے عرض کیا:
یا رسول اللہ! کیا آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں چھوڑ کر جا رہے ہیں؟
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:
کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ تمہاری نسبت مجھ سے ویسی ہی ہو جیسی ہارون کی نسبت موسیٰ سے تھی؟
البتہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔
دوسری فضیلت (خیبر کا واقعہ):
میں نے رسول اللہ ﷺ کو خیبر کے دن فرماتے ہوئے سنا:
کل میں جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے، اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتے ہیں۔
ہم سب اس کے امیدوار بن گئے۔
پھر آپ صلی اللہ علیہ والہ نے فرمایا: علی کو بلاؤ
انہیں لایا گیا جبکہ ان کی آنکھوں میں تکلیف تھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ نے ان کی آنکھوں میں لعاب لگایا اور جھنڈا انہیں دے دیا۔
تیسری فضیلت (آیت تطہیر):
جب یہ آیت نازل ہوئی:
اللہ چاہتا ہے کہ تم سے ہر ناپاکی کو دور کرے، اے اہلِ بیت! اور تمہیں خوب پاک کرے
تو رسول اللہ ﷺ نے علی، فاطمہ، حسن اور حسین کو بلایا اور فرمایا:
اے اللہ! یہ میرے اہلِ بیت ہیں۔
حاکم نیشاپوری کی روایت:
جب آیت مباہلہ نازل ہوئی:
آؤ ہم اپنے بیٹوں کو بلائیں اور تم اپنے بیٹوں کو…
تو رسول اللہ ﷺ نے
علی بن ابی طالب،
فاطمہ الزہراء،
حسن بن علی،
حسین بن علی
کو بلایا اور فرمایا:
اے اللہ! یہ میرے اہل ہیں۔
حاکم نے کہا: یہ حدیث صحیح ہے اور بخاری و مسلم کی شرط پر ہے، اگرچہ انہوں نے اسے نقل نہیں کیا۔
اور امام ذہبی نے بھی اس کی تائید کی۔
ابن عباس کی تفسیر:
آیت مباہلہ کے بارے میں عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں:
ابنائنا (ہمارے بیٹے) سے مراد حسن اور حسین ہیں،
نسائنا (ہماری عورتیں) سے مراد فاطمہ ہیں،
اور یہ واقعہ نجران کے عیسائی وفد کے بارے میں نازل ہوا۔
📘 ابن حجر عسقلانی کی وضاحت:
ابن حجر عسقلانی نے بھی اس حدیث کی شرح میں یہی واقعہ نقل کیا کہ معاویہ نے سعد سے کہا:
تم علی کو برا کیوں نہیں کہتے؟
تو سعد نے یہی تین فضیلتیں بیان کیں اور کہا کہ وہ ہرگز علی کو برا نہیں کہے گا۔