امام مہدی پر عقیدہ کا واجب ہونا

امام مہدی پر عقیدہ کا واجب ہونا:
امام مہدی(عج) کا ظہور غیبی امور میں سے ہے کہ جن کی وحی کے ذریعہ خبر دی گئی ہے قرآن نے اس نکتہ پر تاکید کی ہے کہ پرہیزگاروں کی ایک علامت غیب پر ایمان ہے :
ذٰلِکَ الۡکِتٰبُ لَا رَیۡبَ ۚۖۛ فِیۡہِ ۚۛ ہُدًی لِّلۡمُتَّقِیۡنَ ۙ الَّذِیۡنَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡغَیۡبِ وَ یُقِیۡمُوۡنَ الصَّلٰوۃَ وَ مِمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ یُنۡفِقُوۡنَ ۙ۔۔۔۔۔(بقرہ (۲))آیت ۲،۳
🌸ترجمہ : یہ کتاب، جس میں کوئی شبہ نہیں، ہدایت ہے تقویٰ والوں کے لیے۔ جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں نیز جو کچھ ہم نے انہیں عطا کیا ہے، اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔
👈شیخ صدوق ان دو آیات سے تمسک کرتے ہوئے فرماتے ہیں کسی مومن کا ایمان اس وقت تک صحیح نہیں ہوسکتا جب تک ان چیزوں کا علم پیدا نہ کرے کہ جن پر ایمان لانا ضروری ہے اس طرح وہ جس نے امام مہدی(عج) پر ایمان رکھا ہو اسے فائدہ نہ ہوگا جب تک وہ زمانہ غیبت میں آپ کی شان و شخصیت کو نہ جان لے
📚(کمال الدین جلد ۱ ، ص ۹۰)