کیا امام حسین علیہ السلام نے فرمایا کہ عمر زندہ ہوتا تو میری نصرت کرتا؟؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
سلسلہ……#اعتقادات_تشیع_کا_دفاع
⛔ کیا امام حسین علیہ السّلام نے یہ فرمایا کہ اگر عمر زندہ ہوتا تو میری نصرت کرتا ؟
في صلاتك، فوالذي بحث جدي محمدا (صلى الله عليه وآله) بشيرا ونذيرا أو أن أباك عمر بن الخطاب أدرك زماني للصربي كنصرته جدي، وقام من دوني قيامه بين يدي جدي
یعنی امام حسین ؑ نے عبداللہ بن عمر کو کہا اگر تمہارے والد عمر بن خطاب زندہ ہوتے تو میری مدد کرتے
📚 موسوعة کلمات امام حسین ؑ ص 374
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
⬅️ یہ قول موسوعة کلمات الامام حسین ؑ کا نہیں ھے
بلکہ یہ اصل قول 👈ابو محمد ابن اعثم الکوفی کی کتاب الفتوح👉 سے منقول ھے
📚الفتوح لابن اعثم الکوفی ، ج 5 ، ص 23 ، 24
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
اسی قول کو الفتوح سے صاحب مقتل الخوارزمی نے نقل کیا ھے :
ثم أخذهم بعد ذلك أخذ عزيز مقتدر ذي انتقام؟ فاتّق اللّه، يا أبا عبد الرحمن! و لا تدعن نصرتي، و اذكرني في صلاتك، فو الذي بعث جدي محمدا بشيرا و نذيرا، لو أن أباك-عمر بن الخطاب-أدرك زماني، لنصرني كما نصر جدي، و لقام من دوني كقيامه من دون جدي
📚 مقتل الحسین ع للخوارزمی ، ج 1 ، ص 280
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
اس قول کی سند نہیں ھے
اور نہ ہی یہ قول ہماری یعنی شیعہ کی کسی معتبر کتاب میں نقل ہوا ھے
⁉️ اب سوال پیدا ہوتا ھے کہ کیا ابن اعثم الکوفی، شیعہ ھے یا سُنّی
کہ ہم اس روایت کو شیعہ روایت سمجھیں یا سُنّی
ابن اعثم الکوفی میرے نزدیک شیعہ نہیں ھے
بلکہ قاضی نور اللہ شوستری نے اس کو 👈شافعی المسلک لکھا ھے
📚 مجالس المومنون ، ج 1 ، ص 475
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
⬅️ ابن اعثم الکوفی پر تحقیق :
ابن اعثم الکوفی کو سب سے پہلے جس شخص نے شیعہ کہا ھے وہ یاقوت الحموی ھے
یعنی صاحب معجم الادباء
شھاب الدین یاقوت الحموی کے اس قول کو سب شیعہ سنی نے نقل کیا ھے
اور اسی قول پر اعتبار کرتے ہوۓ اپنی کتب میں جگہ دی ھے
سید محسن امین عاملی نے اعیان الشیعہ میں ان کے شیعہ ہونے کی دلیل بھی یاقوت حموی کے قول پر دی ھے اور یہ تعجب کی بات ھے کہ ایک مورخ کو ایک اھلسنت کے قول سے شیعہ سمجھا جا رہا ھے جبکہ اس کی گواہی اس کے ہم زمانہ ہمارے کسی شیعہ عالم نے نہیں دی کہ وہ شیعہ ھے
یاقوت حموی ابن اعثم کے بارے میں کیا لکھتا ھے :
احمد بن اعثم الکوفی الاخباری المورخ کان شیعاً وعنہ اصحاب الحدیث ضعیف ، و صنف کتاب الفتوح الی ایام الرشید ، و صنف تاریخا من اول دولة المامون الی آخر دولة المقتدر ۔
ترجمہ :
احمد بن اعثم الکوفی اخباری مورخ شیعہ تھے اور ہمارے اصحاب الحدیث کے درمیان ضعیف تھے
انہوں نے ھارون الرشید کے زمانے میں کتاب الفتوح لکھی
اور تاریخ کی کتاب مامون کی حکومت کے اول دور میں شروع کی اور مقتدرباللہ کی حکومت تک مکمل کی
📚 تاریخ جرجان ص 81
📚 معجم الادباء ج 1 ص 202
📚 لسان المیزان لابن حجر ج 1 ص407 رقم 399
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
صاحب اعیان الشیعہ کی معجم الادباء سے ان کی شیعیت پر دلیل :
احمد بن اعثم الکوفی أبو محمد الاخباری المؤرخ
توفي حدود سنة 314ھ
یعنی ابنِ اعثم الکوفی اخباری مؤرخ تھے اور ان کی وفات 314ھ میں ہوئی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجلسی نے ان کی شیعیت پر کوئ تصریح نہیں کی ھے ۔
اهـ) وهكذا ذكره المجلسي في البحار بعنوان أحمد بن عثم وقال انه له تاريخا ونقل عنه في البحار ولكن في الجزء الأول من دائرة المعارف الاسلامية ما صورته ابن اعثم الكوفي محمد بن علي مؤرخ عربي كل ما تعرفه عنه أنه توفي حدود عام ٣١٤هـ الف تاريخاً قصصياً عن الخلفاء الأول وغزواتهم متأثراً بمذهب الشيعة ونقل هذا الكتاب إلى اللغة الفارسية محمد ابن محمد المستوفي الهروي وطبع طبعة حجرية في يمباي سنة ١٣٠٠هـ
ترجمہ :
محسن امین عاملی کہتے ہیں :
احمد بن اعثم ان تاریخ کی کتاب ھے اور بحار سے ان میں سے کچھ رویات نقل کی گئ ہیں جلد 1 دائرة المعارف الاسلامیہ میں ابن اعثم الکوفی جو کہ 314 ھجری میں فوت ہوۓ ان کی تاریخ میں خلفاء کے قصے اور غزوات کا ذکر ھے وہ مذھب شیعہ سے متاثر تھے سب سے پہلے یہ کتاب فارسی میں نقل ہوئ اور محمد ابن محمد المستوفی الھروی نے اس کو 1300 ھجری میں نقل کیا
📚 أعیان الشیعه ، ج 2 ، ص 481
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
لیکن مجلسی نے یہ دلیل نہیں دی کہ وہ مذھب شیعہ سے کیسے متاثر تھے۔
دوسری بات یہ ھے کہ شیعہ علماء نے بھی محض صاحب معجم الادباء کے قول پر اکتفا کیا ھے لیکن مین سمجھتا ہوں کہ وہ شیعہ نہیں تھے ۔
❗اگر وہ شیعہ امامی تھے وہ جناب کلینی سے پہلے کے مورخ یا پھر عالم تھے ان کی روایات ہمارے اصول میں بھی آنی چاہیں تھیں ۔
لیکن ان کی روایات ہمارے اصول میں کسی کتاب میں نقل نہیں ہوئ ہیں سواۓ تاریخ کے
📛 دوسری بات یہ ھے کہ ابن اعثم الکوفی کے وہ اقوال جو ہماری کتب کی رویات یا ہمارے عقائد سے متابعت کر جائیں ان کو قبول کیا جاۓ گا جو ہمارے عقائد کے موافق نہیں ہیں ان کو رد کیا جاۓ گا کیونکہ اعثم الکوفی شیعہ نہیں تھے
⬅️ اس لیے یہ قول بغیر سند کے نقل ہوا ھے وہ بھی واقعہ کر بلا کے 250 سال بعد اس لیےاس قول کو قبول نہیں کیا جاسکتا
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
آلوسی نے اپنی تفسیر میں ابن اعثم کو کذاب لکھا ھے :
كذب لا أصل له وهو من مفتريات ابن قتيبة وابن أعثم الكوفي والسمساطي وكانوا مشهورين بالكذب والافتراء، ومثل ذلك في الكذب
📚 تفسیر روح المعاني، ج 11 ، ص 192
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
تحقیق از قبلہ سید ساجد بُخاری النقوي
منجانب : دفاع مکتب شیعہ خیرالبريہ ٹیم


