Recommended articles
تاریخ
انھدام جنت البقیع
April 15, 2026
0
0
Imamat & Ahl al-Bayt (AS) الإمام جعفر بن محمد الصادق عليه السلام
کیا آئمہ اہلِ سنت، امام جعفر صادق علیہ السلام کے شاگرد رہے ہیں ؟
April 15, 2026
0
0
Imamat & Ahl al-Bayt (AS) الإمام علي بن أبي طالب عليه السلام
سلف میں سے بہت سوں کا یہ عقیدہ تھا کہ امیرالمومنین علیہ السلام ابوبکر سے افضل ہیں..شیخ البانی کا اعتراف
April 14, 2026
0
0
شبھات کا رد
شیعوں کے یہاں عورتوں کو سورہ یوسف کی تعلیم دینا منع ہے.
April 14, 2026
0
0
Momin Taaq
  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
    • For Youth & Seekers
  • Privacy Policy
    • Terms and conditions
  • Contact Us
شبھات کا رد

جناب علی ؑ کا فرمان جو ابو بکر وعمر کو امام علی ؑ سے افضل مانتا ھے اس پر بقول امیر ؑ حد مفتری ھے ؟

April 1, 2026
0
0

بسم اللہ الرحمن الرحیم

جناب علی ؑ کا فرمان جو ابو بکر وعمر کو امام علی ؑ سے افضل مانتا ھے اس پر بقول امیر ؑ حد مفتری ھے ؟

ہماری رجالی کتاب الرجال الکشی میں ایک روایت نقل ھے کہ مولا علی ؑ نے ابو بکر سے ان کو افضل ماننے والوں کے دروں کی سزا اور حد کا حکم لگایا

اصل میں یہ روایت ہماری نہیں ھے مخالفین کی طرف سے گھڑا گیا جھوٹ ھے اس کی عبارت اہل تشیع کے خلاف پیش کی جاتی ھے وہ یہ ھے

⬅️ أنہ رأی علیا علیہ السلام علی منبر الکوفہ و ھو یقول لئن اتیت برجل یفضلنی علی ابی بکر وعمر لا جلانہ حد المفتری

انہوں نے امیر المومنین علی ؑ کو منبر کوفہ پر بیٹھے دیکھا وہ فرما رھے تھے کہ میرے پاس کوئ ایسا آدمی آۓ جو مُجھے ابو بکر و عمر پر برتری دیتا ہو تو میں اس کو ضرور درے لگاؤں گا جو کہ مفتری کی حد ھے

📚 اختیار معرفة الرجال معروف الرجال الکشی ص 697

___________

الجواب

اس روایت کو جب نواصب ہمارے خلاف استعمال کرتے ہیں تو اس روایت کو پورا پیش نہیں کرتے اور نہ ہی وہ اس روایت کے مکمل سیاق و سباق سے واقف ہیں

بلکہ وہ اس روایت کے کچھ حصے کو نقل کرتے ہیں وہ بھی سفیان الثوری سے جو عامی المسلک تھا اس روایت کو دیکھ کے ہمارے مومنین و مومنات بھائ بہنیں اضطراب کا شکار ہو جاتے ہیں

ان شاء اللہ آج اس روایت کو مکمل سیاق و سباق سے پیش کر دیں گے

یہ روایت یوں شروع ہوتی ھے

(یاد رھے یہ ایک ہی روایت ھے جس کو آسانی کے لیے نمبرنگ میں کر دیا ھے)

⬅️ روایت :

۷۴۱ وَجَدتُ في كتاب أبي محمد جبريل بن أَحْمَدَ الْفَارِيَابِي بِخَطْهُ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْفُضَيْلِ الْكُوفِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ،۔
عَنِ الْهَيْثَمِ بن واقد، عن ميمون بنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ، أَتَى قَوْمٌ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ (ع) يسألونه الحديث من الأمصار، و أنا عندهُ، فَقَالَ لِي: أَ تَعْرِفُ أَحَداً مِنَ الْقَوْمِ قُلْتُ لَا، فَقَالَ فَكَيْفَ دَخَلُوا عَلَى قُلْتُ هَؤُلاء قَوْمٌ يَطْلُبُونَ الْحَدِيث مِن كُلِّ وَجه لَا يُبَالُونَ مِمَّنْ أَخَذُوا الْحَدِيثَ، فَقَالَ لِرَجُلٍ مِنْهُمْ: هَلْ سَمِعْتَ مِنْ غَيْرِي مِنَ الْحَدِيث قَالَ نَعَمْ، قَالَ: فَحَدَّثني ببعض ما سمعتَ قَالَ إِنَّمَا جِئْتُ لِأَسْمَعَ مِنْكَ لم أجئ أحدثك، وَقَالَ للآخر : ذَاكَ ما يمنعه أن يحدثني مَا سَمِعْتَ، قَالَ: وَ تتَفَضَّل أن تُحدِّثنى مَا سَمعت أَجَعَلَ الَّذى حَدَّثَكَ حَدِيثَهُ أَمَانَةً لَا تُحَدِّثُ به أحداً قَالَ لَا، قَالَ فَأَسْمَعْنَا بَعْض مَا اقْتَبَسْت مِنَ الْعِلْمِ حَتَّى نُفِيدَكَ إِنْ شَاءَاللہ

ترجمہ :

میمون بن عبد اللہ کا بیان ہے کہ ایک گروہ امام صادق کے پاس حدیث سننے کے لیے آیا میں بھی وہیں موجود تھا ، آپ نے مجھے فرمایا ؟ کیا تو اس گروہ میں سے کسی کو جانتا ہے ؟ میں نے عرض کی نہیں مولا ، فرمایا تو یہ میرے پاس کیسے آئے ہیں ؟ میں نے عرض کی : یہ ایسے لوگ ہیں جو ہر شخص سے حدیث لینے جاتے ہیں ، اور یہ نہیں دیکھتے کہ کس سے حدیث لے رہے ہیں ، تو آپ نے ان میں سے ایک شخص سے فرمایا ؟ کیا تو نے میرے علاوہ کسی سے حدیث سنی ہے ، اس نے کہا جی ہاں ، تو آپ نے فرمایا؛ جو تو نے حدیث سن رکھی ہے ان میں سے بعض مجھے بھی سنائیے ، اس نے کہا ؛ میں آپ سے حدیث سننے آیا ہوں آپ کو احادیث سنانے نہیں آیا ، آپ نے ایک دوسرے شخص سے کہا؟ اسے کیا چیز مانع ہے کہ وہ سنی ہوئی حدیثیں بیان نہیں کرتا، کیا تو مہربانی کر کے کچھ حدیثیں نقل کرے گا جو تو نے سن رکھی ہیں ، کیا جس شخص نے تمہیں حدیث بیان کی اس نے اسے ایسی امانت کے طور پر بیان کی کہ تم کسی دوسرے شخص کو بیان نہ کرو ؟ ! اس نے کہا نہیں ، تو آپ نے فرمایا ؛ تو ہمیں بعض احادیث سناو، جو تم نے ابھی تک علم
حاصل کیا ہے پھر ہم تمہیں ان شاء اللہ مفید باتیں بتائیں گے ۔

📚رجال الکشی ، ص ۳۹۴-۳۹۷

یہاں پہ کچھ لوگ جو بغیر دیکھے ہوۓ روایت لیتے تھے ان کا ذکر کیا ھے کہ وہ لوگ امام صادق ؑ سے روایت لینے آتے ہیں تو امام ؑ ان میں سے ایک شخص سے سوال و جواب کرتے ہیں

وہ شخص اب امام صادق ؑ کو چند احادیث سناتا ھے جو کہ بقول اس کے امام جعفر بن محمد ع سے نقل کی گئ ہیں ان میں سے چند ایک روایات کو میں یہاں پر نقل کروں گا

1️⃣نمبر: ١- قال حَدَّثَنِي سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَا قال: النَّبِيدُ كُلُّهُ حَلَالٌ إِلَّاالْخَمْرَ، ثُمَّ سَكَتَ، فَقَالَ أَبُو عَبْدِ الله (ع) زدنا

ا۔ اس نے کہا مجھے سفیان ثوری نے جعفر بن محمد سے حدیث بیان کی کہ سوائے شراب کے ہر قسم کی نبیذ حلال ہے ، اور وہ خاموش ہو گیا تو امام نے فرمایا ؛ ارے مزید کچھ سناو۔

2️⃣نمبر: 2 – الْأَحَادِيثِ فَسَكَتَ، فَقَالَ لَهُ أَبو عَبْدِ الله (ع) زدنا! سفيان الثورى، عن محمد بن المنكدر، أنه رأى . محمد بن علياً (ع) على ۴- قَالَ حَدَّثني مِنْبَرِ الْكُوفَةِ وَهُوَ يَقُولُ: لَئِنْ أَتَيْتَ بِرَجُلٍ يُفَضْلُنِي عَلَى أَبِي بَكْرٍ وَ عُمَرَ لَأَجَلْدَنَّهُ حَدَّ الْمُفْتَرِي، فَقَالَ أبو عبد الله (ع) زدنا! فَقَالَ حَدَّثَنِي سُفْيَانُ، عَنْ جَعْفَرٍ، أَنَّهُ قَالَ حُبُّ أَبِي بَكْرٍ وَ عُمَرَ إِيمَانٌ وَ بعضهما كُفْرٌ، قَالَ أَبُو عَبْدِ الله (ع) زدنا

👈 تو اس نے کہا : مجھے سفیان ثوری نے محمد بن منکدر سے روایت بیان کی کہ اس نے علی ؑ کو کوفہ کے منبر پر دیکھا جب کہ آپ فرما رہے تھے اگر کوئی شخص میرے پاس لایا جائے جو مجھے ابو بکر و عمر سے فضیلت دیتا ہو تو میں اس پر افتراء پردازوں کی حد جاری کروں گا ، امام صادق نےفرمایا ، مزید کوئی حدیث سناو 👉

👈اس نے کہا ؛ سفیان نے جعفر سے مجھے بیان کیا کہ ابو بکر و عمر کی محبت ایمان ہے اور ان سے بعض وکینہ رکھنا کفر ہے، امام صادق ؑ نے فرمایا ، مزید کوئی حدیث سناو👉

(اب ہم اس سے اگلی روایات جو کہ مکالمہ کی شکل میں ہیں وہ لگاتے ہیں)

٩ حَدَّثَنَا . عباد، عن جعفر بن مُحَمَّد، أَنَّهُ رائی علی ابن ابی طالب قَالَ: لَمَّا طالب يوم الجمل كثرة الدماء، قَالَ لابنه الْحَسَن: يَا بُنَيَّ هَلَكْتُ، قَالَ لَهُ الْحَسَنُ يَا يَا أبتِ أَلَيْسَ قَدْ نَهَيْتُكَ عَنْ هَذَا الْخُرُوجِ فَقَالَ عَلِيٌّ (ع): يَا بُنَيَّ لَمْ أَدْرِ أَنَّ الْأَمْرَ يَبْلُغُ هَذَا الْمَبْلَغَ، قَالَ لَهُ أَبُو عَبْدِ الله (ع) زِدْنَا!

۱۰ – قَالَ حَدَّثني سُفْيَانُ التَّوْرَى، عَنْ جَعفر بن مُحَمَّد، أَنَّ عَلَيَّاً (ع) لَمَّا قَتَلَ أَهْلَ صِفِّينَ، بَكَى عَلَيْهِمْ ثُمَّ قَالَ: جَمَعَ اللَّهُ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ فِي الْجَنَّةِ.

۔ اس نے کہا ؛ عباد نے جعفر بن محمدؑ سے روایت نقل کی کہ جنگ جمل کے دن علی بن ابی طالب ؑ نے کثرت سے خون بہتےہوئے دیکھے تو اپنے بیٹے حسن سے فرمایا ؛ اے فرزند ! میں ہلاک ہو گیا ، تو حسن نے کہا ؟ ارے بابا ! میں نے تو آپ کو خروج سے منع کیا تھا، تو علی نے فرمایا اے فرزند مجھے معلوم نہیں تھا کہ معاملہ اس حد تک پہنچ جائے گا ، امام صادق نے فرمایا ، مزید کوئی حدیث سناو۔
۱۰۔ اس نے کہا ؟ مجھے سفیان ثوری نے جعفر بن محمد ؑ سے حدیث نقل کی کہ علی نے جنگ صفین کی تو مقتولین پر روئے اور فرمایا اللہ تعالی مجھے اور ان کو جنت میں جمع کرے گا۔

ان کو روایات کو بغور پڑھیے کہ جو گروہ امام صادق ؑ کے پاس حدیث لینے کے لیے آیا تو ان لوگوں میں سے ایک شخص سفیان ثوری سے وہ روایات جو اس نے بیان کی تھیں امام صادق ؑ کے سامنے بیان کر ریا ھے

اب راوی میمون بن عبداللہ کیا فرماتے ہیں :

قَالَ، فَضَاقَ بِي الْبَيْتُ وَ عَرِقْتُ وَ كدت أن أخْرُجَ مِنْ مَسْكِي، فَأَرَدْتُ أَنْ أَقُومَ إِلَيْهِ وَأَتَوَفَّاهُ، ثُمَّ ذَكَرْتُ عَمْرَةَ أبي عبد الله (ع) فَكَفَفْتُ، فَقَالَ لَهُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ (ع) مِنْ أَيِّ الْبَلَادِ أَنْتَ قَالَ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، قَالَ فَهَذَا الَّذِي تُحَدِّثُ عَنْهُ وَ تَذْكُرُ اسمه جعفر : بن محمد، تعرفه قَالَ لَ مُحَمَّد بن فَهَلْ سَمِعْتَ مِنْهُ شَيْئاً قَطُّ قَالَ لَا، تَعْرِفُهُ قَالَ لَا، قَالَ: قَالَ: فَهَذه الأحاديثُ عِنْدَكَ حَقٌّ قَالَ نَعَمْ، قَالَ: فَمَتَى سَمِعْتَهَا قَالَ لَا أَحْفَظُ قَالَ، إِلَّا أَنَّهَا أَحَادِيثِ أَهْلِ مِصْرِنَا مُنْذُ دَهْر لَا يَمْتَرُونَ فِيهَا، قَالَ لَهُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ (ع): لَوْ رَأَيْتَ هَذَا الرَّجُلَ الَّذِى تُحَدِّثُ عَنْهُ، فَقَالَ لَكَ هَذِهِ الَّتِي تَرْوِيهَا عَنِّى كَذِبٌ لَا أَعْرِفُهَا وَ لَمْ أُحَدِّث بها، هَلْ كُنْتَ تُصَدِّقُهُ قَالَ لَا، قَالَ: لَمَ قَالَ لِأَنَّهُ شَهِدَ عَلَى قَوْلِهِ رِجَالٌ لَوْ شَهِدَ أَحَدُهُمْ عَلَى عِتْقِ رَجُلٍ لَجَازَ قَولُهُ، قَالَ: اكْتُبْ:

ترجمہ :

راوی کہتا ہے مسلسل یہ جھوٹی نسبتیں سن کر پورا کمرہ مجھ پر تنگ ہو گیا ، مجھے پسینہ آگیا اور شاید میری جان نکل جاتی ، میں نے اٹھنے کا ارادہ کیا پھر مجھے امامؑ کا اشارہ یاد آیا تو میں آرام سے بیٹھ گیا ، اب امامؑ نے اس سے فرمایا ؟ تو کس شہر سے ہے ؟ اس نے کہا ، بصرہ سے ہوں ، امام نے پوچھا؛ یہ شخص جس کی طرف سے حدیثیں بیان کر رہا ہے اور اس کا نام جعفر بن محمد ؑ بیان کر رہا ہے اس کو جانتا ہے ؟ اس نے کہا؛ نہیں ، امام نے فرمایا ؛ کیا تو نے خود اس سے جاکر حدیثیں سنی ہیں ؟ اس نے کہا؛ نہیں ، امام نے پوچھا؛ یہ جو حدیثیں تو نے بیان کی ہیں کیا تیرے نزدیک صحیح اور حق ہیں ؟ اس نے جواب دیا ؟ ہاں ، امام نے پوچھا تو نے ان کو کب سنا ہے ؟ اس نے کہا ؟ مجھے زمانہ یاد نہیں مگر یہ ہمارے علاقوں میں طویل زمانے سے مشہور حدیثیں ہیں ان میں کوئی شک نہیں کرتا ۔
امام نے فرمایا ؛ اگر تو اس شخص کو دیکھے جس سے تو نے حدیث نقل کی اور وہ تجھے کہے کہ یہ روایات جو تو مجھ سے نقل کر رہا ہے جھوٹ ہیں میں ان کو نہیں جانتا اور نہ میں نے بیان کی ہیں تو کیا تو اس کی تصدیق کرے گا ؟ اس نے کہا؛ نہیں امام نے پوچھا ؟ اس کی کیا وجہ ہے ؟ اس نے کہا؛ کیونکہ اس کے قول کی تصدیق اور صداقت پر اتنے لوگوں نے گواہی دی ہے کہ اگر وہ لوگ کسی شخص کے خلاف قتل کی گواہی دیتے تو اس کو قتل کرنا جائز ہوتا ، تو امام نے فرمایا ؛ اب مجھ سے بھی ایک حدیث لکھ لے ؛

( یہ ساری جھوٹی روایات سننے کے بعد امام معصوم ؑ کا جواب ملاحظہ ہو )

حجة خدا امام صادق صلوات اللہ علیھا فرماتے ہیں

بسم الله الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدَى، قَالَ مَا اسْمُكَ قَالَ: مَا تَسْأَلُ عن اسمى إِنَّ رَسُولَ الله (ص) قَالَ: خَلَقَ اللَّهُ الْأَرْوَاحَ قَبْلَ الْأَجْسَادِ بِالْفَى عام، ثُمَّ أسكنها الهواء فَمَا تَعارف منها ائتلف هَاهُنَا وَ مَا تَنَاكَرَ مِنْهَا ثُمَّ اخْتَلَفَ هاهنا، و من كذب علينا أهل البيت حشره الله يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَى يهودياً، و إِنْ أَدْرَكَ الدَّجَّالَ آمَنَ بِهِ وَ إِنْ لَمْ يُدْرِكْهُ آمَنَ بِهِ فِي قَبْرِهِ، يَا غُلَامُ ضَع لي مَاءً، وَ غَمَزَنِي فَقَالَ لَا تبرح، وَقَامَ الْقَوْمُ فَانْصَرَفُوا وَ قَدْ كَتَبُوا الْحَدِيثَ الَّذِي سمعوا منه، ثم إنه خرج و وجهه منقبض، قَالَ: أَمَا سَمِعْتَ مَا يُحَدِّثُ بِهِ هَؤُلَاءِ قُلْتُ أَصْلَحَكَ اللهُ مَا هَؤلاء وَ مَا حَديثهُمْ قَالَ: أَعْجَبُ حديثهم، كان عندى الْكَذِبُ عَلَى وَ الْحِكَايَةُ عَنِّى مَا لَمْ أَقُلْ وَ لَمْ يَسْمَعَهُ عَنِّى أَحَدٌ، وَ قَوْلُهُمْ لَوْ أنكر الأحاديث ما صَدَّقْنَاهُ: مَا لهَؤلاء لا أمْهَلَ اللَّهُ لَهُمْ وَ لَا أَمْلَى لَهُمْ، ثُمَّ قَالَ لَنَا: إِنَّ عَلَيَّاً (ع) لَمَّا أَرَادَ الخروج من البصرة قَامَ عَلَى أَطْرَافَهَا، ثُمَّ قَالَ: لَعَنكَ اللهُ يَا أَنْتَنَ الْأَرْضِ تُرَاباً وَ أَسْرَعَهَا خَرَاباً وَ أَشَدَّهَا عَذَاباً فِيكِ الدَّاءُ الدَّوى! قَالُوا وَ مَا هُوَ يا أمير الْمُؤْمِنِينَ قَالَ: كَلَامُ الْقَدْرِ الَّذِي فِيهِ الْفِرْيَةُ عَلَى اللَّهِ، وَ بعْضُنَا أَهْلَ البيت، و فيه سَخَطُ الله وَ سَخَطُ نَبِيه (ع)، وَ كَذِبُهُمْ عَلَيْنَا أَهْلَ البيت، و استحلَالُهُمُ الْكَذِبِ عَلَيْنَا.

ترجمہ :

خدائے رحمن و رحیم کے نام سے

مجھے میرے والد نے میرے جد امجد سے حدیث بیان کی ،

اس شخص نے پوچھا ؟ آپ کا نام کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا ؛ میرا نام نہ پوچھو، بلکہ لکھ لو کہ رسول اکرم نے فرمایا اللہ تعالی نے جسموں کو خلق کرنے سے دو ہزار سال پہلے ارواح کو خلق کیا اور پھر انہیں ہوا میں بسایا جو ان میں سے آپس میں متعارف ہوئیں وہ یہاں بھی آپس میں مانوس ہیں اور جو وہاں آپس میں نہیں جڑ سکیں وہ یہاں بھی آپس میں اختلاف کرتی ہیں۔ یاد رکھ جس شخص نے ہم اہل بیت پر جھوٹ بولا اللہ تعالی قیامت کے دن اسے اندھا یہودی بنا کر محشور کرے گا اگر وہ دجال کے زمانے کو پائے تو اس پر ایمان لائے گا اور اگر اس سے پہلے مر گیا تو قبر میں اس پر ایمان لائے گا، پھر فرمایا : اے غلام میرے لیے وضو کا پانی لاو اور مجھے اشارہ فرمایا ، بیٹھے رہو ، وہ لوگ اٹھ کر چلے گئے اور امام سے سنی ہوئی حدیث بھی لکھ کر لے گئے پھر وہ شخص بھی منہ بہتے چلا گیا امام نے فرمایا : کیا تو نے ان کی حدیثیں سنی ہیں ؟ میں نے عرض کی ، خدا آپ کا بھلا کرے ، یہ کیا اور ان کی حدیثیں کیا ہیں ؟ 👈امام نے فرمایا ان سب سے عجیب ترین بات یہ تھی کہ وہ مجھ پر میرے سامنے جھوٹ بولتے رہے اور مجھ سے احادیث نقل کرتے رہے جو میں نے نہیں کہیں اور نہ کسی نے مجھ سے ایسی حدیثیں سنی ہیں اور پھر وہ منہ چڑھ کے کہہ رہا تھا اگر وہ شخص ان حدیثوں کا انکار بھی کرے تو ہم اس کی تصدیق نہیں کریں گے ، خدا ان کو بر باد کرے اور انہیں مہلت نہ دے ان کو کیا ہو گیا ہے 👉 پھر فرمایا ؛ جب امام علی نے بصرہ کی
طرف نکلنے کا ارادہ فرمایا تو ارشاد فرمایا ؛ خدا تجھ پر لعنت کرے تیری مٹی میں بد بو ہے تو بہت جلد تباہ و برباد ہو گا اور تجھے سخت عذاب دیا جائے گا اور تجھ میں موذی بیماریاں ہیں ۔
لوگوں نے پوچھا؛ مولا امیر المومنین وہ کیا ہے ؟ فرمایا : یہاں ایک نظریہ قدر نکالا جائے گا جس کا بنیادی رکن یہ ہے کہ اللہ تعالی پر جھوٹ بولو ، ہم اہل بیت سے بغض رکھو جبکہ اس میں اللہ اور اس کے رسول کا غضب ہے اور ہم اہل بیت پر جھوٹ بولنا ہے بلکہ ہم اہل بیت پر جھوٹ بولنے اِنکو جائز سمجھا جاتا ہے۔

امام معصوم ؑ نے وہ روایات جو سفیان ثوری نے گھڑ کے امام صادق ؑ سے منسوب کی ہیں ان کا قلع قمہ کر دیا اور ان کے کاذب ہونے کی نشاندہی کر دی اس لیے یہ عامی طریق کی روایت ھے جو امام صادق ؑ سے گھڑ کے منسوب کی گئ جس کو امام ؑ نے اپنی زندگی میں ہی ریجکٹ کر دیا تھا ۔

✍️تحقیق از قبلہ سید ساجد بُخاری

#منجانب_دفاع_مکتب_شیعہ_خیرالبريہ

Tags:
Done
Add to Bookmarks

Related Posts

تاریخ
انھدام جنت البقیع
April 15, 2026
0
0
Imamat & Ahl al-Bayt (AS) الإمام جعفر بن محمد الصادق عليه السلام
کیا آئمہ اہلِ سنت، امام جعفر صادق علیہ السلام کے شاگرد رہے ہیں ؟
April 15, 2026
0
0
Imamat & Ahl al-Bayt (AS) الإمام علي بن أبي طالب عليه السلام
سلف میں سے بہت سوں کا یہ عقیدہ تھا کہ امیرالمومنین علیہ السلام ابوبکر سے افضل ہیں..شیخ البانی کا اعتراف
April 14, 2026
0
0

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll down to see next article
شبھات کا رد
کیا امام حسین علیہ السلام نے فرمایا کہ عمر زندہ ہوتا تو میری نصرت کرتا؟؟
About Us

Momin Taaq is a global online platform dedicated to presenting authentic Shia Islamic knowledge with clarity, logic, and respect.

Follow Us
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Pinterest
Featured Lectures
شبھات کا رد
امام سجاد علیہ السلام نے ابو بکر عمر کا دفاع کیا ہے؟
September 27, 2025
شبھات کا رد
یہ کیوں کہا گیا کہ “دابۃ”؟ کیا اس میں امیر المؤمنین (علیہ السلام) کی توہین نہیں ہے؟
September 26, 2025
عقیدہ امامت
ہ سب سے پہلے جس نے 12 اماموں بات شروع کی وہ شیخ کلینی اور علی بن بابویہ القمی علیھما الرحمۃ
February 9, 2019
Knowledge & Research
  • Imamat & Ahl al-Bayt (AS)18
  • Youth & New Muslims1
  • آیت تطھیر و اھل البیت علیھم السلام1
  • اصحاب رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم2
  • اعتقادات4

© 2025 Momin Taaq. All Rights Reserved.

  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
    • For Youth & Seekers
  • Privacy Policy
    • Terms and conditions
  • Contact Us
  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
  • Privacy Policy
  • Contact Us
  • For Youth & Seekers
  • Terms and conditions