یزید لعنتی کا نکاح زینب بنت ام کلثوم بنت علی سے ہوا ؟

روایت ملاحظہ کریں
أخبرنا أبو العز بن كادش إذنا أنا أبو محمد بن الحسين أنا أبو الفرج المعافى بن زكريا القاضي نا محمد بن القاسم الأنباري أخبرني أبي عن أبي الفضل العباس بن ميمون حدثني سليمان بن داود المقرئ الشاذكوني أخبرني محمد بن عمر بن واقد السلمي عن عبد الله بن جعفر المديني عن أم بكر بنت المسور بن مخرمة قالت سمعت أبي يقول كتب معاوية إلى مروان وهو على المدينة أن يزوج ابنه يزيد بن معاوية زينب بنت عبد الله بن جعفر وأمها أم كلثوم بنت علي وأم أم كلثوم فاطمة بنت رسول الله (صلى الله عليه وسلم) ويقضي عن عبد الله بن جعفر دينه وكان دينه خمسين ألف دينار ويعطيه عشرة
اس روایت میں ایک راوی ہے
سليمان بن داود المقرئ الشاذكوني
امام ابو حاتم کہتے ہیں یہ متروک الحدیث ہے
امام نسائی کہتے ہیں یہ ثقہ نہیں ہے
صالح بن محمد کہتے ہیں حدیث نقل کرنے میں غلط بیانی کرتا تھا
📘المیزان الاعتدال 3۔285
دوسرا راوی
عبد الله بن جعفر بن نجیح المديني ضعیف الحدیث ہے
یہ علی بن مدینی کا والد ہے اور اسکے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے،
یحیی بن معین کہتے ہیں یہ کوئی چیز نہیں ہے
علی بن مدینی کہتے ہیں میرے والد ضعیف ہیں
امام ابوحاتم کہتے ہیں یہ انتہائ منکر الحدیث ہے
امام نسائ کہتے ہیں یہ متروک الحدیث ہے
📘المیزان الاعتدال 4۔77
تیسرا راوی ہے
محمد بن عمر بن واقد السلمي
امام احمد بن حنبل کہتے ہیں یہ کذاب جھوٹا ہے یہ احادیث کو الٹ پلٹ دیتا تھا ۔یعنی احادیث گھڑتا تھا
یحیی بن معین کہتے ہیں یہ ثقہ نہیں ہے
یحیی بن معین کہتے ہیں اسکی حدیث کو تحریر نہیں کیا جاۓ گا
امام بخاری اور امام حاتم کہتے ہیں یہ متروک ہے
امام ابوحاتم اور امام نسائی نے کہا ہے یہ احادیث ایجاد کرتا تھا ( گھڑتا تھا)
امام درقطنی کہتے ہیں اس میں ضعف پایا جاتا ہے
ابن عدی کہتے ہیں اسکی نقل کردہ روایات محفوظ نہیں ہیں اور خرابی کی جڑ یہی شخض ہے
شیخ ابوغالب کہتے ہیں میں نے ابن مدینی کو یہ کہتے ہوۓ سنا ہے واقدی حدیث ایجاد کرتا تھا ۔یعنی گھڑتا تھا
📘المیزان الاعتدال 6۔283
عمران بن خطان بخاری کا ثقہ راوی
عمران بن خطان بخاری کا ایک خوا rجی راوی جس نے ابن ملجم ( مولا علی علیہ السلام کا قاتل ) کی شان میں قصیدہ بھی لکھا ہوا ہے
جس کا مفہوم کچھ یوں اے متقی ابن ملجم تو نے علی کو جو ضربت لگائی وہ کیا کمال کی تھی ۔ تو نے اس ضربت سے خدا کی رضا حاصل کی ہے۔
اسی بخاری کے نزدیک آئمہ اہلبیت( امام امام جعفر صادق علیہ السلام سے لیکر امام حسن عسکری تک ) ثقہ راوی نہیں تھے۔
یاد رہے یہ امام نقی امام تقی اور امام حسن عسکری کے دور میں زندہ تھا۔
اب دیکھتے ہیں خدا و رسول کیا کہتے ہیں۔
رسول خدا نے فرمایا جس نے علی سے محبت کی وہ مومن ہے جس نے علی سے بغض رکھا وہ مناfق ہیں۔
(صحیح مسلم حدیث ۲۴۰)
قرآن کہتا سورہ المناfقون میں
اللہ گواہی دیتا ہے مناfقین جھوٹے ہیں۔
لیکن بخاری کے نزدیک نہ قرآن کی کوئی حثیت ہے نہ رسول کے فرمان کی ۔ ان کے نزدیک یہ ثقہ لوگ ہیں۔ یاد رہے بخاری نے بے شمار خواrجی رایوں سے احادیث نقل کی ہیں۔
اور یہی حال باقی اہلسنت محدثین کا ہے اور یہ خواrجی راوی ان کے نزدیک ثقہ و صدوق بھی ہوتے ہیں۔
جن لوگوں کے اصولِ حدیث خلافِ قرآن و حدیث کھڑے ہوں وہ خود کو اہلسنت کہتے ہیں۔
فتدبر۔
سید عمار حسینی
