آیات الاشاءۃ
بندہ اپنے فعل مختار ہیں 👇
فَمَنۡ شَآءَ فَلۡیُؤۡمِنۡ وَّ مَنۡ شَآءَ فَلۡیَکۡفُرۡ
پس جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے
سورۃ کھف آیت نمبر 29
بندہ اپنے فعل مجبور ہیں اور اختیار اللہ کا ہے👇
وَ مَا تَشَآءُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ یَّشَآءَ اللّٰہُ ؕ
۔ اور تم نہیں چاہتے ہو مگر وہ جو اللہ چاہتا ہے
اور یہ تناقض ہوا یا نہیں؟
جواب
اس میں شک نہیں کہ انسان فطرت میں ہیں کہ وہ بعض افعال کو انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے اختیار رکھتا ہے اس پر تو کلام ہی نہیں
اسی اچھے کام کرنے والے کی مدح اور. برے کام کرنے والے کی مذمت کی جاتی ہیں یہ دلیل کہ انسان اپنے فعل مختار بھی ہمگر یہ بھی انسان کیلئے واضح ہیں کہ بعض افعال کو انجام دینے میں انسان مختار نہیں ہے
یہ بات اپنے مقام پر ثابت ہوچکی ہے کہ انسان میں موجود ان چیزوں کا خالق، ان کے پیدا کرنے کے بعد اپنی مخلوق سے الگ نہیں ہوجاتا، بلکہ اشیاء کا باقی رہنا اور ان کا وجود میں قائم رہنا ہر لمحہ مؤثر (یعنی خدا) کا محتاج ہے۔ یہ ایسا نہیں ہے کہ اشیاء کا خالق ان کے ساتھ اس طرح ہو جیسے کوئی معمار دیوار بناتا ہے، پھر دیوار اپنے بنانے والے سے بے نیاز ہوجاتی ہے اور اس کا وجود باقی رہتا ہے چاہے بنانے والا ختم ہی کیوں نہ ہوجائے، یا جیسے کوئی لکھنے والا کتاب کو وجود میں لاتا ہے، پھر کتاب اپنے وجود کے باقی رہنے میں لکھنے والے کی محتاج نہیں رہتی۔
بلکہ اشیاء کا اپنے خالق کے ساتھ تعلق — اور اللہ ہی کے لیے اعلیٰ مثال ہے — بجلی کی طاقت اور روشنی کے تعلق کی طرح ہے۔ روشنی اس وقت تک موجود رہتی ہے جب تک بجلی کی طاقت اسے جاری رہتی ہے، اور اپنے باقی رہنے میں بھی ہر لمحہ اسی طاقت کی محتاج رہتی ہے۔ جب تار بجلی کے منبع سے جدا ہوجاتا ہے تو اسی لمحے روشنی ختم ہوجاتی ہے گویا وہ کبھی تھی ہی نہیں
لہٰذا بندے کا فعل جبر اور تفویض کے درمیان ہے، اور اس میں دونوں کا کچھ نہ کچھ حصہ ہے۔ کیونکہ بندہ فعل کرے یا ترک کرے یہ اس کے اختیار سے ہے، لیکن یہ قدرت اور فعل کے تمام اسباب فعل کے وقت اللہ کی طرف سے عطا ہوتے ہیں۔ پس فعل ایک لحاظ سے بندے کی طرف منسوب ہے اور دوسرے لحاظ سے اللہ کی طرف، اور قرآن کی مبارک آیات اسی معنی کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ بندے کا اختیار اللہ کی قدرت اور اس کے اقتدار کے نفوذ کے منافی نہیں ہے
ایک مثال کے طور پر — تاکہ قاری کو “امر بین الامرین” کی حقیقت سمجھ آئے جس کی طرف ائمہ نے رہنمائی فرمائی اور قرآن نے بھی اشارہ کیا — اور جس کے قائل شیعہ امامیہ ہیں:
فرض کریں ایک انسان کا ہاتھ مفلوج ہے اور وہ خود اسے حرکت نہیں دے سکتا، لیکن ایک ڈاکٹر نے بجلی کی طاقت کے ذریعے اس میں عارضی ارادی حرکت پیدا کردی، اس طرح کہ جب ڈاکٹر بجلی کا تار جوڑ دے تو وہ شخص اپنی مرضی سے ہاتھ حرکت دے سکتا ہے، اور جب تار الگ ہوجائے تو وہ ہاتھ کو بالکل حرکت نہیں دے سکتا۔
اگر ڈاکٹر تجربے کے لیے اس ہاتھ کو بجلی کے ذریعے حرکت کے قابل بنائے اور مریض اپنے ہاتھ کو حرکت دے اور مختلف کام انجام دے، جبکہ ڈاکٹر ہر لمحہ اسے طاقت پہنچا رہا ہو، تو اس صورت میں ہاتھ کی حرکت امر بین الامرین کی مثال ہوگی۔
یہ حرکت نہ صرف اس شخص کی طرف منسوب ہوگی کیونکہ وہ مستقل نہیں ہے بلکہ ڈاکٹر کی دی ہوئی طاقت پر موقوف ہے، اور نہ صرف ڈاکٹر کی طرف منسوب ہوگی کیونکہ حرکت مریض نے اپنی مرضی سے انجام دی ہے۔
پس فاعل اپنے فعل پر مجبور نہیں کیونکہ وہ ارادہ رکھتا ہے، اور نہ اسے مکمل اختیار دے دیا گیا ہے کیونکہ طاقت کسی اور سے مل رہی ہے۔
اختیار رکھنے والے تمام فاعلوں کے افعال اسی قسم کے ہوتے ہیں، پس فعل بندے کی مشیت سے صادر ہوتا ہے، لیکن بندہ کچھ نہیں چاہتا مگر یہ کہ اللہ چاہے۔
قرآن کی تمام آیات اسی مطلب کی طرف اشارہ کرتی ہیں:
وہ جبر کو باطل کرتی ہیں کیونکہ وہ اختیار کو ثابت کرتی ہیں۔
اور تفویض کو بھی باطل کرتی ہیں کیونکہ وہ فعل کو اللہ کی طرف منسوب کرتی ہیں۔
پھر السيد ملك التبريزي کہتے ہیں:
یہ جو کچھ ہم نے بیان کیا ہے وہ اہل بیتؑ کی تعلیمات اور ان کے علوم سے لیا گیا ہے، وہی اہل بیت جن کے بارے میں اللہ نے فرمایا کہ اس نے ان سے ہر رجس کو دور کردیا اور انہیں پاک و پاکیزہ کردیا۔
8- مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ زَعْلَانَ عَنْ أَبِي طَالِبٍ الْقُمِّيِّ عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: قُلْتُ أَجْبَرَ اللَّهُ الْعِبَادَ عَلَى الْمَعَاصِي قَالَ لَا قُلْتُ فَفَوَّضَ إِلَيْهِمُ الْأَمْرَ قَالَ قَالَ لَا قَالَ قُلْتُ فَمَا ذَا قَالَ لُطْفٌ مِنْ رَبِّكَ بَيْنَ ذَلِكَ .
۸۔امام جعفر صادق ع سے راوی نے پوچھا کیا معاصی پر خدا نے اپنے بندوں کو مجبور کیا ہے فرمایا: نہیں پوچھا پھر کیا اپنا معاملہ ان کے سپرد کیا ہے فرمایا: یہ بھی نہیں، پوچھا پھر کیا ہے فرمایا: خدا کا لطف ہے ان دونوں کے درمیان یعنی انسان مجبور ہے نہ مختار کل بلکہ ان کے درمیان ایک منزل ہے وہ اپنے فعل کا مختار ہے لیکن اسباب فعل مہیا کرنا اس کے اختیار میں نہیں وہ اپنے کالے رنگ کو گوار نہیں بنا سکتا اپنے لمبے قد کو چھوٹا نہیں کر سکتا۔
الکافی