نبی ﷺ کی طرف رجوع صرف حیات تک محدود ہے؟

📚 الدرر السنية في الرد على الوهابية
✍️ السيد أحمد بن زيني دحلان
وقد علم من كمال شفقته صلى الله عليه وآله وسلم أنه لا يترك ذلك من جاءه مستغفرًا ربه
… ولذلك فهم العلماء منها العموم للحالتين
واستحبوا لمن أتى قبره صلى الله عليه وآله وسلم أن يقرأها مستغفرًا الله تعالى
… وقد دلت الآية أيضًا أنه لا فرق في المجئ بين أن يكون بسفر أو غير سفر
📖 ترجمہ
نبی ﷺ کی شفقت سے یہ سمجھا گیا کہ جو شخص اللہ سے استغفار کرتے ہوئے آپ کے پاس آئے، وہ محروم نہیں ہوتا۔
اسی لیے علماء نے اس مفہوم کو زندگی اور وفات دونوں حالتوں پر عام سمجھا۔
اور قبرِ رسول ﷺ پر آنے والے کے لیے استغفار کو مستحب قرار دیا۔
یہ بھی واضح کیا گیا کہ آنا سفر کے ساتھ ہو یا بغیر سفر کے دونوں میں فرق نہیں۔
اگر نبی ﷺ کی طرف رجوع صرف زندگی تک محدود ہوتا:
➡️ تو علماء اس مفہوم کو بعدِ وفات عام کیوں سمجھتے؟
➡️ قبرِ رسول ﷺ پر آ کر استغفار کو مستحب کیوں قرار دیتے؟
➡️ اور “آنا” کو سفر ہو یا نہ ہو دونوں صورتوں میں کیوں شامل کرتے؟