جمعہ کے دن زیارتِ قبور اور ایصالِ ثواب – مالکی فقہ
مالکی فقہ کی معتبر شرح مواهب الجليل في شرح مختصر خليل میں زیارتِ قبور کو ایک با مقصد روحانی عمل کے طور پر بیان کیا گیا ہے جس کا تعلق دل کی اصلاح اور میت کو دعا کے ذریعے نفع پہنچانے سے ہے، اور خاص طور پر جمعہ کے دن کے ساتھ اس کا تعلق بھی ذکر کیا گیا ہے۔
اس سلسلے میں کتاب میں واضح طور پر لکھا ہے:
وزيارة القبور للرجال متفق عليه
قبروں کی زیارت مردوں کے لیے متفق علیہ ہے۔
زیارت کا مقصد بھی محض رسم یا قبروں کے گرد گھومنا نہیں بلکہ ایک روحانی نیت کے ساتھ ہونا چاہیے:
ينبغي لمن عزم على زيارة القبور أن يتأدب بآدابها، ويحضر قلبه في إتيانها، ولا يكون حظه التطواف على الأجداث، فإن هذه حالة تشارك فيها البهيمة، بل يقصد بزيارته وجه الله تعالى وإصلاح قلبه ونفع الميت بالدعاء
یعنی زیارت کرنے والا آداب کے ساتھ جائے، دل حاضر رکھے، اور اس کا مقصد صرف قبروں کے گرد گھومنا نہ ہو بلکہ اللہ کی رضا، دل کی اصلاح اور میت کو دعا کے ذریعے فائدہ پہنچانا ہو۔
قبرستان میں داخل ہونے کا طریقہ بھی بیان ہوا ہے:
إذا دخل المقابر يسلم ويخاطب خطاب الحاضرين فيقول: السلام عليكم دار قوم مؤمنين وإنا إن شاء الله بكم لاحقون
یعنی اہل قبور کو ایسے سلام کیا جائے جیسے حاضر افراد کو کیا جاتا ہے۔
روحوں کے جمعہ کے دن اپنے قبور سے تعلق کے بارے میں ذکر کیا گیا ہے:
قال القرطبي: وقد قيل إن الأرواح تزور قبورها كل يوم جمعة على الدوام
کہا گیا ہے کہ روحیں ہر جمعہ اپنے قبور کی زیارت کرتی ہیں۔
اسی بنیاد پر مستحب وقت بیان ہوا:
ولذلك تستحب زيارة القبور ليلة الجمعة ويوم الجمعة وبكرة السبت
یعنی جمعہ کی رات، جمعہ کا دن اور ہفتہ کی صبح قبور کی زیارت مستحب ہے۔
ایصالِ ثواب کے بارے میں بھی صراحت موجود ہے:
فإذا قرأ الفاتحة والمعوذتين وقل هو الله أحد وجعل ثواب ذلك لأهل المقابر فإنه يصل إليهم
یعنی اگر کوئی شخص فاتحہ، معوذتین اور سورہ اخلاص پڑھ کر اس کا ثواب اہل قبور کو بخش دے تو وہ ان تک پہنچتا ہے۔
