زیارتِ قبور: چاروں مذاہب کی تصریحات (كفاية الفقه سے)
زیارتِ قبور کے مسئلے میں جذباتی بحث بہت کی جاتی ہے، لیکن اگر معتبر فقہی مصادر کو دیکھا جائے تو تصویر بالکل واضح ہو جاتی ہے۔
عبد الرحمن الجزيري اپنی کتاب كفاية الفقه على المذاهب الأربعة میں لکھتے ہیں:
✔ زیارتِ قبور مندوب (مستحب) ہے۔
✔ مقصد: عبرت حاصل کرنا اور آخرت کو یاد کرنا۔
✔ قریب یا دور ہونے میں کوئی فرق نہیں۔
✔ صالحین کی قبور کے لیے سفر کرنا بھی مستحب ہے۔
✔ نبی ﷺ کی قبر کی زیارت تو سب سے بڑی قربتوں میں سے ہے۔
عورتوں کے بارے میں تفصیل بیان کی گئی:
اگر فتنہ کا اندیشہ نہ ہو (خاص طور پر بوڑھی خواتین) تو زیارت جائز بلکہ مندوب ہے۔
اگر نوحہ، چیخ و پکار یا فتنہ کا خوف ہو تو حرام ہے (حنفیہ و مالکیہ کے نزدیک)۔
شافعیہ و حنابلہ کے نزدیک اصل میں مکروہ ہے، الا یہ کہ فتنہ ہو تو حرام ہو جائے۔
یعنی اصل مسئلہ “زیارت” نہیں بلکہ “فتنہ” ہے۔
