زیارتِ قبور: حدیثِ صحیح، ائمۂ حنابلہ کی تصریحات، اور نسخِ ممانعت کا ثبوت
المقنع والشرح الكبير ومعهما الإنصاف في معرفة الراجح من الخلاف
1) اصل حدیث اور اس کا مفہوم
نبی ﷺ نے فرمایا:
«كنت نهيتكم عن زيارة القبور، فزوروها؛ فإنها تذكر الموت»
(میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے روکا تھا، اب ان کی زیارت کرو؛ کیونکہ وہ موت کی یاد دلاتی ہیں۔)
یہاں تین باتیں صاف ہیں:
ابتدا میں ممانعت تھی۔
بعد میں اجازت بلکہ امر آیا: فزوروها۔
علت بیان ہوئی: تذكر الموت عبرت اور آخرت کی یاد۔
یہ نسخ ہے؛ یعنی پہلی ممانعت ختم کر دی گئی۔
2) امام احمد سے صریح سوال
نقل ہے کہ علی بن سعید نے امام احمد سے پوچھا:
زیارت افضل ہے یا ترک؟
انہوں نے جواب دیا: زیارت افضل ہے۔
یہ جملہ کسی تاویل کا محتاج نہیں۔ جب پوچھا گیا “افضل کیا ہے؟” تو جواب “زیارت” دیا گیا یعنی ترک سے بہتر۔
3) صحیح مسلم کی تعلیم کردہ دعا
حضرت بریدہؓ کی روایت میں ہے کہ نبی ﷺ صحابہ کو سکھاتے تھے کہ جب مقابر جائیں تو یوں کہیں:
«السلام عليكم أهل الديار من المؤمنين، وإنا إن شاء الله بكم لاحقون… ويرحم الله المستقدمين منكم والمستأخرين، نسأل الله لنا ولكم العافية، اللهم لا تحرمنا أجرهم، ولا تفتنا بعدهم، واغفر لنا ولهم.»
اس دعا میں:
سلام ہے،
موت کی یاد ہے،
اپنے اور میت کے لیے مغفرت کی دعا ہے۔
اگر زیارت مطلقاً ممنوع ہوتی تو یہ مفصل دعا کیوں سکھائی جاتی؟
4) ام المؤمنین عائشہؓ کی روایت
نقل ہے کہ عائشہؓ سے پوچھا گیا: کیا رسول اللہ ﷺ نے قبروں کی زیارت سے منع نہیں کیا تھا؟
انہوں نے فرمایا:
«قد نهى، ثم أمر بزيارتها»
(ہاں، پہلے منع کیا، پھر زیارت کا حکم دیا۔)
یہ نسخ کی واضح تصریح ہے ممانعت باقی نہیں رہی۔
5) مرد و عورت کا مسئلہ
حنبلی کتب میں فصل قائم ہے:
«ويستحب للرجال زيارة القبور»
(مردوں کے لیے زیارت مستحب ہے)
عورتوں کے بارے میں اختلافِ روایات ذکر کیا گیا، مگر اصل حکم نسخ کے بعد اجازت کا ہے؛ ممانعت ابتدائی دور کی تھی۔







