رسول اللہ ﷺ پر اعمال کا پیش کیا جانا: عبداللہ ابن مسعود اور بکر المزنیؒ سے منقول
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
الإمام نور الدين علي بن أبي بكر الهيثمي
یہ روایت حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے مروی ہے۔
امام ہیثمی نے اسے ذکر کر کے کہا:
رواه البزار ورجاله رجال الصحيح
یعنی اسے بزار نے روایت کیا اور اس کے راوی صحیح (بخاری و مسلم) کے راویوں جیسے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
میری زندگی تمہارے لیے بہتر ہے، تم باتیں کرتے ہو اور تمہارے لیے باتیں کی جاتی ہیں۔
اور میری وفات بھی تمہارے لیے بہتر ہے، تمہارے اعمال مجھ پر پیش کیے جاتے ہیں۔
پس اگر میں خیر دیکھتا ہوں تو اللہ کی حمد کرتا ہوں،
اور اگر شر دیکھتا ہوں تو تمہارے لیے استغفار کرتا ہوں۔
طرح التثريب في شرح التقريب
الإمام زين الدين عبد الرحيم بن الحسين العراقي
اسی حدیث “حياتي خير لكم…” کا حوالہ دیتے ہوئے ذکر کیا گیا۔
وہی حدیث کہ:
میری زندگی اور وفات دونوں تمہارے لیے خیر ہیں،
تمہارے اعمال مجھ پر پیش کیے جاتے ہیں۔
امام عراقی اس حدیث کو بطور دلیل ذکر کرتے ہیں کہ:
نبی ﷺ کو وفات کے بعد امت کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں
اور وہ ان پر استغفار کرتے ہیں۔
تهذيب الخصائص الكبرى
مصنف:
الإمام جلال الدين السيوطي
سیوطی اس باب میں نبی ﷺ کی وفات کے بعد حیات اور امت سے تعلق پر دلائل جمع کر رہے ہیں۔
وہ مختلف طرق سے حدیث نقل کر کے یہ مؤقف مضبوط کرتے ہیں کہ:
سلام پہنچایا جاتا ہے
اعمال پیش کیے جاتے ہیں
«إن لله ملائكة سياحين يبلغوني من أمتي السلام»
اور
«تعرض علي أعمالكم»
اردو ترجمہ:
اللہ کے فرشتے زمین میں گردش کرتے ہیں اور میری امت کی طرف سے مجھ تک سلام پہنچاتے ہیں۔
اور:
تمہارے اعمال مجھ پر پیش کیے جاتے ہیں۔



میت اسے دیکھتی ہے جو اسے غسل دیتا ہے
یہ روایت درج ذیل شخصیات سے منقول ہے:
حضرت ابو سعید خدریؓ
حضرت ابو ایوب انصاریؓ
مجاہدؒ (تابعی)
بکر المزنیؒ (تابعی)

الموتى يرون الأعمال
بعض لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ میت زندہ لوگوں کے اعمال کو دیکھتی ہے اور ان کے اعمال اس پر پیش کیے جاتے ہیں۔
اور یہ معاملہ صرف انبیاء علیہم السلام کے ساتھ خاص نہیں، بلکہ اولیاء اور صالحین کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے۔ ❗️❗️

الموتى يرون الأعمال
✍ ابن القيم، شاگردِ ابن تيمية
ابن القيم کا موقف یہ ہے کہ میت زندہ لوگوں کے حالات سے باخبر ہوتی ہے، بعض مواقع پر انہیں دیکھتی اور پہچانتی ہے، اور زندہ لوگوں کے اعمال اس پر پیش کیے جاتے ہیں۔

الحافظ ابن رجب الحنبلي
حافظ ابن رجب حنبلی کا موقف یہ بیان کیا جاتا ہے کہ نبی ﷺ پر امت کے اعمال برزخ میں پیش کیے جاتے ہیں، نہ کہ صرف قیامت کے دن۔ ❗️❗️
