صحابہ سے منقول:مردے اعمال کو دیکھتے ہیں
اعمال کا اپنے فوت شدہ رشتہ داروں پر پیش کیا جانا
یہ خبر بعض صحابہ سے نقل کی گئی ہے:
حضرت ابو ہریرہ
حضرت انس بن مالک
حضرت نعمان بن بشیر
حضرت ابو ایوب انصاری
حضرت جابر بن عبداللہ انصاری
كتاب الكنى
الإمام الحافظ أبو عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري
میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا:
“دنیا میں اب اتنا ہی باقی رہ گیا ہے جتنا ایک مکھی کے برابر (بہت تھوڑا)۔
بے شک تمہارے اہلِ قبور میں جو تمہارے بھائی ہیں، ان پر تمہارے اعمال عشاء کے بعد پیش کیے جاتے ہیں۔”
تفسير القرآن العظيم
الإمام الحافظ عماد الدين إسماعيل بن كثير الدمشقي
تمہارے اعمال تمہارے فوت شدہ رشتہ داروں اور خاندان والوں پر ان کی قبروں میں پیش کیے جاتے ہیں۔
اگر وہ اچھے اعمال ہوں تو وہ خوش ہوتے ہیں اور خوشخبری پاتے ہیں۔
اور اگر اس کے برعکس ہوں تو وہ دعا کرتے ہیں:
اے اللہ! انہیں اپنی اطاعت کی توفیق دے۔
اور ایک روایت میں ہے:
اے اللہ! انہیں موت نہ دے جب تک تو انہیں ہدایت نہ دے دے جیسے تو نے ہمیں ہدایت دی
الفتاوى الفقهية الكبرى
الإمام أحمد بن محمد بن علي بن حجر الهيتمي
“اور دوسری بحث یہ ہے کہ کیا مردوں کو زندہ لوگوں کے حالات کا علم ہوتا ہے؟
ہم کہتے ہیں: ہاں، جیسا کہ اس بارے میں روایت وارد ہوئی ہے۔”
“تمہارے اعمال تمہارے باپ دادا اور تمہارے قبیلہ والوں پر جو فوت ہو چکے ہیں پیش کیے جاتے ہیں۔
اگر وہ اچھے ہوں تو وہ خوش ہوتے ہیں اور بشارت پاتے ہیں،
اور اگر اس کے خلاف ہوں تو کہتے ہیں:
اے اللہ! انہیں ہدایت دے جیسے تو نے ہمیں ہدایت دی۔”
“تمہارے اعمال تمہارے خاندان والوں اور قریبیوں پر ان کی قبروں میں پیش کیے جاتے ہیں۔
اگر وہ نیک ہوں تو وہ خوش ہوتے ہیں،
اور اگر اس کے برعکس ہوں تو کہتے ہیں:
اے اللہ! انہیں اپنی اطاعت کی توفیق دے۔”
