میت دیکھتی ہے اور مشاہدہ کرتی ہے
🔰 میت دیکھتی ہے اور مشاہدہ کرتی ہے
قرآنی دلیل:
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
> اور کہہ دیجئے کہ عمل کرو، پس عنقریب اللہ تمہارے اعمال کو دیکھے گا اور اس کا رسول اور مؤمنین بھی۔
(سورہ التوبہ 9:105)
نبی اور مؤمنین ہمارے اعمال دیکھتے ہیں — تو اس شخص کا کیا حکم ہے جو یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ میت اعمال کو دیکھتی ہے؟
کتاب کا نام:
فتح القدير
(بين الرواية والدراية من علم التفسير)
✍ مصنف:
الإمام محمد بن علي بن محمد الشوكاني
(متوفى 1250هـ)
مصنف سورۂ توبہ آیت 105 کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
“وقل اعملوا فسيرى الله عملكم ورسوله والمؤمنون”
یہ خطاب سب لوگوں کے لیے عام ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے علم کے ذریعے تمہارے اعمال پر مطلع ہے۔ پھر فرمایا کہ یہ آیت تخویف اور تہدید پر مشتمل ہے، یعنی تمہارے اعمال اللہ، اس کے رسول اور مؤمنین پر مخفی نہیں ہیں۔ اس میں ترغیب بھی ہے کہ لوگ نیک اعمال کی طرف جلدی کریں اور برے اعمال سے بچیں۔ یہاں “الرؤية” سے مراد علم ہے، یعنی ان کے اعمال کا علم۔ اس کے بعد فرمایا کہ تم سب عالم الغیب والشهادة کی طرف لوٹائے جاؤ گے، جو تمہیں تمہارے اعمال کی خبر دے گا۔
کتاب کا نام:
الجامع لأحكام القرآن
(والمبين لما تضمنه من السنة وآي الفرقان)
✍ مصنف:
أبو عبد الله محمد بن أحمد الأنصاري القرطبي
(متوفى 671هـ)
امام قرطبی سورۂ توبہ کی آیات 104–105 کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ “وقل اعملوا فسيرى الله عملكم ورسوله والمؤمنون” میں رؤیت سے مراد علم اور اطلاع ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ، اس کا رسول اور مؤمنین تمہارے اعمال سے آگاہ ہوں گے۔ اس میں وعید بھی ہے اور تنبیہ بھی کہ اعمال مخفی نہیں رہتے۔ پھر واضح کرتے ہیں کہ اصل مرجع اللہ تعالیٰ ہے جو عالم الغیب والشهادة ہے اور وہی قیامت کے دن بندوں کو ان کے اعمال کی حقیقت سے آگاہ کرے گا اور جزا و سزا دے گا۔
