“جئنا بك على هؤلاء شهيداً” کیا یہ مردے کے دیکھنے کی دلیل ہے؟
موضوع: شہادت، رؤیت اور عرضِ اعمال — قرآن و تفاسیر کی روشنی میں
1️⃣ قرآنی بنیاد
آیت 1
سورۃ البقرہ 2:143
﴿وكذلك جعلناكم أمة وسطا لتكونوا شهداء على الناس ويكون الرسول عليكم شهيدا﴾
ترجمہ:
اور اسی طرح ہم نے تمہیں ایک معتدل امت بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور رسول تم پر گواہ ہوں۔
آیت 2
سورۃ النساء 4:41
﴿فكيف إذا جئنا من كل أمة بشهيد وجئنا بك على هؤلاء شهيدا﴾
ترجمہ:
پھر کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں گے اور آپ کو ان سب پر گواہ بنا کر لائیں گے۔
آیت 3
سورۃ التوبہ 9:105
﴿وقل اعملوا فسيرى الله عملكم ورسوله والمؤمنون﴾
ترجمہ:
اور کہہ دیجیے: عمل کرو، پس اللہ تمہارے اعمال کو دیکھے گا، اور اس کا رسول اور مؤمنین بھی۔
2️⃣ تفسير القرطبي
کتاب:
الجامع لأحكام القرآن
امام قرطبی (671ھ)
متعلقہ اصولی عبارت:
الشهادة لا تصح إلا بعد الرؤية
ترجمہ:
گواہی رؤیت (دیکھنے) کے بغیر صحیح نہیں ہوتی۔
قرطبی کا مفہوم:
قیامت کے دن شہادت ہوگی
شہادت کا تقاضا رؤیت ہے
رسول ﷺ اپنی امت پر گواہ ہوں گے
یہ بحث قیامت کے سیاق میں ہے۔
3️⃣ تفسير ابن كثير
کتاب:
تفسير القرآن العظيم
امام ابن کثیر (774ھ)
آیت 9:105 کی تفسیر میں:
إن أعمالكم تعرض على أقاربكم وعشائركم من الأموات
فإن كان خيرا استبشروا به
وإن كان غير ذلك قالوا: اللهم ألهمهم أن يعملوا بطاعتك
ترجمہ:
تمہارے اعمال تمہارے فوت شدہ رشتہ داروں اور خاندان والوں پر پیش کیے جاتے ہیں۔
اگر وہ نیک ہوں تو وہ خوش ہوتے ہیں۔
اور اگر اس کے برعکس ہوں تو کہتے ہیں: اے اللہ! انہیں اپنی اطاعت کی توفیق دے۔
مفہوم:
عرضِ اعمال کا تصور
مردہ کو اطلاع ہونا
خوشی یا دعا کرنا
4️⃣ فتح الباري — ابن حجر
کتاب:
فتح الباري بشرح صحيح البخاري
حافظ ابن حجر (852ھ)
روایت کا ذکر:
إن أعمالكم تعرض على أقاربكم وعشائركم من الأموات
قرآنی دلیل:
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
“جِئْنَا بِكَ عَلَىٰ هَؤُلَاءِ شَهِيدًا”
جو گواہی دیتا ہے، لازم ہے کہ وہ ہمارے اعمال کا مشاہدہ کرتا ہو تاکہ ہمارے خلاف گواہی دے سکے، کیا ایسا نہیں ہے ⁉️
اب اے وہابی! اُس شخص کے بارے میں کیا حکم ہے جو یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ مردہ دیکھتا ہے ⁉️
