کیا نبی ﷺ قبرِ انور سے سلام کا جواب دیتے ہیں؟



کتاب کا نام:
خلاصۃ الوفا بأخبار دار المصطفیٰ ﷺ
مصنف:
سید نور الدین علی بن عبد اللہ السمہودی الشافعی
(وفات: ۹۱۱ ہجری)
باب کا عنوان:
زائرِ قبرِ رسول ﷺ کے بارے میں منقول اقوال اور ان کے حالات
یہ باب دراصل اُن واقعات کو جمع کرتا ہے جو مختلف لوگوں سے منقول ہیں کہ انہوں نے روضۂ رسول ﷺ پر حاضری دی، سلام کیا، یا کچھ غیر معمولی کیفیت پیش آئی۔
ابراہیم بن شیبان کہتے ہیں:
“میں نے ایک سال حج کیا، پھر مدینہ آیا۔ میں رسول اللہ ﷺ کی قبر مبارک پر حاضر ہوا اور آپ ﷺ کو سلام کیا، تو میں نے حجرے کے اندر سے سنا: ‘اور تم پر بھی سلام ہو۔'”
مثیر الغرام إلى زيارة خير الأنام ﷺ
مصنف: ابن النجار البغدادی (متوفی 643ھ)
یہ کتاب زیارتِ مدینہ کے فضائل اور متعلقہ آثار و واقعات پر ہے۔
مکمل سیاق:
ابن النجار لکھتے ہیں:
ابراہیم بن بشار کہتے ہیں: میں نے ایک سال حج کیا، پھر مدینہ آیا، نبی ﷺ کی قبر پر حاضر ہوا، سلام کیا، تو حجرے کے اندر سے سنا: “وعلیک السلام”۔
پھر مصنف فوراً اس کے بعد کیا کرتے ہیں؟
وہ اس واقعے کو ذکر کرنے کے بعد انبیاء کی بعد از وفات حیات پر کلام لاتے ہیں، اور اس کے حق میں دیگر احادیث ذکر کرتے ہیں، مثلاً:
“الأنبياء أحياء في قبورهم يصلون”
زمین انبیاء کے جسموں کو نہیں کھاتی