کیا علامہ مجلسی نے مالک بن نویرہ کو مرتد کہا ہے؟
یہ کتاب اہل سنت کے رد میں لکھی گئی ہے اور یہاں شیخ مفید نے اہل سنت کا نظریہ ذکر کیا ہے کہ وہ جناب مالک کو کیا سمجھتے ہیں
وگرنہ شیعہ کے نزدیک جناب مالک بن نویرہ مسلمان ہیں جناب مالک بن نویرہ کے قبیلہ کی طرف خالد بن ولید کو بھیجنے کا حکم خلیفہ اول کی جانب سے ہی تھا

وہ علامہ مجلسی کا اپنا قول نہیں بلکہ اہلسنت مصادر سے نقل کیا ہے
جیسا کہ انہوں نے کہا
” ذكر العباس بن عبد الرحيم المروزي في تاريخه “
یہ قول جس باب میں نقل کیا ہے دراصل اس باب کا بنیادی استدلال یہی ہے کہ اہل سنت بذات خود کئی شخصیات کو مرتد سمجھتے ہیں لہذا کلھم عدول والا نظریہ معتبر نہیں ٹھہرتا

سید ابن طاؤوس نے تو اسی اہلسنت سے نقل کیا ہے
اور سید ابن طاؤوس نے بھی تسنن کے رد میں الیقین جیسی کتاب لکھی جس میں اہلسنت عقائد کا رد کیا ہے
مختصر یہ کہ یہ قول شیعہ کا نہیں ہے بلکہ اہلسنت سے نقل کیا گیا ہے اور اس کا مقصد اہلسنت کے نظریہ کو واضح کرنا ہے
مالك بن نويرة التميميّ اليربوعيّ:
من خيار أصحاب رسول اللّه صلّى اللّه عليه و آله و قد استعمله على صدقات بني تميم. و اختصّ بعليّ عليه السّلام.
و نهاية إخلاصه له عليه السّلام مشهور؛ حتّى أنّه ما بايع أبا بكر و أنكر عليه أشدّ الإنكار و عاتبه بقوله: اربع على ظلعك، و الزم قعر بيتك، و استغفر لذنبك، و ردّ الحقّ إلى أهله. أما تستحيي أن تقوم في مقام أقام اللّه و رسوله فيه غيرك و ما ترك يوم الغدير لأحد حجّة و لا معذرة؟! إلى غير ذلك.
فأمر أبو بكر خالد بن الوليد بقتله: فقتله و أسر نساءه و تزوّج بزوجته ليلته.
و قال الرسول صلّى اللّه عليه و آله في حقّه: من أراد أن ينظر إلى رجل من أهل الجنّة، فلينظر إلى هذا الرّجل.
شیخ علی نمازی شاہرودی لکھتے ہیں:
مالک بن نویرہ التمیمی الیربوعی:
وہ رسولِ خدا ﷺ صلّی الله علیہ وآلہ کے برگزیدہ اصحاب میں سے تھے، اور آپ ﷺ نے انہیں بنو تمیم کی زکوٰۃ و صدقات پر عامل مقرر فرمایا تھا۔
اور وہ امیرالمؤمنین علیؑ کے ساتھ خاص وابستگی رکھتے تھے۔
اور امیرالمؤمنینؑ کے ساتھ ان کی انتہائی اخلاص و وفاداری مشہور ہے؛ یہاں تک کہ انہوں نے ابو بکر کی بیعت نہیں کی، اور اس پر سخت انکار کیا، اور اسے اس قول کے ساتھ ملامت کی:
“اپنی حد میں رہو، اور اپنے گھر کے گوشے میں بیٹھے رہو، اور اپنے گناہ پر استغفار کرو، اور حق کو اس کے اہل کی طرف لوٹا دو۔ کیا تمہیں شرم نہیں آتی کہ تم اس مقام پر کھڑے ہو جس مقام پر اللہ اور اس کے رسول نے کسی اور کو قائم کیا تھا؟ جبکہ غدیر کے دن کسی کے لیے کوئی حجت اور کوئی عذر باقی نہیں چھوڑا گیا!”
وغیرہ وغیرہ۔
پس ابو بکر نے خالد بن ولید کو اس کے قتل کا حکم دیا، تو اس نے انہیں قتل کیا، ان کی عورتوں کو قید کیا، اور اسی رات ان کی بیوی سے نکاح کر لیا۔
اور رسولِ خدا ﷺ صلّی الله علیہ وآلہ نے ان کے بارے میں فرمایا:
“جو شخص اہلِ جنت میں سے کسی مرد کو دیکھنا چاہے، وہ اس مرد کو دیکھ لے۔”

مالک بن نویرہ کے متعلق شیعو کا عقیدہ