ائمہ شیعہ امامیہ ایک ہی بستر پر (ایک سے زیادہ) عورتوں کو جمع کرنا جائز قرار دیتے ہیں؟
الحسین بن بسطام اور ان کے بھائی نے اپنی کتاب ‘طب الائمہ’ میں منذر بن محمد، انہوں نے سالم بن محمد، انہوں نے علی بن اسباط، انہوں نے خلف بن سلمہ، انہوں نے علان بن محمد، انہوں نے ذریح سے نقل کیا ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:
امام باقر علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: (کسی آزاد) عورت کے سامنے دوسری آزاد عورت سے جماع نہ کرو، البتہ لونڈیوں کے سامنے دوسری لونڈیوں سے (ایسا کرنے میں) کوئی حرج نہیں۔”

امام ابو جعفر محمد بن علی (امام باقر) علیہما السلام سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں کہ مرد دو عورتوں یا دو لونڈیوں کے درمیان سوئے، لیکن ان میں سے کسی ایک سے (اس وقت) جماع نہ کرے کہ دوسری اسے دیکھ رہی ہو۔”
(بحوالہ: الجعفریات، صفحہ 96 – اسی سند کے ساتھ امام جعفر صادق علیہ السلام نے اپنے والد سے اسی کی مثل نقل کیا ہے)۔
رد شبھۃ
🔰 شبہ کا ردّ
آزاد عورت کے سامنے آزاد یا لونڈی سے جماع کرنے کی کراہت یا حکم، اور دو آزاد عورتوں یا دو لونڈیوں کے درمیان سونے کے حکم کے بارے میں۔
ابن فلاں نے شیعوں کا موازنہ خُرَّمیہ فرقے سے کیا ہے جو اباحیت (ہر چیز کو جائز سمجھنے) کی دعوت دیتا ہے — نعوذ باللہ — اور اسی طرح ان جیسے وہابیوں سے بھی۔
اس کا جواب درج ذیل ہے: 🔰
1️⃣ پہلی روایت: سند کے اعتبار سے ضعیف ہے ❌
اس کے ضعیف ہونے کی وجہ “خلف بن سلمہ البصری” ہے، اور اس کا تعارف آگے آئے گا۔
2️⃣ دوسری روایت: یہ بھی ضعیف ہے ❌
روایت:
امام جعفر صادقؑ سے منقول ہے کہ فرمایا:
“کوئی حرج نہیں کہ مرد دو لونڈیوں یا دو آزاد عورتوں کے درمیان سوئے، بے شک تمہاری عورتیں گویا کھیل کے سامان کی مانند ہیں۔”
یہ حدیث (نمبر 16) مجہول ہے ❌
اور یہ دو لونڈیوں یا دو آزاد عورتوں کے درمیان سونے کے جواز پر دلالت کرتی ہے، لیکن مشہور قول یہ ہے کہ دو آزاد عورتوں کے درمیان سونا مکروہ ہے، کیونکہ اس میں ایسی آزمائش ہے جو آزاد عورتوں کے شایانِ شان نہیں اگرچہ اس میں نظر و تأمل ہے۔
حوالہ:
مرآة العقول في شرح أخبار آل الرسول، علامہ مجلسی
جلد 20، صفحہ 412
3️⃣ تیسری روایت: مرسل ہے ❌ (راوی نامعلوم “عمن ذكره”)
اور علامہ مجلسی نے بھی اس پر ارسال کی تصریح کی ہے۔
اھل سنت بھی مکروہ کے قائل ہیں
ويكره للرجل أن يطأ امرأته وعندها صبي يعقل أو أعمى أو ضرتها أو أمتها أو أمته.
الھندیة: (380/5)
مرد کے لیے مکروہ ہے کہ وہ اپنی بیوی سے جماع کرے جبکہ اس کے پاس کوئی ایسا بچہ موجود ہو جو سمجھ بوجھ رکھتا ہو، یا کوئی اندھا شخص ہو، یا اس کی سوکن ہو، یا اس کی لونڈی ہو، یا بیوی کا غلام موجود ہو۔”




اور ہم نے عمر بن خطاب سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے اپنے بعض عاملوں (حاکموں) پر ناراضی ظاہر کی۔ اس پر ایک شخص نے عمر کی بیوی سے اس بارے میں بات کی، تو اس نے عمر سے کہا: اے امیرالمؤمنین! آپ اس پر کیوں ناراض ہوئے؟
عمر نے جواب دیا: اے اللہ کی دشمن! تمہیں اس معاملے سے کیا واسطہ؟ تم تو بس ایک کھلونا ہو جس سے کھیلا جاتا ہے۔اور پھر چھوڑ دیا جاتا ہے

