Recommended articles
شبھات کا رد
کیا حضرت علیؑ نے نشئے کی حالت میں نماز پڑھائی
February 28, 2026
0
0
شبھات کا رد
جو ایک بار متعہ کرے امام حسین ع کا درجہ پائےگا..
February 28, 2026
0
0
شبھات کا رد علوم قرآن
کیا نبی ﷺ کی قبر کی زیارت کوئی بعد کی ایجاد ہے؟ یا یہ خود ائمہ اہل سنت کی تصریحات سے ثابت ہے؟
February 27, 2026
0
0
شبھات کا رد علوم قرآن
سبل الهدى والرشاد میں توسل عند القبر
February 27, 2026
0
0
Momin Taaq
  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
    • For Youth & Seekers
  • Privacy Policy
    • Terms and conditions
  • Contact Us
شبھات کا رد

کیا سیدہؑ نے غیر عورتوں سے علیؑ کے بارے میں پوچھا؟

February 6, 2026
0
0

یہ اس حال میں ہے کہ اہلِ سنت نے بھی اپنی کتابوں میں ان تمام صفات کو روایت کیا ہے، اور اس کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔ طبرانی نے اپنی کتاب المعجم الکبیر میں واقدی کی سند سے ایک جامع وصف نقل کیا ہے، وہ کہتے ہیں:
کہا جاتا ہے کہ علی بن ابی طالبؑ گندمی رنگ کے، درمیانے قد کے، قدرے فربہ جسم والے، چوڑے کندھوں کے مالک، لمبی داڑھی رکھنے والے، سر کے اگلے حصے سے کم بال (گنج پن کی طرف مائل)، بڑا پیٹ رکھنے والے، موٹی آنکھوں والے اور سر و داڑھی میں سفیدی رکھنے والے تھے۔

یہ روایت تفسیر قمی (ج 2، ص 336) میں مرسل سند کے ساتھ نقل ہوئی ہے، اور علامہ مجلسی نے بھی اسے بحار الانوار (ج 43، ص 99) میں ذکر کیا ہے، لیکن درج ذیل وجوہات کی بنا پر اسے قبول نہیں کیا جا سکتا:
یہ حدیث “مرفوع” ہے، یعنی اس کی سند میں اشکال ہے، لہٰذا اسے موثق یا صحیح نہیں کہا جا سکتا۔
کیا یہ ممکن ہے کہ اتنی ساری عورتوں نے علیؑ کو اتنی دقت سے دیکھا ہو مگر ان کی چچا زاد بہن (فاطمہؑ)، جو ہمیشہ رسول اللہؐ کے گھر میں رہتی تھیں، انہوں نے نہ دیکھا ہو؟ یہ بات بہت عجیب لگتی ہے۔
اگر انہوں نے نہ دیکھا ہوتا تو وہ خود دیکھنے کی درخواست کر سکتی تھیں؛ یہ غیر عورتوں کی باتوں پر اعتماد کرنے سے بہتر ہوتا۔
کیا فاطمہؑ جیسی علمی، ایمانی مقام رکھنے والی، اللہ کے نزدیک معزز اور معصوم شخصیت شادی میں ظاہری شکل کو معیار بناتیں اور علیؑ کی عظیم صفات، فضائل اور شخصیت کو نظر انداز کرتیں؟ کیا انہوں نے ہجرت کے موقع پر علیؑ کی شجاعت اور شخصیت کو نہیں دیکھا تھا؟
کیا یہ ممکن ہے کہ فاطمہؑ نے امیر المؤمنینؑ کی یہ صفات—اگر مان بھی لیا جائے کہ انہوں نے خود نہ دیکھا ہو—صرف منگنی کے دن ہی سنی ہوں؟ کیا علیؑ کی شخصیت اس قدر گمنام تھی؟ یا پھر یہ علیؑ اور فاطمہؑ دونوں کی توہین کی ایک دانستہ کوشش ہے؟
کیا یہ قابلِ تصور ہے کہ وہ اس بات میں شک کریں کہ رسول اللہؐ نے ان کے لیے بہترین انسان کا انتخاب نہیں کیا؟ جب نبیؐ نے انتخاب کر لیا تو انہیں اپنے والد کی بصیرت اور خیرخواہی پر مکمل اعتماد تھا، اس لیے ایسا سوال کرنا درست نہیں لگتا۔
معاشرے میں علیؑ کے خلاف موجود دشمنی ہمیں اس بات پر مجبور کرتی ہے کہ ایسی مشکوک روایات کے گھڑے جانے کا احتمال دیں؛ کیونکہ جب انہیں کوئی عیب نہ ملا تو انہوں نے اس قسم کی من گھڑت باتوں کے ذریعے علیؑ کی شخصیت کو ظاہری اعتبار سے نشانہ بنانے کی کوشش کی

 کیونکہ علی بن ابراہیم نے کہا: “اور جنت و جہنم کی خلقت کا انکار کرنے والوں کے رد میں وہ روایت بھی ہے جو میرے والد نے اپنے بعض اصحاب سے نقل کی، انہوں نے اسے اوپر تک پہنچایا (مرفوع کیا) کہ فاطمہ… الخ۔”
یہ روایت مرسل اور مرفوع ہے، لہٰذا کسی بھی معاملے میں اس سے استدلال درست نہیں۔ جو لوگ فقاہت اور اجتہاد کے مدعی ہیں انہیں چاہیے تھا کہ اس روایت کے ضعف کی طرف توجہ کرتے، بجائے اس کے کہ اسے شیعہ کے خلاف دلیل بناتے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ وہ صحیح اور ضعیف میں فرق نہیں کرتے اور نہ ہی مرسل و مرفوع وغیرہ کی پہچان رکھتے ہیں۔
متن کے لحاظ سے بھی، اگر خبر صحیح مان لی جائے تو فاطمہ سلام اللہ علیہا نے یہ نہیں کہا کہ یہ ان کا اپنا قول ہے، بلکہ فرمایا: “قریش کی عورتیں مجھے بتاتی ہیں…” یعنی یہ ان کا ذاتی عقیدہ نہیں تھا، ممکن ہے انہوں نے صرف رسول اللہؐ کو آگاہ کرنے کے لیے یہ بات کہی ہو، نہ کہ اس کی تصدیق کے طور پر۔
اب ان مذکورہ صفات کو ایک ایک کر کے دیکھتے ہیں کہ ان میں کون سی مذمت اور کون سی مدح ہے:
“دحداح البطن” سے مراد پیٹ کا کشادہ ہونا ہے۔
ابن الاثیر نے النہایہ فی غریب الحدیث میں لکھا: حدیثِ اسامہ میں آیا ہے: “اس کا پیٹ پھیلا ہوا
ابن الاثیر نے النہایہ فی غریب الحدیث میں لکھا: حدیثِ اسامہ میں آیا ہے: “اس کا پیٹ پھیلا ہوا تھا” یعنی کشادہ تھا۔
یہ مردوں میں کوئی عیب نہیں، اسی لیے امیر المؤمنینؑ کو “الأنزع البطین” کہا جاتا تھا اور وہ اس پر فخر بھی کرتے تھے۔
عبد الباقی العمری کہتے ہیں:
“تم وہ بطین ہو جو حکمت سے بھرے ہوئے ہو،
اور تم وہ شیر ہو جس نے شرک کو پنجے سے اکھاڑ پھینکا،
اگر اس کی دسویں حصے کو بھی ناپا جائے تو آسمان بھی اس میں نہ سمائیں۔”
“ضخم الکراديس”: مبارکفوری نے تحفة الأحوذی میں لکھا کہ اس سے مراد ہڈیوں کے سروں کا بڑا ہونا ہے؛ یعنی جوڑ جیسے گھٹنے، کہنیاں اور کندھے۔ مطلب یہ کہ اعضا مضبوط اور بڑے تھے۔
یہ بھی عیب نہیں، بلکہ اہل سنت نے اسے رسول اللہؐ کی صفات میں شمار کیا ہے۔
ترمذی نے اپنی سنن میں حضرت علیؑ سے روایت کیا کہ:
“رسول اللہؐ نہ بہت لمبے تھے نہ پست قد، ہاتھ پاؤں مضبوط تھے، سر بڑا تھا اور جوڑ مضبوط تھے…”
“الأنزع”: اس سے مراد پیشانی کے آگے سے بالوں کا ہٹ جانا ہے۔ یہ بھی عیب نہیں۔ اہل سنت کی کتابوں میں علیؑ کو “اصلع” (زیادہ گنجے) بھی کہا گیا ہے، جو انزع سے بڑھ کر ہے۔
“عظيم العينين” (بڑی آنکھوں والے): یہ صفت مدح ہے۔
ابن سعد نے الطبقات میں روایت کیا کہ رسول اللہؐ بڑے سر اور بڑی آنکھوں والے تھے، پلکیں گھنی تھیں، آنکھوں میں ہلکی سرخی تھی، داڑھی گھنی تھی، رنگ روشن تھا وغیرہ۔
“لمنكبه مشاش كمشاش البعير”: یعنی کندھوں کی ہڈیاں بڑی تھیں۔
“مشاش” ہڈیوں کے سروں کو کہتے ہیں، جیسے کہنیاں، ہاتھ اور گھٹنے؛ اور کندھے کی ابھری ہوئی ہڈی کو بھی کہا جاتا ہے۔ یہ بھی صفتِ مدح ہے، اور اسی طرح نبیؐ کی بھی صفت بیان ہوئی ہے کہ ان کی ہڈیاں مضبوط اور نمایاں تھیں۔
ابن سعد نے نقل کیا کہ علیؑ جب رسول اللہؐ کا حلیہ بیان کرتے تو کہتے:
“آپ نہ بہت لمبے تھے نہ بہت پست قد، درمیانے قد کے تھے، بال نہ بہت گھنگریالے تھے نہ بالکل سیدھے… چہرہ گولائی لیے ہوئے، آنکھیں سیاہ و بڑی، پلکیں گھنی، ہڈیاں مضبوط، ہاتھ پاؤں بھرے ہوئے…”
تعجب ہے ان لوگوں پر جو اس ضعیف روایت کی بنا پر شیعہ پر اعتراض کرتے ہیں، مگر ان صحیح احادیث سے چشم پوشی کرتے ہیں جو اہل سنت نے نقل کی ہیں اور جن میں نبیؐ کے ایسے اوصاف بھی آئے ہیں جنہیں وہ اچھا نہیں سمجھتے۔
ان میں سے بعض یہ ہیں:
آپؐ کا دہن کشادہ تھا؛ ترمذی نے جابر بن سمرہ سے روایت کیا کہ رسول اللہؐ کشادہ منہ اور آنکھوں کے خاص انداز والے تھے…
آپؐ کی پنڈلیاں باریک تھیں؛ ترمذی اور حاکم نے روایت کیا کہ آپؐ کی پنڈلیوں میں باریکی تھی۔
اور ابن الاثیر نے لکھا کہ “أحمش” باریک پنڈلیوں کو کہتے ہیں اور بعض مواقع پر یہ بطور مذمت بھی استعمال ہوا ہے۔
آپؐ کا سر بڑا تھا؛ جیسا کہ ابن سعد اور احمد بن حنبل نے نقل کیا کہ رسول اللہؐ بڑے سر اور بڑی آنکھوں والے تھے۔
آپؐ کی پشت پر خاتمِ نبوت تھا، جو کبوتری کے انڈے جیسا تھا؛ مسلم وغیرہ نے جابر بن سمرہ سے روایت کیا۔
ایک اور حدیث میں آیا کہ وہ کندھوں کے درمیان ایک ابھار کی طرح تھا۔
اور ایک روایت میں آیا کہ وہ گوشت کی ایک ابھری ہوئی گلٹی جیسا تھا جس پر نشانات تھے۔
بعض روایات میں آیا کہ آنکھوں میں ہلکی سرخی تھی۔
اور یہ بھی کہ آپؐ کو زیادہ پسینہ آتا تھا؛ ابن سعد نے انسؓ سے روایت کیا کہ آپؐ کے پاؤں بڑے تھے اور آپؐ کو پسینہ زیادہ آتا تھا، میں نے آپؐ جیسا کسی کو نہیں دیکھا۔
مختصر نکات

اولا جناب سیدہ سلام اللہ علیھا نے اپنی بات نہیں کی بلکہ قریش. کی عورتیں جو کہتی ہیں ان کا کلام نقل کیا

اس سے پہلے یہ بھی کہا

انت اولی بما انک تری غیر ان نساء قریش تحدثنی

آپ زیادہ حق دار ہو (یا تم بہتر جانتے ہو)، لیکن قریش کی عورتیں مجھ سے باتیں کرتی ہیں

اور اسی کا جواب رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ نے خود اسی روایت میں دے دیا

Tags:
Done
Add to Bookmarks

Related Posts

شبھات کا رد
کیا حضرت علیؑ نے نشئے کی حالت میں نماز پڑھائی
February 28, 2026
0
0
شبھات کا رد
جو ایک بار متعہ کرے امام حسین ع کا درجہ پائےگا..
February 28, 2026
0
0
شبھات کا رد علوم قرآن
کیا نبی ﷺ کی قبر کی زیارت کوئی بعد کی ایجاد ہے؟ یا یہ خود ائمہ اہل سنت کی تصریحات سے ثابت ہے؟
February 27, 2026
0
0

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll down to see next article
شبھات کا رد
ائمہ شیعہ امامیہ ایک ہی بستر پر (ایک سے زیادہ) عورتوں کو جمع کرنا جائز قرار دیتے ہیں؟
About Us

Momin Taaq is a global online platform dedicated to presenting authentic Shia Islamic knowledge with clarity, logic, and respect.

Follow Us
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Pinterest
Featured Lectures
شبھات کا رد
امام سجاد علیہ السلام نے ابو بکر عمر کا دفاع کیا ہے؟
September 27, 2025
شبھات کا رد
یہ کیوں کہا گیا کہ “دابۃ”؟ کیا اس میں امیر المؤمنین (علیہ السلام) کی توہین نہیں ہے؟
September 26, 2025
عقیدہ امامت
ہ سب سے پہلے جس نے 12 اماموں بات شروع کی وہ شیخ کلینی اور علی بن بابویہ القمی علیھما الرحمۃ
February 9, 2019
Knowledge & Research
  • Imamat & Ahl al-Bayt (AS)7
  • Youth & New Muslims1
  • آیت تطھیر و اھل البیت علیھم السلام1
  • اصحاب رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم2
  • اعتقادات4

© 2025 Momin Taaq. All Rights Reserved.

  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
    • For Youth & Seekers
  • Privacy Policy
    • Terms and conditions
  • Contact Us
  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
  • Privacy Policy
  • Contact Us
  • For Youth & Seekers
  • Terms and conditions