صحیح بخاری کی حدیث: جنازہ بولتا ہے مگر انسان نہیں سنتا
إذا وُضِعَتِ الجنازةُ على أعناقِ الرجالِ فإن كانت صالحةً قالت: قدِّموني، وإن كانت غيرَ صالحةٍ قالت: يا ويلَها أين يذهبون بها؟ يسمع صوتَها كلُّ شيءٍ إلا الإنسان، ولو سمعه صَعِق.
جب جنازہ لوگوں کے کندھوں پر رکھا جاتا ہے تو:
اگر وہ نیک انسان کا جنازہ ہو تو وہ کہتا ہے:
مجھے جلدی آگے لے چلو۔
اور اگر وہ نیک نہ ہو تو وہ کہتا ہے:
ہائے افسوس! اسے کہاں لے جا رہے ہیں؟
اس کی آواز ہر چیز سنتی ہے سوائے انسان کے،
اور اگر انسان اسے سن لے تو بے ہوش ہو جائے۔
